رؤیت ہلال کی اہمیت و ضرورت

0
3187

دنیا میں بہت سارے ماہ و سال رائج ہیں انہیں میں سے شمسی و قمری یا عیسوی و ہجری ماہ و سال بھی ہے ، مگر مسلمانوں اور عام انسانوں کی زندگی میں قمری یا ہجری ماہ وسال کی اہمیت زیادہ ہے ۔ اس لئے کہ وہ آسان اور فطری ہے اور اس میں انسانی نفسیات کی رعایت زیادہ ہے ۔چونکہ قمری یا ہجری ماہ و سال کا نظام رؤیت ہلال پر موقوف ہے اس لئے اس کی اہمیت بھی اظہر من الشمس ہے ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے ۔” يَسئَلُوْنَکَ عَنِ الْأَھِلَّۃِ قُلْ ھِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ ۔۔۔”(سورہ البقرہ : ۱۸۹

ترجمہ : لوگ آپ سے ہلالوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ۔ کہہ دیجئے وہ لوگوں کے لئے اور حج کے لئے وقت جاننے کے ذرائع ہیں ۔ (اسی مفہوم کی آیت سورہ یونس میں ہے “وَقَدَّرَہُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابِ

عام مفسرین کا کہنا ہے کہ صحابہ کرام نے پوچھا کہ چاند گھٹتا بڑھتا کیوں ہے ؟ اس کا سبب کیا ہے ؟ مگر مفسر ابو السعود لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام نے دریافت کیا تھا کہ چاند کے گھٹنے اور بڑھنے کی حکمت کیا ہے ؟ تو اللہ تعالی نے جواب دیا کہ ہلال کا گھٹنا اور بڑھنا اور چاند کی مختلف شکلیں لوگوں کے دینی و دنیاوی معاملات جیسے صوم ، افطار اور قرض وغیرہ نیز موسم حج کے لئے اوقات جاننے کے ذرائع ہیں ۔ (حاشیہ : تفسیر جلالین ص: ۲۸، طبع دہلی

علامہ شوکانی آیت مذکورہ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ” اس آیت میں ہلال کے گھٹنے اور بڑھنے کی حکمت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ اوقات جاننے کا ذریعہ ہے جس کی مدد سے لوگ اپنی عبادات و معاملات جیسے صوم ، افطار، حج ، مدتِ حمل، عدت، اجارہ و قَسم وغیرہ کے اوقات جانتے ہیں ۔”(فتح القدیر :۱/۱۸۹، طبع بروت

ہندوستان کے مشہور مفسر مولانا عبد الماجد دریابادی قمری و ہجری ماہ وسال کی اہمیت اور مذہب اسلام کے اسے اختیارکرنےکی حکمت و فلسفہ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :” قمری مہینے چونکہ مختلف موسموں میں ادل بدل کرآتے ہیں ، مسلمان روزہ دار بھی رمضان کی اس گردش سے ہلکی گرمی اور ہلکی سردی، شدید گرمی اور شدید سردی ، خشک و تر ہر موسم میں بھوک اور پیاس کے ضبط و تحمل کا خوگر ہوجاتا ہے “۔ (تفسیر ماجدی :۱/ ۳۳۷، مجلس تحقیقات ونشریات اسلام لکھنو

بہر حال اسلامی شریعت نے قمری و ہجری ماہ و سال کو اپنا کر بڑی عظیم حکمت عملی اور حقیقت پسندی کا ثبوت دیا ہے ، بنابریں تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ عبادات اور دوسرے معاملات زندگی میں قمری و ہجری ماہ و سال کو اختیار کریں اور اسی کا اعتبار کریں ۔

چونکہ قمری و ہجری ماہ وسال کا دار ومدار رؤیت ہلال پر ہے اس لئے تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ ہر مہینہ کے آغاز اور اختتام پر چاند دیکھنے اور قریبی علاقوں میں رؤیت ہلال کے پتہ لگانے کا اہتمام کریں ، مگر افسوس اس وقت مسلمانوں میں اس کے تعلق سے بڑی غفلت پائی جاتی ہے ۔

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here