کرونا وائرس ( 19- COVID ) اکیسویں صدی عیسوی کی ایک عظیم مہلک متعدی بیماری

0
298

 مرتب : مولانا ابراہیم فردوسی ندوی

کرونا وائرس اکیسویں صدی عیسوی کی ایک ایسی عظیم مہلک متعدی بیماری ہے جس نے عالمی سطح پر ہزاروں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے میں اپنا ایک اہم رول ادا کیا ہے . اور پورے عالم میں ایک نئے خوف و ہراس اور دہشت کا ماحول برپا کیا ہے . اس کا علاج ڈھونڈنے میں دنیا اب تک اپنی بے بسی و لاچاری کا اظہار کر رہی ہے .

اس خطرناک و لاعلاج مہلک بیماری کا آغاز چین کے ” وہان ” نامی شہر سے ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے دو تین ماہ کے عرصہ میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا .

یہ ایک ایسا متعدی وائرس ہے جو انسان کی آنکھ کان ناک اور منھ کے راستوں سے داخل ہو کر انسانی نظام تنفس کو متاثر کرکے حلق اور پھیپھڑوں میں بلغم کو جماتا ہے اور انسانی سانس کے راستہ میں رکاوٹ بن کر اس کی ہلاکت کا سبب بن جاتا ہے . عالمی سطح پر اس مرض کے متأثرين کی تعداد اب تک بارہ لاکھ اور مہلوکین کی تعداد سرسٹھ ہزار کے لگ بھگ ہے ، چونکہ یہ ایک وبائی مرض ہے ، لہذا اس نے اپنی لپیٹ میں پوری دنیا کو لے لیا ہے . اسی لئے بعض مفکرین و ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انسانی آبادی اور معیشت کی تباہ کاری کے مذموم عزائم کے تحت انسانی تخلیق کردہ ایک وائرس ہے جیسا کہ خود چین ، امریکہ پر اس کا الزام عائد کرتا آرہا ہے لیکن فی الحال یہ ہمارا موضوع بحث نہیں ہے .

اسلامی نقطہ نظر سے وبائی امراض کے إفشاء کی حکمتیں اور وجوہات و اسباب:

 جان لیوا وبائی امراض کے وقوع اور افشاء کی کئی ایک حکمتیں اور وجوہات و اسباب ہو سکتے ہیں منجملہ ان میں سے ایک حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوتاہی اور اللہ کے عذاب سے صرفِ نظر کرتے ہوئے علانیہ گناہوں کی کثرت اور جرأت ہے ۔ جب کوئی قوم کھل کر دینی اَحکام میں اجتماعی طور پر غفلت کا شکار ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں إنذار کے مختلف طریقوں میں سے کسی طریقہ سے ڈرا کر اپنی طرف متوجہ کرتا ہے ۔ ان طریقوں میں سے ایک طریقہ جان لیوا وبائی امراض میں سے کسی مرض کا پھیل جانا بھی ہے ۔

تاہم اگر کوئی ایسی صورت حال میں اسلامی اَحکام کی رعایت رکھے گا تو اس کے لئے یہ عذاب بھی اللہ کی رحمت بن جائے گا . جس کی صراحت صحیح مسلم کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہونچنے والے خیر و شر کے معاملہ کو مؤمن کے حق میں عجیب و غریب بتلایا گیا ہے . فرمانِ نبوی ہے ” عجبا لأمر المومن إن أمرہ کله له خیر ولیس ذالك لأحد إلا للمؤمن ، إن أصابته سراء شکر فکان خیرا له ، وإن أصابته ضراء صبر فکان خیرا له ” ( صحیح مسلم کتاب الزھد ، رقم/2999 )یعنی ” مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے ۔ اس کے سارے معاملات خیر ہی خیر ہیں اور یہ بات سوائے مومن کے کسی کو حاصل نہیں ۔ اگر خوشی کا معاملہ پیش آتا ہے تو شکر ادا کرتا ہے اور یہ اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے ۔ اگر پریشانی سے دوچار ہوتا ہے تو صبر سے کام لیتا ہے اور یہ اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے ” .

