ناخدائی ویب سائٹ امژو زون امچی پہچان کے اجراء کا تاریخی پس منظر اور مختصراً تعارف

0
212

از : مولانا ابراہیم فردوسی ندوی

ألحمد لله الذی خلقنا من نفس واحدة ، وجعلنا ایة فی اختلاف ألسنتا و ألواننا وجعلنا شعوبا و قبائل لنعارف . صلی الله علی محمد وعلی آله وصحبه وبارك و سلم تسلیما کثیرا کثیرا القائل کلکم من بنی آدم ، وآدم خلق من تراب . أما بعد :

مجھے ناخدا برادری کے اس اولین ویب سائٹ پر بطور حرفِ آغاز اور پیشِ لفظ کچھ تحریر کرنے کی سعادت حاصل ہونے پر بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے . لہذا میں اس پر سب سے پہلے اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے محض اپنے فضل و کرم سے قوم کے چند فکر مند لوگوں اور خصوصاً بعض نوجوانوں کو ناخدا برادری پیمانہ پر اپنا پہلا ویب سائٹ بنام ” امژو زون امچی پہچان ” جاری کرنے کی توفیق عطا فرمائی .

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری برادری کی خدمت کرنے والے با صلاحیت افراد اور نوجوانوں کو ہمیشہ قوم کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے . آمین .

دراصل امژو زون امچی پہچان یعنی www.amsozone.com جنوبی ہند کی قوم ناخدا کے دو بھائی جناب ابوبکر صدیق اور جناب ثناءاللہ بن عبدالمجيد بنگالی ساکن فردوس نگر تینگن گنڈی کا جاری کردہ ایک اولین ناخدا ویب سائٹ ہے .

اس کو جاری کرنے کے مختلف اسباب میں سے ایک اہم سبب قوم ناخدا کے پاس بطور قومی ذرائع ابلاغ مستقل طور پر جاری رہنے والے ویب سائٹ کی عدم موجودگی تھا .

اس کا احساس قوم کی نئی نسل کو بطور خاص تھا اور نئی نسل کے تعلیم یافتہ مختلف علاقوں کے نوجوان اس تعلق سے فکر مند بھی تھے لیکن 2017 ء تک اس پر خاطرخواہ توجہ نہ ہونے کے نتیجہ میں کسی نے اس کے مستقل اجراء پر سبقت نہ کی اور اس ذمہ داری کو آگے بڑھ کر اپنے کاندھوں پر اٹھانے کے لئے خصوصی توجہ نہ دی تو موصوفان نے اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد اس کو جاری کرنے کی بھاری بھرکم ذمہ داری اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھانے کی ٹھان لی . لیکن ان کے سامنے اس میں مواد جمع کرنے کا کٹھن کام سامنے تھا اور دنیوی تعلیم کے حصول کی وجہ سے اردو میں اپنی علمی کم مائیگی کا احساس اس کام کے آغاز میں سد راہ بنا ہوا تھا تو اسی مشکل کو حل کرنے کے لئے ان کے سگے چچا جناب مولانا ابراہیم صاحب فردوسی نے انھیں اس کام میں حتی الوسع تعاون کی یقین دہانی کرائی اور بلا تاخیر جلد از جلد اس کام کے آغاز پر زور دیا ، تو موصوفان کے لئے اس کو جاری کرنے کی راہ پوری طرح ہموار ہوگئی .

یہ سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور صرف اور صرف اسی کی توفیق کا نتیجہ تھا کہ اس نے اس ذمہ داری کو نبھانے کا حوصلہ موصوفان میں پیدا فرمایا تو ایک نے اپنے علمی تجربات سے اس میں اپنا تعاون پیش کیا تو دوسرے نے علمی تجربات کے ساتھ ساتھ اپنا مالی تعاون بھی پیش کیا ، کیونکہ وہ مسقط کی ایک کمپنی میں چند اہم ذمہ داروں میں سے ایک ذمہ دار تھے جس میں کام کے تجربات نے ان کے اندر ہر کام کو آگے بڑھ کر کر گذرنے کا حوصلہ پیدا فرمایا تھا .

