جنوبی ہند کی قومِ ناخدا کا ایک سرسری جائزہ و تعارف

2
3870

بسم اللہ الرحمان الرحیم

از : مولانا ابراہیم فردوسی ندویؔ

فردوس نگر ، جامعہ آباد ، تینگن گنڈی ، بھٹکل ۔ کرناٹکا ۔ انڈیا ۔

تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے انسانوں کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کرکے انھیں مختلف کنبوں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے متعارف ہوں ۔ درود و سلام ہو اس رسولِ عربی پر جن کا اسوہ پوری انسانیت کے لئے ہدایت کا چراغ ہے ۔ اما بعد :

قوم ناخدا جنوبی ہندوستان کی ساحلی پٹی کے مختلف مقامات پرعین ساحل پر آباد مسلم جہاز رانوں و جہاز سازوں کی ایک قوم ہے جو آج بھی ساحلی کنارے پر ہی آباد ہے ۔ مثلاً رتناگری ، گوا ، کاروار ، انکولہ ، کمٹہ ، ہوناور ، منکی ، مرڈیشور  ، تینگن گنڈی ، نستار ، شیرور ، گنگولی وغیرہ ، اس کا اصل آبائی پیشہ جہاز رانی و جہاز سازی تھا لیکن ساحل پر بسنے کی وجہ سے ثانوی درجہ میں ماہیگیری کا کام بھی کرتی تھی ۔

یہ قوم اپنے باربرداربادبانی جہازوں کے ذریعہ مختلف چیزوں کی تجارت اور مختلف چیزوں کو ایک بندرگاہ سے دوسرے بندرگاہ میں درآمد و ابرآمد کرنے کا کام کرتی تھی ۔ یہ زیادہ تر غذائی اجناس ، مصالحے ، مختلف قسم کی لکڑیاں ، کھپریل ، ناریل ، مٹی کا تیل اور سوکھی مچھلیاں وغیرہ درآمد و برآمد کرتی تھی ۔ گجرات سے لیکر کنیا کماری تک ان ہی کے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت ہوا کرتی تھی ۔ یہ قوم اپنے پیشے کی مناسبت سے ناریل کے چھلکوں سے ڈوریاں ، رسیاں اور رسے بناتی تھی اور ان کو جوڑ کر بڑے بڑے تجارتی بار بردارجہازوں کو بنانے کے فن میں بڑی مہارت رکھتی تھی جن کو وہ اپنی مادری زبان میں’’ مچھوا ‘‘ اور چھوٹے جہازوں کو ’’ بارکس ‘‘ کہا کرتی تھی ۔ ان کے علاوہ غیر ملکی تجارتی اسفار کے لئے وہ مخصوص بادبانوں کے ایسے جہاز بناتی تھی جو ان کو مخالف ہواؤں کے رخوں پر سفر کرنے میں معاون ثابت ہوں جن کووہ اپنی مادری زبان میں ’’ تارو ‘‘ کہا کرتی تھی ۔ اسی طرح بادبان تیار کرنے اورستاروں کی مدد سے سمتوں کو معلوم کرنے کے فن میں بھی بڑی مہارت رکھتی تھی ۔ چودھویں صدی ہجری کے اواخر تک اس کا یہی پپشہ ر ہا ۔ جب تجارتی آمد و رفت کے ذرائع نے ترقی کی اور تجارتی باربردار بادبانی کشتیاں مشینی کشتیوں میں تبدیل ہونے لگیں تو یہ قوم آہستہ آہستہ ماہیگیری کے پیشہ کو اپنانے لگی تو بالآخر پندرھویں صدی ہجری کے اوائل میں اس کا پیشہ ہی ماہیگیری بن گیا ۔

یہ قوم اپنے جہازوں کے عملاء کے لئے تین قسم کے الفاظ استعمال کرتی تھی ۔ٹانڈیل ، خلاصی اور بھنڈاری ۔ جہازکے کیپتان و ذمہ دار کو ٹانڈیل اور اس میں کام کرنے والے اولین درجہ کے لوگوں کو خلاصی اور کھانا پکانے اور چھوٹے موٹے دیگر کام کرنے والے عمال کو بھنڈاری کہا کرتی تھی ۔

