شبِ قدر کی فضیلت و اہمیت

    0
    81

    از : عبدالقادر فیضان بن اسماعیل باقوی ، جامعہ آبادی ، بھٹکلی ، امام و خطیب جامع البر والتقوىٰ ، ابو ظبی ، متحدہ عرب امارات .

    کتبه : 21/رمضان المبارک 1442ھ بموافق 3/اپریل2021 ء

    الحمد لله الذی رفع المساجد ، وجعلھا محلا لعبادته وذکرہ ، والصلوة والسلام على سيدنا محمد ، وعلی آله وصحبه . أما بعد !

    لیلةالقدر یعنی شبِ قدر سال کی تمام راتوں سے افضل ہے ، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اس قول ” بیشک ہم نے اس ( قرآن ) کو شب قدر میں اتارا “. سےاستدلال کرتے ہوئے ، یا اللہ تبارک وتعالیٰ کے پوری سورہ قدر کو اس کی فضیلت میں اتارنے سے استدلال کرتے ہوئے ، ارشاد ربانی ہے ” بیشک ہم نے اس کو شب قدر میں اتارا ، اور تو کیا جانے کہ شب قدر کیا ہے ؟ شب قدر ہزار ماہ ( یعنی نماز ، تلاوت ، کثرت دعا ، اور ذکر کرنے کے ذریعہ عمل کرنے ) سے بہتر ہے ، فرشتے اور روح ( جبرئیل ) اس میں اپنے پروردگار کی اجازت سے ہر معاملہ کو لیکر اترتے ہیں ، یہ فجر کے طلوع ہونے تک سلامت رہتی ہے “. { سورۃ القدر }

    یہ اتنی با برکت ، عظیم المرتبت والی رات ہے کہ اس مبارک شب میں عبادت میں مشغول رہنا ایسے ہزار مہینوں کی عبادت میں مشغول رہنے سے افضل ہے جس میں شب قدر نہ ہو . اس بابرکت شب کی فضیلت میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و سلم کی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا! ” جس شخص نے شب قدر میں ایمان رکھتے ہوئے ( یعنی اس بات کو سچ جانتے ہوئے کہ یہ شب حق واطاعت والی ہے ، اور اللہ تعالٰی کے پاس اس کے ثواب کو ) سمجھتے ہوئے ( نماز کیلئے ) قیام کیا ، تو اس کے اگلے گناہ معاف کر دئیے جائینگے “. { بخاری ، مسلم } ایک روایت میں ” اور پچھلے ” گناہ بھی آیا ہے .

    شب قدر کے ثواب کا ایک بڑا حصہ حاصل کرنے کے لیے کم از کم مغرب اور عشاء کی نماز وں کا باجماعت ادا کرنا ضروری ہے ۔جیسا کہ امام بیہقی کی روایت کردہ حدیث میں آتا ہے ” جس نے مغرب اور عشاء کی نماز یں جماعت میں ادا کیں تو اس نے شب قدر کے ایک بڑے ( وسیع ) حصہ کو پایا “. ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ” جس نے رمضان میں اخری عشاء ( یعنی نماز عشاء ، اور مغرب اول عشاء کہلاتی ہے ) جماعت سے ادا کی ، تو اس نے شب قدر کو پایا “. { بیہقی } ایک اور حدیث میں اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم نے فرمایا! ” جس نے عشاء کو باجماعت ادا کیا ، تو گویا اس نے آدھی رات کی نمازیں ادا کیں ، اور جس نے صبح کو جماعت میں ادا کیا ، تو گویا اس نے پوری رات نمازیں ادا کیں “. [ اس حدیث کو عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کیا ہے ]

