مطالعہ کی اہمیت ، افادیت و ضرورت

0
6886

رشحات قلم : محمد زبیر ندوی شیروری

تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس نے انسان کو علم کے حصول کا حکم دیا . اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اپنا سب سے پہلا پیغام انسانیت کے نام بھی یہی بھیجا اور ارشاد فرمایا ! ” اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ہ “ پڑھ اپنے اس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا” مطالعہ ” عربی زبان کا ایک لفظ ہے جس کے معنی کسی چیز کو اس کی واقفیت کی غرض سے غور ، توجہ اور دھیان سے دیکھنے اور بغور کتب بینی کے آتے ہیں لیکن عامی لوگ کسی کتاب کے سرسری طور پر پڑھنے کو بھی مطالعہ سے تعبیر کرتے ہیں .

بہرکیف ہر فرد بشر اس بات کا قائل ہے کہ مطالعہ سے علم میں اضافہ ہوتا ہے . اس لئے کہ یہ ایک ایسا واقف کار ہے جو جھوٹ اور منافقت سے آپ سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرتا اور ایک ایسا دوست ہے جو آپ کو کبھی برائی کے راستہ میں نہیں ڈھکیلتا اور نہ ہی آپ کو اکتاہٹ میں ڈالتا ہے بشرطیکہ منتخب شدہ کتاب مناسب ہو اور فحش لٹریچر اور بد اخلاقی پر ابھارنے والی نہ ہو .

کتابوں کے پڑھنے اور ورق گردانی کے بہت سارے فوائد ہیں . مطالعہ انسان سے غم اور بے چینی کو دور کرتا ہے اور اس کو وقت کے ضیاع ، فضولیات اور گناہ و نافرمانیوں سے بچاتا ہے . مطالعہ انسان پر سستی اور کاہلی کو غالب آنے نہیں دیتا اور اس کی تحریری صلاحیت کو تقویت پہنچاتا ہے اور اس کی تحریرات میں شگفتگی و شائستگی اور نکھار لاتا ہے . مطالعہ انسان کے ذہنی تناؤ کو ختم کر کے اس کو پر سکون بناتا ہے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو جلا بخشتا ہے . مطالعہ انسان کی ادراکی صلاحیت کو پروان چڑھا کر اس کے الفاظ کے ذخیرہ میں اضافہ کرتا ہے جن سے انسان کے تفکرات و تخیلات میں وسعت اور سوجھ بوجھ اور بصیرت کی صلاحیت کو ترقی ملتی ہے. مطالعہ انسان کو فصاحت و بلاغت کے مقام تک پہنچاتا ہے اور اس کو بلند خیالی و بصیرت کی صفت سے آراستہ کرتا ہے .

مطالعہ سے اذہان کھلتے ہیں .خیالات میں پاکیزگی آتی ہے اور معاملہ فہمی میں تیزی آتی ہے .انسان دوسروں کے خیالات سے مستفید ہوتا رہتا ہے .اور بلند پایہ مصنفین کا ذہنی طور پر ہمسفر بن جاتا ہے . مطالعہ انسان کو ذلت و تنزلی کا شکار ہونے سے بچاتا ہے اور عظیم المرتبت شخصیت بنا دیتا ہے .

قرآن کی سب سے پہلی وحی کا آغاز ہی لفظ ” اقرأ “ سے ہوتا ہے.جس میں تعلیم کی اہمیت اور کامیابی کا بہترین راز پنہاں ہے . اگر تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے مسلمانوں میں لکھنے کا ذوق پیدا کر لیا تھا جو مذہب کے پس منظر میں پیدا ہو کر علم کی تمام شاخوں تک پھیلتا گیا . جس کے نتیجہ میں مسلمانوں نے کئی سال تک حکمرانی کی . لیکن مسلمانوں کا زوال اس وقت شروع ہوا جب اسپین میں مسلمانوں کے علمی ذخیروں کو یا تو جلا دیا گیا یا پھر مسلمانوں کی شکست کے بعد عیسائیوں کے ہاتھ لگ گئے . پھرجب یہی کتابیں یورپ پہنچیں تو آنے والے دنوں میں وہ حکمران بن گئے . آج بھی اگر ہم ترقی کی راہ پر قدم رکھنا چاہتے ہیں تو اس کا ایک اہم ذریعہ یہ بھی ہے کہ لوگوں میں پڑھنے لکھنے اور اس کو محفوظ رکھنے کا شوق پیدا کرنے کی کوشش کی جائے .

جس معاشرہ سے مطالعہ کا ذوق اور عادت ختم ہو جائے وہاں علم کی پیداوار بھی ختم ہو جاتی ہے . جس قوم میں علم نہ ہو اس کا انجام مغلوبیت کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا .

اگر ہم ایک صاحب قلم کی بات کریں تو اس کے لئے بھی مطالعہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا انسانی بقا کے لئے کھانا پانی . مطالعہ کے بغیر قلم کے میدان میں قدم بڑھانا ایک مشکل بات ہے . کیونکہ علم انسان کی صرف امتیازی شان ہی نہیں بلکہ اس کی بنیادی ضرورت بھی ہے . جس کی تکمیل کا واحد ذریعہ مطالعہ ہے .

