Friday, May 8, 2026
Google search engine
الرئيسيةمضامینعمومی مضامینکسبِ حلال واکلِ حلال کی اہمیت اور فضیلت وترغیب

کسبِ حلال واکلِ حلال کی اہمیت اور فضیلت وترغیب

از : مولانا عبدالقادر بن إسماعيل فیضان باقوی ،جامعہ آبادی، بھٹکلی

کتبه : 4/جمادى الآخره 1446 ھ ، بہ موافق 5/ڈسمبر 2024 میلادی ، بروز جمعرات

الحمد لله رب العالمین ، والصلوة والسلام علی رسوله الکریم الامین ، وعلی اٰله وصحبه أجمعین ، ومن تبعھم باحسان الی یوم الدین . أما بعد !

یہ ضروریاتِ دین میں سے ہے کہ ایک اچھی اور پاک زندگی گزارنے کے لئے حلال طریقہ سے کمانا اور حلال چیزیں کھانا اور کھلانا فرض ہے . اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا! ” يَاَيُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِى الْاَرْضِ حَلَالاً طَيِّبًا “. اے لوگو! زمین میں جو پاک حلال چیزیں ہیں انھیں کھاؤ . ( سورۃ البقرۃ/ 168 ) . اسی لئے جو شخص حلال کمائی کے لئے گھر سے نکلتا ہے تو وہ اللہ کے راستہ میں ہوا کرتا ہے .

دوسری طرف حرام کمائی اور چیزوں سے بچنا بھی واجب ہے ، حدیث میں آتا ہے ” جو گوشت حرام سے پلتا ہے تو ( جہنم کی ) آگ اس سے بہتر ہے “. حرام مال کھانے والوں کی چالیس دنوں کی عبادت مقبول نہیں ہوتی . لہذا پوری طرح حرام کمائی سے بچنا ضروری ہے .

اگر اشیاء کی اصلیت کی طرف دیکھا جائے تو ہر پاک چیز حلال ہے

فقہائے کرام نے بنیادی دس چیزوں کے علاوہ تمام چیزوں کو حلال کہا ہے ، جو بنیادی دس چیزیں حرام ہیں وہ درجِ ذیل ہیں : (1) آدمی . (2) ضرر رساں چیزیں ، جیسے زہر ، پتھر اور مٹی . (3) گندی چیز ، جیسے منی . (4) ( سخت ) پنجوں والے پرندے ، جیسے چیل ، شاہین ، عقاب . (5) مضبوط کونچلیوں والے خونخوار درندے ، جیسے شیر ، تیندوا ، بھیڑیا . (6) قرآن کریم میں ” حُرّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ والدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ (الخ) “. تم پر مردار ، ( بہتا ) خون اور سور کا گوشت حرام ٹہرایا گیا o ( سورۃ المائدہ/3 ) آیت کریمہ کے ذریعہ حرام ٹہرائی گئی چیزیں . (7) وہ چیزیں جن کا کھانا عرب برا ( خراب ) سمجھتے ہوں ، جیسے کیڑے مکوڑے . (8) وہ حیوانات جن کو جان سے مار ڈالنے سے روکا گیا ہو ، جیسے ” خطاب ” پرندہ ، شہد کی مکھی اور مینڈک . (9) وہ حیوان جنھیں مار ڈالنے کا حکم دیا گیا ہے ، جیسے سانپ ، بچھو . (10) اور وہ چوپائے جن پر سواری کی جاتی ہو ، اونٹ اور گھوڑے کے علاوہ . ( اعانةالطالبین ، ج/2 ، ص/ 349 )

افضل کمائی

زراعت ( کھیتی باڑی ) سب سے افضل کمائی ہے ، اس لئے کہ اس کمائی میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ پر تمام کمائیوں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ توکل ہوتا ہے اور اس وجہ سے بھی کہ عام طور پر تمام لوگوں کی ضروریات اسی سے وابستہ ہوتی ہیں ، جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ مسلم کی حدیث میں آتا ہے ،

حدیث/1 : مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا إِلَّا كَانَ مَا اُكِلَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةٌ ، وَمَا سُرِقَ مِنْهُ صَدَقَةٌ ، وَلَا يَرْزَءُهُ اَحَدٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ “. کوئی مسلمان ایسا نہیں جو کوئی درخت لگاتا ہو مگر اس میں سےجو کچھ کھایا گیا ہو اس پر اس کے لئے ایک صدقہ ہے اور اس سے جو چُرایا گیا ہو اس سے اس کے لئے ایک صدقہ ہے ، اور کوئی ( جانور یا حشرات الأرض ) اس ( کھیتی ) کو مصیبت ( نقصان ) نہیں پہونچاتا مگر یہ کہ اُس کے لئے ( اس پر ) ایک صدقہ ہے . ( مسلم )