    چونکہ شب قدر ماہ رمضان المبارک ہی میں واقع ہوتی ہے ، اور خصوصاً اس کے آخری عشرہ میں ، تو اس عشرہ میں شب قدر کا ثواب پانے کے لئے انتھک محنت کرنے کی ضرورت ہے ، اور آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اول ، اوسط اور آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے ، اور اس میں وفات پانے تک اعتکاف کرنے کی پابندی کرنے کی حکمت ہی یہی ہے کہ اس باعظمت رات کے ثواب کو پایا جائے ، جیسا کہ اس کڑی محنت کے سلسلہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کردہ حدیث ہے ، کہتی ہیں ” جب آخری عشرہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنی تہبند کو مضبوط کرتے ، اپنی رات کو زندہ رکھتے ، اور اپنے رشتہ داروں کو جگاتے “. { بخاری ، مسلم } اپنے تہبند کو باندھنے یا مضبوط کرنے سے مراد عورتوں سے دور رہنا اور ہمت ، نشاط اور سختی سے عبادت میں لگ جانا ہے . انھیں سے روایت کردہ ایک حدیث میں ہے کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اواخر عشرہ میں وہ محنت فرماتے جو اس کے علاوہ ( دنوں ، اور عشرہ ) میں نہیں فرماتے “. { مسلم }

    دوسری قسط

    شبِ قدر کے متعلق علمائے کرام کی مختلف آراء ہیں :
    بعض علمائے عظام کہتے ہیں کہ یہ اکیسویں رمضان ( یعنی بیسویں روزہ کے دن آفتاب غروب ہونے کے بعد ) کی شب میں واقع ہوتی ہے ، بعض علمائے عظام کی رائے میں تیئیسویں میں ، بعضوں کے نزدیک پچیسویں میں ، اور دیگر بعض علمائے عظام کے نزدیک شب قدر ستائیسویں شب میں واقع ہوتی ہے ۔

    بھلے ہی ان علمائے کرام کے درمیان مذکورہ دنوں میں سے کسی رات میں یا پورے سال کی کسی رات میں اس کے واقع ہونے کے سلسلہ میں اختلاف ہو ، لیکن ان ( میں سے اکثرین ) کے درمیان اس بات میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں کہ یہ رمضان المبارک ہی میں اور اس کے بھی آخری عشرہ ہی میں واقع ہوتی ہے ، ( سوائے چند علماء کے جو کہتے ہیں کہ یہ لیلۂِ مبارکہ رمضان المبارک کے علاوہ بھی کسی دوسرے اوقات میں واقع ہوسکتی ہے ) نیچے آنے والی سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ صحیح حدیث سے استدلال کیا گیا ہے ، حدیث کا آخری حصہ ہے ، میں نے پوچھا! یہ عشرۂِ اول یا اوسط یا آخر میں ہوگی؟ فرمایا! ” یہ آخر میں ہوگی “.

    سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی ایک حدیث وارد ہوئی ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اس کو اواخر میں تلاش کرو ، اور ہر وتر ( طاق رات ) میں اس کو تلاش کرو “.

    سیدنا امامنا شافعی رحمہ اللہ کا میلان اکیسویں اور تیئیسویں شب میں رہا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خواب میں اس کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق رات ہی میں دیکھا تھا ، اور یہ بھی ( دیکھا تھا ) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس رات کی صبح پانی اور مٹی میں سجدہ فرمارہے ہیں ، اور ( جس رات میں آپ نے یہ خواب دیکھا تھا ) یہ اکیسویں شب تھی ، جیسا کہ صحیحین کی حدیث میں ہے ، یا تئیسویں ( رات تھی ) جیسا کہ مسلم کے یہ الفاظِ حدیث ہیں ” مجھے یہ رات طاق رات میں دکھائی گئی ، اور یہ ( دکھایا گیا ) کہ میں اس کی صبح پانی اور مٹی میں سجدہ کررہا ہوں “. پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( راوی ابوسعید کے الفاظ ہیں ) اکیسویں صبح اس حالت میں کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( نمازِ ) صبح کیلیے کھڑے ہوگئے تو آسمان برسنے لگا .

    ایک روایت میں آتا ہے ، ” حالانکہ اس وقت آسمان میں ہم بادل کا ایک ٹکڑا نہیں دیکھ رہے تھے ، مسجد ٹپکنے لگی “.

    ایک اور روایت میں ، ” مسجد کھجور کے پتوں کی تھی ، اور نماز قائم کی گئی ” آیا ہے . اور میں ( راوی ) نے مٹی اور پانی کو دیکھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز صبح سے نکلے تو اس حالت میں کہ آپ کی پیشانی اور ناک کے دونوں کناروں میں ( پر ) مٹی اور پانی کا اثر تھا ، اور یہ اکیسویں شب تھی .

