نماز وتر کے وجوب و مسنونیت پر ایک تحقیقی نظر

0
1520

از : مولانا عبدالقادر بن إسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد ، تینگن گنڈی ، بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد محمد عشیر علی سلیمان المزروعی أبوظبی ، متحدہ عرب امارات .

ألحمد لله ، والصلوة والسلام علی رسول الله ، ومن والاہ .

نماز وتر سنت مؤکدہ ہے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پڑھنے پر ابھارا ہے ، تمام سنت نمازوں میں یہ نماز مؤکدہ ترین ہے . وتر واجب نہیں ، ائمہ اربعہ میں سے سوائے امام ابوحنیفہ کے کسی اور نے اس کو واجب نہیں کہا ہے ، جیسا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انھوں نے کہا! ” اِنَّ الوتر لیس بحتم کصلوتکم المکتوبة ، ولکن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم أوتر . بیشک وتر تمھاری فرض نمازوں کی طرح ( تم پر ) لازم نہیں ہے ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی ہے”. پھر فرمایا! ” یآ أھل القرآن أوتروا ، فإن الله وتر یحب الوتر . اے قرآن والو! وتر پڑھو پس بلاشبہ اللہ طاق ( بے جوڑ ) ہے طاق کو پسند کرتا ہے”. ( احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، ترمذی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے ، حاکم نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے ) .

امام ابو حنیفہ جس مذہب کی طرف گئے ہیں وہ ضعیف ہے جیسا کہ ابن منذر کہتے ہیں کہ اس سلسلہ میں کسی ( اہل علم ) کو نہیں جانتا ہوں کہ وہ ابوحنیفہ سے موافق ہوا ہے . بخاری و مسلم وغیرہ کی حدیث میں بھی ایک صحابی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پانچ نمازوں کے علاوہ کسی اور نماز کے فرض ہونے کے تعلق سے سوال کرنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! نہیں ، مگر یہ کہ تم بطور سنت کوئی نماز پڑھو . جیسا کہ درجِ ذیل حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ( بنی کنانہ میں سے ایک شخص ) مخدجِيّ کو انصار کے ایک شخص نے جن کی کنیت ابو محمد ہے ، نے بتایا کہ وتر واجب ہے ، تو مخدجي عبادہ بن صامت ( رضی اللہ عنہ ) کے پاس گئے اور ان سے کہنے لگے کہ ابو محمد کہتے ہیں کہ وتر واجب ہے ، تو عبادہ بن صامت نے کہا کہ ابو محمد نے جھوٹ بولا ( یعنی غلطی کی ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ” خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ تبارك و تعالیٰ علی العباد ، من اَتَى بھن لم يُضَيِّعْ منھن شیئًا استِخْفَافًا بحقھن کان له عند الله تبارك و تعالیٰ عھد اَنْ يُدْخِلَهُ الجنة ، ومن لم یات بھن فلیس له عندالله عھد ، ان شاء عذبه وان شاء غفرله”. وہ پانچ نمازیں ( یہاں صراحتاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ کہا ہے ، نہ کہ چھ ) جنھیں اللہ تبارك و تعالیٰ نے بندوں پر فرض کی ہیں جو شخص انھیں ادا کرے گا ان کے حق کو ہلکا سمجھتے ہوئے ان میں سے کسی کو ضائع نہیں کرے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے پاس اس کے لئے ایک عہد ( پکا وعدہ ) ہے کہ وہ اُسے جنت میں داخل کرے ، اور جو اس کو ادا نہیں کرتا ہے تو اس کے لئے اللہ کے پاس کوئی عہد نہیں ، اگر چاہے تو وہ اس کو عذاب دے ، اور اگر چاہے تو اس کی مغفرت کرے . ( احمد ، ابوداود ، نسائی ، ابن ماجہ )

بخاری ومسلم کی حدیث درج ذیل ہے .

سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” خمس صلوات کتبھن الله فی الیوم واللیلة “. دن رات میں اللہ نے پانچ نمازیں فرض کیں . ( پھر چھٹی کہاں سے فرض ہوئی ؟ ) ایک دیہاتی نے عرض کیا! ” ھَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا ؟ ” کیا ان کے علاوہ مجھ پر کوئی اور ( نماز ) فرض ہے؟ فرمایا! ” لَا! إِلَّا اَنْ تَطَوَّعَ “. نہیں! مگر یہ کہ تم سنت کے طور پر پڑھو . ( بخاری ، مسلم ) [ فقہ السنہ، ج/1 ، ص/141 ، 142 وغیرہ کا خلاصہ ]

اس صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحتاً فرمایا ہے کہ تم پر اس کے علاوہ کوئی اور نماز واجب اور فرض نہیں . رہی بات ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ اس حدیث کی جس میں آتا ہے کہ ” الوتر حق واجب ، فمن شاء فلیوتر بثلاث “. وتر ایک واجب حق ہے ، سو جو چاہے تو چاہئے کہ وہ تین رکعتوں سے پڑھے . ( دار قطنی ، اس حدیث کے رجال ثقات ہیں ، اور اس کو ابو داؤد نے بھی روایت کیا ہے ، تلخیص الحبیر ، ج/2 ، ص/37 )

تو واجب کبھی فرض پر بولا جاتا ہے اور کبھی سنت پر اور جمہور کے پاس اس کا یہی معنی ہے ، اور دوسری ایک دلیل یہ ہے کہ یہ مرفوع نہیں بلکہ موقوف ہے ، جیسا کہ امام بیہقی کہتے ہیں کہ ” ألأصح وقفه علی ابی ایوب “. زیادہ صحیح یہی ہے کہ یہ حدیث ابو ایوب پر موقوف ہے . ( ایسے میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ نہیں ہوئے بلکہ ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے ) .

ابن جوزی اس حدیث کے ایک راوی ” محمد بن حسان ” کی علت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے ، تاہم علامہ حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ وہ غلطی کر بیٹھے ، کیونکہ وہ ثقہ ہیں . ( راوی ثقہ ہو یا ضعیف ، لیکن یہ حدیث نہیں ، بلکہ اثر ہے ) .

وتر کے غیر واجب ہونے کے لئے اس کے علاوہ بھی کئی احادیث آئی ہیں .

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” الوتر حق مسنون ، فمن أحب أن یوتر بثلاث فلیفعل “. وتر ایک سنت حق ہے ، سو جو شخص وتر کو تین رکعات سے پڑھنا چاہے تو وہ پڑھ لے . ( علامہ حافظ ابن حجر تلخیص الحبیر میں لکھتے ہیں کہ ) میں نے یہ الفاظ نہیں دیکھے ، اس میں تو ” حق واجب ” آیا ہے ، جیسا کہ ابو ایوب کی روایت سے دارقطنی نے روایت کیا ہے . البتہ اس حدیث کے قریبی مفہوم والی حدیث ( اثر ) عاصم بن ضُمْرہ کے طریقہ سے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث ( اثر ) ہے ، کہتے ہیں کہ ” لیس الوتر بحتم کھیئة المکتوبة ، ولكنه سنةٌ سنھا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم “. وتر فرض نماز کے طریقہ کی طرح واجب نہیں ہے ، لیکن یہ تو سنت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سنت بنایا ہے . ( احمد ، ابوداود ، ترمذی ، ابن ماجہ ، نسائی ، عبداللہ بن احمد بن حنبل ، دارمی ، ابن خزیمہ ، عبد بن حمید اور حاکم نے مستدرک میں ، اور اِنھوں نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ) [ تلخیص الحبیر سے ماخوذ ، ج/2 ، ص/35 ]

19/شوال المکرم 1441ھ مطابق 12/جون 2020 ء

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here