دوسری قسط

حدیث/2 : عَنْ اَنَسٍ رضي الله عنه اَنّ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم قَالَ! ” مَا مِنْ مُّسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا ، اَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا ، فَيَاْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ ، اَوْ اِنْسَانٌ اِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ “. سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! کوئی مسلمان کوئی پودا ( یا درخت ) نہیں لگاتا یا کوئی کاشت کاری نہیں کرتا کہ جس سے کوئی پرندہ یا کوئی انسان کھاتا ہے مگر یہ کہ اُس پر اُس کے لیے ایک صدقہ ( کا اجر ) ہے . { بخاری ، مسلم ، ترمذی ، حدیث/397 ۔ اس حدیث کو ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الخطیب التبریزی نے مشکاة المصابيح میں ( جو انہوں نے مُحَدِّثْ ، مُفَسِّر اور فقیہ کی حدیث کی کتاب ” مصابیح السنة ” کو سامنے رکھ کر لکھی ہے اور اُس پر ضمیمہ لگایا ہے ) لکھا ہے حدیث نمبر/1900 اور شیخ ابو زکریا امام نووی نے اپنی مشہور حدیث کی کتاب ” رِيَاضُ الصالحين ” میں ” وَ رَوَيَاهُ جَمِيْعًا مِنْ رِوَايَةِ اَنَسٍ ” اور اُن دونوں ( شیخان ) نے ساری حدیثوں کو انس کی روایت سے روایت کیا ہے . حدیث نمبر/136 ( امام نووی کے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ مسلم کی حدیث کے پیچھے مطلقاً ” و رویا ” کے ألفاظ سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ متفق علیہ کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث میں بھی ہوبہو وہی الفاظ ہیں جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہیں ، یہ بات نہیں ہے ، بتاتے چلیں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ” وَلَا يَرْزَؤُهُ أَحَدٌ إِلَّا كانَ لَهُ صَدَقَةٌ ” کے الفاظ نہیں ہیں اس کے علاوہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے قدرے کمی بیشی کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث کو روایت کیا ہے ، جیسا کہ ذیل میں آپ بین السطور دیکھیں گے ۔

حدیث/3 : سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا إِلَّا مَا اُكِلَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةٌ ، وَمَا سُرِقَ مِنُهُ لَهُ صَدَقَةٌ ، وَلَا يَرْزَؤُهُ اَحَدٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ اِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ “. کوئی مسلمان ایسا نہیں جو کوئی درخت لگاتا ہو مگر یہ کہ اُس سے جو کچھ کھایا جاتا ہے ( اس پر ) اس کے لیے ایک صدقہ ( کا اجر ) ہے ، اور اس سے جو کچھ چُرایا جاتا ہے اس کے لیے ایک صدقہ ہے ، اور کسی کا کچھ نہیں گھٹتا ہے مگر ( اس پر ) اس کے لیے ایک صدقہ ہے . { مسلم ، الترغیب والترھیب حدیث/3967 ۔ رياض الصالحين/136 ریاض الصالحین کی اس روایت میں ” الى يوم القيامة ” کے الفاظ نہیں آیے ہیں } .

حدیث/4 : اور مسلم کی ایک روایت میں ” فَلَا يَغْرِسُ الْمُسْلِمُ غَرْسًا فَيَاْكُلَ مِنْهُ اِنْسَانٌ وَلَا دَابَّةٌ وَلَا طَيْرٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ اِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ” پس کوئی مسلمان کوئی گھاس ( پودا یا درخت ) نہیں بوتا کہ اس میں سے کوئی انسان کچھ کھاتا ہے اور نہ کوئی جانور یا پرندہ کھاتا ہے مگر یہ کہ اس کے لیے ( یہ ) روزِ قیامت میں ایک صدقہ ہوگا . { الترغیب والترھیب حدیث/3968 ، رياض الصالحين } .

حدیث/5 : اور اُن ہی کی ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں ” لَا يَغْرِسُ الْمُسْلِمُ غَرْسًا وَلَا يَزْرَعُ زَرْعًا ، فَيَاْكُلَ مِنْهُ اِنْسَانٌ وَلَا دَابَّةٌ وَلَا شَيْئٌ إِلَّا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ “. کوئی مسلمان کوئی درخت نہیں لگاتا ہے اور نہ کوئی کھیتی باڑی کرتا ہے کہ اُس میں سے کوئی انسان اور کوئی جانور اور نہ ہی کوئی چیز کھاتی ہے مگر یہ کہ اُس کے لیے ایک صدقہ ہے . { مسلم ، الترغیب والترھیب حديث/3969 ، ریاض الصالحین } .

