جمعہ مسجد عبداللہ طلائی شیرور کے ایک ذمہ دار اللہ کو پیارے ہو گئے

0
992

بقلم : مولانا محمد زبیر ندوی شیروری

مؤرخہ 18/ربیع الثانی 1442 ہجری مطابق 4/ دسمبر 2020 ء عیسوی بروزجمعہ بعد نماز عصر محترم جناب الحاج عبد اللطیف صاحب بڈو اپنی عمر مستعار مکمل کرکے اپنے اہل خانہ ، پڑوسیوں ، دوست احباب اور متعلقین کو داغ مفارقت دے گئے . انا لله وانا الیه راجعون .

مرحوم بروز جمعہ بعد نماز عصر اپنے معمول کے مطابق دکان و کاروبار کے سلسلہ میں مصروف عمل تھے ، در ایں اثنا انھیں سینہ میں درد محسوس ہوا تو فی الفور اپنے فرزند رشید جناب اسماعیل صاحب سے کہا کہ مجھے سینہ میں تکلیف ہو رہی ہے ، چونکہ آپ کو اس کی شکایت کئی دنوں سے چل رہی تھی ، جس کا معائنہ بھی کیا جا چکا تھا مگر اس کی اسکیننگ باقی تھی . لہذا آپ کے فرزند نے بھٹکل لے جانے کے لئے اپنے والد محترم سے اجازت طلب کی . مگر آپ نے انکار کیا.اور فرمایا کہ ابھی مغرب کا وقت قریب ہے . اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ نماز کے پابند اور جماعت کا خاص خیال رکھنے والے تھے ، لہذا اس معاملہ کو اگلی صبح کے لئے ملتوی کر دیا گیا .پھر اسی طرح اپنی دکان بند کی اور رفتہ رفتہ گھر چلے گئے . ابھی گھر کی دہلیز کے باہر کرسی پر بیٹھے ہی تھے کہ اچانک کرسی سے گر گئے اور اسی وقت ان کی روح پرواز کر گئی .اللہ آپ کی بال بال مغفرت فرمائے . آمین .

اللہ نے مرحوم کو دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں عطا کی تھیں . منجملہ ان میں دو عالمیت کے اعزاز سے سرفراز ہو چکی ہیں اور ایک حفظ قرآن کا شرف حاصل کر چکی ہیں . اسی طرح فرزندان میں محترم جناب عبد الغنی صاحب بڈو جو فی الوقت سعودی عرب میں کسب معاش کی غرض سے مقیم ہیں . اور دوسرے فرزند محترم جناب اسماعیل صاحب بڈو جو مسجد عبد اللہ طلائی میں کئی سالوں سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں .

مرحوم نے اپنی زندگی کی کئی خوبصورت بہاریں دیکھی تھیں . آپ بفضل تعالیٰ اپنی زندگی میں اپنی پانچوں بیٹیوں اور دونوں فرزندان کی شادیاں کرا چکے تھے لہذا آپ کو اپنی اولاد اور پوتے پوتیوں کے ساتھ وقت بتانے کا ایک سنہرا موقعہ بھی نصیب ہوا

مرحوم نے جس طرح نیک و صالح زندگی گزاری تھی ٹھیک اسی طرح اپنے اہل خانہ کو بھی دینی و دنیوی تعلیمات کے ساتھ ساتھ حسن اخلاق سے آراستہ کیا تھا ، آپ نے اپنی اولاد کی تربیت دینی نہج پر کی تھی . آپ کی ایک خوش نصیبی یہ بھی تھی کہ اس نے آپ کو عمرہ کی سعادت سے بھی نوازا تھا .

آپ نماز کے پابند ، تلاوت قرآن کے عادی اور ملنسار تھے.ہر کسی سے مسکرا کر مزاحیہ انداز میں بات کرتے ، بچوں پر نہایت شفیق و مہربان تھے . آپ جماعت المسلمین جمعہ مسجد عبد اللہ طلائی شیرور میں نائب صدر اور مدرسہ مفتاح العلوم شیرور میں بحیثیت ذمہ دار اپنی خدمات انجام دے رہے تھے کیونکہ آپ کو مسجد و مدرسہ سے گہرا لگاؤ اور والہانہ محبت تھی .

آپ شیرور کی قدیم شخصیات میں سے ایک تھے . آپ کو مسجد میں مصلیوں کی تعداد کو بڑھانے کی فکر دامن گیر رہتی اسی طرح آپ مدرسہ کی ترقی کے لئے بھی کوشاں رہتے تھے. جب آپ اساتذہ سے گفتگو کرتے تو اکثر و بیشتر مسجد و مدرسہ کے تعلق سے ہی باتیں کرتے .آپ بحیثیت ایک ذمہ دار ، مسجد و مدرسہ کے ابتدائی ایام سے ہی اپنی خدمات انجام دیتے آرہے تھے .

مرحوم کی نماز جنازہ بعد نماز ظہر جماعت المسلمین عبد اللہ طلائی کی جمعہ مسجد عبداللہ طلائی میں ہی ادا کی گئی اور تدفین اسی وقت عمل میں آئی . نماز جنازہ اور تدفین میں عوام الناس کا جم غفیر قابل دید تھا . مسجد مصلیوں سے بھری تھی اسی طرح قبرستان بھی عوام الناس سے بھرا ہوا تھا ، جن میں مرحوم کے متعلقین اور چاہنے والوں کی ایک کثیر تعداد تھی .

الحمد للہ لوگوں نے یکے بعد دیگرے میت کی قبر پر مٹی ڈالی اور مرحوم کے حق میں مغفرت کی فرما کر اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹے .

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے اور ان کے سیئات کو حسنات میں مبدل فرمائے . آمین .

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here