نیکیوں کا موسمِ بہار ایک لمحہِ فکریہ

0
802

از : حافظ ثاقب حسین ندوی

نیکیوں کے موسم بہار ماہ رمضان کی آمد باسعادت ہے ، یہ آسمان و زمین وہی ہیں جس پر اس ماہ مقدس کی کتنی ہی پرکیف و پرلطف بہاریں گزریں ، رحمتوں اور برکتوں کی بارش سے کتنے ہی مردہ قلوب سیراب ہوئے ، کتنے ہی سیاہ کاروں اور گنہ گاروں کو توبہ کی سعادت نصیب ہوئی ، کتنے نافرمانوں کو روبہ زوال دنیا سے رخصت ہوکر لافانی اعمال بارگاہِ ایزدی میں پیش کرنے کا موقعہ ملا ، کتنے بدکاروں کے دل ایمان کی حرارت ، قرآن کی تلاوت اور عبادت کی حلاوت سے فیض یاب ہوئے ، کتنے سرمستوں کے جسم خالق کی رضامندی کے لئے نماز ، روزہ وغیرہ عبادات سے سرشار ہوئے ، امسال بھی وہی ماہ رمضان اپنی تمام تر برکتوں و رحمتوں کے ساتھ جلوہ گر ہے ، لیکن کورونا وائرس کا پرخوف و پرخطر سیلِ رواں بہت تند رو ، سبک خرام اور تیزگام ہے ، حالات دگرگوں ہیں ، فضائیں گھنگور ہیں ، انسانی قلوب رنجور ہیں اور تصویر کائنات میں نہ رنگ و نور ہے اور نہ ہی فرح و سرور کی نمود ہے ، پھر بھی بالخصوص خدا کے نیک بندوں اور بالعموم گنہگار مسلمانوں کو اپنے رب سے رحمت و مغفرت کی نہ صرف امید ہے بلکہ خالقِ حقیقی کی محبت کا نغمہ و آہنگ نکل نکل بندۂِ مؤمن کو مسحور و مخمور کئے ہوئے ہے .

جب سے ہندوستان میں لاک ڈاؤن ہوا ہے ، تب سے مسجدیں تو ویران ہیں ہی ، لیکن مسلمان کا ہر گھر نمازوں سے آباد ہے ، یہ خوش قسمتی و نیک بختی کی بات ہے ، لیکن وہ گھر جن میں حافظ قرآن اور عالم دین ہو وہ جنت نما بنا ہوا ہے ، جہاں پنچ وقتہ نمازیں باجماعت ہوتی ہیں ، دینی تعلیم کے اہتمام کے علاوہ اور بھی بہت ساری اصلاحی و تربیتی مجلسیں منعقد ہوتی ہیں ، بعض ایسے گھرانے ہیں جہاں نمازیں تو پڑھی جاتی ہیں لیکن جماعت و تعلیمات سے خالی و عاری ہیں اور حکومت کے سخت قانون کی وجہ سے نہ کسی عالم و حافظ کو لانے کی اجازت ہے ، ان نامساعد حالات میں وہ والدین بڑے خوش نصیب ہیں ، جن کی اولاد میں سے کوئی عالم و حافظ ہے اور کل قیامت کے دن ان شاء اللہ انھیں بہت ساری نعمتوں سے سرفراز کیا جائے گا اور سورج سے زیادہ چمکدار تاج پہنایا جائے گا ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا! جس نے قرآن پڑھا اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کیا ، اس کے والدین کو قیامت کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا ، جس کی روشنی سورج سے زیادہ چمکدار ہوگی ، اگر وہ ( سورج ) تمہارے گھروں میں ہوتا ، تو اب خود اس عمل کرنے والے کے متعلق تمہارا کیا گمان ہے ( اَبُو داؤد ، کتاب الوتر ، باب فی ثواب قراءة القرآن ، ۲/۱۰۰ ، حدیث : ۱۴۵۳ )