حدیث/6 : سیدنا عبداللہ بن عَمْرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” لَا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا وَلَا يَزْرَعُ زَرْعًا ، فَيَاكُلُ مِنْهُ اِنْسَانٌ وَلَا طَائِرٌ وَلَا شَيْئٌ إِلَّا كَانَ لَهُ اَجْرٌ “. کوئی مسلمان کوئی درخت نہیں لگاتا اور نہ کسی قسم کی کوئی کھیتی باڑی کرتا ہے کہ اُس میں سے کوئی انسان نہ کوئی پرندہ اور نہ ہی کوئی چیز کھاتی مگر یہ کہ اس کے لیے اس ( کھانے) پر ایک اجر ہے . { طبرانی نے اس حدیث کو اوسط میں إسنادِ حسن سے روایت کیا ہے . الترغیب والترھیب/3972} .

حدیث/7 : سیدنا خَلَّاد بن سائب نے اپنے باپ ( رضی اللہ عنہما ) سے روایت کیا ہے کہتے ہیں! رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا! ” مَنْ زَرَعَ زَرْعًا فَاَكَلَ مِنْهُ الطَّيْرُ اَوِ الْعَافِيَةُ ، كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ “. جس نے کوئی کاشت کاری کی ، پس اُس میں سے کسی پرندہ یا کسی راہ رَو انسان یا جانور نے کچھ کھایا تو وہ اس کے لیے ایک صدقہ ہوگا . { احمد اور طبرانی نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ، اور احمد کی إسناد حسن ہے ۔ الترغیب والترھیب حدیث /3973} .

جیسا کہ ظلم وزیادتی کی عدمِ شرط کے ساتھ کوئی درخت لگانے اور کسی ذی روح کا اس کے پھل پھول اور پتے کھانے پر درخت لگانے والے کو اجر وثواب دیے جاتے ہیں اسی طرح کسی شخص کے بغیر ظلم و زیادتی کے کسی عمارت کے بنانے اور اللہ سبحانہ وتعالی کی مخلوق کا اس سے فائدہ اٹھانے پر بھی عمارت بنانے والے کو صدقۂ جاریہ حاصل ہوتا ہے ، جیسا کہ درج ذیل حدیث اس پر دلالت کرتی ہے :

حدیث/8 : سیدنا مُعاذ بن انس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” مَنْ بَنَى بُنْيَانًا فِيْ غَيْرِ ظُلْمٍ وَلَا اِعْتِدَآءٍ ، اَوْ غَرَسَ غَرْسًا فِيْ غَيْرِ ظُلْمٍ وَلَا اعْتِدَآءٍ ، كَانَ لَهُ اَجْرًا جَارِيًا مَا اِنْتَفَعَ بِهِ مِنْ خَلْقِ الرَّحْمَانِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى “. جس شخص نے بغیر کسی ظلم و زبردستی کے کوئی عمارت بنائی ، یا ( کسی پر ) ظلم اور زبردستی کیے بغیر کوئی درخت لگایا تو ( اس پر ) اس کے لیے تب تک اجر جاری ( صدقۂ جاریہ ہوتا ) رہے گا جب تک رحمن تبارک وتعالی کی مخلوق اُس سے مُنْتَفِع ہوتی رہے . { حدیث کو زبان کے طریقہ سے احمد نے روایت کیا ہے ۔ الترغیب والترھیب حدیث/3971} .

تیسری قسط

آدمی اگر کوئی درخت لگاتا ہے اور صبر کے ساتھ اس کی اچھی دیکھ بھال کرتا ہے اور پھل نکل آنے کے بعد اس سے اللہ کی مخلوق فائدہ اٹھاتی ہے تو اس پر اس آدمی کو اللہ عزوجل کے پاس صدقہ کا اجر ملتا ہے جیسا کہ درجِ ذیل حدیث میں آتا ہے :

حدیث/9 : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے منقول ہے کہتے ہیں! ” سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله عليه وسلم يَقُوْلُ بِاُذُنَيَّ هَاتَيْنِ ” : ” مَنْ نَصَبَ شَجَرَةً ، فَصَبَرَ عَلَى حِفْظِهَا وَالْقِيَامِ عَلَيْهَا حَتَّى تُثْمِرَ كَانَ لَهُ فِيْ كُلِّ شَيْءٍ يُصَابُ مِنْ ثَمَرِهَا صَدَقَةٌ عِنْدَ اللهِ عَزَّوَجَلَّ “. جس نے کوئی درخت گاڑا ، پھر اس کی حفاظت اور اس کی دیکھ ریکھ پر صبر کیا یہاں تک کہ اس پر پھل لگے ، تو جو بھی اس پھل کا فائدہ اٹھاتا ہے تو اس کے ہر پھل پر اس کو اللہ عزوجل کے نزدیک صدقہ ( کا اجر ) ہوگا . ( اور یہ صدقۂ جاریہ میں شامل ہوگا ) { احمد ، اور اس میں ایک قصہ ( بھی ) ہے ، اور اس کی إسناد لابأس بہ ہے } .