    یہاں پر ان دونوں راتوں کے سلسلہ میں شب قدر کا استدلال کرنے کی توجیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کا اپنے خواب میں شب قدر دیکھنا ، اور آپ کا اس میں مٹی اور پانی میں سجدہ کرنا ، پھر اسی حالت میں صحابۂِ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کو نمازِ ( صبح ) پڑھانا ہے جس حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کو خواب میں دیکھا تھا ، اس سے معلوم ہوا کہ ان دونوں راتوں میں سے کوئی ایک رات شب قدر کی تھی ، اور انبیاء کرام علیھم الصلوۃ والسلام کے خواب تو سچ ہوا کرتے ہیں ، مزید یہ کہ وہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب ہو ؟

    شب قدر کے سلسلہ میں مذکورہ اقوال کے علاوہ بھی بہت سارے علمائے کرام کے مختلف اقوال ہیں ، جن میں سے چند ہم ذیل میں دے رہے ہیں : کہا گیا کہ یہ پورے رمضان میں سے کسی ایک رات میں واقع ہوتی ہے ۔ ایک قول میں پورے سال کی کسی رات میں ، ایک قول میں خاص رمضان ہی ( کی شب ) میں . ایک قول میں رمضان کے درمیانی عشرہ میں ۔ ایک قول میں آخری عشرہ کی کسی وتر شب میں ، ( جو معتمد اور معتبر ترین قول ہے ) . ایک قول میں تیئیسویں یا ستائیسویں شب میں ، یہی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول ہے ۔ اور ایک قول میں چوبیسویں شب میں شبِ قدر واقع ہوتی ہے .

    شب قدر کے اکیسویں یا تیئیسویں شب میں واقع ہونے کے امکانات پر چند احادیث پیش خدمت ہیں :

    امام مسلم نے سیدنا عبداللہ بن اُنَيْس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” مجھے شب قدر دکھائی گئی پھر بُھلائی گئی ، اور مجھے اس کی صبح میں دکھایا گیا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کررہا ہوں ، پس تیئیسویں شب میں ہم بارش برسائے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں ( نماز سے ) پلٹے کہ مٹی اور پانی کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( مبارک ) پیشانی اور بینئ ( مبارک ) پر نظر آرہا تھا “.

    انہی سے روایت کردہ ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ، میں گاؤں میں رہتا ہوں اور انہیں ( گاؤں والوں کو ) نماز پڑھاتا ہوں ، آپ مجھے اس ماہ کی ایسی تین راتیں بتا دیجئے گا جن میں میں مسجد میں آکر اس میں نماز پڑھوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” تیئیسویں رات میں “. { مسلم ، احمد }

    تیسری اور آخری قسط

    شبِ قدر کے تعلق سے امام شافعی رحمہ اللہ کا میلان ورجحان اکیسویں اور تیئیسویں شب کی طرف رہا ہے ، کہتے ہیں! زیادہ مشابہت ( مماثلت ) یہی ہے کہ یہ اکیسویں یا تیئیسویں شب ہی میں واقع ہوتی ہے .
    آپ نے اس کے لیے درجِ ذیل حدیثوں سے استدلال کیا ہے .

    نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! ” مجھے یہ رات دکھائی گئی ، میں تمہیں بتانے کیلیے نکل پڑا ، تب میں نے دیکھا کہ دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں ، پس میں اس ( شب ) کو بھلایا گیا ، اور اس کی صبح میں دیکھ رہا ہوں کہ میں مٹی اور پانی میں سجدہ کررہا ہوں “.

    سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ! ” میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیسویں کی صبح میں اس حال میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ ( ء مبارک ) پر پانی کا اثر تھا “. ابوسعید کہتے ہیں اور مسجد چھت پر تھی ( یعنی مسجد کی چھت کھجور کے پتوں پر تھی ) سو مسجد ٹپکنے لگی .