یہی وہ پس منظر ہے جس میں اس کام کا آغاز سن 2016 ء سے ہوا اور موصوفان اپنی علمی و معاشی ذمہ داری کے باوجود بھی اس ذمہ داری کو بحسن و خوبی نبھاتے رہے اور ویب کا ایک مکمل خاکہ تیار کرنے کی کوشش کرتے رہے . جب یہ خاکہ سن 2017 ء کے اوائل میں اپنے تکمیلی مرحلہ کو پہونچا تو اس وقت اس کے اجراء کے لئے ایک مناسب موقعہ کی تلاش تھی . اسی دوران الجامعہ اسپورٹس سینٹر ، جامعہ آباد تینگن گنڈی کے سلور جوبلی کے جلسہ عام کی تیاری کی خبریں موصول ہونے لگیی تو موصوفان اور ان کی ٹیم نے اس موقعہ کو ایک سنہرا موقعہ محسوس کیا اور ویب سائٹ کے اجراء کے لئے الجامعہ اسپورٹس سینٹر کے ذمہ داران سے تبادلہ خیال کیا اور اس سلسلہ میں خصوصی طور پر ناخدا برادری کے مشہور و معروف چینل ” ناخدا نیوز ” کے چیف ایڈیٹر جناب سہیل صاحب مختیصر اور الجامعہ گلف کمیٹی کے ایک ایگزیکٹو ممبر جناب صلاح الدین صاحب ابو سے رابطہ کیا تو الجامعہ اسپورٹس سینٹر ، جامعہ آباد تینگن گنڈی کے تعاون اور ان دونوں حضرات کی خصوصی توجہات سے اس کا موقعہ ہاتھ آیا اور بالآخر الجامعہ اسپورٹس سینٹر جامعہ آباد کی طرف سے اس کے اجراء کی باقاعدہ اجازت مل گئی جس پر امژو زون ٹیم ان کی ممنون و مشکور رہے گی .

اس موقعہ پر امژو زون ٹیم نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور الجامعہ اسپورٹس سینٹر کے نام اپنا ایک تشکر نامہ ” ناخدا نیوز ” پر نشر کیا . جس پر وہ ناخدا نیوز کی بھی بہت ہی ممنون و مشکور رہے گی .

اسی طرح اس کا باقاعدہ اجراء ” الجامعہ اسپورٹس سینٹر ” جامعہ آباد تینگن گنڈی کے سلور جوبلی کے موقعہ پر مولانا الیاس ندوی بھٹکلی ، بانی و صدر مولانا سید ابوالحسن علی ندوی اسلامک اکیڈمی بھٹکل اور استاد جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے مبارک ہاتھوں یکم شعبان المعظم 1438 ھ مطابق 17/اپریل 2017 ء بروز جمعرات کیا گیا تھا .” ذلک فضل الله یؤتیه من یشاء “.

اس میں ناخدا برادری کے افراد برادری پیمانہ پر ہر قسم کی خبریں اور علاقائی سرگرمیاں نشر کر سکتے ہیں ، خواہ وہ دینی ہوں یا دنیوی ، پروگرامات سے متعلق ہوں یا کھیلوں سے ، تعلیم سے متعلق ہوں یا حالات حاضرہ سے ، اعلانات سے متعلق ہوں یا اموات سے ، غرض یہ کہ ہر قسم کی چھوٹی بڑی اور خاص و عام خبریں اس میں شائع کی جا سکتی ہیں ، تاکہ ہمارے قومی رشتہ کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا جا سکے اور ہم ایک دوسرے تک اپنا پیغام بآسانی پہنچا کر ایک دوسرے سے متعارف ہوتے رہیں اور اپنی قومی خدمات کے دائرہ کو وسیع سے وسیع تر بنانے کی کوشش کر سکیں .