اس قوم میں خواندگی کے بمقابلہ ناخواندگی زیادہ پائی جاتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں جنوبی ہند کا تاریخی مواد بہت کم ملتا ہے ۔ کاش اگراس میں تعلیمی رجحان شروع ہی سے پایا جاتا تو آج یہ قوم جنوبی ہند کی سب سے بڑی تاریخ ساز قوم قرار پاتی ۔ جنہوں نے بھی جنوبی ہند کی تاریخ لکھی ہوگی ان سبھوں کو اس بات کا قلق وافسوس ضرور ہوا ہوگا بلکہ بعض مصنفین نے کھلے الفاظ میں اس کا اظہار بھی کیا ہے ۔

نصف چودہویں  صدی ہجری کے بعد اس قوم کا تعلیمی رجحان بڑھنے لگا جس کے نتیجہ میں یہ قوم پندرھویں صدی ہجری کے اوائل میں اپنے سپوتوں کو حافظ ، قاری ، عالم ، فاضل ، انجینئر ، ٹیچر اور دیگر مختلف علوم و فنون کے فنکار پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئی ۔ اللہ کی اس نعمتِ عظمٰی کی شکر گذاری قوم کے ہر ہر فرد پر واجب ہے ۔

یہ قوم اپنی ایک الگ ناخدائی بولی بولتی ہے جو مراٹھی اور کونکنی سے بہت مشابہت رکھتی ہے اور کچھ کچھ گجراتی اور نوائطی سے بھی ، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ قوم زمانہ دراز سے ہندوستان کی ساحلی پٹی پر آباد تھی ۔ اس لئے مراٹھی اور کونکنی کے اثرات زیادہ پڑے ۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ ان کی تعداد زیادہ تھی اور بستیاں بھی قریب قریب تھیں اور ابھی تک ویسے ہی ہیں ۔ قوم ناخدا کی ناخدائی زبان کا وجود غالبًا اس طرح  ہوا ہوگا کہ جب عربوں کے تجارتی قافلے تجارت کی غرض سے جنوبی ہندوستان آنے جانے لگے تو عربوں کی اور یہاں کی علاقائی زبانوں کے اثرات سے ایک تیسری مخلوط زبان کاوجود میں آنا ایک فطری بات تھی جو ان زبانوں کا سنگم ہو ۔

اس موقعہ پر میں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ قوم اپنے اوپر بعض الفاظ کے اطلاق کو عار سمجھتی ہے ان میں سے ایک ’’ دالجی ‘‘ او ر دوسرا ’’داردی ‘‘ یا اس کابگڑا ہوا لفظ ’’ دالدی ‘‘ ہے ۔ قوم ناخدا کے اپنے اوپر ان الفاظ کے اطلاق کو عار سمجھنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ رہی لفظ دالجی کی بات چونکہ عربی میں دَلَجَ کے معنی کنویں سے پانی نکال کرحوض میں انڈیلنے کے آتے ہیں ۔ اس کا اسم فاعل دَالِجٌ آتا ہے ۔ پھر اس پر یاء نسبتی کا اضافہ کرکے دَالِجِیْ بنایا گیا جس کے معنی قوم ناخدا کے پیشہ کی مناسبت سے جہاز کے اندرونی حصہ کے پانی کو باہر انڈیلنے کے ہو جاتے ہیں جسکو ناخدائی زبان میں ’’ غَمَّطْ ماروژا یا کاڑوژا ‘‘ کہتے ہیں ۔ چونکہ یہ عربی النسل ملاحوں کی اولاد تھی اس لئے اپنے اوپر اس لفظ کے اطلاق کو ملاح کے معنی سے ہٹنے کی وجہ سے معیوب سمجھتی ہوگی ۔ رہی داردی یا اس سے بگڑے ہوئے لفظ دالدی کی بات تو چونکہ ناخدائی زبان میں داردی کے معنی دارد ڈالنے والے کے ہیں اور ناخدائی زبان میں دارد ڈالنے کے معنے ہیں سورج ڈوبتے وقت مچھلیاں پکڑنا ۔ چونکہ اس قوم کا اصل پیشہ جہاز رانی و جہا زسازی تھا ، لیکن ثانوی درجہ میں ماہیگیری کا کام بھی کرتی تھی ۔ لہذا اصل پیشہ سے نسبت ہٹنے کی وجہ سے اس لفظ کو بھی معیوب سمجھتی ہوگی ۔

