جنوبی ہند کی قومِ ناخدا کا ایک سرسری جائزہ و تعارف

2
16342

بسم اللہ الرحمان الرحیم

جنوبی ہند کی قوم ناخدا کا ایک سرسری جائزہ و تعارف

از : مولانا ابراہیم فردوسی ندویؔ

فردوس نگر ، جامعہ آباد ، تینگن گنڈی ، بھٹکل ۔ کاروار ۔ کرناٹکا ۔ انڈیا ۔

تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے انسانوں کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کرکے انھیں مختلف کنبوں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے متعارف ہوں ۔ درود و سلام ہو اس رسول عربی پر جن کا اسوہ پوری اِنسانیت کے لئے ہدایت کا چراغ ہے ۔ اما بعد :

قوم ناخدا جنوبی ہندوستان کی ساحلی پٹی کے مختلف مقامات پر عین ساحل پر آباد مسلم جہاز رانوں و جہاز سازوں کی ایک قوم ہے جو آج بھی ساحلی کناروں پر ہی آباد ہے ۔ مثلاً رتناگری ، گوا ، کاروار ، انکولہ ، کمٹہ ، ہوناور ، منکی ، مرڈیشور  ، تینگن گنڈی ، نستار ، شیرور ، گنگولی وغیرہ ، اس کا اصل آبائی پیشہ جہاز رانی و جہاز سازی تھا لیکن ساحل پر بسنے کی وجہ سے ثانوی درجہ میں ماہیگیری کا کام بھی کرتی تھی ۔

یہ قوم اپنے باربردار بادبانی جہازوں کے ذریعہ مختلف چیزوں کی تجارت اور مختلف چیزوں کو ایک بندرگاہ سے دوسرے بندرگاہ میں درآمد و برآمد کرنے کا کام کرتی تھی ۔ یہ زیادہ تر غذائی اجناس ، مصالحے ، مختلف قسم کی لکڑیاں ، کھپریل ، ناریل ، مٹی کا تیل اور سوکھی مچھلیاں وغیرہ درآمد و برآمد کرتی تھی ۔ گجرات سے لیکر کنیا کماری تک ان ہی کے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت ہوا کرتی تھی ۔ یہ قوم اپنے پیشہ کی مناسبت سے ناریل کے چھلکوں سے ڈوریاں ، رسیاں اور رسے بناتی تھی اور ان کو جوڑ کر بڑے بڑے تجارتی باربردار جہازوں کو بنانے کے فن میں بڑی مہارت رکھتی تھی جن کو وہ اپنی مادری زبان میں ’’ مچھوا ‘‘ اور چھوٹے جہازوں کو ’’ بارکس ‘‘ کہا کرتی تھی ۔ ان کے علاوہ غیر ملکی تجارتی اسفار کے لئے وہ مخصوص بادبانوں کے ایسے جہاز بناتی تھی جو ان کو مخالف ہواؤں کے رخوں پر سفر کرنے میں معاون ثابت ہوں جن کووہ اپنی مادری زبان میں ’’ تارو ‘‘ کہا کرتی تھی ۔ اسی طرح بادبان تیار کرنے اور ستاروں کی مدد سے سمتوں کو معلوم کرنے کے فن میں بھی بڑی مہارت رکھتی تھی ۔ چودھویں صدی ہجری کے اواخر تک اس کا یہی پپشہ ر ہا ۔ جب تجارتی آمد و رفت کے ذرائع نے ترقی کی اور تجارتی باربردار بادبانی کشتیاں مشینی کشتیوں میں تبدیل ہونے لگیں تو یہ قوم آہستہ آہستہ ماہیگیری کے پیشہ کو اپنانے لگی تو بالآخر پندرھویں صدی ہجری کے اوائل میں اس کا پیشہ ہی ماہیگیری بن گیا ۔

یہ قوم اپنے جہازوں کے عملاء کے لئے تین قسم کے الفاظ استعمال کرتی تھی ، ٹانڈیل ، خلاصی اور بھنڈار . جہازکے کیپتان و ذمہ دار کو ٹانڈیل ، اس میں کام کرنے والے اولین درجہ کے لوگوں کو خلاصی اور کھانا پکانے اور چھوٹے موٹے دیگر کام کرنے والے عمال کو بھنڈاری کہا کرتی تھی .

اس قوم میں خواندگی کے بمقابلہ ناخواندگی زیادہ پائی جاتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں جنوبی ہند کا تاریخی مواد بہت کم ملتا ہے ۔ کاش اگر اس میں تعلیمی رجحان شروع ہی سے پایا جاتا تو آج یہ قوم جنوبی ہند کی سب سے بڑی تاریخ ساز قوم قرار پاتی ۔ جنھوں نے بھی جنوبی ہند کی تاریخ لکھی ہوگی ان سبھوں کو اس بات کا قلق وافسوس ضرور ہوا ہوگا بلکہ بعض مصنفین نے کھلے الفاظ میں اس کا اظہار بھی کیا ہے .

نصف چودہویں  صدی ہجری کے بعد اس قوم کا تعلیمی رجحان بڑھنے لگا جس کے نتیجہ میں یہ قوم پندرہویں صدی ہجری کے اوائل میں اپنے سپوتوں کو حافظ ، قاری ، عالم ، فاضل ، انجینئر ، ٹیچر اور دیگر مختلف علوم و فنون کے فنکار پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئی . اللہ کی اس نعمتِ عظمیٰ کی شکر گذاری قوم کے ہر ہر فرد پر واجب ہے ۔

یہ قوم اپنی ایک الگ ناخدائی بولی بولتی ہے جو مراٹھی اور کونکنی سے بہت مشابہت رکھتی ہے اور کچھ کچھ گجراتی اور نوائطی سے بھی ، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ قوم زمانہ دراز سے ہندوستان کی ساحلی پٹی پر آباد تھی ۔ اس لئے مراٹھی اور کونکنی کے اثرات زیادہ پڑے . اور دوسری وجہ یہ تھی کہ ان کی تعداد زیادہ تھی اور بستیاں بھی قریب قریب تھیں اور ابھی تک ویسے ہی ہیں ۔ قوم ناخدا کی ناخدائی زبان کا وجود غالبًا اس طرح  ہوا ہوگا کہ جب عربوں کے تجارتی قافلے تجارت کی غرض سے جنوبی ہندوستان آنے جانے لگے تو عربوں کی اور یہاں کی علاقائی زبانوں کے اثرات سے ایک تیسری مخلوط زبان کا وجود میں آنا ایک فطری بات تھی جو ان زبانوں کا سنگم ہو .

اس موقعہ پر میں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ قوم اپنے اوپر بعض الفاظ کے اطلاق کو عار سمجھتی ہے ان میں سے ایک ’’ دالجی ‘‘ او ر دوسرا ” داردی ” یا اس کا بگڑا ہوا لفظ ’’ دالدی ‘‘ ہے . قوم ناخدا کے اپنے اوپر ان الفاظ کے اطلاق کو عار سمجھنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ رہی لفظ دالجی کی بات تو چونکہ عربی میں دَلَجَ کے معنی کنویں سے پانی نکال کرحوض میں انڈیلنے کے آتے ہیں ۔ اس کا اسم فاعل دَالِجٌ آتا ہے ۔ پھر اس پر یاء نسبتی کا اضافہ کرکے دَالِجِیْ بنایا گیا جس کے معنی قوم ناخدا کے پیشہ کی مناسبت سے جہاز کے اندرونی حصہ کے پانی کو باہر انڈیلنے کے ہو جاتے ہیں جس کو ناخدائی زبان میں ’’ غَمَّطْ ماروژا یا کاڑوژا ‘‘ کہتے ہیں ۔ چونکہ یہ عربی النسل ملاحوں کی اولاد تھی اس لئے اپنے اوپر اس لفظ کے اطلاق کو ملاح کے معنی سے ہٹنے کی وجہ سے معیوب سمجھتی ہوگی ۔ رہی داردی یا اس سے بگڑے ہوئے لفظ دالدی کی بات تو چونکہ ناخدائی زبان میں داردی کے معنی دارد ڈالنے والے کے ہیں اور ناخدائی زبان میں دارد ڈالنے کے معنے ہیں سورج ڈوبتے وقت مچھلیاں پکڑنا ۔ چونکہ اس قوم کا اصل پیشہ جہاز رانی و جہاز سازی تھا ، لیکن ثانوی درجہ میں ماہیگیری کا کام بھی کرتی تھی ۔ لہذا اصل پیشہ سے نسبت ہٹنے کی وجہ سے اس لفظ کو بھی معیوب سمجھتی ہوگی .