حدیث/10 : عَنْ اَبِیْ الدَّرْدَآءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِهِ وَ هُوَ يَغْرِسُ غَرْسًا بِدِمَشْقَ ۔ فَقَالَ لَهُ! اَتَفْعَلُ هَذَا وَ اَنْتَ صَاحِبُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ يَقُوْلُ ” مَنْ غَرَسَ غَرْسًا لَّمْ يَاْكُلْ مِنْهُ آدَمِيٌّ وَ لَا خَلْقٌ مِّنِ خَلْقِ اللهٍ اِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ ” سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کا گزر اُن پر سے اس حالت میں ہوا کہ وہ دِمَشق میں ایک پودا گاڑ رہے تھے ، تو اُس شخص نے کہا! آپ یہ کر رہے ہیں حالانکہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہونے کے باوجود دنیاداری چاہ رہے ہیں؟) تو کہا! تم ( اپنے طور سے سمجھنے کے تعلق سے ) مجھ پر جلدی نہ کرو ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے! جس نے کوئی پودا ( یا درخت ) لگایا تو اس سے کوئی آدمی یا اللہ کی مخلوق میں سے کوئی مخلوق نہیں کھائے گی مگر یہ کہ اس کے لیے اس پر ایک صدقہ ( کا ثواب ) عطا ہوگا . { احمد نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ، اور اس کی إسناد ما تقدم حدیث کی إسناد سے حسن ہے } .

حدیث/11 : عَنْ اَبِيْ اَيُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ! ” مَا مِنْ رَجُلٍ يَّغْرِسُ غَرْسًا إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ مِنَ الْاَجْرِ قَدْرَ مَا يَخْرُجُ مِنْ ذَالِكَ الْغَرْسِ “. سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! کوئی شخص کوئی گھاس ( درخت یا پودا ) نہیں لگاتا مگر اللہ ( تعالی ) اُس کے لیے اسی کے بقدر اجر عطا فرمائے گا جس قدر اس درخت سے ( پھل پھول اور تنا ) نکل گیا ہے . { احمد ، اور اس حدیث کے رُوات وہ ہیں جو صحیح حدیث میں مُحْتَجْ ہیں سوائے عبداللہ بن الزیز اللیثی کے } .

حديث/12 : حافظ منذری لکھتے ہیں! اور کتاب العلم وغیرہ میں حدیث انس گزر گئی ، کہتے ہیں! قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ ” سَبْعٌ يَّجْرِيْ لِلْعَبْدِ اَجْرُهُنَّ وَ هُوَ فِيْ قَبْرِهِ وَهُوَ بَعْدَ مَوْتِهِ : مَنْ عَلَّمَ عِلْمًا ، اَوْ كَرَى نَهَرًا ، اَوْ حَفَرَ بِئْرًا ، اَوْ غَرَسَ نَخْلًا ، اَوْ بَنَى مَسْجِدًا ، اَوْ وَرَّثَ مُصْحَفًا ، اَوْ تَرَكَ وَلَدًا يَّسْتَغْفِرُ لَهُ بَعْدَ مَوْتِهِ “. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! سات ( چیزیں ، بل کہ آٹھ یا نو ) ایسی ہیں جن کا اجر بندہ کو اس کی قبر میں جاری ہوگا اور یہ اس کی موت کے بعد : جس نے کسی کو علم سکھایا ، یا کوئی نہر جاری کی ، یا کوئی کنواں کھودا ، یا کوئی کھجور کا درخت لگایا ، یا کوئی مسجد بنادی ، یا کسی قرآن کا ( کسی کو ) وارث بنایا ، یا کوئی اولاد چھوڑی جو اس کے لیے اس کی موت کے بعد ( اللہ تعالی سے ) مغفرت طلب کرتا ہو . { بزار ، ابونعیم ، بیہقی }

کل آٹھ یا نو چیزیں ایسی ہیں جو صدقۂ جاریہ کے طور پر ایک شخص کو فائدہ پہنچاتی ہیں ، مسلم کی حدیث میں تین کا ذکر ہے اور یہاں کی سات میں سے چھ یا پانچ ، سو کُل آٹھ یا نو چیزوں کا صدقۂ جاریہ کے تعلق سے حدیث میں ذکر آیا ہے .

حدیث/13 : امام مسلم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اِذَا مَاتَ الْاِنْسَانُ [ وفي رواية : إذا مات ابن آدم ] اِنْقَطَعَ عَمَلُهُ اِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ : صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ ، اَوْ عِلْمٌ يُنْتَفَعُ بِهِ ، اَوْ وَ لَدٍ صَالِحٍ يَدْعُوْ لَهُ “. جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال رُک جاتے ہیں مگر تین ( اعمال ) کے ، صدقۂ جاریہ ، یا وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے ، یا صالح ( مسلمان ) اولاد جو اس کے لیے دعا کرے . { مسلم } .

