امسال سن 2020 ء جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے شعبہ عالمیت سے فارغ التحصیل نیو کالونی کیسر کوڈی شیرور کے ایک طالب علم کے الوداعی تأثرات

0
342

امسال سن 2020 ء جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے شعبہ عالمیت سے فارغ التحصیل طالب علم مولوی محمد روحان بن حافظ الطاف پونگے ، ساکن نیو کالونی کیسر کوڈی شیرور کے الوداعی تأثرات .

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم أمابعد :

قال اللہ تعالیٰ فی القرآن المجید ، فأعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ، بسم اللہ الرحمان الرحیم . ” قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون ” . و قال النبی صلی اللہ علیہ و سلم ” من یرد اللہ بہ خیرا یفقہہ فی الدین “

ملاقات کے دن ختم ہوئے جدائی کے دن قریب ہوئے آج وہ لمحہ آ چکا ہے جس میں خوشی کا پہلو کم اور غمی کا زیادہ ہے . جامعہ کے تئیں دل میں محبت کے جو جذبات موجزن ہیں ان کے اظہار کے لئے مجھے مناسب الفاظ نہیں مل رہے ہیں اور نہ میرے پاس وہ الفاظ ہیں جس کے ذریعہ میں اپنے غم و جدائی کی داستان کہہ سکوں اور مجھ جیسے ناتواں کے لئے یہ کیونکر ممکن ہے کہ الفاظ کے پیرایہ میں جذبہِ محبت کی ترجمانی کر سکوں جو دلوں میں پیوست ہو چکی ہے کیونکہ اب اس دیار محبوب کو الوداع کہنے کا وقت قریب آچکا ہے جس کی گود میں ہم نے اپنی تعلیمی زندگی کے بیشتر ایام گزارے ہیں .

محترم سامعین ! اس ناتواں کا تعلق شہر بھٹکل کے قرب و جوار کے علاقہ شیرور سے ہے . میری پیدائش دینی گھرانہ میں ہوئی اور میرے والد کی خواہش کے مطابق مجھے اپنے ہی علاقہ کے ادارہ ” مدرسہ فیض الاسلام ” میں داخل کیا گیا جہاں میری تعلیم کی ابتدا مکتب سے ہوئی اور اپنے والد کی نگرانی میں ، مَیں نے تمام درجات میں امتیازی نمبرات سے کامیابی حاصل کی . مکتب کے بعد عالمیت کے لئے میرے والد محترم نے میرا داخلہ مدرسہ مصباح العلوم گنگولی میں کرانا چاہا لیکن میں اس وقت کم سن تھا اور گھر سے دوری میرے لئے ناقابل برداشت تھی تو میں نے دینی تعلیم کو ترک کرکے عصری تعلیم کا رخ کرنا چاہا لیکن میرے گھر والوں نے میری رہنمائی کی اور مجھے دینی تعلیم پر دنیا و آخرت میں ملنے والے انعامات اور طالب علم کا مقام بتا کر تعلیم جاری رکھنے پر آمادہ کیا اور میرا داخلہ مدرسہ مصباح العلوم گنگولی میں ہی ہوا جہاں میں نے ثانوی درجات کی تعلیم مکمل کی . اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے کرناٹک کی مشہور و معروف دینی درسگاہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل کا انتخاب کیا . شروع شروع میں یہاں میرا دل بالکل نہیں لگا ہمیشہ گھر جانے کی فکر لگی رہتی تھی پھر بتدریج

جامعہ کے ماحول سے انسیت ہوتی گئی اور تعلیم کا بھی شوق ہوتا گیا اس طرح یہاں میں نے تین سال گذارے اور اچھے نمبرات سے کامیاب ہوتا رہا اور آج میں اس مقام پر پہنچا ہوں کہ میرا شمار علماء کی فہرست میں کیا جا رہا ہے . لہذا میں اس پر سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور ساتھ ہی ساتھ ان تمام حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو میری تعلیم کے لئے ہر وقت فکر مند رہے چاہے وہ میرے والدین ہوں یا اساتذہ ، میرے رشتہ دار ہوں یا رفقاء ، خصوصا میرے وہ اساتذہ جن سے میں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی اسی طرح میں اپنے مادر علمی جامعہ اسلامیہ کا بھی ممنون و مشکور ہوں ۔

آخر میں درجہ ہفتم عربی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ جنھوں نے مجھے اپنے تاثرات پیش کرنے کا موقعہ عنایت فرمایا .

واٰخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین .

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here