ترانۂِ اَلعطار اسپورٹس سینٹر ۔ عطار محلہ ، تینگن گنڈی ، ہیبلے ، بھٹکل ۔

0
1252

ہم درد ہیں ہم ،غم خوار ہیں ہم ، بیدار ہیں ہم ، ہشیار ہیں ہم

بانٹیں گے محبت کی خوشبو ، فطرت ہی سے  اَلعطار ہیں ہم


کچھ خواب سجائے ہیں ہم نے  ، کچھ دل میں بھی ارماں رکھتے ہیں

ہم لوگ اندھیری راتوں میں ، مہتابِ درخشاں رکھتے ہیں


ہم قوم و وطن کے شیدائی ، ہم سے ہے چمن میں رعنائی

توحید کی شمعِ روشن سے ، ہم عام کریں گے سچائی


اک کھیل نہیں مقصد اپنا ملت کے لیے بیدار ہیں ہم

ہم درد ہیں ہم ،غم خوار ہیں ہم ، بیدار ہیں ہم  ، ہشیار ہیں ہم


مل جل کے محبت سے کھیلیں ، برسوں سے روایت ہے اپنی

خودداری وفاداری الفت ، گھٹی میں شرافت ہے اپنی


ہم پیکرِ عزمِ محکم ہیں ،منزل پہ پہنچ کر دم لیں گے

طوفاں سے ملائیں گے نظریں ، ہاتھوں میں قیادت ہم لیں گے


ہر خدمتِ قوم و وطن کے لیے  ، دن رات یہاں تیار ہیں ہم

ہم درد ہیں ہم ،غم خوار ہیں ہم ، بیدار ہیں ہم ، ہشیار ہیں ہم


الجھے ہیں مسائل میں لیکن ،محنت سے لکھی تقدیر ہیں ہم

شبلی کے علی کے جوہر کے  ،خوابوں کی حسیں تعبیر ہیں ہم


بوندوں سے انیسؔ اب کام  نہیں ، ہم لوگ سمندر والے ہیں

بیدار کریں جو ملت کو ، ہم ایسے تیور والے ہیں


اپنوں کے لیے ہیں پھول مگر ،باطل کے لیے تلوار ہیں ہم

ہم درد ہیں ہم ،غم خوار ہیں ہم ، بیدار ہیں ہم ، ہشیار ہیں ہم

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here