سحری کی فضیلت – کیوں اور کیسے ؟

0
1008

  از : حافظ ثاقب حسین ندوی

جب ماہ رمضان میں موسم بہار کی پرکیف و بابرکت فضاؤں میں عشقِ خداوندی سے دلِ مسلم کا پیمانہ لبریز ہوتا ہے ، تو ذکرِ الہی پردۂ سماعت سے ٹکراتے ہی اس کی مشتاق و بے تاب آنکھوں سے محبتِ الہی کا جام بے ساختہ چھلکنے لگتا ہے ، خالق کا آخری کلام قرآن مجید کی بابرکت آیات سنتے ہی بندۂِ مؤمن کے سینہ میں آتشِ محبت بڑھنے اور تیز ہونے لگتی ہے ، سرور و شوق اور کیف و مستی میں وہ ایک ایسا سجدۂِ شوق ادا کرتا ہے ، جو اس کی پیشانی کے لئے نقشِ دوام بن جائے ، پھر اپنے دل کی مراد برلانے کے لئے والہانہ طور پر بارگاہِ ایزدی میں آہ وزاری کرتا ہے اور اس مقدس ماہ میں ہر نیک عمل کو بحسن خوبی انجام دے کر نورِ یقیں ، سرورِ عشق اور رضائے الٰہی پانے کی امید میں ماہئِ بے آب کی طرح تڑپتا ہے ، ایمان و اخلاق سوز اور فتنہ اور فساد کے طوفان بلا خیز میں بے سوز ، بے نور اور بے کیف گزرے ہوئے شب و روز کو یاد کر کے سر پیٹتا رہتا ہے ، دامن گناہوں سے داغدار ہونے کے باوجود ، اپنے دل میں رحمت الہی اور مغفرت خداوندی کا حد درجہ یقین رکھ کر پورا ماہ گذارتا ہے .

واضح رہے کہ جب بندہ کی طرف سے مذکورہ چیزیں خلوص و للہیت کے ساتھ پیش آتی ہیں تو اللہ کی رحمت بھی جوش میں آتی ہے ، اس کا اندازہ ہم صرف سحری سے کرسکتے ہیں جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ ” تسحروا فإن السحور برکة ( بخاری : 1923 ، مسلم : 1095 ) سحری کرو کیونکہ سحری میں برکت ہوتی ہے اور ایک جگہ فرمایا! ” بے شک اللہ تعالیٰ سحری کرنے والوں پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں . ( مسند احمد : 11086 ) .

سحری سے مراد وہ کھانا ہے جو انسان رات کے آخری حصہ میں تناول کرتا ہے اور اسے سحری اس لئے کہا گیا ہے کہ رات کے آخری حصہ کو عربی میں ” سحر ” کہتے ہیں اور یہ کھانا بھی اسی وقت کھایا جاتا ہے ( لسان العرب : 351/4 ) اسی طرح سحری جسمانی ضرورت کی تکمیل کا ذریعہ بھی ہے ، تو پھر اس کی اتنی بڑی اہمیت و برکت کیوں اور کیسے ہے ؟

مسلمان ہونے کے ناطہ ہمیں اللہ کی طرف سے عطا شدہ ہر حکم کا مقصد اور اس پر ملنے والے ثواب سے واقفیت ہونی چاہئے ، گرچہ سحری جسمانی ضرورت کی تکمیل کا سبب ہے لیکن اللہ کی طرف سے بڑی برکتوں کا ذریعہ بھی ہے ، چنانچہ امام نووی رحمہ اللہ سحری کا مقصد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علمائے کرام کا سحری کے مستحب ہونے پر اجماع ہے اور یہ کہ سحری واجب نہیں ، سحری میں برکت کا معاملہ بھی واضح ہے کیونکہ سحری کرنے سے روزہ رکھنے میں مدد ملتی ہے اور سارا دن جسم توانا رہتا ہے اور چونکہ سحری کھانے کی وجہ سے روزہ میں مشقت کا احساس کم ہوجاتا ہے ، اس کی بنا پر مزید روزے رکھنے کو بھی دل کرتا ہے ، لہذا سحری کے بابرکت ہونے کے متعلق یہی معنی اور مفہوم صحیح ہے . ( شرح مسلم : 206/7 )

اسی طرح علامہ مناوی رحمہ اللہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ” بے شک اللہ تعالیٰ سحری کرنے والوں پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے فرشتے ان کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہیں ” کا معنی ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ لوگ روزہ میں معاونت کی غرض سے سحری تناول کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ سحری کھانے پر زور دیا گیا ہے حالانکہ روزہ کی وجہ سے پیٹ اور شرمگاہ کی شہوت کمزور پڑتی ہے اور دل کی صفائی ہوتی ہے ، روحانیت کا غلبہ بڑھتا ہے ، جو کہ اللہ کے قرب کا موجب بنتی ہے . ( فیض القدیر : 270/2 )

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں سحری سے حاصل ہونے والی برکتوں کا ذکر فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ سحری کرنے سے کئی اعتبار سے برکت حاصل ہوتی ہے ، سب سے پہلے تو اس میں اتباع سنت ہے ، پھر اہل کتاب کی مخالفت ، اس کی عبادت کے لیے معاونت ، روزے کے دوران چستی ، بھوک کی وجہ سے پیدا ہونے والی بد مزاجی سے بچاؤ اور مزید یہ کہ سحری کے وقت کوئی کھانا مانگے تو اسے کھانا دینے کا یا اپنے ساتھ بیٹھ کر سحری کھلا دینے کا موقعہ ملتا ہے ، اسی طرح سحری کے وقت ذکر اور دعا کا موقعہ بھی ملتا ہے اور وہ وقت خصوصی طور پر قبولیت کا بھی ہوتا ہے اور اسے روزے کی نیت کرنے کا موقعہ مل جاتا ہے . ( فتح الباری : 140/4 )

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سحری کی فضیلت ، اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد کو سمجھتے ہوئے سحری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین .

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here