قوم ناخدا کی چند اہم امتیازی خصوصیات

قوم ناخدا کی اپنی کچھ امتیازی خصو صیات بھی ہیں ، مثلاً یہ ہمیشہ عین ساحل کے کنارہ پر بسنا پسند کرتی ہے تاکہ اسے اس کے پپپشہ کی مناسبت سے زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا ہوں ۔ یہ عموماً اپنے ناشتہ اور دوپہر و شام کے کھانے میں چاول اور اس سے بنائے گئے مختلف ناشتوں کا استعمال کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کھانے کے لئے دو قسم کے الفاظ استعمال کرتی ہے ایک ‘‘ کھاوژا ’’ اور دوسرا ‘‘ جیوژا ’’ کھاوژا کا مطلب عام کھانے کی چیزیں کھانا اور جیوژا کا مطلب دوپہر یا شام کا کھانا کھانا ۔ خلاصہ یہ کہ اس کی یہ اہم خصوصیت  اس کی اپنی مادری زبان پر بھی اثر انداز ہوئی ہے ۔ چودہویں صدی کے اواخر تک یہ اپنی اولاد کے نام کثرت سے اولوالعزم رسل ، انبیاء ، صحابہ ، ازواجِ مطہرات اور آپ کی صاحبزادیوں کے ناموں پر ہی رکھا کرتی تھی ۔ اسی طرح دادا دادی اور نانا نانی کے انتقال کے بعد پیدا ہونے والے پہلے بچوں کے نام انکے ناموں پر ہی رکھتی تھی ۔ یہ عقدِ نکاح عموماً مسجد میں ہی کرواتی ہے ۔ نکاح اور خوشی کے مواقع پر دف بجاتی  ہے ۔ اس قوم کی عورتوں میں چودھویں صدی ہجری کے اواخر تک ساڑھی اور لڑکیوں میں لنگا پہننے کا عام رواج تھا ۔ یہ کھانے اور ناشتہ میں زیادہ تر مچھلی کے سالنوں کا استعمال کرتی ہے ۔ اس قوم کی عورتیں چودھویں صدی کے اواخر تک ناک کے بائیں طرف کے نتھنے میں زیور پہنتی تھیں ۔ اس قوم کی عورتیں چودھویں صدی ہجری کے اواخر تک اپنے شوہروں کو ان کے ناموں سے پکارنے کو تعظیماً معیوب سمجھتی تھیں ۔ اس قوم کی اکثریت چودھویں صدی ہجری کے اواخر تک زکوٰۃ لینا پسندنہیں کرتی تھی ۔ اس قوم میں امانتداری بمقابلہ خیانت زیادہ پائی جاتی ہے ۔یہ قوم چودھویں صدی  ہجری کے اواخر تک اپنے آپسی تنازعات کو اپنے اپنے جماعتی نظام کے تحت رہ کر حل کرنے کی کوشش کرتی تھی اور حکومتی عدالتوں میں تصفیہ کرنے کو معیوب سمجھتی تھی ۔ یہ قوم اپنے اپنے علاقوں کا نظم و نسق اپنے مخصوص جماعتی نظام کے تحت چلانے کی کوشش کرتی ہے جس کے ذمہ دار کو متولی کہا جاتا ہے ۔ اس قوم کے لوگ اپنی کمر میں زناّر نما دھاگہ باندھتے ہیں جو ان کے کمر پر بندھے ہوئے کپڑوں کو مضبوطی سے تھامے رکھتا ہے جس کو ان کی مادری زبان میں ’’ ناڑو یا کَلڈیلو ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ یہ لوگ سمندری پہاڑی سیپیاں بڑے شوق سے کھاتے ہیں جنکو وہ اپنی مادری زبان میں کُلٹے ، کالوا ، سارَولی ، خُبے اور مُورے کہتے ہیں ۔ اور ان سے مختلف قسم کے سالن اور ناشتے بناتے ہیں ۔ یہ پندرہویں صدی ہجری کے اوائل تک اپنی عورتوں کا نکاح دوسری برادری کے مردوں سے کروانا پسند نہیں کرتے تھے ۔ لہذا زیادہ تر اپنی ہی برادری کے مردوں سے نکاح کرواتے تھے ۔ یہ پوری کی پوری قوم مسلکًا شافعی ہے ۔ قوم ناخدا کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ ’’ چے ‘‘ یعنی چیم کی آواز کو ’’ ژ ‘‘ سے اس وقت بدلتی ہے جب چے یعنی چیم کے بعد کسی لفظ میں حروفِ مدہ میں سے الف یا واؤ میں سے کوئی حرف آجائے ۔ جیسے چال سے ژال ۔ چابی سے ژاوی ۔چاٹنا سے ژاٹوژا ۔ چور سے ژور ۔ چُور چُور سے ژُور ژُور وغیرہ ۔

قوم ناخدا کی جہاز رانی و جہاز سازی

               قوم ناخدا مختلف قسم کے جہازوں کے لئے مختلف الفاظ استعمال کرتی تھی ۔ مثلاً ’’ بَگْلَو یا تارُو ‘‘ عربستان کے جہازوں کے لئے ۔ ’’ ناوڑی ‘‘ مالدیپ کے جہازوں کے لئے ۔ ’’ موٹا یا بَتَّیلَو ‘‘ گجراتی جہازوں کے لئے ۔ ’’ بِرْگا یا بِرِنْگ ‘‘ تاملناڈو کے جہازوں کے لئے ۔ ’’ اِیْچَھا ‘‘ کیرلا کے جہازوں کے لئے ۔ اور سب سے چھوٹے جہاز کو ’’ مَنْجِھی ‘‘ کہتی تھی ۔ اسی طرح ’’ پَڑاؤ ‘‘ اس باربردار بڑی کشتی کو کہتی تھی جو بادبانی جہازوں پر سامان لادنے کے لئے استعمال کی جاتی تھی جس کی لمبائی تقریباً دس تا پندرہ فٹ اور چوڑائی چھ تا آٹھ فٹ ہوتی تھی ۔ قوم ناخدا کے جہازوں کو ساوتھ کینرا کے لوگ ’’ کَوٹیو ‘‘ اور نارتھ کینرا کے لوگ ’’ مچھوا یا بارکَس اور نَنْگ یا نَگْ ‘‘ کہتے تھے ۔

قوم ناخدا کے باربردار جہازوں کی اشیاءِ درآمدات  و برآمدات

             قوم ناخدا اپنے باربردار جہازوں پر مختلف قسم کی چیزیں ایک بندرگاہ سے دوسرے بندرگاہ پر منتقل کرتی تھی ۔ مثلاً غذائی اجناس میں چاول ، گیہوں ، باجرہ اور شکر وغیرہ ۔ مصالحوں میں کاجو ، بادام ، کشمش ، الائچی ، لونگ ، ناریل اور نمک وغیرہ ۔ مچھلیوں میں سوکھی مچھلیاں خصوصا ’’ کُٹی مچھلی ‘‘ جس کو قوم ناخدا کی زبان میں ’’ کاوناژا مھاورا ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ لکڑیوں میں مختلف درختوں کے بہت لمبے اور چوڑے تنے جو تقریباً پندرہ تا بیس فٹ لمبے اور تین تا چھ فٹ چوڑے ہوتے تھے جن کو قوم ناخدا کی مادری زبان میں ’’ ناٹا یا سُوٹے ‘‘ کہا جاتا ہے ۔اسی طرح ’’ ٹِمبر ‘‘ بھی جسکو قوم ناخدا کی زبان میں ’’ سِلِیپَر ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ ایندھنی لکڑیاں جسکو قوم ناخدا کی زبان میں ’’ جلاؤ لاکُّڑ یا ڈھاوژا لاکڑ ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ گھروں کی چھتوں کے لئے استعمال کی جانے والی لکڑیاں اور کھپریل وغیرہ ۔ ان کے علاوہ مٹی کا تیل اور چونا وغیرہ بھی درآمد و برآمد کیا جاتا تھا .

