شخصیت کی تعمیر و کردار کا َارتقاء امت مسلمہ کی ایک اہم دینی و بنیادی ضرورت

0
35

مرتب : مولانا ابراہیم فردوسی ، ندوی

پہلی قسط

شخصیت و ارتقاء کی لغوی و اصطلاحی تشریح

شخصیت دراصل عربی زبان کا ایک ایسا لفظ ہے جو پانچ معانی و مطالب کے لئے اردو زبان میں مستعمل ہے . اس کے لفظی معانی میں سے پہلا معنیٰ : انفرادی وجود ، ذات ، فرد اور ہستی کا ہے . دوسرا معنیٰ : ذاتی خصوصیات یا کردار اور عادات وصفات کا مجموعہ ہے . تیسرا معنیٰ : ذاتی عزت ، وقار ، حرمت ، وقعت ، شان ، بزرگی اور مرتبہ کا ہے . چوتھا معنیٰ : شیخی، غرور اور شان کا ہے . پانچواں معنیٰ : شرافت ، اصالت ، خوبی اور بھلائی کا ہے . لیکن شخصیت کا لفظ عام طور پر ، فرد کی کسی ایسی خصوصیت یا فرق کو بیان کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو اسے اپنے اندر پائی جانے والی خصوصیت یا فرق پیدا کرنے والی کسی چیز میں دوسرے افراد سے ممتاز کرتی ہو ، کیونکہ شخصیت کا ایک معنی ذاتی خصوصیات یا کردار اور عادات وصفات کا مجموعہ بھی ہوتا ہے .

شخصیت کی جامع اصطلاحی تشریح کرنا دریا کو کوزہ میں بند کرنے کے مترادف ہے کیونکہ ماہرین فن نے اپنے اپنے انداز میں اس کی مختلف تشریحات کی ہیں ، البتہ بطور اصطلاح ان کا لب لباب اور خلاصہ بیان کیا جا سکتا ہے .

دراصل شخصیت کا اصطلاحی معنیٰ ! فرد کے ذہنی وجسمانی اور شخصی ، برتاؤ ورویہ اور اوصاف وکردار کا مجموعہ ہوتا ہے ، جسے سہل انداز میں باالفاظ دیگر یوں کہا جا سکتا ہے کہ شخصیت انسان کے اندر پائے جانے والی ظاہری و باطنی صفات ، نظریات ، اخلاقی اقدار ، افعال ، احساسات اور جذبات کے اس مجموعہ کا نام ہے جو اس کی طرف منسوب ہوتا ہے .

شخصیت کی اصطلاحی تشریح عام فہم اور سیدھے سادھے انداز میں یوں بھی بیان کی جا سکتی ہے کہ شخصیت انسانی ظاہری و باطنی اور اکتسابی وغیر اکتسابی صفات ، نظریات ، اخلاقی اقدار ، افعال ، احساسات اور جذبات کو ان مہارتوں کے ذریعہ جاننے ، سمجھنے اور زندگی میں لانے کا نام ہے ، جن سے وہ اپنے اور پوری انسانیت کے لئے ایک نہایت ہی مہذب ، پرسکون اور نفع بخش زندگی گذار سکے .

ارتقاء بھی دراصل عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی ، بلند ہونے ، ترقی کرنے یا ( درجہ ومرتبہ اور مقام و حیثیت کی ) بلندی ، یا درجہ بدرجہ ترقی اور زینہ بزینہ اوپر چڑھنے کے آتے ہیں .

اسی طرح ارتقاء کے اصطلاحی معنیٰ ! کسی فرد کا اپنی شخصیت کی تعمیر و کردار سازی کے لئے خود شناسی اور خدا شناسی کے حصول میں ، بتدریج اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے کمر بستہ ہو جانے کا ہے .

خلاصہ کلام یہ کہ انسان کی ظاہری وباطنی اور اکتسابی وغیر اکتسابی خصوصیات وصفات ، افعال ونظریات ، احساسات وجذبات اور اخلاقی اقدار کو تدریجی ترقی کے ساتھ ساتھ زینہ بزینہ نشو ونما کرنے اور پروان چڑھانے کو شخصیت کا ارتقاء اور انگریزی زبان میں Personality development کہا جاتا ہے .

پرسنالٹی کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ پرسونا persona سے نکلا ہے جس کے معنی نقاب یا ماسک کے آتے ہیں ، اور اردو میں ذاتِ ظاہر اور اظہار شخصیت کے آتے ہیں ، کیونکہ شخصیت کے ارتقاء کے دو بنیادی اور اہم پہلو ہوتے ہیں ایک ظاہری اور دوسرا باطنی . لہذا یہ عین ممکن ہے کہ انسان اپنے اندرون پر خوبصورت پردہ ڈال کر اپنے ظاہر کو پرکشش اور خوبصورت ظاہر کرے ، جیسا کہ بدصورت جسم والے پر خوبصورت نقاب ڈال کر اس کے باطن کو بظاہر حسین وجمیل شکل میں پیش کیا جا سکتا ہے اور اس کے اچھے اثرات دیکھنے والوں پر مرتب کئے جا سکتے ہیں .

بالکل اسی طرح شخصیت کے ظاہر کو پرکشش بناکر معاشرہ میں اس کے اچھے نتائج برآمد کئے جا سکتے ہیں کیونکہ دراصل پرسنالٹی ڈیولپمنٹ انسان کے ان حرکات و سکنات کا نام ہے جن کا ظاہری تعلق معاشرتی زندگی میں دوسرے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے

جب دونوں پہلوؤں کا انفرادی طور پر تقابلی موازنہ کیا جائے تو ظاہری پہلو کو زیادہ ترجیحی حق حاصل ہوگا کیونکہ اس کے ظاہری اثرات اس کی ذات کے ساتھ ساتھ معاشرتی زندگی میں بھی دوسروں پر مرتب ہوتے ہیں اور اس کے اثر ورسوخ کے دائرہ کو وسیع کر دیتے ہیں .

اس کے برعکس اگر دونوں پہلوؤں کا اجتماعی طور پر تقابل کیا جائے تو ان میں باطنی پہلو کو ترجیحی حق حاصل ہوگا کیونکہ شخصیت کے ارتقاء میں دونوں ہی پہلو یکساں طور پر مطلوب ہوتے ہیں ، لیکن ان میں دوسروں پر اپنی ذات کو مقدم رکھا جائے گا تاکہ اس کے اثرات کو مؤثر اور پائیدار بنایا جاسکے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” یا أیھا الذین اٰمنوا لم تقولون مالا تفعلون کبر مقتا عند اللہ أن تقولوا ما لا تفعلون

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here