Monday, March 2, 2026
Google search engine
الرئيسيةمضامینشعروادبقوم ناخدا کے ابھرتے خوش گلو شاعرسراج الدین سراجؔ کی...

قوم ناخدا کے ابھرتے خوش گلو شاعرسراج الدین سراجؔ کی ترتیب شدہ پہلی غزل

نوٹ : یہ غزل  فَعَلَنْ فَعَلَا فَعَلَنْ فَعَلَا  کی بحر پر لکھی گئی ہے۔

یاد جو دل میں جاگی ہوگی

رات وہ کم ہی سوئی ہوگی

چلتے چلتے تنہا تنہا

رک کر مجھ کو سوچتی ہوگی

چاند کے سائے میں بیٹھی وہ

رستہ میرا دیکھتی ہوگی

پہلے ضدی تھی وہ لیکن

شاید اب کچھ بدلی ہوگی

یوں تو دعا کو ہاتھ اٹھے ہیں

جانے کیا وہ مانگتی ہوگی

گھر آنگن میں خوشبو پھیلی

شاید سراجؔ وہ آتی ہوگی

مقالات ذات صلة

1 تعليق

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

- Advertisment -
Google search engine

الأكثر شهرة

احدث التعليقات