کالیکٹ کیرلا میں ناخدا برادری کے باربردار بادبانی جہازوں کے سامان لادنے والے پل کی تاریخی تصویر

قوم ناخدا کے تجارتی بندرگاہ

            قوم ناخدا کے باربردار جہازوں کی آمد و رفت جنوبی ہندوستان کی پوری ساحلی پٹی کے مختلف چھوٹے بڑے بندرگاہوں پر ہوا کرتی تھی ۔ان میں سے کچھ ایسے تھے جن پر وہ اپنا تجارتی مال اور سازو سامان پہونچاتی یا وہاں سے لادتی تھی ۔ اور کچھ ایسے تھے جن پر وہ نہ ہی اپنا تجارتی ما ل اور سازو سامان پہونچاتی اور نہ ہی وہاں سے لادتی تھی لیکن بعض موانع و عوارض کی بنا پران میں عارضی طور پر اپنے جہازوں کو لنگر انداز ضرور کرتی تھی ۔ مثلاً علی باغ ، حفصان ، چمار قلعہ ، امبوا ، بوریا ، شریوردھن ، کیلسی ، نہورا ، کومبارو ، ہیلی ، تلچیری وغیرہ ۔ ان کے علاوہ بہت سارے بندرگاہ ایسے تھے جن میں قوم ناخدا کے جہاز درآمدات وبرآمدات ہی کی غرض سے جایا کرتے تھے ۔ مثلاً مہاراشٹرا میں وینگورلا ، دھابول ، چپلون ، جیتاپور ، موسیٰ غازی ، زیگڑ ، دیوگڑ ، مریا اور بانکوٹ وغیرہ ۔ کرناٹکا میں کاروار ، بیلیکیری ، ہوناور ، تڈلی ، مرڈیشور ، بھٹکل ، نستار ، شیرور ، گنگولی ، ہینگر کٹے ، کاپو ، ملپے اور مینگلور وغیرہ ۔ کیرلا میں کالیکٹ ، بلیاپٹن ، الپے ، کوچین ، کوئلانڈی ، کاسر گوڑ وغیرہ ۔ اسی طرح گجرات اور ریاستِ گوا کی آزادی کے بعد گوا میں بھی قوم ناخدا کے تجارتی جہاز جایا کرتے تھے ۔

قوم ناخدا کے پندرہویں صدی ہجری کے أوائل اور انیسویں صدی عیسوی کے اواخر تک باقی ماندہ باربردار بادبانی جہازان اور ان کے مالکان کی مختصراً تفصیلات

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ جنوبی ہند کی قوم ناخدا کا اصل آبائی پیشہ جہازرانی و جہازسازی ، اس وقت ماہیگیری میں تبدیل ہوا جب چودہویں صدی ہجری کے اواخر میں مشینی کشتیاں ایجاد ہونے لگیں تو اس دور میں بھی اس کے کئی ایک مالکان جہاز کے پاس بہت سارے باربردار بادبانی جہاز موجود تھے جن کی کچھ تفصیلات یہاں پر بیان کی جا رہی ہیں ۔

تینگن گنڈی میں مختیصر برادران کے پاس چار باربردار بادبانی جہاز تھے ۔ خواجہ ، الامان ، علی مدد اور دستگیر ۔ مختیصر برادران سے مرادیوسف مختیصر کے تین بیٹےبالترتیب جناب عبدالرحمان بن یوسف مختیصر ، جناب ابراہیم بن یوسف مختیصر اور جناب اسحاق بن یوسف مختیصر ہیں ۔

نوٹ : تینگن گنڈی کا مختیصر خاندان اصلاً اسپو خاندان تھا . یہ یوسف مختیصر کی جماعت المسلمین تینگن گنڈی کے متولی بن کر کئی سالوں تک اپنی ذمہ داری بحسن و خوبی انجام دینے کے بعد ان کی اس اہم خوبی کی طرف منسوب کرتے ہوئے مختیصر بن گیا کیونکہ ناخدائی زبان میں متولی کو مختیصر بھی کہا جاتا ہے . لہذا مختیصر اس خاندان کا اصلی نام نہیں ہے بلکہ اسپو خاندان کا خاندانی لقب ہے اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ لقب دو ناموں سے زیادہ شہرت پانے والے نام کو کہا جاتا ہے .

تینگن گنڈی میں ڈانگی برادران کے پاس سات باربردار بادبانی جہاز تھے ۔ منور ، سلیمانی ، سبحانی ، حسینی ، المدد ، مدینہ منورہ اور قطب غوث صمدانی ۔ ڈانگی برادران سے مراد محمود ڈانگی کے چار بیٹے بالترتیب جناب اسماعیل بن محمود ڈانگی ، جناب احمد بن محمود ڈانگی ، جناب حسن بن محمود ڈانگی اور جناب علی بن محمود ڈانگی ہیں ۔

اسی طرح محمود ڈانگی کے بھائی قاسم ڈانگی کی اولاد سے تعلق رکھنے والے تینگن گنڈی کے ایک اور ڈانگی برادران کے پاس دو بار بردار بادبانی جہاز تھے نبی بخش اور غوثیہ . قاسم ڈانگی کی اولاد والے ڈانگی برادران سے مراد بالترتيب جناب موسیٰ بن قاسم ڈانگی ، جناب حسین بن قاسم ڈانگی ، جناب یوسف بن قاسم ڈانگی اور جناب آدم بن قاسم ڈانگی ہیں ۔

تینگن گنڈی میں بنگالی یعنی عقلے کار برادران کے پاس دو باربردار بادبانی جہاز تھے ۔ مولودی اور نبی بخش ۔ بنگالی برادران سے مراد جناب موسیٰ بنگالی کے چار بیٹے بالترتیب جناب احمد بن موسیٰ بنگالی ، جناب ابوبکر بن موسیٰ بنگالی ، جناب علی بن موسیٰ بنگالی اور جناب عبدالکریم بن موسیٰ بنگالی ہیں ۔

نوٹ : بنگالی خاندان کا اصلی خاندانی نام عقلے کار ہے اور بنگالی خاندانی لقب ہے ، یعنی ایک خاندان کے دو ناموں میں سے زیادہ مشہور نام . بنگالی خاندان نام مشہور ہونے کی وجہ تسمیہ کے تعلق سے اس خاندان کے بزرگوں سے ایک حکایت یہ بھی منقول ہوئی ہے کہ جناب موسیٰ بنگالی ( جن کے چار بیٹے تھے احمد بن موسیٰ بنگالی ، ابوبکر بن موسیٰ بنگالی ، علی بن موسیٰ بنگالی ، عبدالکریم بن موسیٰ بنگالی ) کے پردادا اٹھارہویں صدی عیسوی میں باربردار بادبانی جہاز کے طوفان میں پھنس کر مخالف ہواؤں کی زد میں آکر خلیج بنگال کے ایک ایسے علاقہ میں پہونچا جہاں آدم خور لوگ بستے تھے . جب انھوں نے اپنا جہاز اس علاقہ میں لنگر انداز کیا اور کچھ دن وہاں گذارے تو وہاں کی ایک بڑھیا نے انھیں اس بات کی اطلاع دی کہ یہاں آدم خور لوگ بستے ہیں اور تمھارا یہاں کا قیام آپ کی جان کے لئے خطرہ کا باعث بن سکتا ہے تو یہ لوگ فوراً وہاں سے روانہ ہوئے اور بڑی مشکل سے اپنے وطن پہونچے تو اس مشہور واقعہ کی طرف نسبت کرکے وہ اور ان کی اولاد کو بنگالی کہا جانے لگا اور بعد میں وہی نام ان کے خاندان کا نام ہی پڑ گیا . یہی وجہ ہے کہ یہ خاندان جنوبی ہند کی قوم ناخدا کی پوری برادری میں صرف تینگن گنڈی ہی میں پایا جاتا ہے . اس کے برعکس عقلے کار خاندان ناخدا برادری کے مختلف مقامات پر پایا جاتا ہے واللہ اعلم بالصواب .

تینگن گنڈی میں اسپو برادران کے پاس دو باربردار بادبانی جہاز تھے . امان اللہ اور غوث صمدانی . اسپو برادران سے مراد بالترتيب آدم اسپو ، سلیمان اسپو ، اسماعیل اسپو ہیں . یہ تینوں ایک باپ کی اولاد ہیں .