قوم ناخدا کی چند امتیازی خصوصیات

قوم ناخدا کی اپنی کچھ امتیازی خصو صیات بھی ہیں مثلاً یہ ہمیشہ عین ساحل کے کنارے پر بسنا پسند کرتی ہے تاکہ اسے اس کے پپپشہ کی مناسبت سے زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا ہوں ۔ یہ عموماً اپنے ناشتہ اور دوپہر و شام کے کھانے میں چاول اور اس سے بنائے گئے مختلف ناشتوں کا استعمال کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کھانے کے لئے دو قسم کے الفاظ استعمال کرتی ہے ایک ‘‘ کھاوژا ’’ اور دوسرا ‘‘ جیوژا ’’ کھاوژا کا مطلب عام کھانے کی چیزیں کھانا اور جیوژا کا مطلب دوپہر یا شام کا کھانا کھانا ۔ خلاصہ یہ کہ اسکی یہ اہم خصوصیت  اسکی اپنی مادری زبان پر بھی اثرانداز ہوئی ہے ۔ چودھویں صدی کے اواخر تک یہ اپنی اولاد کے نام کثرت سے اولوالعزم رسل ، انبیاء ، صحابہ ، ازواجِ مطہرات اور آپ کی صاحبزادیوں کے ناموں پر ہی رکھا کرتی تھی ۔ اسی طرح دادا دادی اور نانا نانی کے انتقال کے بعد پیدا ہونے والے پہلے بچوں کے نام انکے ناموں پر ہی رکھتی تھی ۔ یہ عقدِ نکاح عموماً مسجد میں ہی کرواتی ہے ۔ نکاح اور خوشی کے مواقع پر دف بجاتی  ہے ۔ اس قوم کی عورتوں میں چودھویں صدی ہجری کے اواخر تک ساڑھی اور لڑکیوں میں لنگا پہننے کا عام رواج تھا ۔ یہ کھانے اور ناشتہ میں زیادہ تر مچھلی کے سالنوں کا استعمال کرتی ہے ۔ اس قوم کی عورتیں چودھویں صدی کے اواخر تک ناک کے بائیں طرف کے نتھنے میں زیور پہنتی تھیں ۔ اس قوم کی عورتیں چودھویں صدی ہجری کے اواخر تک اپنے شوہروں کو ان کے ناموں سے پکارنے کو تعظیماً معیوب سمجھتی تھیں ۔ اس قوم کی اکثریت چودھویں صدی ہجری کے اواخر تک زکوٰۃ لینا پسندنہیں کرتی تھی ۔ اس قوم میں امانتداری بمقابلہ خیانت زیادہ پائی جاتی ہے ۔یہ قوم چودھویں صدی  ہجری کے اواخر تک اپنے آپسی تنازعات کو اپنے اپنے جماعتی نظام کے تحت رہ کر حل کرنے کی کوشش کرتی تھی اور حکومتی عدالتوں میں تصفیہ کرنے کو معیوب سمجھتی تھی ۔ یہ قوم اپنے اپنے علاقوں کا نظم و نسق اپنے مخصوص جماعتی نظام کے تحت چلانے کی کوشش کرتی ہے جس کے ذمہ دار کو متولی کہا جاتا ہے ۔ اس قوم کے لوگ اپنی کمر میں زناّر نما دھاگہ باندھتے ہیں جو ان کے کمر پر بندھے ہوئے کپڑوں کو مضبوطی سے تھامے رکھتا ہے جس کو ان کی مادری زبان میں ’’ ناڑو یا کَلڈیلو ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ یہ لوگ سمندری پہاڑی سیپیاں بڑے شوق سے کھاتے ہیں جنکو وہ اپنی مادری زبان میں کُلٹے ، کالوا ، سارَولی ، خُبے اور مُورے کہتے ہیں ۔ اور ان سے مختلف قسم کے سالن اور ناشتے بناتے ہیں ۔ یہ پندرہویں صدی ہجری کے اوائل تک اپنی عورتوں کا نکاح دوسری برادری کے مردوں سے کروانا پسند نہیں کرتے تھے ۔ لہذا زیادہ تر اپنی ہی برادری کے مردوں سے نکاح کرواتے تھے ۔ یہ پوری کی پوری قوم مسلکًا شافعی ہے ۔ قوم ناخدا کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ ’’ چے ‘‘ یعنی چیم کی آواز کو ’’ ژ ‘‘ سے اس وقت بدلتی ہے جب چے یعنی چیم کے بعد کسی لفظ میں حروفِ مدہ میں سے الف یا واؤ میں سے کوئی حرف آجائے ۔ جیسے چال سے ژال ۔ چابی سے ژاوی ۔چاٹنا سے ژاٹوژا ۔ چور سے ژور ۔ چُور چُور سے ژُور ژُور وغیرہ ۔