چوتھی قسط

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرو بن عوف کی چہاردیواری میں تشریف لے آئے اور صحابہ کو یاد دلایا کہ تم زمانۂ جاہلیت میں ایک اللہ کی عبادت نہ کرنے کے باجود بڑے بڑے اچھے اچھے کام کیا کرتے تھے ، اپنے اموال سے اچھے کام کرتے تھے ، مسافروں کی مدد کیا کرتے تھے لیکن جب اللہ سبحانہ وتعالی نے تم پر اسلام کے ذریعہ احسان کیا تو میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنے باغیچوں کو چہار دیواری سے بند کر رہے ہو اور انسان ، درندوں اور پرندوں کو درختوں کے پھل وغیرہ کھانے سے روک رہے ہو ، جب صحابہ نے یہ سنا اور جوں ہی اپنے اپنے گھروں میں لوٹے تو اپنے اپنے باغیچوں کے تیس تیس راستے بنائے جیسا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آتا ہے :

حدیث/14 کہتے ہیں! ” اَتَى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ بَنِي عَمْرِو بْنٍ عَوْفٍ يَوْمَ الْاَرْبَعَآءِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيْثَ اِلَى اَنْ قَالَ! ” يَا مَعْشَرَ الْاَنْصَارِ “، قَالُوْا لَبَّيْكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ ، فَقَالَ! ” كُنْتُمْ فِيْ الْجَاهِلِيَّةِ اِذْ لَا تَعْبُدُوْنَ اللهَ تَحْمِلُوْنَ الْكَلَّ ، وَ تَفْعَلُوْنَ فِيْ آمْوَلِكُمْ الْمَعْرُوْفَ ، وَتَفْعَلُوْنَ اِلَى ابْنِ السَّبِيْلِ حَتَّى اِذَا مَنَّ اللهُ عَلَيْكُمْ بِالْاِسْلَامِ وَبِنَبِيِّهِ اِذَا اَنْتُمْ تُحْصِنُوْنَ اَمْوَالَكُمْ : فِيْمَا يَاْكُلُ ابْنُ آدَمَ اَجْرٌ ، وَ فِيْمَا يَاْكُلُ السَّبْعُ وَالطَّيْرُ اَجْرٌ “. قَالَ! ” فَرَجَعَ الْقَوْمُ فَمَا مِنْهُمْ اَحَدٌ إِلَّا هَدَمَ مِنْ حَدِيْقَتِهِ ثَلَاثِيْنَ بَابًا “. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدھ کے روز عمرو بن عوف کے گھر ( یا چہار دیواری میں) تشریف لائے ، پھر انہوں نے حدیث کو بیان کیا یہاں تک کہ کہا! ” اے گروہِ أنصار ” ۔ عرض کیا! لبیك یا رسول اللہ! فرمایا! ” تم زمانۂ جاہلیت میں جب اللہ کی بندگی نہیں کرتے تھے بڑے بڑے کاموں کو انجام دیتے تھے ( بڑے بڑے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے ) اور اپنے اموال میں اچھے کام کرتے تھے اور مسافروں کی مدد کرتے تھے ، حتی کہ جب اللہ نے تم پر اسلام اور اپنے نبی کی نعمت کے ذریعہ احسان کیا تب تم جن جن چیزوں میں ابن آدم کھاتا ہے ، اور جن چیزوں کو درندے اور پرندے کھاتے ہیں ( ان چیزوں ) میں اپنے اموال کو بچائے رکھتے ہو “۔ کہتے ہیں! لوگ ( اپنے اپنے گھروں میں ) لوٹے تو اُن میں سے کوئی ایسا نہ تھا مگر یہ کہ اُس نے اپنے باغ کو توڑ کر تیس دروازے نہ بنائے ہوں “۔ { حاکم نے اس حدیث کو روایت کر کے کہا! صحیح الإسناد ہے } . کہا! اس میں واضح طور پر ضرورت مندوں اور بھوکوں کو دیواروں ، کھجوروں اور ( انگوروں وغیرہ کی ) بیلوں وغیرہ کو دیواریں اٹھا کر انہیں کھانے سے روکنے کی ممانعت ہے ۔ انتھی . { الترغیب والترھیب ، 306/3 }۔

ایک صحت مند غریب آدمی کو حلال طریقہ سے کمانے کی پوری کوشش کرنی چاہئے ، جتنی بھی محنت ومشقت ہوتی ہو ، حتی کہ اگر اس کی نظر میں کسب حلال کا کوئی ذریعہ نظر نہ آرہا ہو تو وہ جنگل کی لکڑیاں کاٹ کر فروخت کر کے حلال کمائی حاصل کرے ، یہ اس کو کسی کے پاس ہاتھ پھیلانے کے مقابلہ میں زیادہ بہتر ہے ، مسئول اس کو دے یا اس کے پھیلائے ہاتھوں کو لوٹائے ، اور اس میں ایک خود دار انسان کی خودداری پر ایک کاری ضرب ہے ، مندرجۂ ذیل احادیث میں اس کی ترغیب آئی ہے .