آدم اسپو کے بطن سے ایک بیٹا علی بن آدم اسپو اور دو بیٹیاں رابعہ بنت آدم اسپو اور نورالدین بن عثمان ملا کی نانی آمنہ پیدا ہوئیں .

سلیمان اسپو کے بطن سے ایک بیٹا ابراہیم بن سلیمان اسپو ( عرف فکو ابراہیم ) اور ایک بیٹی شریفہ بنت سلیمان اسپو پیدا ہوئیں .

نوٹ : سلیمان اسپو کے بطن سے کئی سالوں تک کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی تو انھوں نے قاسم بن إسحاق خورشے کو اپنا لے پالک بیٹا بنایا تھا.

اسماعیل اسپو کے بطن سے دو بیٹے بالترتيب یوسف بن اسماعیل اسپو اور آدم بن إسماعيل اسپو اور ایک بیٹی ہاجرہ بنت اسماعیل اسپو ( اسماعیل بن موسیٰ ڈانگی کی تیسری بیوی ) پیدا ہوئی .

تینگن گنڈی میں عبد الرحمان بن حسن جی اسپو کے پاس دو باربردار بادبانی جہاز تھے . جعفری اور فتح الرحمان .

سلیمان اسپو ، آدم اسپو اور اسماعیل اسپو کے والد اور حسن جی اسپو کے والد سگے بھائی تھے . حسن جی اسپو کے بطن سے ایک بیٹا اسماعیل اور ایک بیٹی کلثوم پیدا ہوئی . پھر اسماعیل کے بطن سے عبدالرحمان اسپو ( روٹی عبدالرحمان ) اور دو بیٹیاں ماریہ اور لمبا اسماعیل ڈانگی کی دوسری بیوی عائشہ پیدا ہوئیں .

تینگن گنڈی میں چاؤس برادران میں ابو صالح چاؤس کو تین باربردار بادبانی جہاز تھے . ان کے بطن سے دو بیٹے عبدالرحمان بن ابو صالح چاؤس اور عبداللہ بن ابو صالح چاؤس اور ایک بیٹی مریم بنت ابو صالح چاؤس پیدا ہوئی ، موصوف کی اولاد میں عبدالرحمان کے بطن سے کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی البتہ عبداللہ کے بطن سے ایک لڑکا اسماعیل بن عبداللہ چاؤس اور ایک لڑکی عائشہ بنت عبداللہ چاؤس پیدا ہوئی

بیسویں صدی عیسوی میں قوم ناخدا کے بار بردار بادبانی جہازوں کو بنانے والے بڑھئیوں کی مختصراً تفصیلات

جیسا کہ یہ بتایا جا چکا ہے ہے کہ قوم ناخدا اپنے آبائی پیشہ جہاز رانی و جہاز سازی پر بیسویں صدی عیسوی کے اواخر تک برابر قائم رہی ، لیکن جب حمل ونقل کے مشینی ذرائع روز بروز ترقی کی راہ پر گامزن ہونے لگے تو اس کا یہ آبائی پیشہ دھیرے دھیرے زوال پذیر ہونے لگا اور بیسویں صدی کے آخری اختتامی سالوں میں پوری طرح ماہیگری میں تبدیل ہو گیا . لہذا اس دور میں بھی ان بار بردار جہازوں کو بنانے والے بڑھئیان تینگن گنڈی ، شیرور ، منکی اور ہوناور میں موجود تھے. درج میں ہم تینگن گنڈی کے ان ہی بڑھئیان کے اسماء گرامی اور ان کی مختصراً تفصیلات بیان کر رہے ہیں .

جناب یوسف صاحب (یوسف بن عبدالرحمن مختیصر کے دادا )
جناب آدم صاحب (  آدم بن ابوبکر ہوسمنے کے دادا )
جناب حسین صاحب ( یوسف بن احمد ابو کے دادا )
جناب ابو صالح صاحب ( اسماعیل بن عبداللہ چاؤس کے دادا )
جناب احمد بن محمود صاحب ڈانگی ( عبد العلیم بن سلیمان ڈانگی کےدادا )
جناب اسماعیل صاحب ( خواجہ بن صالح ملا کے دادا )

جناب عبدالرحمان بن یوسف مختیصر

جناب ابراہیم بن یوسف مختیصر

جناب اسحاق بن یوسف مختیصر

جناب یوسف صاحب مختیصر ( عبدالرحمان بن یوسف مختیصر ، ابراہیم بن یوسف مختیصر اور اسحاق بن یوسف مختیصر  کے دادا )

منکی میں جناب موسیٰ صاحب مرجیکر اور شیرور میں بڑجی اور کافشی خاندان میں بھی بادبانی جہازوں کے بڑھئی تھے ۔

جنوبی ہند کی قوم ناخدا کے عربی النسل ہونے کے چند امکانی پہلو

پہلا پہلو : جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہندوستان میں اسلام ابتداءً عرب تاجروں کے ساتویں صدی میلادی میں مغربی ساحل یعنی جنوبی ہندوستان کے مالابار کوکن اور گجرات کے سواحل پر تجارتی أسفار کے ذریعہ داخل ہوا . اور تاریخی حوالوں سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں سب سے پہلی جامع مسجد ، مسجد شبرامان ریاست کیرلا میں مالک بن دینار نے سنہ 629 م میں بنائی . چونکہ جنوبی ہند میں ان کی آمد مالابار اور گجرات کے دو بحری راستوں سے ہوتی تھی اور پھر وہاں سے جنوبی ہند کے مختلف اہم بندرگاہوں کے ذریعہ جنوبی علاقوں کے مختلف مقامات بمبئ ( جو بعد میں ممبئی بن گیا ) کوکن کے علاقہ رتناگری آور ہوناور وغیرہ میں پھیلتا گیا تو اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہاں پر بسنا بھی شروع کیا . چونکہ قوم ناخدا کی پوری آبادی جنوبی ہند کے عین ساحل پر آباد ہے اور اپنے ان ہی آبائی بادبانی جہازوں کی جہاں رانی و جہاز سازی کے پیشہ کو بیسویں صدی عیسوی کے اواخر تک اپنائے ہوئی تھی تو اس بات میں کوئی شک نہیں رہتا کہ وہ انھیں کی نسل نہ ہو .

دوسرا پہلو : اس پوری کی پوری قوم ناخدا کا جنوبی ہند کے عین ساحل کے کنارہ آباد ہوکر اپنے آبائی پیشہ فن جہاز سازی و جہاز رانی کو بیسویں صدی عیسوی کے اواخر تک اپنائے رکھنا اور عربوں کے بعض أہم فنون ، فن جہاز سازی و جہاز رانی اور فن بادبانی و ستارہ شناسی سے متصف ہونا ، اسی طرح اس میں نکاح اور خوشی کے مواقع پر دف بجانا اور لنگی وغیرہ پہننے کی بعض عربی رسم و رواج اور عادات کا پایا جانا ہے .

تیسرا پہلو : نوائطی محقق عبد المتین منیری بھٹکلی کے مضمون ” ہوسپٹن برصغیر کا وہ علاقہ جہاں پہلے پہل حفظ قرآن کا باقاعدہ نظام قائم ہوا ” کے حوالہ سے ہے ، جس میں انھوں نے محققانہ بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : ریاست کرناٹک کے ضلع کاروار کے مشہور علاقہ گیر سپا میں ایک لمبی چوڑی ندی پائی جاتی ہے جو ” شراوتی ” کے نام سے مشہور و معروف ہے . یہ گیرسوپا کے مشہور عالمی آبشار جوگ فال سے نکل کر کھاڑی پر ناریل کے درختوں سے بھرے پڑے چھوٹے چھوٹے جزیرے بناکر سمندر میں مل جاتی ہے ۔ اس ندی کے دونوں کناروں پر ایک تعلقہ آباد ہے جو ہوناور ( Honnavar ) کہلاتا ہے ۔

عرب جغرافیہ دانوں نے اپنی کتابوں میں اس کے لئے ہنور کا لفظ اور پرتگالی و انگریز مؤرخین نے اس کے لئے Honore یا Onore کا لفظ استعمال کیا ہے .