اسی لئے دنیا میں تکلیف اور مصیبت نیک مؤمن پر بھی آتی ہے اور گناہ گار مؤمن اور کافر پر بھی ، لیکن یہ تکلیف و مصیبت بعض کے لئے رفعِ درجات کا سبب تو بعض کے حق میں گناہوں کی معافی کا ذریعہ اور بعض کے لئے آخرت کے عذاب سے پہلے دنیاوی پکڑ ثابت ہوتی ہے تاکہ کافر و گناہ گار اسے دیکھ کر عبرت حاصل کریں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں ۔ بیماری یا تکلیف کے رحمت بننے کی علامت یہ ہے کہ بیماری یا تکلیف کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع بڑھ جائے اور عملی زندگی میں اِصلاح اور مثبت تبدیلی آجائے تو یہ رحمت کا باعث ہے اور اگر شکوہ شکایت ، جزع فزع اور اللہ سے رجوع ہٹ کر صرف دنیاوی اسباب اور غموم و ہموم کی طرف ہوجائے تو یہ آزمائش یا پکڑ کی علامت ہے ۔ یہ سب باتیں قرآنِ مجید کی تعلیمات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ثابت شدہ ہیں ۔

کرونا وائرس بھی چوں کہ تجربہ اور واقعات سے کسی حد تک جان لیوا ثابت ہوا ہے ، لہذا اس کو بھی جان لیوا وبا قرار دینا درست ہے ، چنانچہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ کرونا وائرس جن علاقوں میں پھیلا ہے تو اس علاقہ کے لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے اور انھیں اللہ کی طرف متوجہ کرنے کے لئے پھیلا ہے . 

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (8 /3366)

:” عن ابن عباس – رضي الله عنهما – قال! ” ما ظهر الغلول في قوم إلا ألقى الله في قلوبهم الرعب ، ولا فشا الزنا في قوم إلا كثر فيهم الموت ، ولا نقص قوم المكيال والميزان إلا قطع عنهم الرزق ، ولا حكم قوم بغير حق إلا فشا فيهم الدم ، ولا ختر قوم بالعهد إلا سلط عليهم العدو ” .

ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس قوم میں خیانت غالب ہو جائے اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں رعب ڈال دیتے ہیں اور جس قوم میں زنا عام ہوجائے ان میں موت کی کثرت ہو جاتی ہے اور جو قوم ناپ تول میں کمی کرے ان کا رزق کم کردیا جاتا ہے اور جو قوم ناحق فیصلے کرتی ہے اس میں قتل عام ہو جاتا ہے اور جو قوم بدعہدی کرتی ہے ان پر دشمن مسلط کردیا جاتا ہے . 

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1 /230) :

“وعموم الأمراض والخوف الغالب من العدو ، ونحو ذلك من الأفزاع والأهوال ، لأن ذلك كله من الآيات المخوفة ، والله أعلم ” .

ترجمہ : امراض کا عام ہونا اور دشمن کے خوف کا غالب آنا اور اس جیسے پریشان کن اور ہولناک احوال سب کے سب خوف ناک نشانیاں ہیں . واللہ أعلم ۔

درر الحكام شرح غرر الأحكام (1 /147) :

” لأن ذلك كله من الآيات المخوفة ، كما في التبيين، والله يخوف عباده ليتركوا المعاصي ويرجعوا إلى طاعته التي فيها فوزهم وخلاصهم ، وأقرب أحوال العبد في الرجوع إلى ربه الصلاة ” .

ترجمہ : یہ سب خوف ناک نشانیوں میں سے ہیں ، جیساکہ تبیین الحقائق میں ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے ہیں تاکہ وہ نافرمانیاں چھوڑ کر اس کی اطاعت کی طرف لوٹ آئیں جس میں ان کی کامیابی اور خلاصی ہے اور جس حال میں بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے وہ نماز کی حالت ہے ۔

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here