قوم ناخدا کی جہاز رانی و جہاز سازی

قوم ناخدا مختلف قسم کے جہازوں کے لئے مختلف الفاظ استعمال کرتی تھی ۔ مثلاً ’’ بَگْلَو یا تارُو ‘‘ عربستان کے جہازوں کے لئے ۔ ’’ ناوڑی ‘‘ مالدیپ کے جہازوں کے لئے ۔ ’’ موٹا یا بَتَّیلَو ‘‘ گجراتی جہازوں کے لئے ۔ ’’ بِرْگا یا بِرِنْگ ‘‘ تاملناڈو کے جہازوں کے لئے ۔ ’’ اِیْچَھا ‘‘ کیرلا کے جہازوں کے لئے ۔ اور سب سے چھوٹے جہاز کو ’’ مَنْجِھی ‘‘ کہتی تھی ۔ اسی طرح ’’ پَڑاؤ ‘‘ اس باربردار بڑی کشتی کو کہتی تھی جو بادبانی جہازوں پر سامان لادنے کے لئے استعمال کی جاتی تھی جس کی لمبائی تقریباً دس تا پندرہ فٹ اور چوڑائی چھ تا آٹھ فٹ ہوتی تھی ۔ قوم ناخدا کے جہازوں کو ساوتھ کینرا کے لوگ ’’ کَوٹیو ‘‘ اور نارتھ کینرا کے لوگ ’’ مچھوا یا بارکَس اور نَنْگ یا نَگْ ‘‘ کہتے تھے ۔

قوم ناخداکے باربردار جہازوں کی اشیاءِ درآمدات و برآمدات

قوم ناخدا اپنے باربردار جہازوں پر مختلف قسم کی چیزیں ایک بندرگاہ سے دوسرے بندرگاہ پر منتقل کرتی تھی ۔ مثلاً غذائی اجناس میں چاول ، گیہوں ، باجرہ اور شکر وغیرہ ۔ مصالحوں میں کاجو ، بادام ، کشمش ، الائچی ، لونگ ، ناریل اور نمک وغیرہ ۔ مچھلیوں میں سوکھی مچھلیاں خصوصا ’’ کُٹی مچھلی ‘‘ جس کو قوم ناخدا کی زبان میں ’’ کاوناژا مھاورا ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ لکڑیوں میں مختلف درختوں کے بہت لمبے اور چوڑے تنے جو تقریباً پندرہ تا بیس فٹ لمبے اور تین تا چھ فٹ چوڑے ہوتے تھے جن کو قوم ناخدا کی مادری زبان میں ’’ ناٹا یا سُوٹے ‘‘ کہا جاتا ہے ۔اسی طرح ’’ ٹِمبر ‘‘ بھی جسکو قوم ناخدا کی زبان میں ’’ سِلِیپَر ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ ایندھنی لکڑیاں جسکو قوم ناخدا کی زبان میں ’’ جلاؤ لاکُّڑ یا ڈھاوژا لاکڑ ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ گھروں کی چھتوں کے لئے استعمال کی جانے والی لکڑیاں اور کھپریل وغیرہ ۔ ان کے علاوہ مٹی کا تیل اور چونا وغیرہ بھی درآمد و برآمد کیا جاتا تھا .