موجودہ ہوناور کا قصبہ ندی کے شمالی کنارہ پر آباد ہے . لیکن جب ہم ندی کو پار کرکے جنوبی کنارے پر پہنچتے ہیں تو شاہراہ سے بائیں جانب کو ایک چھوٹی سڑک جاتی ہے جو کچھ دور ہوناور کے ریلوے پل کے جنوبی سرے پر جاکر ختم ہوتی ہے . یہیں پر ندی کنارہ ایک گاؤں آباد ہے جو ہوسپٹن Hosapatna کہلاتا ہے .

وکٹر ڈیسوزا نے لکھا ہے کہ یہ کنڑی زبان کے دو لفظ ہوسا Hosa ( نیا ) اور پٹن Patana ( بندرگاہ یا شہر ) سے مل کر بنا ہے ، جس کا مطلب نیا آباد شدہ شہر ہوتا ہے ، اس مصنف اور ایک دوسرے مؤرخ مولانا خواجہ بہاء الدین اکرمی کا بیان ہے کہ یہاں سے سو کلو میٹر کے حدود کے اندر بھٹکل اور دوسرے قصبات میں بسنے والے عرب نژاد قبیلے نوائط کے آباء و اجداد یہیں سے ہجرت کرکے مختلف علاقوں میں منتشر ہوئے تھے ، لفظ نوائط کی مؤرخین نے کئی ایک توجیہات کی ہیں ، لیکن برنل ، ڈیمس ، بریجس اور دیسوزا کی یہ توجیہ زیادہ قرین قیاس لگتی ہے کہ یہ سنسکرت یا فارسی کے دو الفاظ نو ( Nawa ayata ) یعنی نو آید سے مرکب ہے ، جس کا مطلب نئے شہر میں آباد شدہ نو وارد لوگ ہوتا ہے .

مؤرخین کے مطابق اہل نوائط حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں ، ان کی مدینہ منورہ سے بغداد اور بصرہ ہوتے ہوئے اس علاقہ میں 752 ھ ، 1351 ء کے آس پاس ہرمز اور خلیج فارس کے راستے ہجرت ہوئی تھی ، اسی زمانہ میں صلیبی جنگوں اور اندلس پر عیسائیوں کے قبضہ کے بعد یورپ کی نشأۃ ثانیہ کا آغاز ہوا تھا ، یورپ میں تہذیب و تمدنی زندگی کے آغاز کے ساتھ ہی ہندوستانی مصالحہ جات ، اناج اور مصنوعات یہاں کی زندگی کا لازمی جزء بن گئیں اور بحر عرب کے دونوں کناروں پر واقع بندرگاہوں کے توسط سے بحری تجارت کو فروغ ملا ، بحر احمر کے دہانے پر واقع ( عدن ) اور خلیج فارس کے دہانے پر واقع ( ہرمز ) دو ایسی بندرگاہیں تھیں جن کے راستے ہندوستانی سامان تجارت یورپ کی منڈیوں میں پہنچتا تھا ، یہ عہد وسطی میں جہازرانی اور بحری تجارت کا سنہرا دور تھا ، ہندوستان کے ساحل پر نو وارد نوائط اس تجارت میں مرکزی عنصر کی حیثیت اختیار کر گئے تھے ، کیونکہ یہ جہازرانی کے ساتھ تجارت میں بھی یکتا تھے ، چونکہ مقامی ہندو سامان تجارت تیار کرتا تھا ، لیکن بحری سفر اور جہازرانی سے اس کا سروکار نہیں تھا ، وہ انہی نوائط کے توسط سے اپنا سامان تجارت عرب اور یورپ کی منڈیوں میں پہنچاتا تھا ، اس طرح مقامی لوگوں اور ان نو واردوں کے درمیان ایک دوسرے کے مفادات اور ضرورتیں ملنے کی وجہ سے یہاں پر تجارتی دشمنی اور مخاصمت کے بجائے دوستی اور مفاہمت کی فضا قائم ہوگئی تھی ، چونکہ زمانہ جاہلیت سے ان ساحلوں پر عربوں کی آمد ہوتی تھی جہازرانی کے اس عہد عروج میں ان نئے آنے والوں کو دوسروں سے ممیز کرنے کے لئے شاید نو آید ( نوائت ) اور ان کی نئی آبادی کو ( ہوسپٹن ) کہا گیا ، اور مرور زمانہ سے حرف (ت) قرشت (ط) حطی میں بدل گئی .

جب ہم ہوسپٹن میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں پر لگے ہوئے نئے سائن بورڈ کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے یہ کوئی مندروں کا شہر ہو لیکن اس کے اطراف و اکناف کے قصبوں بھٹکل ، کائکینی ، گیرسوپا وغیرہ کے برخلاف جہاں کہ پانچ چھ سو سالہ پرانے جین مندر ، اور محلات نظر آتے ہیں ، یہاں دس بیس سال سے زیادہ پرانا کوئی مندر نظر نہیں آتا ، سب قریبی دور کی تعمیرات ہیں ، البتہ جو چیز یہاں پر دیکھنے والے کو فرط حیرت میں ڈال دیتی ہے وہ ہے ایک ایسی جگہ جہاں کوئی بھی مسلم گھر موجود نہ ہو ، وہاں پر ایک گھر کے پچھواڑے میں ایستادہ کئی صدیاں ایک ٹوٹا پھوٹا قدیم مسجد کا مینار ، یہ اور اس کے قریب مسلم محلہ کے چند کھنڈرات کی وکٹر ڈیسوزا نے 1955 ء میں جو تصویر اپنی کتاب کی زینت کی ہے ، وہ اپنی جگہ پر اب بھی باقی ہے ، بس اب یہ دونوں گھر کے آنگن اور پچھواڑے میں آگئے ہیں ۔ فسطا ئی تحریکات کے اس دور میں اب چار دیواری پھلانک کر وہاں تک جانا دشوار سا ہوگیا ہے ۔

یہی ہوسپٹن مشہور عرب سیاح ابن بطوطہ کی تذکرہ کردہ سلطنت ہنور کا مرکز تھا ۔ مؤرخ ہند حکیم عبد الحی حسنی مرحوم نے نوائط سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ مخدوم علاء الدین علی المھایمی ؒ کے تذکرے میں لکھا ہے کہ ( میرے نزدیک ہندوستان کے ہزار سالہ دور میں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے سوائے حقائق نگاری میں ان کا کوئی نظیر نہیں ، مگر ان کی نسبت یہ معلوم نہیں کہ وہ کس کے شاگرد تھے کس کے مرید تھے ، اور مراحل زندگی انہوں نے کیونکر طئے کئے تھے ، جو تصنیفات ان کی پیش نظر ہیں ان کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ایسا شخص جس کو ابن عربی ثانی کہنا زیبا ہے ، وہ کسمپرسی کی حالت میں ہے ، کہیں اور ان کا وجود ہوا ہوتا تو ان کی سیرت پر کتنی کتابیں لکھی جاچکی ہوتیں ، اور کس پُر فخر لہجہ میں مؤرخین ان کی داستانوں کو دہراتے . کچھ یہ صورت حال ہوسپٹن کی باقی ماندہ مسجد کے مینار اور محلے کے کھنڈرات کی بن گئی ہے ۔ اگر ان کی صفائی کرکے مرمت کی جائے اور جھاڑ جھنکار سے انہیں پاک کیا جائے تو شاید یہ ریاست کرناٹک میں اسلامی تاریخ کی سب سے قدیم یادگار بن جائے ، لیکن جو حالات ہیں انھیں دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے اب ان یادگاروں کے دن گنے چنے ہیں .

