تقویٰ قرآن و حدیث کی روشنی میں

0
114

رشحات قلم : محمد زبیر ندوی شیروری

تقویٰ کے لغوی معنی بچنے اور حفاظت کرنے کے ہیں اور دینی اصطلاح کی رو سے طاعت کے کاموں میں اخلاص اور معصیت کے تمام کاموں سے احتراز وپرہیز کرنے کے ہیں . جیسا کہ قرآن کا فرمان ہے کہ ” یٰۤــاَیُّــہَا الَّـــذِیۡــنَ اٰمَــنُــوا اتَّــقُــوا الــلــهَ “. اے ایما ن والو! اللہ سے ڈرو ! ( البقرۃ/278 )

تقویٰ دراصل پرہیز گاری اور نیکی و ہدایت کی راہ پر چلنے اور دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کے حصول کے بعد دل گناہوں سے جھجک اور نیک کاموں سے خوشی محسوس کرنے لگتا ہے . اللہ کے نگاہ میں ذات پات یا قومیت وغیرہ کی کوئی اہمیت و وقعت نہیں ہوتی ، بلکہ اس کے نزدیک سب سے زیادہ قابل عزت و احترام والا وہ شخص ہوتا ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو . اور یہ صفت دین پر قائم رہتے ہوئے راہ ہدایت پر چلنے سے پیدا ہوتی ہے .

صلحاء کا وصف اولین تقوی رہا ہے ، یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک متقی لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ رہا ہے . افعال و اقوال کے عواقب پر غور و خوض تقوی کو فروغ دیتا ہے اور رب کی ناراضگی سے بچاتا ہے ، یعنی اللہ کا خوف تمام بھلائیوں کا سرچشمہ ہے . اللہ تعالیٰ نے دنیا کے وجود سے لے کر قیامت تک آنے والے تمام انس وجن کے لئے اسی کی وصیت فرمائی ہے ، اور یہی قیامت کے دن نجات کا ذریعہ اور مؤمنین کا بہترین زادِ راہ بنے گا . یہ وہ عظیم نعمت ہے جس سے شرح صدر اور ہدایت کی راہیں ہموار ہونے لگتی ہیں اور برائیوں سے بچنا اور نیکیوں کو اختیار کرنا آسان ہو جاتا ہے . کیونکہ مامورات پر عمل اور ممنوعات سے احتراز ہی دراصل حقیقی خوف الہی ہے .

اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک کی سینکڑوں آیات میں مختلف انداز سے تقویٰ یعنی اللہ سے ڈرنے کا حکم اور اس کی اہمیت وتاکید کو ذکر کیا ہے . اسی طرح خالق کائنات نے اپنے حبیب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کو بھی تقویٰ یعنی اللہ سے ڈرنے کا حکم دیا ہے ، چنانچہ ارشاد باری ہے . ” يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا “. ( الاحزاب/1 )

اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ مانو ، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمتوں والا ہے .

اس کے دربار میں مال ودولت اور جاہ ومنصب اور حسب و نسب کوئی حیثیت نہیں رکھتا ، بلکہ اس کے یہاں عزت کا معیار صرف اللہ کا خوف ہے . جو جتنا اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس فانی دنیا میں زندگی گزارے گا وہ اس کے دربار میں اتنا ہی زیادہ عزت پانے والا ہوگا ، چنانچہ فرمان الٰہی ہے . ” يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا ۚ اِنَّ اَكْـرَمَكُمْ عِنْدَ اللّـٰهِ اَتْقَاكُمْ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ عَلِيْـمٌ خَبِيْـرٌ ” ( سورۃ الحجرات/13 )

اے لوگو ہم نے تم کو پیدا کیا ایک مرد اور ایک عورت سے اور تمہیں ذاتوں اور قبیلوں میں بانٹ دیا تاکہ آپس کی پہچان ہو . بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ باعزت شخص وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہو .

عباداتی ، معاملاتی اور معاشرتی زندگی میں چوبیس گھنٹے ہر وقت اللہ تعالیٰ کا خوف آسان بھی نہیں ہے ، کیونکہ کہ شیطان نفس اور معاشرہ ہمیں مخالف سمت لے جانے پر مصر رہتا ہے ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بندوں پر رحم فرماکر ارشاد فرمایا! ” فَاتَّقُوا اللّـٰهَ مَا اسْتَطَعْتُـمْ وَاسْـمَعُوْا وَاَطِيْعُوْا وَاَنْفِقُوْا خَيْـرًا لِّاَنْفُسِكُمْ ۗ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْمُفْلِحُوْنَ “. ( التغابن/16 )

پس جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو اور سنتے اور مانتے چلے جاؤ اور اللہ کی راہ میں خیرات کرتے رہو جو تمہارے لئے بہتر ہے اور جو شخص اپنی حرص سے محفوظ رکھا جائے وہی کامیاب ہے .