لہٰذا اس دائرہ کار کو مزید وسعت دینے اور تقویت پہنچانے کی غرض سے ” امژو زون امچی پہچان ” ویب سائٹ پر وقتاً فوقتاً نشر ہونے والی چھوٹی موٹی خبروں اور معلومات کی اطلاع کے لئے برادری پیمانہ پر ایک واٹساپ لنک گروپ بھی بنایا گیا ہے جس میں آپ کو ویب سائٹ پر اپلوڈ کی جانے والی ہر چیز کا لنک بھیجا جاتا رہے گا ، اگر ناخدا برادری کا کوئی فرد اس میں شامل ہونا چاہے تو وہ ویب سائٹ کے ایڈیٹر جناب ثناءاللہ بن عبد المجید ، ساکن فردوس نگر تینگن گنڈی کے واٹساپ نمبر AmsoZone WhatsApp Link پر بآسانی رابطہ کر سکتے ہیں اور اپنے دوست و احباب کو بھی اس سے مطلع کروا سکتے ہیں .

اس کے اجراء کے چند ماہ بعد موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے صارفین کی کثرت اور اس کی اہمیت کے مدنظر اسی ویب کے نام پر مؤرخہ15/جولائی 2017 ء کو اس کا یوٹیوب چینل www.youtube.com/amsozone اور مؤرخہ 24/اپریل 2018 ء کو اس کا فیس بک پیج www.facebook.com/amsozone بھی جاری کیا گیا تاکہ ان کے ذریعہ بھی حتی المقدور قومی خدمت کا کام لیا جا سکے .

اس ویب سائٹ کا اجراء کئی ایک مقاصد کے تحت کیا گیا ہے منجملہ ان میں سے ایک اہم مقصد یہ ہے کہ ناخدا برادری کے پاس بھی ذرائع ابلاغ کا ایک ایسا ذریعہ ہو جس سے قوم کے افراد اپنا پیغام ایک دوسرے کے پاس بآسانی پہنچا سکیں . دوسرا مقصد قوم کا تعارف میڈیائی پیمانہ پر بھی کیا جا سکے . تیسرا مقصد قوم کی نئی نسل کی رہنمائی اسلامی نہج پر کی جاسکے . چوتھا مقصد ناخدائی قوم کی نئی نسل کے قلمکاروں کو اپنی مادری زبان میں لکھنے پر آمادہ کرتے ہوئے ناخدائی زبان کو رواج اور فروغ دیا جا سکے . پانچواں مقصد نوجوانوں کو برادری پیمانہ پر اپنے عمدہ خیالات کا اظہار کرنے کے لئے ایک متحدہ پلیٹ فارم مہیا کرنا . چھٹا مقصد ناخدا برادری کی ترقی کے تعلق سے اہلیان برادری کو اپنے مضامین اور آڈیوز و ویڈیوز کے ذریعہ اپنی مفید آراء و عمدہ خیالات کے اظہار کا پلیٹ فارم مہیا کرنا . ساتواں مقصد ناخدائی زبان کو حتی المقدور تحریری شکل میں محفوظ کرنے کی کوشش کرنا .

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ کسی بھی قوم کی پہچان اور اس کی شناخت اس قوم کی ثقافت کے بغیر ادھوری ہے ۔ ثقافت ہماری زندگیوں میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے ۔

دنیا کی کسی بھی قوم کو اْس کی زبان اور دیگر ثقافتی اقدار سے پہچانا جاتا ہے . زبان صرف ایک ذریعہِ ابلاغ ہی نہیں بلکہ یہ ثقافت کے اہم بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے . اس کے بغیر ثقافتیں ادھوری ہیں . زبان ہماری زندگیوں کا وہ اہم حِصہ ہے جس سے ایک طرف تو ہم اپنے خیالات دوسروں تک بآسانی پہنچا سکتے ہیں تو دوسری طرف اسی کی بنیاد پر ہم مختلف قوموں ، گروہوں اور قبیلوں میں اپنی انفرادی شناخت کو برقرار رکھ سکتے ہیں . جلاصہِ کلام یہ کہ زبان اور ثقافت آپس میں ایک دوسرے سے مربوط ہوتی ہیں کیونکہ جہاں ایک طرف ہماری ثقافت زبان پر اثرانداز ہوتی ہے ، تو وہیں دوسری طرف زبان بھی ثقافت پر اپنے گہرے اثرات چھوڑتی ہے .