ابن بطوطہ 779 ھ۔ 1377ء نے ہنور کا محل وقوع یوں بیان کیا ہے کہ ( جزیرہ انجدیو سے دوسری صبح ہم شہر ہنور پہنچے ، یہ ایک بڑی کھاڑی پر واقع ہے ، یہاں بڑی بڑی کشتیاں آکر اترتی ہیں ، سمندر شہر سے نصف میل دور ہے ، بارش کے موسم میں اس سمندر کی جوش طغیانی بڑھ جاتا ہے ، اور چار ماہ تک اس میں مچھلی کے شکار کے علاوہ کوئی سواری کرنا ممکن نہیں . وہ سلطنت ہنور اور اس کے سلطان جمال الدین ہنوری کے کوائف یوں بیان کرتا ہے کہ ” شہر ہنور کے باشندے شافعی مذہب ہیں ۔ دیندار اور نیک بخت اور بحری طاقت کے لئے مشہور ہیں ۔ سنداپور فتح ہونیکے بعد وہ اور کہیں کے نہ رہے تھے اس شہر کے عابدوں میں سے شیخ محمدناگوری ہیں . انھوں نے میری دعوت اپنی خانقاہ میں کی ، وہ اپنا کھانا آپ پکاتے ہیں . فقیہ اسماعیل کلام اللہ پڑھاتے ہیں . نہایت خوش اخلاق اور فیاض تھے قاضی شہر نورالدین علی ہے ۔ خطیب کا نام مجھے یاد نہیں رہا . اس شہر کی عورتیں اور اس پورے ساحل کی عورتیں سلا ہوا کپڑا نہیں پہنتیں . بغیر سلایا کپڑا اوڑھتی ہیں چادر کے ایک آنچل سے تمام بدن لپیٹ لیتی ہیں ، اور دوسرے کو سر اور چھاتی پر ڈال لیتی ہیں (ساڑھی مراد ہے ) یہ عورتیں خوبصورت اور باعفت ہوتی ہیں ناک میں سونے کا بلاق پہنتی ہیں ، ان کی خصوصیت یہ ہے کہ سب کی سب حافظِ قرآن ہوتی ہیں ۔ اس شہر میں تیرہ (13) مکتب لڑکیوں کے اور بتیس (32) لڑکوں کے ہیں ۔ سوائے اس شہر کے یہ بات میں نے کہیں نہیں دیکھی ۔ یہ لوگ فقط بحری تجارت پر گذارہ کرتے ہیں ۔ زراعت نہیں کرتے ۔ مالابار کے لوگ بھی سلطان جمال الدین کو کچھ نہ کچھ خراج دیتے ہیں کیونکہ اس کے پاس بحری طاقت بہت بڑی ہے اور چھ ہزار پیادہ اور سوار بھی رکھتا ہے ، بادشاہ جمال الدین محمد بن حسن بڑا نیک بخت ہے وہ ایک ہندو راجہ کے ماتحت ہے ، جس کا نام ہریب (ہری ہر) ہے ، سلطان جمال الدین ہمیشہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا ہے ، اس کا دستور ہے کہ صبح ہونے سے پہلے مسجد میں چلا جاتا ہے اور صبح ہونے تک تلاوت کرتا رہتا ہے ۔ اول وقت نماز پڑھتا ہے پھر شہر کے باہر سوار ہوکر چلا جاتا ہے چاشت کے وقت واپس آتا ہے پہلے مسجد میں دوگانہ پڑھ کر پھر محل میں جاتا ہے ایام بیض کے روزے رکھتاہے ۔ جب میں اس کے پاس ٹہرا ہوا تھا تو افطار کے وقت مجھے بلا لیتا تھا .

پھر ابن بطوطہ نے سلطان جمال الدین کی سندا پور ( موجودہ chitakul یا ( Sadasivagarh ) پر چڑھائی کی تفصیلات بیان کی ہیں ، وہ کہتا ہے کہ ( سلطان جمال الدین نے (52) جہاز تیار کئے ، اس کا ارادہ سندا پور پر چڑھائی کا تھا ، وہاں کے راجہ اور اس کے بیٹے کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے ، راجہ کے بیٹے نے سلطان کو لکھا کہ اگر وہ سندا پور فتح کرلے تو وہ مسلمان ہو جائے گا ۔ اور سلطان اپنی بہن کا نکاح اس کے ساتھ کردے گا .

ابن بطوطہ نے اس کے بعد جنگ سندا پور کی تفصیلات بتائی ہیں ۔ یہاں سے وہ کالیکٹ روانہ ہوا ۔ کالیکٹ سے جب وہ سلطان ہنور کی زیارت کی غرض سے واپس لوٹا تو غالبا اس وقت تک سلطنت ہنور کا خاتمہ ہوچکا تھا اور علاقہ میں بدامنی پھیل چکی تھی ، وہ بیان کرتا ہے کہ ” جب ہم ہنور اور فاکنور ( بارکور ) کے درمیان ایک جزیرہ پر پہنچے تو کافر اپنی بارہ کشتیوں کے ساتھ نکل آئے ، انھوں نے ہمارے ساتھ سخت لڑائی کی اور ہم پر غالب آگئے ، انھوں نے جو کچھ ہم نے جمع کیا تھا اسے لوٹ لیا ، جو کچھ ہیرے جواہرات شاہ سیلان نے ہمیں دئے تھے انھیں چھین لیا ، میرے کپڑے اور بزرگوں اور اولیاء اللہ کی دی ہوئی تبرکات بھی لے لیں اور میرے پاس ایک تہ بند کے علاوہ بدن ڈھانکنے کے لئے کچھ نہ بچا ۔ انھوں نے ہم سے سب کچھ چھین کر ساحل پر ہمیں چھوڑ دیا .

وہ مزید لکھتا ہے کہ میں یہاں سے ہنور پھر سنداپور کو لوٹا ، یہاں میں محرم کے اواخر کو پہنچا ، اور ربیع الآخر کی دوسری تاریخ تک مقیم رہا ، تو یہاں کے کافر راجہ جس کی سلطنت میں ہم گھس آئے تھے ، اس نے اسے واپس لینے کے لئے پیش قدمی کی ، تمام کافر اس کے پاس بھاگ کر جمع ہوگئے ، سلطان کی فوج دیہاتوں میں منتشر تھی ، وہ ہم سے کٹ گئی ، کفار نے ہمارا محاصرہ تنگ کیا ، جب حالات اتنے سخت ہوئے تو میں وہاں سے سنداپور کو محصور چھوڑ کر نکل پڑا اور کالیکٹ کو لوٹ آیا .

ابن بطوطہ کی وفات 779 ھ۔ 1377 ء کو ہوئی ، برنل نے آپ کی اس علاقہ میں آمد کی تاریخ قرائن سے 743 ھ ۔ 1344 ء بتائی ہے .

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سنداپور پر حملہ کے ایک سال بعد بکا اول Bukka مہاراجہ سلطنت وجے نگر 1344ء۔1379 ء کے دور حکومت میں سنداپور میں سلطان جمال الدین کی فوج دشمن کے گھیرے میں آگئی اور سنداپور اور ہنور دونوں جگہ ان کی فوجی قوت کا خاتمہ ہوا ، وجے نگر کا مؤرخ رابرٹ سیول رقم طراز ہے کہ گوا کی بندرگاہ سے بلگام تک کا علاقہ اور تلوگھاٹ Tulughat (کینرا) کے ضلعے بکا اول کے قبضے میں آگئے .

عرب مصنفین میں ابن بطوطہ کے علاوہ ابوالفداء 732 ھ ۔ 1331ء نے تقویم البلدان (13) میں ہنور کا تذکرہ کیا ہے ۔ ابو الفداء اور ابن بطوطہ میں دس سال کا فرق ہے ، ان سے قدیم کسی اور عرب مورخ نے اس کا تذکرہ نہیں کیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہنور کو شہرت اسی دور سے نصیب ہوئی .

ابن بطوطہ کے بیان میں مندرجہ ذیل امور قابل غور ہیں ، ان پرتحقیق کی صورت میں ہندوستان کی اسلامی تاریخ پر سے مزید پردے اٹھ سکتے ہیں.

پہلا امر : ابن بطوطہ کے زمانہ میں ہنور کے باشندے شافعی المذہب تھے ، واضح رہے کہ شراوتی ندی کے مغربی کنارہ پر ہوسپٹن اور کاسرکوڈ سے ہندوستان میں شافعی مذہب کے ماننے والے مسلمانوں کا سلسلہ شروع ہوکر جنوب مشرقی ساحل پر کایل پٹم جاکر ختم ہوتا ہے ۔ یہ ہندوستان میں سب سے قدیم نسل کے مسلمان شمار ہوتے ہیں ۔ ہنور اور اس کے اطراف صرف نوائط برادری کے مسلمان ہی مذہب شافعی کے متبع ہیں ، مؤرخین کا اس پر اتفاق ہے کہ بھٹکل و اطراف کے نوائط سلطنت ہنور کی عرب نژاد مسلمانوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں .

دوسرا امر : ابن بطوطہ نے آٹھویں صدی میں ہنور میں حفظ قرآن کے رواج اور مکاتب کے نظام کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کا صراحت کے ساتھ یہ بیان کہ سوائے اس شہر کے یہ بات میں نے کہیں نہیں دیکھی ، چونکہ ہمارے علم کی حد تک کسی اور مؤرخ نے اس سے قبل ہندوستان میں حفظ قرآان کے تعلیم کے نظام کے بارے میں تفصیل نہیں بتائی ہے اور ابن بطوطہ نے تغلقی دور حکومت میں شمال تا جنوب مختلف سرکاری عہدوں پر رہ کر برصغیر کا مشاہد ہ کیا ہے ۔ یہ کہنے میں مضائقہ نہیں کہ برصغیر میں حفظ قرآن کا باقاعدہ ایسا نظام کہ تمام عورتیں بھی حافظ قرآن رہیں پہلے پہل سلطنت ہنور میں قائم ہوا ۔ یہ سبقت اس سلطنت کے لئے بڑی باعث فخر ہے ۔ قریبی دور میں بھٹکل کے ایک نامور رہنما جناب محی الدین منیری رحمۃ اللہ علیہ اپنی تقاریر میں ہمیشہ ابن بطوطہ کے اس بیان کا حوالہ دیتے تھے ، انہوں نے بچیوں کے لئے جامعۃ الصالحات کی بنا ڈالِی تو 1980ء میں یہاں پر حفظ قرآان کا شعبہ قائم کیا ، اس کی برکت ہے کہ آج بھٹکل میں سینکڑوں حافظات قرآن پائی جاتی ہیں اور ہر دو تین گھر چھوڑ کر خواتین ماہ رمضان المبارک میں تراویح میں پورا قرآن پاک سناتی ہیں ، اورچار پانچ مربع کلومیٹر پر محیط شہر بھٹکل کی تمام نوے (90) مساجد میں تراویح میں پورا قرآن سنانے کا اہتمام ہوتا ہے ۔ ان میں زیادہ تر حافظات کی تعلیم دسویں اور حفاظ کی تعلیم عالمیت سے اوپر ہوتی ہے ۔

تیسرا امر : ابن بطوطہ نے سلطنت ہنور کے بحری بیڑے میں فوج کی تعداد چھ ہزار اور جنگی کشتیوں کی تعداد (52) بتائی ہے ۔ ہمارے علم کی حد تک یہ برصغیر کی کسی مسلم سلطنت کا پہلا بحری بیڑا ہے ۔ یہ برصغیر کے مسلمانوں کی بدقسمتی رہی کہ یہاں مسلم حکمرانوں نے بحری بیڑے کی طرف توجہ نہیں دی ، اسے انھوں نے بہادری کے خلاف سمجھا ، اس سلسلہ میں شاہ گجرات محمود بیگرا کا مشہور جملہ ہے کہ : بحری بیڑوں وغیرہ سے ہمارا کیا کام یہ تو تاجروں کی چیز ہے ۔سلطنت ہنور صرف ہوسپٹن کا نام نہیں تھا ، بلکہ آخر الذکر اس کا مرکز تھا ، ایسا لگتا ہے کہ سلطنت ہنور کے خاتمہ کے بعد شراوتی ندی کے شمالی حصہ پر موجودہ ہوناور قصبہ واطراف سے مسلمانوں کا انخلاء ہونا شروع ہوا جو یکم مئی 1427 ء اپنی انتہاء کو پہنچا ، اس تعلق سے وکٹر ڈیسوزا نے بڑی جانسوزی سے قریبی گاؤں کائکینی کے قریب واقع جین بستی میں موجود اس دور کی ایک قدیم پتھر کے ستون کی عبارت خوانی کرکے مہاراجہ دیو پرتاب 1419 ء تا 1444ء کے دور حکومت میں اس کے گورنر مہا پردھانا تمنا اوڈیا Maha pardhana Tmanna Adya سے اختلافات کی بنیاد پر مسلمان تاجروں کے سردار عمر مرکلا اپنے لوگوں کے ساتھ شراوتی کے جنوبی ساحل پر منتقل ہونے اور پھر یہاں پر بھی خونریزی اور جنگ کی تفصیلات بیان کی ہیں . تاریخی قرائن سے ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ سلطنت ہنور کے زوال کے فوراً بعد یہاں سے مسلمانوں کا انخلاء ہوگیا ہو ، کیونکہ اس واقعہ کے ایک سو سال بعد پرتگالی نامہ نویس جاؤ دی بیروس 1553 ء میں لکھتا ہے کہ ہوناور کی یہ بندرگاہ اور بھٹکل کی بندرگاہ جو کہ سات فرسخ کی دوری پر تھی دوسرے ساحلی علاقوں کی طرح وجے نگر کے تابع تھی راجہ ہوناور اس کا باجگذار تھا ، چالیس سال کے دوران ان دونوں بندرگاہوں کی پورے ساحل پر بڑی دھوم تھی ، اس کی وجہ صرف یہ نہیں تھی کہ یہاں کی زمین زرخیز تھی ، اور بڑی مقدار میں یہاں غلہ ملتا تھا ، اور تمام جگہوں کے لئے یہاں سامان لادا جاتا تھا ، بلکہ ان کی اہمیت اس لئے بھی تھی کہ سلطنت وجے نگر کی جملہ در آمدات اور برآمدات انہی بندرگاہوں سے ہوتی تھی ، یہاں سے اسے نہ صرف بہت سا لگان ملتا تھا بلکہ اس کی خاص وجہ عرب و فارس سے یہاں در آمد ہونے والے گھوڑے بھی تھے ، جن کی وجے نگر کی فوج میں بڑی اہمیت تھی ، کیونکہ دکن کی مسلم سلطنت سے اس کی مسلسل جنگ جاری تھی ، اس نے شمال کی جانب سے وجے نگر کا گھیرا تنگ کر رکھا تھا ، اس کے بہت سارے علاقوں پر اس نے قبضہ کر لیا تھا ، جنگی مدافعت میں یہ گھوڑے بنیادی قوت فراہم کرتے تھے ، ان بندرگاہوں کی زرخیزی اور یہاں کی تجارت کی وجہ سے یہاں پر Naiteas (نائطی) کہلائے جانے والے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد تھی ، یہ گھوڑے خرید کر دکن کے مسلمانوں کو فروخت کیا کرتے تھے ، اس وجہ سے راجہ وجے نگر کو اس وقت بڑا نقصان اٹھانا پڑا جب کہ دکن کے ساتھ گھڑسوار فوج کی جنگ چھڑ گئی ، یہ خسارہ اس وقت بہت بڑھ گیا جب کہ گھوڑوں کی مانگ کی وجہ سے گھوڑوں کی قیمت دگنی ہوگئی ۔ جب ریاست کو اس سے تکلیف محسوس ہونے لگی تو وجے نگر نے ہوناور کے اپنے باجگذار راجہ کو حکم دیا کہ وہ جتنے زیادہ ممکن ہو یہاں کے مسلمانوں کو قتل کرے ، تا کہ یہ ڈر کے مارے ملک چھوڑ کر بھاگ جائیں ، پھر مسلمانوں کے سال 917 ھ جو کہ 1479 ء بنتا ہے ہوناور اور بھٹکل کے تمام علاقوں میں سازش کے الزام میں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوا ۔ جس میں دس ہزار مسلمان مارے گئے ، جو بچ گئے انھوں نے جتھے بنائے اور یہاں سے نکل کر زوڈی Tissuari جزیرے میں بود و باش اختیار کی ، یہیں سے شہر گوا کی بنیاد پڑی ۔ ہوناور کے باجگذار کی جانب سے جو بدسلوکی ان مسلمانوں کے ساتھ کی گئی تھی ، اس کے نتیجہ میں ہوناور کے ہندؤوں سے انھیں نفرت سی ہوگئی ، انھوں نے گوا کو آباد کرنے اور یہاں کی تجارت کو دلکش بنانے ، خاص طور سے گھوڑوں کی تجارت کو فروغ دینے ، انہیں آسانی سے سلطنت دکن کو روانہ کرنے کے انتظامات کے تعلق سے بڑی پھرتی سے اپنا کام پورا کیا ، یہ کام انھیں اس وجہ سے بھی آسان ہوا کہ یہ سامان تجارت جہازوں پر چڑھانے والے جہازراں مسلمان ہی ہوا کرتے تھے ، انھیں بھٹکل اور ہوناور میں جو تکلیف دی گئی تھی اس کی وجہ سے انہوں نے فیصلہ کردیا تھا کہ ہندوؤں کے بالمقابل وہ اپنے ہم مذہب مسلمانوں کا ساتھ دیں گے ، اس کی وجہ سے ہوناور اور بھٹکل کی بندرگاہوں کا نقصان ہونے لگا.

