عقیقہ کے تفصیلی احکام

0
84

ازعبدالقادر فیضان بن إسماعيل ، باقوی ، جامعہ آبادی ، بھٹکلی ، امام و خطیب جامع البر والتقویٰ ، ابو ظبی ، متحدہ عرب امارات .

لڑکے کی طرف سے سنت مؤکدہ نسیکہ ، ( ذبیحہ ، عقیقہ) کے طور پر دو بکروں ( یا بکریوں ، یا مینڈھوں ، مینڈہیوں ) کو ذبح کرنا افضل ہے ، ضروری یا واجب نہیں ، اگر کسی میں صرف ایک ہی بکرا یا بکری کو ذبح کرنے کی استطاعت ہے تو ایک ہی بکرا نسیکہ ( ذبیحہ ، عقیقہ ) کیلئے کافی ہوکر نسیکہ صحیح ہوگا ، حتی کہ دو بکروں کی استطاعت کے باوجود بھی اگر کسی نے لڑکے کی طرف سے ایک ہی بکرے کا نسیکہ ( عقیقہ ) کیا تب بھی کافی ہوگا ، البتہ صاحب استطاعت کا بچہ کی طرف سے نسیکہ کے طور پر دو بکروں کا ذبح کرنا افضل ہے . ہاں! جہاں تک احناف کا اسی طرح احمد بن حنبل کا مذہب ہے ان دونوں کے پاس بھی نسیکہ سنت ہے ، اور شافعی کی طرح ہی بچہ کے نام پر دو بکروں کی افضلیت کے ساتھ ایک بکرا ذبیحہ کیلئے کافی ہوگا ، امام مالک کے پاس بچہ بچی دونوں کے لئے ایک ایک بکرا ہے .

حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، وہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ کہتے ہوئے سنا! ” لڑکے کی جانب سے دو بکریاں اور لڑکی کی جانب سے ایک ، نر ہوں کہ مادہ ( ذبح کرنے میں ) ، تمھیں کوئی نقصان نہیں “. { احمد ، ابوداؤد ، نسائی ، ترمذی ، ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے }

بچہ کی طرف سے ایک اور دو بکریوں کو ذبح کرنے کیلئے مندرجہ ذیل حدیث سے استدلال کیا گیا ہے .

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ، انھوں نے کہا! ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حسن آور حسین کی طرف سے ایک ایک دنبہ ذبح فرمایا . { ابوداؤد } امام نسائی کی روایت کردہ حدیث میں” دو دو دونوں کا عقیقہ فرمایا ” آیا ہے ۔

نورالدین علی بن علی شبراملسی ( نهاية المحتاج “کے محشی ) لکھتے ہیں محلی ( علامہ جلال الدین محلی ) کہتے ہیں کہ لڑکے کے عقیقہ کے سلسلہ میں اصل سنت ایک بکری سے حاصل ہوگی ، جیسا کہ روضہ اور اس کے اصل میں ہے ، [نهاية المحتاج ، ج/8 ، ص/145 ]

نوٹ : ہم نے زیادہ تر جگہوں میں عقیقہ کے بجائے نسیکہ یا ذبیحہ لکھا ہے ، کیونکہ یہ نام عقیقہ کے مقابلہ میں استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے ، آور ہمارے بعض علماء کے نزدیک عقیقہ کہنا مکروہ ہے ، جیسے علامہ ابن حجر کے پاس ، کیونکہ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے عقیقہ کہے جانے کو ناپسند کیا ہے ، تاہم زیادہ تر علماء کے پاس مکروہ نہیں . احناف کے پاس عقیقہ کہنا بدعت ہے . { تہذیب ، ج/8 ، ص/47 }والله اعلم بالصواب .

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here