ہر شخص کو اپنی استطاعت کے مطابق اللہ سے ڈرتے ہوئے زندگی کے لمحات گذارنے چاہئیں ، اگر خدانخواستہ کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو فوراً دل سے معافی مانگنی چاہئے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ بھی نہیں ہے کہ ہم تقویٰ میں بھی ڈنڈی مارنا شروع کردیں ، جیسا کہ فرمان الہٰی ہے . ” يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّـٰهَ حَقَّ تُقَاتِهٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُـمْ مُّسْلِمُوْنَ “. ( آل عمران/102 )

اے ایمان والو اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہئے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا .

اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے مختلف فوائد وثمرات قرآن کریم میں ذکر فرمائے ہیں ، جن میں سے چند حسب ذیل ہیں .

تقویٰ ہدایت کے حصول کا ذریعہ ہے . جیسا کہ فرمان باری ہے ” ذٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۖ فِيْهِ ۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ “. ( سورۃ البقرہ/2 ) اس کتاب میں کوئی شک نہیں ، اس میں متقیوں کے لئے ہدایت ہے . یعنی اس کتاب کے کلام الہی ہونے میں کوئی شک نہیں کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے .

تقویٰ ایسے علم کے حصول کا ذریعہ ہے جس سے حق وباطل کے درمیان فرق کیا جاسکتا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِنْ تَتَّقُوا اللّـٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّيُكَـفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَاللّـٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْـمِ ” ( سورۃ الانفال/29 )

اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالٰی تم کو ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناہ دور کردے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالٰی بڑے فضل والا ہے ۔

تقویٰ غموں کے ازالہ اور رزق میں وسعت کا ذریعہ ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” وَمَنْ يَّتَّقِ اللّـٰهَ يَجْعَلْ لَّـهٝ مَخْرَجًا ہ وَيَرْزُقْهٝ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ “. ( سورۃ الطلاق/2 تا 3 )

اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارہ کی راہ نکالتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو .

تقویٰ اللہ سے مدد کے حصول کا ذریعہ ہے ، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ” اِنَّ اللّـٰهَ مَعَ الَّـذِيْنَ اتَّقَوا وَّالَّـذِيْنَ هُـمْ مُّحْسِنُـوْنَ “. ( سورۃ النحل/128 )

یقین مانو کہ اللہ تعالٰی پرہیزگاروں اور نیکو کاروں کے ساتھ ہے ۔

اللہ کی مدد ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو دو صفات کے حامل ہوتے ہیں ، ایک تقوی اور دوسری احسان . تــقـــوی کا مقصد عمل صالح اور احسان کا مقصد خَلق خدا کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہوتا ہے لہذا جو لوگ شریعت کے مطابق اعمال صالحہ کے پابند ہوں اور دوسروں کے ساتھ احسان کا معاملہ کرتے ہوں تو حق تعالیٰ بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے .اور ظاہر بات ہے کہ جس کو اللہ کی معیت حاصل ہو اس کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے .

تقویٰ اللہ سے محبت کا ذریعہ ہے ، جیسا کہ فرمان باری ہے ” اِنَّ اللّـٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ “. ( ســـورۃ التـــوبة/7 )

بےشک اللہ تعالیٰ متقیوں سے محبت کرتا ہے .

تقویٰ دنیاوی امور میں آسانی پیدا کرنے کا سبب ہے ، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ” وَمَنْ يَّتَّقِ اللّـٰهَ يَجْعَلْ لَّـهٝ مِنْ اَمْرِهٖ يُسْرًا “. ( سورۃ الطلاق/4 )

اور جو شخص اللہ تعالٰی سے ڈرے گا اللہ اس کے ( ہر ) کام میں آسانی کر دے گا ۔

تقویٰ عمل صالح کی قبولیت کا ایک بہترین ذریعہ ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے . ” اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّـٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ “. ( سورۃ المائدہ/27 )

اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے .

تقویٰ کامیابی کے حصول کا سبب ہے ، جیسا کہ فرمان باری ہے . ” يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَاْكُلُوْا الرِّبَآ اَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ “. ( سورۃ آل عمران 130 )

اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ تمہیں نجات ملے .

تقویٰ جہنم سے چھٹکارہ کا سبب ہے ، جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے ” ثُـمَّ نُنَجِّى الَّـذِيْنَ اتَّقَوْا…. ( سورۃ مریم/72 )

پھر ہم پرہیزگاروں کو تو بچا لیں گے .

