تعلیمی فراغت کے موقعہ پر جامعہ آباد تینگن گنڈی کے ایک طالب علم کے تاثرات

0
5944

      بسم اللہ الرحمان الرحیم

الحمد للہ الذی خلق الانسان و علمہ البیان ۔

 :اما بعد

محترم صدرِ جلسہ ، اساتذہِ کرام ، طلباءِ جامعہ اور میرے عزیز رفقاء

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

آج میں آپ حضرات کے سامنے کن جذبات کے ساتھ کھڑا ہوں ، میری پتھرائی آنکھوں میں کونسا درد چھپا ہے ، دل کی موجیں اٹھ اٹھ کر کیا صدا دے رہی ہیں ، بتانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔آج کچھ درد میرے دل میں ہوا ہوتا ہے ۔

عجیب سی کشمکش میں مبتلا ہوں کیا بتاؤں میں

کہ دکھڑا اپنے ٹوٹے دل کا تم کو کیا سناؤں میں

بہرِ حال کہنا ضروری ہے دکھڑا سنانا لازمی ہے  ۔ آہ رخصت کی گھڑی آن پہنچی  ،  وقتِ جدائی آ پہنچا  ۔ کاش کچھ اور دن اس پھولوں کی وادی میں بسیرا کر پاتا ۔ اے کاش  اس گلشن سے کچھ اور پھول اپنے دامن میں بھر لیتا ۔ لیکن نہیں مقدر کا لکھا کون ٹال سکتا ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گلشنِ جامعہ کی زینت سے ابھی ٹھوڑی ہی دیر گذری تھی کہ رخصت کی گھڑی کب آ پہنچی کچھ خبر ہی نہیں ۔یہاں تک کہ مجھے اپنے تعلیمی رودادِ سفر کو بیان کرنے  کے لئے آپ حضرات کے سامنے لا کھڑا کر دیا گیا ہے ۔ اب تھوڑے سے وقت میں اپنے دل کے جذبات کیسے بیان کروں ، اپنے احساسات کی ترجمانی کے لئے الفاظ کہاں سے لاؤں،  اپنے احساسات کو کونسے الفاظ کا جامہ پہناؤں ، حیران وششدر اور انگشت بدنداں کھڑا  سوچ رہا ہوں ۔ کہاں سے لاؤں طاقت دل کی سچی ترجمانی کی ۔ اس مختصر سے وقت میں کیا کیا بیان کروں اور کیا کیا چھوڑوں  ، بیتے لمحات کے کن کن پہلووں کو اجاگر کروں ، کہاں سے شروع کروں اور کہاں پر ختم کروں ۔ در اصل اس رودادِ سفر میں اختصار کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ سفینہ چاہئے اس بحرِ بیکراں کے لئے ۔

محترم حضرات : میرے دینی تعلیم کی ابتداء میرے والدین کے جذبات سے منسلک ہے ۔ گو کہ میرا گھرانہ تعلیم یافتہ نہیں ۔ میرے والدِ محترم کو علماءسے واسطہ نہیں پر یہ کہنا بھی غلط ہوگا کہ ان کےدل کا نیک جذبات سے کوئی رابطہ نہیں  ۔ میرے والدین کی خواہش تھی کہ میرا داخلہ مدرسہ میں کروا کر مجھے دینی تعلیم کے زیورِ علم سے آراستہ کیا جائے  ۔ ان کی  اسی خواہش نے آخر کار مجھے مدرسہ پہنچایا ۔

