ناخدا ویلفیئر ایسوسی ایشن شیرور کے چھٹے اے جی ایم کے اجلاس عام میں چند نوجوانوں کو ملا کورونا ہیروز کا خطاب

0
808

رپورٹر : ریاض کاوا شیروری

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ سنہ 2020 ء کی ایک خطرناک وبائی بیماری کورونا وائرس ( COVID-19 ) نے پوری دنیا میں خوف و ہراس کا ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جس سے انسان انسان سے نفرت کرنے لگا تھا اور مفاد پرستی کی فضا عام ہونے لگی تھی ان حالات میں بھی شیرور کے ناخدا برادری کے چند لوگوں نے اپنی چند ایسی خدمات انجام دیں جن کی وجہ سے ناخدا ویلفیئر ایسوسی ایشن شیرور نے ان کی ان قومی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے امسال اپنے چھٹے AGM کے اجلاس عام میں انھیں کورونا ہیروز کا خطاب دیا اور ان کی شال پوشی کرکے ان کی تہنیت بھی کی. انہی کورونا ہیروز کی قومی خدمات کی کچھ تفصیلات درج میں ذکر کی جا رہی ہیں

الجی یاسین نے آندھرا پردیس سے کیسر کوڈی لوٹنے والے ان پچاس سے زائد نوجوانوں کی دیکھ بھال کی جو کیسر کوڈی شیرور کے اسکول میں قرنطین ہوئے تھے ، مزید ان تک ان کے اہل خانہ کی طرف سے إرسال کردہ اشیاءِ ضروریات پہونچانے میں بھی اپنا بھرپور تعاون پیش کیا ، اس کے علاوہ بھی آپ کا دیگر سماجی خدمات کی انجام دہی میں ایک اہم رول رہا ہے .

رضوان کاوا ، نور الاسلام ہونگے ، عبدالرقیب صاحب اور مقصود علی پری جیسے NWA کی جملہ سرگرمیوں میں مصروف اور پیش پیش رہنے والے ممبران نے کورونا وبائی امراض کے دوران تقسیمِ کٹس میں NWA کے لئے ان حالات میں بھی اپنا بھرپور تعاون پیش کیا جن حالات میں گھر سے باہر نکلنا اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف تھا ، اس کے باوجود بھی یہ حضرات وقت پر ضرورت مند خاندانوں میں راشن کٹس تقسیم کرنے میں مصروف رہے . خصوصاً جناب عبدالرقیب صاحب نے PDO سے اجازت نامہ کے حصول میں اپنا ایک اہم کردار ادا کیا ہے .

الطاف مکری نے ہمارے ان ناخدا نوجوانوں کو کھانا کھلانے کے لئے عطیہ دہندگان سے چندہ حصول کرنے کے لئے جدوجہد کی جو گورنمنٹ ڈاٹ اسکول میں قرنطین ہوئے تھے . نیز انھوں نے حکومت کی مدد کی اور قرنطین افراد سے متعلق روزانہ رپورٹس حاصل کرنے کے لئے حکام سے رابطہ کرتے رہے .

محمد سعید کاوا اور حبیبہ باتیا نے لاک ڈاؤن کے زمانہ میں مریضوں کو شیرور سے باہر کا سفر کرانے میں دن رات مشقتوں کو برداشت کرکے مریضوں کو راحت پہونچانے کا کام کیا .

خصوصاً حبیبہ باتیا نے بیمار حاملہ خواتین کے ساتھ شیرور ٹول گیٹ عبور کرنے کے لئے اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا .

ساجد باتیا اور مذوکر محمد الیاس نے شیرور میں تین سو (300) راشن کٹس اور گھر سے بنے کھانے کی تقسیم کے لئے اپنی عمدہ خدمات پیش کیں .

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here