مہینوں اور سالوں پہلے ہونے والی منگنی اور اس کے نقصانات پر عبدالعلیم ابّو ندوی کا اظہار خیال

0
2630

از : مولانا عبدالعلیم ابًو ندوی ، جامعہ آباد ، بھٹکل

شادی : شریعت کی طرف سے جائز کردہ ایک ایسا عمل ہے جس کو دنیا میں آنے والے تمام نبیوں نے اپنایا ہے، شادی یعنی نکاح کے ذریعہ ایک جوڑے کو جائز طور پر ملایا جاتا ہے ، اللہ کے رسول صلي اللہ علیه و سلم خود فرماتے ہیں “اَلنِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِیْ ، فَمَنْ رَّغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ “ نکاح میری سنّت ہے جو بھی اس سنّت سے منہ موڑ لےگا وہ مجھ سے نہیں ہے، جہاں اس سنت کو اپنانے پر اللہ کے رسول صلي اللہ علیہ و سلم نے خوشی کا اظہار فرمایا ہے وہیں اس سے منہ موڑنے پر ناراضگی کا بھی اظہار فرمایا ہے ۔

آزادی کا پروانہ : جس لڑکے یا لڑکی کی منگنی ہو جایا کرتی ہے عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں آزادی کا پروانہ مل گیا اور اب وہ پوری طرح آزاد ہیں، خواہ وہ بے پردہ  منگیتر سے ملنے کی آزادی ہو یا ہوٹلوں اور تفریح گاہوں پر کھلے عام اختلاط کی آزادی ہو یا گھنٹوں موبائل پر غیر ضروری بات کرنے اور منگیتر کے ساتھ دور دراز کا سفر کرنے کی آزادی ہو۔ یہ شیطان کا دھوکہ ہے کہ وہ اِن دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور ان کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیتا ہے کہ اب تم آزاد ہو تمہاری منگنی ہو چکی ہے اب تم جو چاہو کر سکتے ہو کوئی تم کو کیوں روکے گا ؟ اور یہ شیطان کے بہکاوے میں آکر وہ تمام امور انجام دیتے ہیں جو میں نے اوپر ذکر کئے ہیں اور اللہ کو ناراض کرتے ہیں ۔ اسلام بِنا شادی کے ان امور کو کرنے سے سختی سے روکتا ہے اور حرام قرار دیتا ہے ، یہ شریعت کی نظر میں جرمِ عظیم ہے ، منگنی اصل نہیں ہے بلکہ نکاح کے ذریعہ ملاپ ہونا اصل ہے ۔

والدین کی بے توجہی اور چھوٹ : منگنی کے بعد والدین کا رویہ بھی بدل جاتا ہے ، گرم مزاجی ماند پڑ کر نرم مزاجی میں تبدیل ہو جاتی ہے ، وہ والدین بھی جو ہرغلطی پراولاد کو ٹوکا کرتے تھے ٹوکنا چھوڑ دیتے ہیں ، ان کی غلطیوں کو نظر انداز کرتے ہیں ، ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں ، کسی کے اعتراض پر صاف الفاظ میں یہ کہتے ہیں کہ ” ہم نے دو خاندانوں کی رضامندی سے منگنی کو انجام دیا ہے آخر وہ اک دن میاں بیوی ہو ہی جائیں گے ’’ اسی بے توجہی اور چھوٹ کی وجہ سے وہ امور جو میں نے اوپر لکھ دئیے ہیں بے خوف و خطر ہونے لگتے ہیں نہ انہیں کسی کا ڈر  ہوتا ہے ، اور نہ ہی اپنی غلطی کا احساس ، اور اس سے اکثر والدین کی بدنامی ہوتی ہے پھر والدین خون کے آنسو روتے ہیں ۔

خوش فہمی : بعد مدّت کے جب منگیتر آپس میں فری ہوجاتے ہیں اورایک دوسرے پر بھروسہ ہونے لگتا ہے تو شیطان ایک دوسرا کھیل اِن کے ساتھ کھیلتا ہے ۔ وہ کھیل یہ ہے کہ انہیں اِس خوش فہمی میں مبتلا کرتا ہے کہ اے فلاں تیری منگنی ہو چکی ہے تم ایک دوسرے پر بھروسہ بھی کرتے ہو اور پیار میں بھروسہ ضروری ہے، اب اپنے دوستوں سے مل سکتے ہو ، ان سے اپنے تعلقات بنا سکتےہو، تم کو ڈر کس بات کا ! تمہارا منگیتر تو پہلے سے موجود ہے اور اس میں گھر والے بھی تمہارے ساتھ ہیں اور یہ آپ کی طاقت ہے وہ آپ سے شادی کر ہی لے گا ویسے بھی وہ تم پر بھروسہ کرتا ہی ہے ، اور پیار میں بھروسہ ضروری ہے ، شیطان ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے ، اور ایک حد تک کامیاب بھی ہوتا ہے ، شیطان کے اس کھیل میں اکثر لڑکیوں ہی کو زیادہ نقصان ہوتا ہے یہی مہرہ بنتی ہیں پھر حالات اس قدر بے بس اور مجبور بنا دیتے ہیں کہ لڑکی نہ اِس کی بنتی ہے اور نہ اُس کی (نہ اِدھر کی رہی نہ اُدھر کی رہی) شیطان دوسرے کے ساتھ بھی یہی کھیل کھیلتا ہے پھر دونوں میں پہلے اختلاف پھر جھگڑا ڈال دیتا ہے ، اس اختلاف کے چلتے دونوں خاندانوں میں پھوٹ پڑ جاتی ہے اور شیطان اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا ہے ۔

اپنی بات: میں نے معاشرہ میں جو دیکھا اور محسوس کیا صفحہ قرطاس پر رقم کردیا ، یہ بھی حقیقت ہے کہ جن والدین نے اپنی اولاد کی صحیح اور بہترین تربیت کی ہو، صحیح اور غلط کی تمیز سکھائی ہو، شرم و حیا سے اچھی طرح واقف کرایا ہو وہ اولاد کبھی اپنی عزت وآبرو کا سودا نہیں کرے گی اور نہ ہی والدین کی بدنامی کا سبب بنے گی ، کیونکہ وہ جانتی ہے کہ لمحوں کی خطا اور اس کی سزا برسوں تلک جھیلنی پڑتی ہے ، والدین کے ذہن میں ہمیشہ یہ بات رہے کہ منگنی اطمینان بخش عمل نہیں ہے جب تک کہ نکاح نہ ہوجائے ، اور یہ بھی ذہن میں رہے کہ منگنی کے ٹوٹنے کے لئے کسی قول یا دستاویزات کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ چھوٹی سی غلط فہمی سے بھی وہ ٹوٹ جاتی ہے ، وقت گذر نے میں دیر نہیں لگتی ، منگنی کا ٹوٹنا ایک عام سی بات ہے ، منگنی ایک کھیل ہے جو کبھی بھی ختم ہو سکتا ہے ، بس والدین اولاد کی صحیح تربیت کی فکر کریں ” کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ “ ہر ایک ذمہ دار ہے اور ہر ایک کو اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا  ۔ اللہ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے ۔ آمین ۔

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here