اب کیا کیا بیان کروں جو مناسب ہو اسے سناتا چلوں ۔ لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو۔جب میں نے اپنی عمر کے چار سال مکمل کر لئے تو میرے والدین نے میرا داخلہ مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن  تینگن گنڈی کی شاخ مدرسہ عائشہ تجوید الفرقان جامعہ آباد میں کروایا  جہاں میں نے دوم مکتب تک تعلیم حاصل کی  ۔ بعدِ ازاں سوم مکتب کے لئے میرا داخلہ مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن تینگن گنڈی میں کروایا گیا  جہاں میں نے مکتب کی تعلیم کی تکمیل کے بعد بفضلِ باری تعالٰی مزید دو سال عالمیت کی بھی تعلیم حاصل کی ۔ دورانِ تعلیم وہاں کے اساتذہ کی محبت و شفقت میرے ساتھ رہی ۔ خصوصاً مہتممِ مدرسہ مولانا محمد سعود بنگالی، مولانا اسحاق ڈانگی و دیگر اساتذہِ کرام کی ۔اس کے بعداساتذہ کے مشورہ سے  اعلٰی تعلیم کے لئے سوم عربی میں میرا داخلہ مدرسہ رحمانیہ منکی  میں کرایا گیا ۔ منکی کےخوش گوار وخوش بہار تعلیمی ماحول میں  ، میں نے اپنے آپ  کو ڈال دیا ۔ مہتممِ مدرسہ مولانا شکیل احمد ندوی اورمولانا فیاض احمد ندوی صاحبان و دیگر اساتذہ کی بے پناہ توجہات ہر طرف سے میری تعلیم کے لئے کوشاں رہیں ۔وقت گذرتا گیا کانوں میں صدائیں گونجنے لگیں کہ اب میرا داخلہ مدرسۂِ ہذا میں ہونا ہے  ۔یعنی جامعہ  اسلامیہ بھٹکل میں ۔ برسوں سے میرے والدین نے جو خواب دیکھ رکھا تھا  کہ ہمارا لختِ جگر مدرسۂِ ہذا میں پڑھکر ایک دن علماء کے زمرہ میں شامل ہو جائیگا ۔ الحمد للہ آج وہ خواب شرمندہِ تعبیر ہو رہا ہے ۔ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء ۔

محترم حضرات : میں نے جامعہ اسلامیہ میں اپنی عمر کے چھ سال گذارے ۔ دورانِ تعلیم حالات آئے ۔کبھی نانا جان کا اس دارِ فانی سے کوچ کر جانا تو کبھی دلوں کو چیر دینے والی آواز کا  کانوں میں پڑنا  کہ سابق مہتممِ جامعہ اسلامیہ بھٹکل مولانا عبد الباری صاحب   اس دارِ  فانی سے رفیقِ اعلٰی تک پہنچ  گئے۔ لہذا یہ اور اس طرح کی دیگر چیزوں نے  دلوں میں مسلسل غم پیدا کر دئے ۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ میں ان کا ہر وقت ممنون و مشکور رہوں گا ۔میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان کی بال بال مغفرت فرمائے اور انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے ۔آمین ۔

چلتے چلتے میں ان تمام حضرات کا شکر یہ ادا کرتا ہوں  جو میری  تعلیم کے لئے ہر وقت فکر مند رہے  ۔چاہے وہ میرے والدین ہوں یا اساتذہ  ، میرے  رشتہ دار ہوں یا میرےرفیق ۔ خصوصاً میرے وہ اساتذہ جن سے میں نے حروفِ تہجی سیکھی ۔اے جامعہ اسلامیہ میں تیرا ممنون و مشکور ہوں  کہ تو نے مجھے زیور علم سے آراستہ کرکے زندگی گذارنے کا سلیقہ سکھایا ۔اور اے گلشن علمی کے شگفتہ پھولو دوران تعلیم مجھ سے جو بھی کسی قسم کی کوئی تکلیف یا ایذا آپ کو پہونچی ہو خدارا  مجھے معاف فرما دیں ۔اسی طرح میں تمام اساتذہ سے بھی فردا فردا طالب علمی کے دور میں ہونے والی دانستہ و نادانستہ غلطیوں پر معافی کا خواستگار ہوں خصوصاً مولانا مقبول صاحب ندوی کا  کہ انھوں نے میری تعلیم پر اپنی توجہات مبذول فرمائی لیکن میں نے ان کی کما حقہ قدر نہیں کی ،  اس پر میں خصوصی معافی چاہتا ہوں ۔ اخیر میں میں اپنے تعلیمی ہمسفروں سے دوران تعلیم پہونچنے والی تکلیفوں و اذیتوں پر معافی چاہتا ہوں  ۔

دوستو اب کب ملیں گی درس کی نورانیاں

یاد آئیں گی مجھے اب تم سب کی قربانیاں

چلتے چلتے میں بانیان جامعہ کے حق میں بھی دعا کرتا ہوں  کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلٰی مقام نصیب فرمائے ۔آمین ۔اورساتھ ساتھ  اپنے مادر علمی کےلئے بھی  کہ اللہ تعالٰی اسے ہمیشہ آباد رکھے  حاسدین کے حسد اور نظر بد سے اسے محفوظ رکھےاور دن دونی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے ۔آمین ۔اب میں اس شعر کے ساتھ آپ سے رخصت ہو رہا ہوں ۔

الوداع کیسے کہوں  کہنا کسے منظور ہے

پھر بھی کہنا پڑ رہا ہے دل میرا مجبور ہے

وما علینا الا البلاغ

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here