لباس کا اسلامی تصور

0
2007

از : محمد زبیر ندوی شیروری

لباس اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اورانسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک بنیادی ضرورت ہےجس کا مقصد انسان کی زیب وزینت ، ستر پوشی ، شرم و حیا کی حفاظت اور سردی گرمی سے بچاؤ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ يَا بَنِي آدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ  لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ﴿26﴾  اے آدم [علیہ السلام] کی اوﻻد ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہاری شرم گاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے ۔ اور تقوے کا لباس ، یہ اس سے بڑھ کر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ یہ لوگ یاد رکھیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ لباس کا بنیادی تصور ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے پھرجیسے جیسے انسانی تہذیب و تمدن ترقی کرتی گئی انسان کا لباس بھی تبدیل ہوتا گیا،ابتداءًا انسان اپنی ستر پوشی درخت کے بڑے پتوں اس کی چھالوں اورجانوروں کی کھالوں وغیرہ سے کرتا تھا۔غرض یہ کہ جیسے جیسے انسانی تہذیب ترقی کرتی گئی انسان کا طرز زندگی بھی بدلتا گیا،لیکن سترپوشی کا تصور ہر دور میں کسی نہ کسی دائرہ میں برقرار رہا ۔

دنیا میں اسلام ہی ایک ایسا نظام حیات ہے جو انسان کواس کی زندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائی عطا کرتا ہے لہذا اس نے ہمیں دیگر تعلیمات کی طرح لباس اور ستر پوشی کی بھی تعلیمات عطا فرمائی ۔ لہذا ہمیں بحیثیت مسلمان ان تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اس کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ اگر ہم نے ان تعلیمات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش نہیں کی تو ہماری آئندہ آنے والی نئی نسلوں سے لباس کا صحیح اسلامی تصور نکل جائیگا ۔ لہذا ہمیں ان اسباب پر گہری نظر رکھنی ہوگی جواسلامی لباس کے تصورکو ختم کرنے کا محرک بن رہے ہیں ۔ اگر ہم اس ناحیہ سے دنیا کا ایک سرسری جائزہ لیں تو اس کے کئی ایک محرکات ہمارے سامنے آلیں گے منجملہ ان میں سے ایک الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ہے جو فیشن کے نام پرغیر اسلامی لباس کا پرچار کر رہی ہے اور ہماری نئی نسل کو اپنی لپیٹ میں لے کر اسلامی ستر پوشی کے مقاصد کو ختم کرنے پر ہمہ تن سرگرم عمل ہے اسی طرح مردانہ و زنانہ لباسوں کے چھوٹے اور بڑے ڈیزائن پرمشتمل ہندوستانی جرائد ہیں اور وہ مغربی افکار ہیں جن کوسیریلوں . روزنامہ اخبارات اور ہفتہ واری و ماہانہ جرائد کے ذریعہ پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

لہذا ہمیں اپنی اولاد کواس فتنہ سے بچانے کے لئے بلوغت سے قبل ہی ساترلباس پہنانے کا اہتمام کرنا ہوگا بعض والدین کا خیال ہوتا ہے کہ بلوغت سے قبل لڑکیوں کا نیم عریاں لباس پہننا گناہ نہیں،یہ تصور بالکل غلط ہے . نابالغ لڑکیوں کو غیر ساتر، نیم عریاں اور تنگ لباس یا پتلون شرٹ پہننانے والے والدین نہ صرف خود گنہگار ہیں بلکہ اپنی اولاد کا و ان کی فطری شرم و حیا سے محروم کرنے کا وبال بھی اپنے سر لے رہے ہیں ۔ جب نابالغ بچیاں عریاں اور غیر ساتر لباس پہن کر فطری شرم و حیا سے محروم ہو جائیں گی تو بلوغت کی عمر میں تنگ اور مختصر لباس میں انھیں شرم و حیا کیونکر محسوس ہوگی؟اسی طرح ایسا لباس جو فاسق و فاجر قسم کے لوگ پہنتے ہوں اور وہ ان کی شناخت کے طور پر معروف ہو چکا ہو تو اسے بھی بچوں کو پہننانے سے اعراض کیا جائے تاکہ بچے کسی فتنے کا شکار نہ ہوں۔