حدیث/15 : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” لِاَنْ يَحْتَطِبَ اَحَدُكُمْ حُزْمَةً عَلَى ظَهْرِهِ خُيْرٌ لَهُ مِنْ اَنْ يَسْاَلَ اَحَدًا فَيُعْطِيَهُ أَوْ يَمْنَعَهُ “. تم میں سے کسی کا اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا لانا اُس کے لئے کسی کے پاس سوال کرنے سے زیادہ بہتر ہے ، چاہے وہ اس کو دے یا منع کرے . ( مالک ، بخاری ، مسلم ، ترمذی ، نسائی )

حدیث/16 : اسی مفہوم کی ایک دوسری حدیث سیدنا زبیر بن الْعَوَّام رضی اللہ عنہ سے کچھ الفاظ کی زیادتی کے ساتھ وارد ہوئی ہے ، کہتے ہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” لَاَنْ يَّاْخُذَ اَحَدُكُمْ اَحْبُلَهُ ، فيَاْتِيَ بِحُزْمَةٍ مِّنْ حَطَبٍ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيْعَهَا فَيَكُفَّ اللهُ بَهَا وَجْهَهُ خَيْرٌ لَّهُ مِنْ اَنْ يَّسْاَلَ النَّاسَ اَعْطَوْهُ اَمْ مَنَعُوْا “. یقینا تم میں سے کسی کا اپنی رسی لے کر لکڑی کے گٹھے کو اپنی پُشت پر لاد کر اُس کو بیچنا کہ جس سے اللہ ( تعالی ) اس کے چہرے کو ( لوگوں کے سامنے مانگنے اور رُسوا ہونے سے ) بچائے اُس کے لیے لوگوں کے پاس مانگنے سے زیادہ بہتر ہے وہ اُسے ( کچھ ) دیں یا ( دینے سے ) منع کریں. { بخاری}

حدیث/17 : اسی مفہوم کی تیسری ایک اور امام احمد کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے إسناد جید سے روایت کردہ قدرے طویل حدیث کچھ جملوں کی زیادتی کے ساتھ قسم کے الفاظ کے ساتھ وارد ہوئی ہے ، الفاظِ حدیث یہ ہیں ، صحابئ رسول کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” وَ الَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ لاَنْ يَّاْخُذَ اَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَذْهَبَ بِهِ اِلَى الْجَبَلِ فَيَحْتَطِبَ ، ثُمَّ يَاْتِيَ بِهِ فَيَحْمِلُهُ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَاْكُلُ خَيْرٌ لَّهُ مِنْ اَنْ يَّسْاَلَ النَّاسَ ، وَ لاَنْ يَّاْخُذَ تُرَابًا فَيَجْعَلَهُ فِي فِيْهِ خَيْرٌ لَّهُ مِنْ اَنْ يَجْعَلَ فِي فِيْهِ مَا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ “. اللہ کی قسم ! جس کے ہاتھ ( قبضۂ قدرت ) میں میری جان ہے ، یقینا تم میں سے کسی کا اپنی رسی کو لے کر پہاڑ ( جنگل ) کی طرف جانا پس ( اور ) لکڑیاں جمع کرنا پھر انہیں اپنی پُشت پر لاد کر لانا ( اور فروخت کرنا ) پھر کھانا اس کے لیے لوگوں کے پاس مانگنے سے زیادہ بہتر ہے اور البتہ اُس کا مٹی لے کر اپنے منہ میں پھانکنا اُس کے لیے اُس پر حرام کردہ چیز کو اپنے منہ میں رکھنے سے زیادہ بہتر ہے . { احمد نے اس حدیث کو اسناد جید سے روایت کیا ہے } .

پانچویں قسط

*کسی تندرست شخص کو کسی کے پاس کچھ مانگنا نہیں چاہیے بل کہ اگر اس کے پاس کچھ پیسے ہوں تو اس سے چھوٹی موٹی تجارت شروع کرے ایسا کرنا کسی کے پاس ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے کیوں کہ مانگنے والے کے چہرہ پر روزِ قیامت میں ایک دھبہ ہوگا حتی کہ اگر کسی کے پاس روپیے پیسے یا کچھ سونا چاندی نہ بھی ہو تو گھر کی ضروری چیز کو فروخت کرے اور اس سے اپنی چھوٹی موٹی تجارت کو شروع کرے .

