کھیل کود اور نوجوان طبقہ

    0
    328

    رشحات قلم : مولانا محمد زبیر ندوی شیروری

    انسان اپنے جسم کو مضبوط بنانے اور انسانی خوابیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف ذرائع اختیار کرتا رہتا یے تاکہ وہ اپنے اعضاء و جوارح کو مضبوط اور توانا رکھتے ہوئے صحت وتندرستی کی زندگی گذار سکے ، منجملہ ان میں مختلف کھیل بھی شامل ہیں جن سے انسان اپنے اندر فرحت و انبساط محسوس کرتا ہے اور اپنے افکار اور فکر و نظر کو سیراب کرتا ہے .

    دور جدید میں کھیل کے بڑھتے رجحان کے پیش نظر کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دے کر نوجوانوں کو منشیات اور دیگر منفی سرگرمیوں سے بچایا جا سکتا ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان بے پناہ ذہانت وصلاحیتوں سے مالامال ہیں ، انھیں دنیا بھر میں جہاں بھی موقعہ ملتا ہے وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی ذہانت کا لوہا منواتے ہیں ، ایسے میں سرپرستوں کے لئے اپنی اولاد کی ہمت افزاہی اور پشت پناہی کرتے ہوئے ان کی عمر کے معیار کے مطابق ان کھیلوں کا انتخاب کرنا از حد ضروری ہے جو شریعت کے دائرے میں ہوں ، اپنی وسعت سے بڑھ کر نام و نمود کے لیے نہ ہوں ، ایسے کھیل بھی نہ ہوں جو اخلاق کے بگڑنے اور وقت کے ضیاع کا باعث بنیں .

    کارخانۂِ عالم میں جو نظام پورے التزام و انصرام کے ساتھ رب کائنات کے حکم سے چل رہا ہے اس کے نظام میں انسان کے لیے شریعت جیسی انمول تعلیمات بھی موجود ہیں جو اپنا ایک مکمل نظام حیات رکھتی ہیں ، ہم یہ بخوبی جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے جتنی بھی مخلوقات پیدا کی ہیں وہ سب بغیر لباس کے زندگی گذارتی ہیں ، ان کے نظام میں شرم و حیاء نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ، جب وہ آپس میں مباشرت بھی کرتے ہیں تو وہ پردہ اور شرم و حیاء کا لحاظ نہیں کرتے ، کیوں کہ ان کی فطرت و جبلت اور سرشت ان چیزوں سے خالی ہوتی ہے ، مگر انسان ایک واحد مخلوق ہے جسے دیگر اوصاف کے ساتھ شرم و حیاء جیسی بہترین خوبی سے بھی نوازا گیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ انسان دیگر مخلوقات سے ان چیزوں میں اپنی ایک امتیازی شان رکھتا ہے اور قدرت کے ایک مکمل نظام حیات کے مطابق اپنی ستر پوشی کرتا ہے خواہ وہ مرد ہو کہ عورت .

