معراج میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا اللہ کو سلام کرنے کا انداز اور ان سلامی کلمات کی فضیلت

0
869

الحمد لله ، والصلوة والسلام علی رسول الله ومن والاہ .

ایک روایت میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج میں سدرة المنتہیٰ کو پار کیا تو ایک نورانی بادل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھانپ لیا جس کے ( مختلف ) رنگ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا ، حضرت جبرئیل امین علیہ الصلوۃ والسلام وہیں ٹہر گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہاں سے آگے سفر نہیں کر سکے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا! کیا آپ مجھے اس جگہ تنہا چھوڑیں گےاور یہاں سے میں اکیلا ہی راہئِ سفر ہونگا ؟ حضرت جبرئیل نے عرض کیا ، ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک مقام متعین ہے ، رسول اللہ نے حضرت جبرئیل امین علیھما الصلوۃ والسلام سےاصرار کیا کہ میرے ساتھ کم از کم ایک قدم ہی چلو ، تو حضرت جبرئیل امین علیہ الصلوۃ والسلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک قدم آگے بڑھے ، قریب تھا کہ نور ، جلال اور ہیبتِ خدا سے حضرت جبرئیل امین علیہ الصلوۃ والسلام جل کر راکھ ہوجاتے ، اس کے باجود آپ علیہ الصلوۃ والسلام کا جسم اطہر حیرت انگیز طور پر پگھل کر ایک چڑیا کے برابر ہو گیا ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تنہا ہی منزل مقصود کی طرف راہی ہوئے .

جاتے وقت حضرت جبرئیل امین علیہ الصلوۃ والسلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اشارتًا کہا کہ جب بارگاہِ رب ذوالجلال کے مقام خطاب تک پہونچ جائیں تو اپنے پروردگار کو سلام پیش فرمائیں ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ خطاب تک پہونچے تو ” التحیات المبارکات الصلوت الطیبات للہ کہا ” پروردگار نے جواب میں فرمایا! ” السلام علیك ایھا النبی ورحمة الله وبركاته ” تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ اس مقام کے نصیب ہونے سے وہ اللہ کے صالحین بندوں میں سے ہو جائیں ، توکہا! ” السلام علینا وعلی عباداللہ الصالحین ” اس پر تمام اہلیانِ سماء نے کہا! ” اشھد ان لااله الا الله واشھد ان محمدا رسول الله “.

فائدہ : حضرت امام فنشی رحمہ اللہ نے شرح الاربعین میں ذکر کیا ہے کہ جنت میں ایک درخت کا نام ” التحیات ” ہے ، اور اس پر بیٹھنے والے ایک پرندہ کا نام ” مبارکات ” ، اس درخت کے نیچے ایک چشمہ ہے جس کا نام ” الطیبات ” ہے . بندہ جب ان الفاظ کو ہر نماز میں کہتا ہے تو وہ پرندہ درخت سے اتر کر اس چشمہ میں غوطہ زن ہوتا ہے ، پھر اس چشمہ سے اپنے پر جھاڑتے ہوئے نکلتا ہے تو اس کے پَر پہ رہنے والا پورا پانی قطرے بن کر ٹپکتا ہے ، اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس کے ہر قطرہ سے ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جو مصلی کے لئے روز قیامت تک استغفار کرتا رہے گا .

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here