تقویٰ جنت کے حصول کا سبب ہے . جیسا کہ ارشاد باری ہے ” اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ عِنْدَ رَبِّـهِـمْ جَنَّاتِ النَّعِـيْمِ “. (سورۃ القلم/34 )

پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنتیں ہیں ۔

تقوی سے متعلق بہت سی روایات کتب حدیث میں موجود ہیں جن میں سے چند کو مختصراً بیان کیا جا رہا ہے .

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ کون سی چیز سب سے زیادہ جنت میں لے جانے والی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا! تقویٰ اور اچھے اخلاق ، پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ کون سی چیز سب سے زیادہ جہنم میں لے جانے والی ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا! منہ اور شرمگاہ . ( ابن ماجہ )

چونکہ منہ حرام مال کھانے ، دوسروں کی غیبت کرنے اور چھوٹ بولنے وغیرہ کا سبب بنتا ہے اور شرمگاہ زنا اور اس کے لوازمات کا سبب بنتی ہے .

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا فرمان یے کہ ” الـــتـقـوى هــي الــخـوف مــن الــجــلـــيـل ، والــعــمــل بــالــتـنــزيــل ، والـــقــنــاعـــة بــالــقــلــيـل ، والاســتـعـداد لــيــوم الــــرحـــيــل “.

تقویٰ نام ہے اللہ کے خوف ، شریعت کے مطابق عمل ، کم پر قناعت اور آخرت کے دن کی تیاری کا . گویا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک تقوی چار چیزوں کے مجموعہ کا نام ہے ، اللہ کا خوف ، شریعت کی مکمل تابعداری ، کم پر قناعت اور یوم آخرت کی تیاری .

عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ” تقوی دن کے روزوں ، رات کی عبادت اور لوگوں میں خلط ملط ہونے کا نام نہیں بلکہ وہ دراصل اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ کاموں کو ترک کرنے اور اُس کے فرائض کو بجا لانے کا نام ہے .

لوگوں میں بالعموم یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ تقوی محض دل کی کیفیت کا نام ہے اور ظاہر سے اُس کا کوئی تعلق نہیں ہے ، اسی لئے کچھ لوگ تقوی کا دعوی بھی کرتے ہیں اور واجبات میں سستی اور محرمات کی پامالی بھی کرتے ہیں ، بخدا ایسے لوگ تقوی کی بُو تک نہیں پاسکتے ، یاد رکھیں! کہ یہ انسانی دل میں مرکوز کوئی جامد شئ نہیں جس کا اثر اور ثمرہ ظاہر نہ ہوتا ہو بلکہ وہ مسلسل انسانی ضمیر کی پہرہ داری اوامر کی بجا آوری اور نواہی سے اجتناب پر آمادہ کرنے والی ایک شی ہے ، اگر دل میں تقوی آجائے تو انسان کے تمام اعمال اُسی تقوی کی تصویر بن جاتے ہیں ، اور اگر اس کا دل تقوی سے خالی ہو جائے تو اعضاء و جوارح بھی اسی کی عکاسی کرتے ہیں ، انسان تقویٰ سے زندگی کے کسی لمحہ میں بھی بے نیاز نہیں ہوسکتا . ہر ایک اس کا ہر وقت ہر آن اور ہر لمحہ ضرورت مند ہوتا ہے .

اسی لیے سنن ترمذی کی روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ایک جامع وصیت کرتے ہوئے کہا تھا . ” اتقِ اللهَ حيثُ كنتَ وأتبعِ السيئةَ الحسنةَ تمحُها وخالقِ الناسَ بخلقٍ حسنٍ ( صحيح الترمذی/1987 )

تم جہاں کہیں بھی رہو اللہ سے ڈرو اور خطا ہوجانے کے بعد نیکی کرو کہ وہ برائی کو مٹا دیتی ہے اور لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آؤ .

لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر دم ہمارا دل اللہ تعالیٰ کے قرب سے آباد رہے کیونکہ وہ ہمارے تمام حرکات و سکنات سے پوری طرح باخبر ہے . لہذا ہمیں اپنے تمام اعمال کو تقویٰ سے مزین کرنا چاہئے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ ” ان اللہ لا ینظر الی اجسامکم ولا الی صورکم ولکن ینظر الی قلوبکم “. بیشک اللہ تعالیٰ نہ تمھارے جسموں کو دیکھتا ہے اور نہ ہی تمھاری صورتوں کو بلکہ وہ تمھارے قلوب کو دیکھتا ہے .

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تقوی کی زندگی نصیب فرمائے اور متقین میں ہمارا شمار فرمائے . آمین .

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here