ایک عرصہ قبل کٹے پھٹے یا پیوند لگے کپڑے پہننا عارسمجھا جاتا تھا اور ایسے لباس کومعیوب تصور کیا جاتا تھا۔اب صورت حال یہ ہے کہ فیکٹریوں میں ہی ایسے لباس تیار کئے جا رہے ہیں اور انھیں تیار کرنے والے کو فنکار اور کاریگر سمجھا جارہا ہے اور ہمارے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اور بچوں کے سرپرستان مہنگے داموں میں انھیں خرید رہے ہیں حالانکہ کسی پتلون کے پہنچوں کے درمیان پیوند لگے ہوتے ہیں.کسی کے اوپر اور کسی کے نیچے۔کسی پتلون کے پہنچوں پر ویسے ہی کٹے پھٹے کپڑے جوڑنے کی طرز پر الٹی سیدھی سلائیاں لگی ہوتی ہیں۔پتلون کی پچھلی جیبوں پر عجیب و غریب اور مضحکہ خیز سٹیکرز،تحریریں، شکلیں یا سلائیاں لگی ہوتی ہیں۔ایسے مضحکہ خیز لباسوں کا المناک پہلو یہ ہے کہ اول تو بے دین اور روشن خیال طبقہ یہود و ہنود کی پیروی میں ایسے فیشن تیار کرتا ہے،پھر آہستہ آہستہ پڑھا لکھا اور دیندار طبقہ بھی اس فیشن میں مبتلا ہو جاتا ہے اسی طرح تصاویرسے مزین شدہ لباس پہننا عام بات ہے جہاں تک جاندار اشیاء کی تصاویر کا تعلق ہے،وہ خواہ لباس پر ہوں یا کسی اور چیز پر،اس کی حرمت میں قطعاً کوئی شک نہیں۔ایسا لباس پہننے والا گناہ گار اور اللہ کی رحمت سے محروم ہے۔ البتہ بے جان اشیاء ، مثلاً سائیکل ، میز، کرسی، عمارت یا درخت کی تصاویرممنوع نہیں ہیں لیکن ایسی چیزوں کی تصاویر انسانی عزو شرف اور وقاروسنجیدگی کے منافی ہیں۔ بعض لوگ بچوں کے لیے ایسا لباس خریدتے ہیں جن پرموذی جانوروں کی تصاویر بنی ہوتی ہیں جو رحمتِ الٰہی سے دوری کا سبب بنتا ہے نبی کافرمان ہے ‘‘ لَا تَدْخُلُ الْمَلٰئِکَۃُ بَیْتًا فِیہِ کَلْبٌ وَّ لَا صُورَۃٌ‘ ’’ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ (صحیح البخاري ، حدیث 3322) کبھی لباس پرمعمولی سا نشان یا دھبہ ، عیب اور نقص سمجھا جاتا تھا،مگر اب اس قدر تیزی سے تبدیلی آئی ہے کہ جو چیز کل تک مکروہ اور ناپسندیدہ تھی ،وہی آج حسن وجمال کا سبب بنی ہوئی ہے آج صورتِ حال یہ ہے کہ کپڑوں پرانگریزی ، ہندی ، لاطینی اوراردو زبان میں رنگ برنگی، الٹی سیدھی ، عجیب وغریب اورمضحکہ خیز تحریریں لکھی ہوتی ہیں جن میں سے بعض تحریروں کا مطلب تک معلوم نہیں ہوتا اور لوگ بڑے شوق سے مہنگے داموں انھیں خرید کر خود بھی پہنتے ہیں اور بچوں کو بھی پہناتے ہیں کیا معلوم کہ اس پر جو عبارت مرقوم ہے وہ شرکیہ ہو؟ یا ایسے بادشاہوں کے ناموں کی ہوجنھوں نے مسلمانوں پر ظلم ڈھائےہوں یا دشمنان اسلام کی ہوں یا کسی دیوی دیوتا کے نام کی ہوں.
لباس کی اسلامی تعلیمات میں سے ایک اہم تعلیم لباس کو فاخرانہ اور متکبرانہ انداز سے پہننے میں احتیاط برتنا ہے کیونکہ اللہ کو تکبر سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے اور ایسے لوگوں کا ٹخنوں سے نچلا حصہ آتشِ دوزخ میں جلے گا.اسی لیے رسول اللہ سختی سے ایسا کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ حضرت ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ‘‘مَاأَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ مِنَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ ’’ ٹخنوں سے نیچے ازار کا جتنا حصہ ہوگا،اتنا جہنم کی آگ میں ہو گا۔ (صحیح البخاري، حدیث: 5787 ) اسی لئے اسلام نے تقوی کے لباس کو بہترین لباس قرار دیا ہے اور اس لباس کو پسند فرمایا جس سے عاجزی و انکساری اورزیب و زینت کا اظہار ہو ۔