    اگر ہم کھیل کی بات کریں تو اکثر کھیلوں میں انسان عدم توجہی کی باعث اپنے ستر کا خیال نہیں کر پاتا ، تاریخ شاہد عدل ہے کہ نت نئی کمپنیاں زمانہ کے مطالبات کے تحت مختلف کھیلوں میں حصہ لینے والوں کے لیے مختلف نوع کے لباس بنا رہی ہیں جس کے استعمال سے نونہالوں اور نوجوانوں کے بنیادی افکار پر ضرب پڑ رہی ہے ، شرم و حیاء سے متعلق اسلام نے جن تعلیمات سے روشناس کیا ہے نوجوان اس کے بالمقابل معکوسی کا شکار ہو رہے ہیں اور گناہوں کے محرکات میں دلچسپی لے رہے ہیں ، نتیجاً زندگی کے اصل مقصد سے دور ہو کر آخرت سے متنفر ہوتے جا رہے ہیں ، اگر ہم کپڑوں کی بات کریں تو بطور تمثییل فٹ پینٹ ، فٹ ٹی شرٹ اور مختلف نقش ونگار کے کپڑے ، جانوروں اور چرند و پرند یا مرد و زن سے ملون تصاویر ، اور گھٹنوں سے اوپر پاجامہ وغیرہ سے اغیار کی مشابہت نظر آتی ہے ، اگر پینٹ مکمل بھی ہو تو وہ گھٹنے تک ہوتا ہے اور ران کے پاس کی پینٹ پھٹی ہوئی ہوتی ہے گویا کسی نے پھاڑ دیا ہو ، ایک وقت تھا کہ بچے پھٹے پرانے پیوند زدہ اور قابل استعمال کپڑوں کو پہنا گوارہ نہیں کرتے تھے اور اسے عار سمجھتے تھے ، لیکن زمانہ بدل چکا ہے اور نوجوان معکوسی کا شکار ہو رہے ہیں ، اس عدم توجہی اور بے اعتنائی کے باعث اسلام نے جس لباس کو مشروع کیا تھا اور جو تعلیمات دی تھیں ان کے اصل مقصد سے محروم ہو رہے ہیں اور تعلیمات رفتہ رفتہ رخصت ہو رہی ہیں ، بعض نوجوان اپنی زندگی کو منفی سرگرمیوں اور خطرناک مشغلوں کی نذر کر کے اپنے ہی ہاتھوں اپنے آپ کو برباد کر رہے ہیں .

    درحقیقت جوانی کا دور وہ دور ہوتا ہے جس میں انسانی جذبات و ارادے عروج پر ہوتے ہیں ، ا گر کوئی قوم و ملک ان سے صحیح فائدہ نہ اٹھا سکے تو یہ انتہائی افسوس ناک اور نقصان دہ بات ہو گی ، صحت مند نوجوانوں سے ہی صحت مند معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور صحت مند معاشرہ پائیدار ترقی کا ضامن ہے ، جو نوجوان صحت کی قدر کرنا جانتے ہیں وہی صحراؤں کو گلشن ، فضاؤوں پر قبضہ اور پہاڑوں کے جگر کو پاش کرکے زمانہ کی قیادت کرسکتے ہیں ، اس کے برعکس جو نوجوان صحت و زندگی کی قدر نہیں کرتے وہ خسارہ میں رہتے ہیں ، نسل نو کی اکثریت اپنی زندگی لا پرواہی اور غیر ذمے دارانہ طور پر گذارنا چاہتی ہے ، لیکن اگر وہ صحت مند زندگی کی اہمیت کو جان لیں تو اس کی قدر کرنے لگیں ، چوں کہ نوجوانوں میں ہمت و جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی کی ضمانت انہی میں ہی مضمر ہوتی ہے ، اُس قوم کی راہِ ترقی میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوسکتی جس کے نوجوان محنتی و ذمہ دار ہوں ، جن کی زندگی کے مقاصد مثبت ہوں اور وہ اپنے ملک کے مستقبل کے ضامن ہوں ، جن قوموں کے نوجوان ان صفات سے عاری ہوتے ہیں وہ قومیں بربادی کی طرف رواں ہوجاتی ہیں ،