قوم ناخدا کے تجارتی بندرگاہ

قوم ناخدا کے باربردار جہازوں کی آمد و رفت جنوبی ہندوستان کی پوری ساحلی پٹی کے مختلف چھوٹے بڑے بندرگاہوں پر ہوا کرتی تھی ۔ان میں سے کچھ ایسے تھے جن پر وہ اپنا تجارتی مال اور سازو سامان پہونچاتی یا وہاں سے لادتی تھی ۔ اور کچھ ایسے تھے جن پر وہ نہ ہی اپنا تجارتی ما ل اور سازو سامان پہونچاتی اور نہ ہی وہاں سے لادتی تھی لیکن بعض موانع و عوارض کی بنا پران میں عارضی طور پر اپنے جہازوں کو لنگر انداز ضرور کرتی تھی ۔ مثلاً علی باغ ، حفصان ، چمار قلعہ ، امبوا ، بوریا ، شریوردھن ، کیلسی ، نہورا ، کومبارو ، ہیلی ، تلچیری وغیرہ ۔ ان کے علاوہ بہت سارے بندرگاہ ایسے تھے جن میں قوم ناخدا کے جہاز درآمدات وبرآمدات ہی کی غرض سے جایا کرتے تھے ۔ مثلاً مہاراشٹرا میں وینگورلا ، دھابول ، چپلون ، جیتاپور ، موسیٰ غازی ، زیگڑ ، دیوگڑ ، مریا اور بانکوٹ وغیرہ ۔ کرناٹکا میں کاروار ، بیلیکیری ، ہوناور ، تڈلی ، مرڈیشور ، بھٹکل ، نستار ، شیرور ، گنگولی ، ہینگر کٹے ، کاپو ، ملپے اور مینگلور وغیرہ ۔ کیرلا میں کالیکٹ ، بلیاپٹن ، الپے ، کوچین ، کوئلانڈی ، کاسر گوڑ وغیرہ ۔ اسی طرح گجرات اور ریاستِ گوا کی آزادی کے بعد گوا میں بھی قوم ناخدا کے تجارتی جہاز جایا کرتے تھے ۔

جنوبی سواحل ہند پر آبا د قوم نا خدا کی بستیوں کے مقامات

قوم ناخدا کی آبادی جنوبی ہند کی تین ساحلی ریاستوں مہاراشٹرا ، گوا اور کرناٹکا کے مختلف علاقوں میں عین ساحل پر بسی ہوئی ہے ۔ مثلاً ریاست مہاراشٹرا کے ضلع رتناگری کے علاقے مرکروڑا ، راجوڑا ، انگل واڑی ، جمباری اور کاتلی وغیرہ میں ۔ اور ریاست گوا کے ضلع ساوتھ گوا کے مڈگاؤں تعلقہ کے مشہور شہر واسکو کے ساحل بائنہ پر ۔ اورریاست کرناٹکا کے ضلع اتر کینیرا کے کاروار تعلقہ کے علاقہ سداشیوگڑ میں ۔ اور انکولہ تعلقہ کےعلاقہ اگرگون میں ۔ اور کمٹہ تعلقہ کے علاقے ونلی ، گڈکاگل ، ہینی ، بیٹکولی ، کیمانی ، تڈلی ، پڈونی اور برگی میں ۔ اور ہوناور تعلقہ کے علاقے کاسرکوڈ ، روشن محلہ اور منکی ناخدا محلہ میں ۔ اور بھٹکل تعلقہ کے علاقے مرڈیشور ، تینگن گنڈی اور نستار میں ۔ اور ضلع اڈپی کے کنداپور تعلقہ کے علاقے شیرور اور گنگولی ناخدا محلہ میں قوم ناخدا کے لوگ بسے ہوئے ہیں ۔

--Advertisement--

2 تبصرے

  1. MashaAllah… Bahut arse se mai bhi nakhuda qoum ke liye kuch karna chahta hu, nakhuda qoum ek gumnami ki zindagi basar kar rahi hai… Aao ka mazmoon padh dil khush ho gaya… Padosi qoume apne aap pe fakhar karti hai aur hame neecha samajhti hai is se dukh hota hai aur afsos hota hai kaash ye qoum padhi likhi aur samjhdaar hoti…

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here