صرف اتنا ہی نہیں بلکہ حافظ قرآن کی سفارش کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے خاندان کے جہنم میں جانے والے دس افراد کو جنت میں داخل کرے گا ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے کہ جس نے قرآنِ مجید پڑھا اور اُسے حفظ کیا ، اُس کے حلال کو حلال جانا اور اُس کے حرام کو حرام جانا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُسے جنت میں داخل فرمائے گا اور اُس کے گھر والوں میں سے ایسے دس افراد کے حق میں اُس کی شفاعت قبول فرمائے گا ، جن پر جہنم واجب ہوچکی تھی ( ترمذی ، کتاب فضائل القرآن ، باب ما جاء فی فضل قاریٔ القرآن ، ۴ / ۴۱۴ ، حدیث :  ۲۹۱۴) .

یہ تو قیامت کے دن کا اجر ہے جہاں نہ کوئی باپ بیٹے کا مددگار ہوگا اور نہ کوئی ماں بیٹی کو ساتھ دے گی اور نہ ہی اس کے برعکس ہوگا ، اسی طرح اس دنیائے رنگ و بو میں بھی جب تک جس کی اولاد حافظ قرآن ہوگی ، مستقل والدین کو ان کے ایک ایک حرف پڑھنے کا اجر و ثواب ملے گا مزید وہ قابلِ عزت اور قابل احترام بھی ہوں گے اور ان کے گھر قرآن کی صداؤں سے ہمیشہ گونجتے رہیں گے ، خاص طور پر ان حالات میں تو ان کی اہمیت و افضلیت اور مقام و مرتبہ آشکارا ہوگئی ہے ، ہر انسان ان کی فضیلت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہے اور وہ والدین کف افسوس مل رہے ہیں ، جن کی اولاد حفظ قرآن کی دولت سے محروم ہے ، جنھوں نے دنیا کی ساری آسائشیں اور ڈگریاں تو دلوادیں لیکن حقیقی ڈگری اور نعمت سے دور رکھا اور ان کی زبانوں سے بے ساختہ یہ الفاظ جاری ہورہے ہیں کہ ” کاش میرے گھر میں بھی کوئی عالم یا حافظ ہوتا “

میری ہر والدین سے یہ گذارش ہے کہ اولاد اللہ کی بڑی امانت ہے، ان کی دینی بنیادوں پر تربیت کرنا ہمارا دینی فریضہ بھی ہے ، یاد رہے کہ اپنی ذات کے ساتھ یہ اولاد بھی ہماری دنیوی و اخروی نجات کا ذریعہ ہے ، اگر آپ نے اپنی اولاد میں کسی ایک کو دینی علوم سے آراستہ کیا اور عالم و حافظ بنایا تو زبان رسالت سے نکلی ہوئی بات سو فیصد یقینی ہی نہیں بلکہ ہمارا ایمان بھی ہے کہ دنیا میں بھی کامیابی ، سرفرازی ، عزت و بلندی نصیب ہوگی اور آخرت میں نجات و مغفرت اور جنت کی دائمی و ابدی زندگی مقدر ہوگی ، اب بھی وقت ہے ، ابھی سے یہ عزم مصمم کیجئے کہ جیسے ہی حالات درست ہوجائیں ( اللہ تعالیٰ اس وبا کو جلد ختم فرما کر بہتر حالات عطا فرمائے ) تو ہم اپنی اولاد میں سے کسی کو ضرور عالم دین اور حافظ قرآن بنائیں گے .

موصوف کی عربی تالیف کے تعارف کے لئے کلک کریں

نوٹ : امژو زون ویب سائٹ کے تمام ناخدا قارئین سے درخواست ہے کہ اگر کوئی ہمارے ویب سائٹ کے لنک گروپ میں شامل ہونا چاہے تو وہ اپنا واٹساپ نمبر ، اپنا اور اپنے والد و خاندان کے نام کے ساتھ اپنے محلہ اور گاؤں کا نام درج ذیل واتساپ نمبر پر بھیج سکتا ہے . جس پر آپ کو ہر نئے پوسٹ کی لنک ارسال کی جاتی رہے گی .

ثناءاللہ فردوس نگر تینگن گنڈی

96892020775+

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here