حدیث/18 : سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انصار کے ایک شخص ( صحابی ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے کچھ مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا! ” اَمَا فِي بَيْتِكَ شَيْءٌ؟ ” قَالَ! بَلَى حِلْسٌ نَلْبَسُ بَعْضَهُ وَ نَبْسُطُ بَعْضَهُ ، وَقَعْبٌ نَشْرُبُ فِيْهِ مِنَ الْمَاءِ ، قَالَ اِئْتِنِيْ بِهِمَا ، فَاَتَاهُ بِهِمَا ، فَاَخَذَهُمَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ بِيَدِهِ ، وَ قَالَ! ” مَنْ يَّشْتَرِيْ هَذَيْنِ ؟ ” قَالَ رَجُلٌ : اَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ ۔ قَال رسول الله صلى الله عليه وسلم! ” مَنْ يَزِيْدُ عَلَى دِرْهَمٍ مَرَّتَيْنِ اَوْ ثَلَاثًا ؟ ” قَالَ رَجُلٌ! اَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ ، فَاَعْطَاهُمَا اِيَّاهُ ، فَاَخَذَ الدِّرْهَمَيْنِ فَاَعْطَاهُمَا الْاَنْصَارِيَّ ، وَقَالَ! ” اِشْتَرِ بِاَحَدِهِمَا طَعَامًا فَانْبِذْهُ اِلَى اَهْلِكَ ، وَ اِشْتَرِ بِا الْآخَرِ قَدُوْمًا فَائْتِنِيْ بِهِ ” ، فَاَتَاهُ بِهِ فَشَدَّ فِيْهِ رَسُوْلُ اللهِ صلى الله عليه وسلم عُوْدًا بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ! ” اِذْهَبْ فَاحْتَطِبْ وَبِعْ ، وَلَا اَرَيَنَّكَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا “، فَفَعَلَ ، فَجَآءَ وَ قَدْ اَصَابَ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ ، فَاشْتَرَى بِبَعْضِهَا ثَوْبًا ، وَ بِبَعْضِهَا طَعَامًا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عليه وسلم! ” هَذَا خَيْرٌ لَّكَ مِنْ اَنْ تَجِيْءَ الْمَسْئَلَةُ نُكْتَةً فِيْ وَجْهِكَ اِلَى يَوْمِ الْقِيَامَ ” ۔ کیا تمہارے گھر میں کوئی چیز ہے؟ انہوں نے کہا! ہاں ! ایک ٹاٹ ( یا موٹا سا کپڑا ) ہے جس کے بعض حصہ کو ہم پہنتے ہیں اور بعض کو بچھاتے ہیں ، ( یعنی یہ ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے ) اور گاری مٹی کا ایک برتن جس میں ہم پانی پیتے ہیں ، فرمایا! یہ دونوں چیزیں لے آؤ ، وہ ( صحابی ) ان دونوں چیزوں کو لے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں چیزوں کو اپنے ( مبارک ) ہاتھ میں لیا اور فرمایا! ” یہ دونوں چیزیں کون خریدے گا ؟ ” ، ایک شخص نے کہا! میں ان دونوں کو ایک درہم کے بدلہ لوں گا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” ایک درہم سے زیادہ کون دے گا ؟ یہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے دو یا تین مرتبہ فرمایا ” ، ایک شخص نے کہا! میں انہیں دو درہم کے عوض خریدوں گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں چیزیں ان ( صحابی ) کو دیں ، دو درہم لیے اور انہیں انصاری کو عطا کیا اور فرمایا! ” ان میں سے ایک سے خوراک خریدو اس کو اپنے گھر والوں کو دیدو اور دوسرے ( درہم ) سے ایک کلہاڑی خریدو اور اس کو لے کر میرے پاس آؤ ” ، سو وہ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس پر اپنے ہاتھوں سے لکڑی کا قبضہ بنایا اور فرمایا! ” جاؤ لکڑیاں کاٹو اور فروخت کرو میں تمہیں ہرگز پندرہ دنوں سے پہلے نہ دیکھوں “، ( یعنی پندرہ دنوں تک تم میرے پاس نہیں آؤگے ، اس کے بعد آکر اپنا حال بتانا ) انہوں نے ایسا ہی کیا ، پھر جب وہ آئے تو اُن کے پاس دس دراہم تھے ، ( جو انہوں نے محنت کر کے کمائے تھے ) جن میں سے چند درہموں سے انہوں نے کپڑے خریدے تھے اور چند سے خوراک ، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا! یہ تمہارے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ تم روزِ قیامت میں اس حال میں آؤ کہ تمہارے چہرہ پر سوال کا ایک دھبہ ہو “. { اس حدیث کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے ، الفاظ ان ہی کے ہیں ، اور نسائی اور ترمذی نے اور اِنہوں نے کہا! حدیث حسن ہے ۔ الترغیب والترھیب 2617 ، 333 / 2 }۔