اس وقت دنیا میں کم و بیش چھ ہزار پانچ سو (6500) کے قریب زبانیں بولی جاتی ہیں ، جن میں کچھ زبانیں تو صفحۂ ہستی سے مکمل طور پر مٹ چکی ہیں جب کہ کئی زبانوں کے بولنے والے ہزاروں بلکہ سیکڑوں میں ہیں ۔ لیکن نہایت افسوس کے ساتھ اس بات کا خدشہ ظاہر کرنا پڑ رہا ہے کہ کہیں ہماری بے توجہی سے ناخدا برادری کی ناخدائی زبان کا بھی آئندہ چند سالوں میں وہی حال نہ ہو جائے جو دیگر زبانوں کا ہوا اور وہ صفحہِ ہستی سے مٹ گئیں کیوں کہ ان کے بولنے والوں نے اپنی زبان کی حفاظت پر خاطر خواہ توجہ نہ دی اور ان کو تحریر میں لانے کے ذرائع نہیں اپنائے .

بہر کیف! اگر ہماری ناخدا برادری کے تعلیم یافتہ افراد نے اپنی مادری زبان کی حفاظت پر توجہ نہ دی اور اس کو تحریر میں لانے کی پلاننگ اور بھر پور کوششیں نہ کیں تو وہ دن دور نہیں کہ دنیا کی مختلف زبانوں کی طرح ہماری قومی زبان بھی صفحہ ہستی سے مٹ کر اپنے تاریخی وجود کو برقرار نہیں رکھ پائے گی .

اللہ تعالیٰ َسے دعا ہے کہ وہ ہماری ناخدائی زبان کی حفاظت فرمائے اور قبل از وقت اس کے وجود کو برقرار رکھنے والی چیزوں کو بروئے کار لانے کی توفیق عطا فرمائے . آمین .

اس موقعہ پر میں اس بات کی وضاحت کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ دنیا میں دو طرح کی زبانیں بولی جاتی ہیں ایک زبانی بولی اور دوسری تحریری بولی . زبانی بولی سے مراد وہ بولی ہے جس کے اپنے ذاتی ہجائی حروف نہ ہوں اور وہ صرف بولی جاتی ہو نہ کہ لکھی جاتی ہو . مثلاً ناخدائی اور نوائطی زبان . اور تحریری بولی سے مراد وہ بولی ہے جس کے اپنے ذاتی ہجائی حروف بھی ہوں اور وہ لکھی بھی جاتی ہو جیسے عربی اردو اور انگریزی وغیرہ . لیکن کچھ بولیاں ایسی ہیں جو زبانی ہونے کے باوجود بھی دوسری بولی کے ہجائی حروف کی مدد سے لکھی جا سکتی ہیں جیسے ناخدائی اور نوائطی زبان وغیرہ .

بہرحال اس ویب سائٹ کو فی الحال انہی اغراض و مقاصد کو بروئے کار لانے کی غرض سے جاری کیا گیا ہے ، لیکن یہ اپنے ابتدائی مرحلہ میں ہے ، لہذا اس کام کو آگے بڑھا کر پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے قوم کے علمی اور صحافتی میدانوں میں سرگرم عمل لوگوں کے مشوروں کی اشد ضرورت ہے . اس کو نامکمل ہونے کے باوجود اس وجہ سے جاری کیا گیا ہے تاکہ اسے بتدریج تکمیلی مراحل تک بآسانی پہنچایا جا سکے اور یہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور قومی افراد کے تعاون و مخلصانہ کوششوں ہی سے ممکن ہے اللہ ہم سبھی قومی افراد کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور اس ویب سائٹ کے بانیان کو بھی اخلاص کے ساتھ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اسے دن دونی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے . آمین .

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here