شیرور میں پیش آیا ایک المناک ودرد ناک سانحہ

0
601

تعزیت نامہ بر وفات محترم جناب مرحوم مصعب گنگولی ومحترم جناب مرحوم نہزان باؤو کیسرکوڈی شیرور

از : مولانا محمد زبیر ندوی شیروری

وَلِــكُـلِّ أُمَّــةٍ أَجَـــلٌ ۖ فَـــإِذَا جَــــاءَ أَجَـــلُـــهُـمْ لَا يَــسْـــتَــأْخِـــرُونَ سَـــاعَـــةً ۖ وَلَا يَـــسْــتَــقْــدِمُــونَ

خالق کائنات کے اختیارات میں کسی کو دَخل نہیں ، چرند پرند انس و جن الغرض پوری کائنات اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے ، اور اسی نے جہانِ کُل کو پورے انتظام و انصرام اور نظم و نسق کے ساتھ پہلے بھی چلایا اور اب بھی چلا رہا ہے ، اس کے ہر کام میں حکمت پنہا ہوتی ہے ، وہ جب چاہتا ہے اپنی تخلیق میں کسی بھی چیز کو وجود بخشتا ہے اور جب چاہتا ہے اسے فنا کر دیتا یے ، وہی جلاتا اور موت دیتا یے ، کیونکہ وہ ” کُــنْ فَــیَکُــوْن ” کا مالک ہے ، قدرت کے دستور کے مطابق انسان کے آنے کی ترتیب تو ضرور ہوتی ہے مگر جانے کی کوئی ترتیب نہیں ہوتی ، اسی لیے موت کا کوئی بھروسہ نہیں کہ کون کب دنیا سے مفارقت اختیار کر جائے ، قرآن کا فرمان ہے ، ” کــل مــــن عــــلــــیـھـا فـــــان ” یعنی ہر چیز کو فنا ہے ، آدم علیہ السلام سے لیکر اب تک یہاں آمدو رفت کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری وساری ہے ، روز افزوں ہزاروں کی تعداد میں لوگ آ رہے ہیں اور جا رہے ہیں ، جن کا احصا محال ہے اور ان شاء اللہ یہ سلسلہ تا قیامت جاری رہے گا .

مؤرخہ 10/صفر المظفر 1445ھ مطابق 27/اگسٹ 2023 ء بروز اتوار بعد نماز عصر ایک غمناک خبر بذریعہ واٹس ایپ آئی جس نے اہلیان شیرور کے قلوب واذہان کو اضطرار واضطراب میں مبتلا کر دیا ،

خبر یہ تھی کہ دو باشندگان شیرور مچھلیوں کے شکار کے دوران تلاطمِ خیز امواج کی زد میں آکر غرقاب ہوگیے اور بقیہ نے کسی طرح اپنی جان بچا لی ، مگر دو قرابت دار نوجوان مرحوم محمد مصعب ابن مصطفی گنگولی اور دوسرے نزہان ابن نور الامین باؤ ساکنان کیسرکوڈی شیرور دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل ہوگئے تو یہ سنسنی خیز خبر پورے شیرور اور اکناف واطراف کے علاقوں نیز بیرون ممالک میں بھی تیزی سے پھیلنے لگی ، جس سے عوام الناس بالخصوص متعلقین اور رفقاء شیرور کے دل مغموم ومحزون ہوئے اور عوام کا ایک جم غفیر ساحل سمندر پر آکر جمع ہونے لگا اور نوجوانان شیرور اور ماہی گیروں نے تلاش شروع کر دی مگر لاکھ جتن کے باوجود ان کی کوششیں سعئ لا حاصل ثابت ہوئیں ، یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا تو پھر بعد نماز عشاء دوبارہ تلاشی مہم جاری رہی ، اسی دوران ایک نعش اس جگ سے تقریباً تین سو میٹر دوری کے فاصلہ پر برآمد ہوئی جہاں پر مچھیروں نے اپنا جال بچھایا تھا ، اس کے بعد ایک اور دوسری نعش اسی مقام پر رات ڈھائی بجے بر آمد ہوئی تو معاً بعد دونوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال لے جایا گیا اور بروز پیر ٹھیک دس بجے کے آس پاس دونوں لاشیں اہل خانہ کے سپرد کی گئیں . خبر پاکر لوگوں کا ایک جم غفیر جمع ہوا اور لوگ جوق در جوق آنے لگے ، ظاہر سی بات ہے کہ دونوں مرحومان کے متعلقین اور رفقاء دور دور تک پھیلے ہوئے ہیں لہذا قرب و جوار سے پیادہ وسوار لوگ کثیر تعداد میں آتے دیکھے گیے ہر کوئی غمگین تھا اور دیدار کے لئے بیتاب ، لہذا میت کی تجہیز وتکفین کی گئی اور آخری دیدار کے بعد نماز جنازہ کے لیے جامع مسجد فاطمہ محمد سعید کیسر کوڈی شیرور لے جایا گیا ، چونکہ ظہر کا وقت تھا اور لوگ مسجد میں کثیر تعداد میں جمع تھے تو بیک وقت تمام لوگوں کے باجماعت نماز کی گنجائش نہ تھی لہذا نمازِ ظہر چار قسطوں میں الگ الگ جماعتوں کے ذریعہ ادا کی گئی اور آخری جماعت کے بعد نماز جنازہ ادا کی گئی ، لوگوں کی بھیڑ قابل دید تھی ، پھر مصلیان نے باری باری دونوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا اور دعائیں دیں ، تقریباً ساڑھے بارہ بجے سے لے کر ساڑھے تین بجے تک مسجد میں لوگوں کا ہجوم رہا ، بعد ازاں نعشوں کو قبرستان کی جانب لے جایا گیا ، تدفین کے دوران تین مشت مٹی دینے کے لیے لوگ بے تاب تھے اور بھیڑ کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا ، مگر پھر بھی الحمدللہ جمیع عوام نے تین مشت مٹی دی اور دعاؤں کا نذرانہ پیش کیا .