اس سلسلہ میں سلطنت وجے نگر کے مؤرخ روبرٹ سیول نے یوں لکھا ہے۔ ۱۳ ذی قعدہ 867 ھ ۔ 30/جولائی 1493ء محمد شاہ بہمنی بادشاہ بنا ۔ 1469 ء کے اواسط میں جب کہ راج شیکھرا یا ویرپکشا اول وجے نگر کا گدی نشین تھا ، محمد شاہ بہمنی کے وزیر محمود گاواں نے مغرب کی طرف کوچ کیا اور واضح طور پر ایک کامیا ب مہم چلا کر گوا پر حملہ کردیا ، پھر اس کے بعد بر و بحر دونوں راستوں سے وجے نگر کے رایا Raya کے مورچوں پر حملہ بول دیا ، اس حملہ میں اسے فتح نصیب ہوئی اور یہاں کے تمام علاقہ جات پر اس کا قبضہ ہوگیا ۔ بیروس کے بقول یہ غالبا 1469 ء میں ہونے والے مسلمانوں کے وحشیانہ قتل عام کا بدلہ تھا ، اس زمانہ میں ساحلی علاقہ کی جملہ تجارت مسلمانوں کے ہاتھوں میں تھی ، یہ مسلمان بڑی تعداد میں گھوڑے در آمد کرتے تھے ، یہ گھوڑے بنیادی طور پر سلطنت دکن اور وجے نگر کی دو مد مقابل کثیر تعداد فوج میں استعمال ہوتے تھے ، ہندو راجہ کی فوج کا دارو مدار انہی گھوڑوں کی درآمد پر تھا۔ ( اس قتل عام کے بعد ) بچ کرنکلنے والوں نے گوا میں پناہ لی ، یہیں سے اس شہر کی بنیاد پڑی جسے ہندوستان میں پرتگالیوں نے اپنی راجدھانی بنایا ۔ پرچیس Purcheas کا بیان ہے کہ یہ قتل عام 1479ء میں ہوا تھا .

ہنور اور بھٹکل میں قتل عام کے بعد گوا کی تاسیس اور اس کے نتیجہ میں وجے نگر کا جو تجارتی نقصان ہونے لگا اس کے بعد وجے نگر کی مزید کاروائی نے ہنور سے مسلمانوں کو مزید دوری کے جو اسباب پیدا ہوئے اس سلسلہ میں بیروس مزید لکھتا ہے کہ راجہ وجے نگر نے اس حکم کے ساتھ کہ گھوڑے لانے اور سامان تجارت لانے والے جہازوں کو ان دو نوں بندرگاہوں پر لانے کے لئے مجبور کیا جائے ، انھیں گوا نہ جانے دیا جائے ، اس نے راجہ ہوناور کے پاس اپنے چار کپتان ایک بحری بیڑے کے ساتھ روانہ کئے ، تاکہ یہ تمام جہازوں کو اپنی بندرگاہوں پر لانے کے لئے مجبور کرے ، اور ان کی جانب سے مدافعت کی صورت میں قزاقی اور لوٹ مار سمیت ان جہازوں کو جو نقصان پہنچایا جاسکے پہنچائے ، اس بحری بیڑے کا تیمیا Timmayya بڑا کپتان تھا ، اس نے ساحل پر آباد مسلمانوں کوجتنا نقصان پہنچا سکا پہنچایا ، اس رتبہ پر اس کے پہنچنے سے پہلے راجہ ہوناور کے دوسرے کپتان یہاں ہوا کرتے تھے ، اس وجہ سے راجہ ہوناور اور حکومت گوا ( عادل شاہی ) میں ہمیشہ جنگ جاری رہتی تھی ، اور سینتاکورا Sintacora ( Sadashivgarh ) کا قلعہ دشمن کی سرحد کا کام دیتا تھا ، مسلمانوں نے راجہ ہوناور کے خلاف بہت زیادہ کامیابیاں حاصل کیں ، خاص طور پر Sabia ( یوسف عادل خان ) کے گوا کا حاکم بننے کے بعد تو راجہ ہوناور جو کہ ندی کے دہانے پر رہائش پذیر تھا بھاگ کر ندی کے اندرونی علاقہ میں منتقل ہوگیا .

قصبہ ہوناور اللہ کے نام لیواؤں سے خالی نہیں ہوا ، قریبی دور میں آئے ہوئے توحید کے پرستار اب بھی وہاں موجود ہیں ، لیکن ہوسپٹن جسے اس تاج کا ہیرا کہنا چاہئے اب سونا پڑا ہے ، یہ بستی جہاں برصغیر کا کلام اللہ حفظ کرنے کا قدیم ترین باقاعدہ نظام قائم کیا گیا تھا ، مدت ہوئی اس کی فضاؤں میں تکبیر کی صدائیں گم ہوگئی ہیں ۔ بس بوسیدہ مینار کا ایک ڈھانچہ ہے جو یاد دلاتا رہتا ہے کہ میر عرب کا کارواں کبھی یہا ں سے گذرا تھا ، یہاں بھی کبھی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند ہوتی تھیں ، لیکن مرور زمانہ نے قومی حافظے سے اس کا نام فراموش کردیا ، یہاں کے اڑوس پڑوس میں اب جو ماحول بن گیا ہے اس سے اب ایسا نہیں لگتا کہ توحید کی وہ بہاریں یہاں دوبارہ لوٹائی جاسکیں گی ، لیکن ایسا تو ہوسکتا ہے کہ قومی حافظہ میں اسے محفوظ رکھنے کا انتظام ہو تاکہ آئندہ نسلیں اس کی ضوپاشی سے منور رہ سکیں ۔

جنوبی سواحل ہند پر آباد قوم ناخدا کی بستیوں کے مقامات

             قوم ناخدا کی آبادی جنوبی ہند کی تین ساحلی ریاستوں مہاراشٹرا ، گوا اور کرناٹکا کے مختلف علاقوں میں عین ساحل پر بسی ہوئی ہے ۔ مثلاً ریاست مہاراشٹرا کے ضلع رتناگری کے علاقے مرکروڑا ، راجوڑا ، انگل واڑی ، جمباری اور کاتلی وغیرہ میں ۔ اور ریاست گوا کے ضلع ساوتھ گوا کے مڈگاؤں تعلقہ کے مشہور شہر واسکو کے ساحل بائنہ پر ۔ اورریاست کرناٹکا کے ضلع اتر کینیرا کے کاروار تعلقہ کے علاقہ سداشیوگڑ میں ۔ اور انکولہ تعلقہ کےعلاقہ اگرگون میں ۔ اور کمٹہ تعلقہ کے علاقے ونلی ، گڈکاگل ، ہینی ، بیٹکولی ، کیمانی ، تڈلی ، پڈونی اور برگی میں ۔ اور ہوناور تعلقہ کے علاقے کاسرکوڈ ، روشن محلہ اور منکی ناخدا محلہ میں ۔ اور بھٹکل تعلقہ کے علاقے مرڈیشور ، تینگن گنڈی اور نستار میں ۔ اور ضلع اڈپی کے کنداپور تعلقہ کے علاقے شیرور اور گنگولی ناخدا محلہ میں قوم ناخدا کے لوگ بسے ہوئے ہیں ۔

2 تبصرے

  1. MashaAllah… Bahut arse se mai bhi nakhuda qoum ke liye kuch karna chahta hu, nakhuda qoum ek gumnami ki zindagi basar kar rahi hai… Aao ka mazmoon padh dil khush ho gaya… Padosi qoume apne aap pe fakhar karti hai aur hame neecha samajhti hai is se dukh hota hai aur afsos hota hai kaash ye qoum padhi likhi aur samjhdaar hoti…

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here