آدمی کا اپنے ہاتھ سے کمائی کر کے کھانا اور مقبول ومبرور لین دین بہترین کمائی ہے جیسا کہ درجِ ذیل احادیث اس کی فضیلت پر دالّ ہیں :

حدیث/19 : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ، کہتے ہیں! سُئِلَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله عليه وسلم اَيُّ الْكَسْبِ اَفْضَلُ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سی کمائی افضل ہے ؟ فرمایا! ” عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ ، وَكُلُّ بَيْعٍ مَّبْرُوْرٍ ” آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور مبارک لین دین ( مقبول تجارت ) “. { طبرانی نے اس حدیث کو ” الکبیر اور الاوسط ” میں روایت کیا ہے ، اور اس کے رُوات ثِقَات ہیں }۔

حدیث/20 : اسی الفاظ کے ساتھ ایک دوسری حدیث آئی ہے جس کو سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے بس ایک لفظ کی تبدیلی کے ساتھ ، جہاں ابن عمر سے روایت کردہ حدیث میں ” اَيُّ الْكَسْبِ اَفْضَلُ ” کا جملہ آیا ہے وہاں رافع بن خدیج سے مروی حدیث میں افضل کی جگہ اي الكسب ” اَطْيَبُ ” کا لفظ آیا ہے ، صحابئ رسول کہتے ہیں! قِيْلَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ اَيُّ الْكَسْبِ اَطْيَبُ ؟ قَالَ! ” عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ ، وَكُلُّ بَيْعٍ مَّبْرُوْرٍ ” آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا ، اور ہر مبرور ( مبارک ) خرید فروخت . { حدیث کو احمد اور بَزَّار نے روایت کیا ہے إسنادِ بزار کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں سوائے مسعودی کے ، کہ انہیں اختلاط ہوا تھا ، اور ان کی روایت سے احتجاج کرنے کے سلسلہ میں اختلاف کیا گیا ہے ، لیکن مُتَابِعَات ( اسی قسم کے مفہوم کی دوسری احادیث آنے کی وجہ سے اس ) میں کوئی حرج نہیں }۔

حدیث/21 : ایک اور حدیث ان ہی الفاظ سے آئی ہے لیکن ناقلِ حدیث سیدنا سعید بن عُمَيْر ہیں جو اپنے چچا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ور راوی بھی الگ ہیں ، صحابئ رسول کہتے ہیں! ” سُئِلَ رَسُوْلُ الله صلى الله عليه وسلم اَيُّ الْكَسْبِ اَطْيَبُ ؟ قَالَ! ” عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ ، وَ كُلُّ كَسْبٍ مَّبْرُوْرٍ “، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سی کمائی پاکیزہ ہے ؟ تو آپ نے فرمایا! آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا ، اور ہر بیعِ مبرور ( مقبول ) . { اس حدیث کو حاکم نے روایت کر کے صحیح الإسناد کہا ہے ، ابنِ معین نے کہا! سعید کے چچا بَرَّاء ( رضی اللہ عنہ ) ہیں ، اور بیہقی نے اس حدیث کو سعید بن عمیر ( رضی اللہ عنہ ) سے مرسلاً نقل کیا ہے ، اور یہی محفوظ ہے ، اور جنہوں نے ان کے چچا سے منقول ہے کہا ہے وہ خطا کر گیا}.

حدیث/22 : حافظ عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری نے ایک اور چوتھی حدیث بھی لائی ہے جو جُمَيْعِ بنِ عُمَيْر کی اپنے ماموں سے روایت کردہ ہے ، کہتے ہیں! ” سُئِلَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله عليه وسلم عَنْ اَفْضَلِ الْكَسْبِ ؟ ” فَقَالَ! ” بَيْعٌ مَّبْرُوْرٌ ، وَ عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ ” ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل کمائی کے تعلق سے پوچھا گیا تو آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! مبارک لین دین اور آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا . { حدیث کو احمد ، بزار اور طبرانی نے ” الکبیر ” میں اختصار کے ساتھ روایت کیا ہے ، اور کہا! اس حدیث کو اِنہوں نے خالد ابوبردہ بن نیار سے روایت کیا ہے ، اور بیہقی نے محمد بن عبداللہ بن نمیر سے ، اور کہا اس حدیث کو انہوں نے ہی روایت کیا ہے ، کہتے ہیں! یہ تو سعید بن عمیر ہیں ۔ 2619 الترغیب والترھیب 334/2 } ۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

- Advertisment -
Google search engine

الأكثر شهرة

احدث التعليقات