محترم جناب مرحوم مصعب ابن مصطفی گنگولی ساکن کیسر کوڈی شیرور ، جامع مسجد فاطمہ محمد سعید کی جماعت المسلمین سے منسلک تھے ، آپ کے والدِ محترم کا پیشہ ماہی گیری تھا ، اللہ نے آپ کو جملہ پانچ اولاد سے نوازا تھا ، منجملہ ان میں مرحوم مصعب بھی ہیں جو بھٹکل کی انجمن ڈگری کالج میں زیر تعلیم تھے ، اپنی تعلیم نہایت ہی مستعدی کے ساتھ حاصل کر رہے تھے ، ساتھ ہی ساتھ ٹوشن کلاسس کے ذریعہ نونہالوں کو مستفید بھی کر رہے تھے ، اخلاقی اعتبار سے سادہ لوح ، رقیق القلب ، نرم مزاج ونیک دل ، ہر فرد بشر سے خندہ دلی و خندہ پیشانی سے ملتے والے ، اہل علم سے الفت و محبت رکھنے والے ، ہر کسی کو عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھتے والے اور دینی تعلیم سے کافی لگاؤ تھے ، لہذا علماء سے مسائل معلوم کرتے رہتے ، ہر کام کی انجام دہی کے لئے متحرک اور فعال رہتے ، اپنے اہل خانہ وہمسایوں کے ہر دل عزیز تھے ، اللہ مرحوم کی قبر کو نور سے بھر دے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے . آمین .

اسی طرح مرحوم محمد نزہان ابن نور الامین باؤ جامع مسجد فاطمہ محمد سعید کی جماعت المسلمین سے منسلک تھے ، اللہ نے آپ کے والدِ محترم کو جملہ چار اولاد سے نوازا تھا ، مرحوم کی ایک چھوٹی ہمشیرہ کچھ سال قبل راہی جنت ہو چکی تھی ، مرحوم نے پی یو کالج میں تعلیم کی تکمیل کے بعد کسب معاش کے لیے دبئی کا رخ کیا تھا ، کچھ دنوں قبل ہی وہ اپنی تعطیلات کے پیش نظر وطن لوٹے تھے کہ اچانک یہ سانحہ پیش آیا ، مرحوم خوش اخلاق ، ہشاش بشاش ، ملنسار ، خندہ دل اور سادہ لوح تھے ، کبر وتکبر اور نخوت ان میں نہ تھی ، اپنے دوستوں سے بڑے احترام سے ملتے اور تکلم فرماتے ، اللہ آپ کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے . آمین .

آخری بات یہ کہ دونوں مرحومان اپنے اہل خانہ کے لیے مانند چراغ تھے ، مگر صد افسوس کہ یہ دونوں چراغ اپنی جوانی میں ہی ہمیشہ کے لیے بجھ گئے ، اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ دوست احباب اور رفقاء کو بھی بحر تحیر میں چھوڑ کر راہئ جنت ہوئے . اللھم اغفر لھما و ارحمھما .

میری قوم سے درد مندانہ اپیل

اللہ نے انسانوں کو حکمت و دانائی عطا کی ہے ، لہذا ان کا صحیح استعمال بھی ضروری ہے ، تقدیر ایک مسلمہ حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں ، انسانی زندگی آفات ومشکلات اور مصائب و حادثات سے مربوط ہوتی ہے ، مگر ان کے حل کے لیے علم ، علاج ، تجربات اور عبرت ونصائح بھی موجود ہیں ، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جہاں کہیں رہیں اصولوں کے ساتھ رہیں ، اپنی جان اور اپنے مال کی فکر کریں ، زندگی کوئی مذاق یا کھیل تماشہ نہیں کہ اسے جس طرح چاہا غفلت میں گذار دیا بلکہ یہ ایک امانت ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری ہم سبھوں پر عائد ہوتی ہے ، لہٰذا ہم دعاؤوں کے ساتھ حفاظتی تدابیر بھی اپنائیں اور اپنی ذات کی فکر کریں ، اپنے لیے حفاظتی سامان مہیا کریں ، اگر ہم ماہی گیر ہیں یا سمندری سفر کر رہے ہیں تو اپنے لیے حفاظتی سامان کا نظم بھی کریں ، اسی طرح اگر ہم سواری پر سفر کر رہے ہیں تو بھی اپنی جان کی فکر کریں ، زندگی بڑی قیمتی ہے ، ہم اپنے اہل خانہ کی ایک عظیم ضرورت ہیں ، لہذا ہمارا اپنے اہل خانہ میں ایک عظیم مقام و مرتبہ ہوتا ہے ، کیوں کہ والدین اولاد کو جوانی کی عمر تک پہونچانے میں بہت ساری مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اور اپنی پوری پونجی ہم پر صرف کرتے ہیں .

ذرا غور کریں کہ مرحومان کے والدین ورفقاء اور اہل خانہ وقرابت دار حادثہ کے بعد کتنے ہی سخت مراحل سے گزرے ہوں گے ، اللہ تعالیٰ ان سبھوں کو اور خاص کر مرحومان کے والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے . آمین .

اس افسوس ناک گھڑی میں ، اللہ سے یہی دعا ہے کہ وہ مرحومان کی جملہ عبادتوں اور اعمال صالحہ کو قبول فرمائے ، ان کی قبروں کو نور سے بھر دے ، اور ان کے سیئات کو نیکیوں میں تبدیل فرما کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے . آمین .

آسماں تیری لحد پر شبنم آفشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here