    نوجوانوں کا نام ذہن میں آتے ہی قوت جوش جنون ، انقلاب جیسے تصورات نظروں کے سامنے آجاتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے ، یہی وجہ ہے کہ تحقیق و تصنیف ، سائنس و ٹیکنالوجی اور ادب کے ذریعہ نوجوانوں نے انسانیت کو زیب و زینت عطا کی ، وہ نوجوان جنہوں نے شعور کے راستوں کو اپنایا وہ کامیاب ہوگئے ، لہٰذا نوجوانوں میں اجتماعی شعور اور ان کی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ منفی سرگرمیوں سے دور رہیں اور اجتماعی سرگرمیوں کے ذریعہ اپنے نصب العین پر کاربند رہ ںسکیں ، کیونکہ نصب العین ہی انسان کو اس کی حقیقی زندگی سے آشنا کرتا ہے ، ملک و قوم کو حقیقی نصب العین ، بہادر ، غیور اور ایمان دار نوجوان ہی فراہم کر سکتے ہیں ، نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اور اصلاح اس طرح کرنا کہ وہ ایک ایسی متوازن زندگی گزاریں جو دین فطرت کو مطلوب ہے ، اس کے لیے علم ، تربیت اور سماج کا فہم و شعور بیدار ہونا بے حد ضروری ہے ، والدین کو چاہئے کہ نوجوانوں کی سرگرمیوں اور مشاغل پر بھرپور نظر رکھیں ، بعض نوجوانوں کے مشاغل انتہائی خطرناک اور جان لیوا ثابت ہوتے ہیں اور انھیں موت کا شکار یا معذور انسان بنا دیتے ہیں .

    نوجوانو! سن لو ” یہ کھیل نہیں خطرہ ہے” اس طرح کے کھیل کھیلنے والے اکثر اپنے انجام سے بے خبر ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے شوق میں بسا اوقات اپنے خوش وخرم خاندان کو غم سے دو چار کرنے کا سبب بنتے ہیں ، یہی نوجوان شعور کی کمی کا شکار ہوتے ہیں اور لا شعوری میں موت یا معذوری کا شکار بن جاتے ہیں ، کھیلوں کے دوران مختلف کرتب کا مظاہرہ کرتے ہوئے موٹر سائیکل کو تیز رفتاری سے چلاتے ہیں اور خطرناک انداز میں ڈرائیونگ کے باعث یہ نوجوان نہ صرف اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ دوسروں کی زندگی کو بھی داؤ پر لگادیتے ہیں ، اگر موٹر سائیکل قابو سے باہر ہوجائے یا پھسل جائے تو سر کی چوٹ جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے ، نوجوان صرف لوگوں کی توجہات اپنی طرف مبذول کرانے اور اپنے آپ کو بہادر دکھانے کے لیے اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں ، جب کہ بعض نوجوان ان پر جوا بھی لگاتے ہیں ، اس شرط کے چکر میں زندگی کی بازی بھی ہار جاتے ہیں ، جو والدین اپنے بچوں کو موٹر سائیکل خرید کر دیتے ہیں ، مگر ان کی سرگرمیوں پرنظر نہیں رکھتے وہ بھی قابل گرفت ہیں .

    ہر والدین کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اچھے مقام پر فائز ہو اور والدین کا نام روشن کرے ، لیکن اپنی کسرت اور نازیبہ حرکت سے زخمی ہونے یا معذور ہوجانے کے سبب وہ والدین پر بوجھ بن جاتے ہیں ، جوان اولاد کی معذوری والدین کے لئے موت کے مترادف ہے ، یہ سب داد و تحسین سمیٹنے یا فیس بک پر چند لائکز کے لیے کیا جاتا ہے .