مطالعہ ہماری سماجی ضرورت بھی ہے کیونکہ ایک پڑھے لکھے شخص پر معاشرہ کی تعمیر و ترقی کی بھی ذمہ داری ہوتی ہے . اگر انسان اپنے اسکول یا مدرسہ کی تعلیم مکمل کر کے اسی پر اکتفا کر لے تو اس کے فکر و نظر کا دائرہ بالکل تنگ ہو کر رہ جاتا ہے . اس لئے کہ مطالعہ استعداد کی کنجی اور صلاحیتوں کو بیدار کرنے کا بہترین آلہ ہے . یہ مطالعہ ہی کا کرشمہ ہے کہ انسان ہر لمحہ اپنی معلومات میں وسعت پیدا کرتا رہتا ہے اور زاویہِ فکر و نظر کو وسیع سے وسیع تر کرتا چلا جاتا ہے . مطالعہ ایک ایسا دوربین ہے جس کے ذریعہ انسان دنیا کے گوشہ گوشہ کو اپنے دماغی خانہ میں محفوظ کر لیتا ہے . مطالعہ ایک طیارہ کے مانند ہے جس پر سوار ہو کر انسان دنیا کے چپہ چپہ کی ذہناً سیر کرتا رہتا ہے اور وہاں کی تعلیمی ، تہذیبی ، سیاسی و اقتصادی احوال سے واقفیت حاصل کرتا رہتا ہے اور ان سے مستفید ہوتا رہتا ہے .

سچی بات یہ ہے کہ کتابیں انسان کے مخلص دوستوں کی مانند ہوتی ہیں ان کا مطالعہ انسان کی شخصیت میں علمی نکھار لانے کا ایک اہم ذریعہ ، حصول علم و معلومات کا وسیلہ اور اپنی فکر کو بہترین انداز میں دوسروں کے سامنے پیش کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے .

مطالعہ میں اس بات کو ملحوظ رکھا جائے کہ کتاب ایمان سوز اور اخلاق سوز نہ ہو . کیونکہ مطالعہ کے غلط رخ سے انسان کبھی پھسل بھی جاتا ہے اور اپنے دین کو نقصان پہنچاتا ہے . اس لئے مطالعہ سے قبل ایسے اساتذہ یا علمی شخصیات کی رہنمائی بھی بہت ضروری ہوتی ہے جن پر مطالعہ کرنے والے کو مکمل اعتبار ہو . رہنما ایسا ہو جو بذات خود ہر اعتبار سے ایک پیاسے کی تشنہ لبی کو دور کر نے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہو . کیونکہ یہ ایک ایسا راستہ ہے جس پر احتیاط کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے . یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسی عظیم شخصیت کو اللہ کے رسول صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توریت جیسی عظیم المرتبت آسمانی کتاب کے مطالعہ سے منع فرمایا تھا . جس طرح کتاب کے انتخاب کا مرحلہ بڑا نازک ہے اسی طرح مطالعہ میں ترتیب کی رعایت بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے .

مطالعہ کی عادت ہی سے انسان اپنی پوشیدہ صلاحیتوں اور علم وحکمت کے نوادرات کو اجاگر کرتا ہے . غور طلب بات یہ ہے کہ قدیم زمانہ کے طلباء میں مطالعہ کا جو شوق و ذوق پایا جاتا تھا وہ اب ناپید ہوتا دکھائی دے رہا ہے . طلباء سخت کوشی کے بجائے تن آسانی کے شکار ہو رہے ہیں . ہمارے اسلاف علم کی راہ میں مشقت و مصیبت جھیلنے میں نہایت ہی صبر و تحمل سے کام لینے میں مشہور تھے . مگر آج ہمارے طلباء سخت کوشی کے بجائے تن آسانی کو اپنائے ہوئے ہیں . سخت کوشی کو ترک کرنے اور مطالعہ کی کمی کے باعث وہ زندگی کے بلند مقاصد سے ناواقف ہیں . ان کا علمی تبحر اور دائرہ علم بہت ہی محدود ہو چکا ہے . طلباء اپنے اوقات کو فضول تعلقات اور فضول گفتگو کی نظر کر رہے ہیں . لا یعنی گفتگو اور لا یعنی تعلقات ایک ایسا مرض ہے جو انسان کو کسی کام کا نہیں رکھتا .

لہذا حصول علم اور مطالعہ اس دور کی ایک اہم ضرورت ہے . جس کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں . طفل مکتب سے لے کر موت تک کا وقت علم کے حصول کا ہے بالخصوص طلباء و طالبات کے لئے کتب بینی اور مطالعہ روز مرہ کا معمول بنانا چاہئے تاکہ علمی تازگی باقی رہے اور علم میں روز افزوں ترقی ہوتی رہے .

اللہ تعالیٰ ہمیں مطالعہ کی اہمیت و ضرورت کو کو صحیح معنوں میں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے . آمین .

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here