    اسی معنی کی ایک اور حدیث سیدنا عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، اس میں ہے ، ” میں نکل پڑا ، تاکہ تم لوگوں کو شب قدر کی خبر دوں ، تو ( اس دوران ) فلاں فلاں ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے ، تب وہ مجھ سے اٹھا ئی گئی ، قریب ( ہوسکتا ) ہے کہ یہ تمہارے لیے بہتر ہو “.

    تو امام شافعی رحمہ اللہ نے ان احادیث کو لیتے ہوئے اکیسویں شب میں شبِ قدر کے واقع ہونے کے سلسلہ میں استدلال کیا ہے . ایک دوسری جگہ میں آپ رحمہ اللہ نے کہا ! یہ تیئیسویں شب میں واقع ہوتی ہے . ان دونوں راتوں میں شب قدر کے واقع ہونے کے احتمال ( امکان ) کے ساتھ آپ نے ستائیسویں شب میں واقع ہونے کے تعلق سے بھی کہا ہے . محشیانِ تہذیب کہتے ہیں! اور یہی مذہب مشہور ہے . { چ/3 ، ص/205 } جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو انتیسویں،ستائیسویں اور پچیسویں رات میں بھی تلاش کرنے کا حکم دیا ہے “.

    اور مسلم کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث میں ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو باقی ( عشرہ ) میں تلاش کرنے کا حکم دیا ہے “. اسی طرح ابوہریرہ،عبادہ بن صامت،عبداللہ بن عباس،عبداللہ بن عمراور جابر بن عبداللہ وغیرہم صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی احادیث میں شب قدر کا رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں واقع ہونا ثابت ہے .

    دوجلیل امام: ابوبکر محمد بن اسحاق اور مزنی ، اور اسی طرح ابن خزیمہ نے احادیث کے درمیان جمع کرتے ہوئے کہا! یہ رات ( رمضان کے آخری ) عشرہ میں ہر سال منتقل ہوتی رہتی ہے ، ایک سال ایک تاریخ میں ، اور دوسرے سال دوسری تاریخ میں ، اور یہی ( قول ) ظاہر اور مختار ہے . ( کیونکہ احادیث میں اس رات کا اکیسویں ، تئیسویں ، چوبیسویں ، پچیسویں اور ستائیسویں وغیرہ میں واقع ہونا آیا ہے ، ایسے میں اگر کسی ایک ہی رات کا تعین کیا جائے تو دوسری احادیث اس کے معارض ہوں گیں ) اس رات کے واقع ہونے کے سلسلہ میں احادیث کا ایک دوسرے سے اس طرح مخالف ہونے کی وجہ سے کہ جس کے منتقل ہونے پر ہی ان احادیث کے درمیان جمع کرنے کا بہترین طریقہ نکل آتا ہے . روضہ میں کہا! یہی مذہب قوی ہے .

    ائمہ میں سے مالک ، ثوری ، احمد ، اسحق اور ابوثور وغیرہم رحمہم اللہ کے یہی اقوال ہیں ، انہوں نےکہا! یہ رات رمضان کے آخری عشرہ میں ہر سال منتقل ہوتی رہتی ہے .

    اُبَيّ بن کعب اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے حکایت کی گئی ہے کہ یہ ستائیسویں میں واقع ہوتی ہے . ( الاقناع فی حل الفاظ ابی شجاع میں خطیب شربینی لکھتے ہیں! یہی اکثر اہلِ علم کا مذہب ہے ، اور اس میں تقریبا تیس اقوال ہیں ) . { ج/3 ، ص/162 } یہی عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے ) . { بجیرمی ، ج/3 ، ص/162 } یہی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے ، انہوں نے اس کے لیے مندرجہ ذیل احادیث سے استدلال کیا ہے .

    سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنھما سے امام احمد نے اسنادِصحیح سے حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” جو اس کو طلب کرنے کے سلسلہ میں اجتہاد کرے ، تو چاہیے کہ وہ ستائیسویں شب میں اجتہاد کرے”. { احمد }

    سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث ہے، ” وہ قسم کھا کر کہتے ہیں! میں اس رات کو جانتا ہوں ، جس رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قیام کرنے کا حکم دیا تھا وہ ستائیسویں کی رات ہے ، اور اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی صبح میں آفتاب ایسا سفید ( کم روشن ) ہو کر نکلتا ہے کہ اس میں شعاعیں نہیں رہتیں . { احمد مسلم ، ابوداؤد ، ترمذی اور اِنہوں نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے }

    ان علامات کا بیان جن سے شب قدر کے واقع ہونے کو پہچانا جاتا ہے

    شب قدر کے واقع ہونے کی صفت اور اس کی علامت یہ ہے کہ یہ رات معتدل ہوتی ہے ، زیادہ گرم اور نہ ہی زیادہ سرد ، اور اس کی صبح ، آفتاب اس طرح سفید ( قدرے بے نور ) طلوع ہوتا ہے کہ اس کی زیادہ شعائیں نہیں ہوتیں ، اور اس کی حکمت یہ ہے کہ یہ اس کی علامت تصور کی جاتی ہے ، یا اسوجہ سے کہ چونکہ ( اس ) رات میں بہت سارے فرشتے اترتے چڑھتے رہتے ہیں اور سورج کی روشنی ان کے نور بھرے اجسامِ لطیف پر پڑتی ہے لہذا یہ اجسام سورج کی شعاعوں کو چھپاتے ہیں جس کی وجہ سے آفتاب کی کرنیں ماند پڑتی ہیں .

    اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس عظیم المرتبت والی شب کے گذرنے کے بعد بھی اس کی صفت کو پہچاننے کا کیا فائدہ ؟

    اس کا جواب یہ ہے کہ اس عظیم اور اپنے اندر بےحساب ثواب رکھنے والی شب کے گذرنے کے بعد بھی اس کی صفت کو پہچاننے کا فائدہ یہ ہے کہ اس رات کی عبادت میں جس طرح اس نے اجتہاد اور محنت کی تھی اسی طرح اس کے دن میں بھی اجتہاد کرنا سنت ہے . { تحفہ ، ج/1 ، ص/553 ، نہایہ ، ج/3 ، ص/215 }

    اس رات میں کثرت سے نمازیں پڑھنا ، دعائیں کرنا ، تلاوتِ قرآن کرنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کی کثرت کرنا سنت ہے . سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ متفق علیہ حدیث سے استدلال کرتے ہوئے ، کہتے ہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” جو شخص شبِ قدر میں ایمان رکھتے ہوئے ( یعنی شب قدر کو تصدیق کرتے ہوئے ) اور ( اللہ تعالی کے پاس اس کے ) ثواب کو سمجھتے ہوئے قیام کریگا تو اس کے اگلے گناہوں کی مغفرت کی جائیگی “. { مالک ، بخاری ، مسلم } . اور کثرت سے سیدہ عائشہ رضی عنھا کی حدیث میں وارد شدہ دعا کا کرنا مستحب ہے ، انہوں نے کہا! یارسول اللہ [ صلی اللہ علیہ وسلم ] مجھے بتائییگا کہ اگر میں لیلة القدر کے موافق ہوجاؤں تو کون سی دعا کروں؟ فرمایا! تم ” اَللَّهُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ “. اے اللہ! بیشک تو معاف کرنے والا ہے. ،معافی کو پسند کرتا ہے ، میری بخشش فرما۔ کہوگی . { احمد ، ابن ماجہ ، ترمذی ، اور اِنہوں نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے }

    اور طلوعِ فجر تک عبادت کے ذریعہ اس شب کو زندہ رکھنا بھی مستحب ہے ، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا! ” سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَقْرِ “. یہ طلوع فجر تک سلامت رہتی ہے . اس کا معنی یہ ہے کہ یہ رات غروب آفتاب سے طلوع فجر تک سلام ہی سلام ہے . { حاشیۂ تہذیب ،ج/3 ، ص/206 }

    اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس عظیم المرتبت اور بابرکت رات میں خوب عبادات کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اور اپنی خاص رحمات ، برکات نوازشات اور تجلیات سے ہمیں خوب نوازے . وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین ، وما علینا الا البلاغ المبین .

    اظہارخیال کریں

    Please enter your comment!
    Please enter your name here