    کوئی بھی مہذب معاشرہ کھیلوں کی آڑ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو گوارہ نہیں کر سکتا ، معاشرہ کے ہر فرد کو ایسے کھیلوں اور حرکتوں سے باز رکھنے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ، اگر اس نے ایسا نہ کیا تو وہ حقیقتاً اس کا دشمن ہے ، دوستی کا مفہوم اپنے دوست کو برائی سے روکنا اور برے کام اور اس کے انجام سے بچانا ہے ، معاشرہ کے تمام افراد کو شفقت و دیانتداری سے نوجوانوں کی اصلاح کرنا چاہیے ، ہم سب کا یہ اخلاقی فرض بنتا ہے کہ ہم فضول کھیلوں سے ہر ایک کو دور رکھنے کی کوشش کریں ، اس معاملہ میں خاص کر والدین کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اولاد کی ہر جائز خواہش کو پورا ضرور کریں ، مگر ساتھ ہی اس خواہش سے مرتب ہونے والے نتائج کا بھی بغور جائزہ لیتے رہیں کہ کہیں اولاد غلط راستوں اور منفی سرگرمیوں میں ملوث تو نہیں ہے ، مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی جان کی حفاظت کرے اور برے عمل اور جان لیوا کھیلوں سے روکے ، اگر ہمارے پاس کھیل کے میدان ہوں گے تو یہ نوجوان اپنے شوق کی تسکین کے ساتھ صحت مند سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکیں گے ، جس سے باہمی بھائی چارہ اور معاشرہ میں امن کی فضا کو قائم کرنے میں مدد مل سکے گی ، علاوہ ازیں ملک گیر سطح پر نسل نو کے لیے بحث و مباحثہ کے پروگرام منعقد کروائے جائیں ، جن کا تعلق نوجوانوں کے روشن مستقبل سے ہو . اسی طرح سائنسی میلوں کا انعقاد بھی بے حد ضروری ہے ، تاکہ نسل نو کی ایجادات میں دل چسپی بڑھ سکے ، ساتھ ساتھ بیت بازی ، محفل مشاعرہ ، ڈرامے اور فنون لطیفہ سمیت دیگر مقابلوں کا انعقاد کیا جائے ، تاکہ مثبت نتائج برآمد ہوسکیں اور ملکی ترقی کی راہ ہموار ہو سکے ، ان اقدامات سے منفی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوگی، نوجوان قوم کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیے جاتے ہیں ، لہٰذا جس قوم کے نوجوان درست سمت پر چل رہے ہوتے ہیں ، وہ قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہے ، ہماری نسل نو میں قابلیت اور ذہانت کی کمی نہیں ، ہمارے نوجوانوں میں وہ تمام خصوصیات موجود ہیں جو ایک کامیاب نوجوان کے شایان شان ہوتی ہیں ، ان میں عزم و حوصلہ ، ذہانت و بہادری اور لگن ہوتی ہے ، وہ محنتی ہوتے ہیں ، زمانہ جتنا بھی آگے بڑھتا جائے گا ، نوجوانوں کی اہمیت و قدر بھی بڑھتی جائے گی ، زندہ قومیں نوجوانوں کے مستقبل پر خصوصی توجہ دیتی ہیں اور ہر کوئی اچھی طرح جانتا ہے کہ ملک کی باگ ڈور ، نظم و ضبط اور ترقی میں ہمیشہ نوجوانوں کا اہم کردار رہا ہے . اجتماعی شعور اس وقت تک بیدار نہیں ہوسکتا ، جب تک کہ ہم انفرادی مفادات سے نکل کر اجتماعی مفاد کے لیے سوچنا شروع نہ کریں ، نوجوان ہمارے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں ، اگر وہ اپنی پروا نہیں کرتے تو ہم سب افراد کو مل کر ان کی تربیت اور حفاظت کرنی ہے .

    ضرورت ہے کہ ہمارے سامنے ایک واضح خاکہ اور منصوبہ بندی ہو کہ ہمارے نوجوان درست نصب العین پر گامزن ہوں ، یہ کام والدین ، اساتذہ اور خود نوجوانوں نے مل کر کرنا ہے ، اپنے اپنے محلوں میں بزرگ اور با اثر شخصیات کو نوجوانوں کی بے راہ روی اور ان کے ناپسندیدہ حرکات سے چھٹکارا دلانے کے لیے نصیحت کرنا ہے اور ان کو مختلف فن سیکھنے کی ترغیب دینی ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ بے سود کھیلوں سے روکنے کے لیے انتہائی سخت اقدامات کیے جائیں .

    نوجوان دوستو! زندگی میں خوش و خرم ضرور رہو لیکن اپنی زندگی کو خطرہ میں ڈال کر نہیں ۔ زندگی بہت خوب صورت ہے، اسےفضول سر گرمیوں میں ضائع نہ کرو ۔

    شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

    مؤرخہ 15/فروری 2022 ء

    اظہارخیال کریں

    Please enter your comment!
    Please enter your name here