مرغ اور پِسّو کو گالی دینے کی ممانعت

0
1544

از : مولانا عبدالقادر بن اسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد تینگن گنڈی ، بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد  محمد عشیر علی سلیمان المزروعی ، ابو ظبی ، متحدہ عرب امارات .

ألحمد لله ، والصلوة والسلام على رسول الله ، وعلى اٰله وصحبه ومن والاه .

سیدنا زید بن خالد الجُهَنِيِّ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” لَاتَسَبُّوا الدِّيْكَ ، فَإِنَّهُ يُوْقِظُ لِلصَّلَوةِ : تم مرغ کو گالی نہ دو، کیونکہ وہ ( لوگوں کو ) نماز کے لئے بیدار کرتا ہے “. ( ابوداؤد ، اور ابن ماجہ نے بھی اس حدیث کو اپنی صحیح میں روایت کیا ہے ۔ مگر یہ کہ انھوں نے ( یوقظ کی جگہ ) ” یدعو للصلوة ” کے الفاظ سے ۔ اور نسائی نے اس کو مُسنَدًا ومُرْسَلًا روایت کیا ہے )

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرغ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک چلایا ، ( اذان دی ) تب ایک شخص نے اس کو گالی دی . ” پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرغ کو گالی دینے سے منع فرمایا “. ( حدیث کو بزار نے لا بَاْس به ( کوئی حرج نہیں ) والی سند سے روایت کیا ہے ، اور طبرانی نے بھی ، مگر انھوں نے اپنی روایت میں یہ الفاظ کہے ہیں ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” لا تلعنه ولا تَسَبَّهُ فانه يدعو الى الصلوة “. نہ اس پر لعنت بھیجو اور نہ ہی اسے گالی دو ، اس لئے کہ وہ نماز کی طرف بلاتا ہے .

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ایک مرغ نے نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب چیخا ( ککڑوں کوں کی آواز کی ) تو ایک شخص نے کہا کہ اے اللہ! اس پر لعنت بھیج ( اپنی رحمت سے اس کو دور کر ) تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” مَهْ كَلَّا آِنُّهُ يَدْعُوْ إِلَى الصَّلَوةِ “. چھوڑ دو ، حقًّا ( یقیناً ) وہ نماز کی طرف بلاتا ہے . ( حدیث کو بزار نے روایت کیا ہے ، اور ان کے رُواۃ سوائے عباد بن منصور کے پورے صحیح ( حدیث ) کے رواۃ ہیں ) .

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، انھوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، تبھی ایک شخص کو بُرْغُوثْ ( پسو ) نے کاٹا ، سو اس نے اس کو گالی دی ، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” لَا تَلْعَنْهَا فَاِنَّهَا نَبَّهَتْ نَبِيًّا مِّنَ الْاَنْبِيَآءِ لِلصَّلَوةِ “. تم اس کو گالی نہ دو ، اس لئے کہ اس نے انبیاء میں ایک نبی کو نماز کے لئے بیدار کیا تھا . ( حدیث کو ابو یعلی نے روایت کیا ہے ، اور الفاظ انہی کے ہیں ، اور بزار نے ، مگر انھوں نے اپنی حدیث میں یہ الفاظ کہے ہیں ” لاتسبه ، فانه ایقظ نبیا من الانبیآء لصلاة الصبح “. تم اسے گالی نہ دو ، کہ بیشک اس نے انبیاء میں سے کسی نبی کو نمازِ صبح کے لئے بیدار کیا تھا . اور اس کے رواۃ صحیح کے رواۃ ہیں ، سوائے سوید بن ابراہیم کے ، اور طبرانی نے اس کو اوسط میں روایت کیا ہے ، اور ان کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پِسّؤوں کا ذکر کیا گیا تو آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا ! ” اِنَّهَا تُوْقِظُ لِلصلاةِ “. کہ وہ نماز کے لئے بیدار کرتا ہے . اور طبرانی کے رواۃ ثقات ہیں ، سوائے سعید بن بشیر کے .

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا ، پس پسؤوں نے ہمیں ستایا ،( پریشان کیا ) تو ہم نے انھیں کوسا ، ( گالی دی ) تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” لَا تَسَبُّواهَا فَنِعْمَتِ الدَّآبَّةُ ، فَاِنَّهَا اَيْقَظَتْكُم لِذِكْرِ اللَّهِ “. انھیں گالی نہ دو ، بڑا اچھا جانور ہے ، اس لئے کہ وہ تمہیں اللہ کو یاد کرنے کے لئے جگاتا ہے . ( طبرانی نے اس حدیث کو الاوسط میں روایت کیا ہے ) .

16/محرم الحرام 1442 ھ
مطابق 4/ستمبر 2020 ء

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here