شیطان ازل سے برابراسں کوشش میں لگا ہوا ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے ابن آدم پرحملے کرتا چلا آرہا ہے۔اس نے انسان سے حیا کی صفت چھیننے کے لیے ایک خفیہ اور پرفریب چال چلی۔اس نےانسان کا لباس اتروانے کی بجائے اسے ایسے فیشنوں سے متعارف کروایا جو اس کے مقاصد میں شامل تھا.ان فیشنوں کی وجہ سے لباس ستر پوشی کے بجائے برہنگی،زیب وزینت کی بجائے بد صورتی،اور تقویٰ کی بجائے تکبر کی علامت بن گیا.قرآن نے لباس کا بنیادی مقصد زیب و زینت کے ساتھ شرم وحیا کی حفاظت قرار دیا ہے لہذا جولباس اس مقصد کو پورا نہ کرے سرے سے وہ لباس ہی نہیں کیونکہ وہ لباس اپنا بنیادی مقصد پورا نہیں کر رہا ہے جس کے لئے وہ وضع کیا گیا.موجودہ دور کے فیشن نے لباس کو اس کے اصل مقصد کے ساتھ مردوں اور عورتوں کے لباس کی تمیز کو بھی مجروح کر دیا ہے.اور نیم عریاں لباس کے ذریعہ جنسی اشتعال انگیزی پیدا کر کے انسان کو زنا بالجبر، جنسی بے راہ روی ناجائز تعلق اور ہم جنس پرستی جیسے سنگین اورگھناونے جرائم پر مجبور کررہا ہے.

لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ کا ہر فرد اپنے آپ کو اور والدین اپنے بچوں کوغیر اسلامی تہذیبی یلغار سے حتی المقدور بچانے کی پوری کوشش کرے فساق و فجار کی وضع قطع اختیار کرنے سے روکے تا کہ بچے ان کے شر سے محفوظ رہ سکیں ۔ نیزلڑکوں کو ریشمی لباس نہ پہنائیں کیونکہ وہ مردوں کے لیے حرام ہے، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑےاحتیاط ضروری ہے.اسی طرح غیر شرعی چیزوں میں بچوں کے غیر مکلف اور معصوم ہونے کا بہانہ بنانے سے پرہیز کرنا چاہئے اور اس کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھ کر اس فریضہ کو انجام دینا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی اولاد یا ماتحت افراد ہی روز قیامت اس کی نیکیاں لے جائیں اور اس کا شمار امت کے مفلسین میں ہو۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور ہماری اولاد کو اسلامی احکامات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور دور جدید کے فتنوں سے ہم تماموں کو محفوظ رکھے ۔ آمین ۔

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here