عید الاضحیٰ اور قربانی

0
2212

از : محمد زبیر ندوی شیروری

تاریخی حقائق اور قرآنی شہادات سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کا رواج ہر قوم وملت میں رہا ہے لیکن اس کی نوعیت وکیفیت اور اس کا مقصد الگ رہا ہے ، حضرت آدم ؑ سے لے کر حضور صلی اللہ علیہ و سلم تک جتنی قومیں وجود پذیر ہوئیں ان کے اندر قربانی کا رواج کسی نہ کسی طریقہ سے ضرور رہا ، آدم ؑ کے دور میں قربانی کا دستور یہ تھا کہ لوگ قربانی کر کے ایک پہاڑ پر لے جا کر رکھ دیتے تو آسمان سے آگ آتی اور اسے نگل جاتی یا پھر اسے جلا کر راکھ کر دیتی ، تو یہ قربانی کی مقبولیت کی نشانی ہوتی ، قربانی کی رسم دنیا میں ابتداء ہی سے رہی ہے اور قیامت تک رہے گی ، خود قرآن کریم قربانی کی تاریخ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے ” ولکل أمة جعلنا منسکا لیذکر اسم الله علی مارزقھم من بھیمة الأنعام “. ہم نے ہر امت کے اندر قربانی کا ایک طریقہ متعین کر دیا ہے ، تاکہ وہ اس بے زبان چوپائے کو اللہ کے نام پر ذبح کر ے ، جو اللہ تعالیٰ نے انھیں عطا کیا ہے . یعنی اللہ کی خاطر جان و مال کو قربان کر ڈالے اور خدا کی وحدانیت کا اعلان کر کے دوسرے من گھڑت خدا ، دیوی دیوتاؤں اور عاجز و حقیر معبودوں کی تکذیب کرے اور پورے عالم میں خالص دین و مذھب کو خدا کی جانب سے رحمت سمجھے ، اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں لوگوں میں قربانی کا کوئی ایک ہی دن متعین تھا کہ جس میں وہ باپ دادا کے نام پر جانوروں کی قربانی کیا کرتے تھے ، پھر ان جانوروں کے خون کو کعبہ کی دیواروں پر رنگتے تھے اور پھر قربان شدہ جانوروں کا گوشت بیت اللہ کے دروازہ پر رکھ دیا کرتے تھے ، اس لئے کہ ان کا عقیدہ تھا کہ ان کی قربانی کا خون اور گوشت اللہ تک پہونچتا ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ خوش ہو کر اجر عظیم عطا فرماتا ہے ، لہذا اللہ تعالیٰ نے اس غلط رسم کی مذمت فرمائی اور اس سے روکا چنانچہ قرآن میں فرمایا گیا ” لن ینال الله لحومھا ولا دمائھا ولکن یناله التقوی منکم “. تمہاری قربانیوں کا گوشت اور اس کا خون ہر گز بر گز بار گاہ خداوندی میں نہیں پہونچتا بلکہ خدا کے یہاں تو تمہارے تقوی اور اخلاص کی قدر و قیمت ہے .

قربانی اپنے اندر بڑی اہمیت و حکمت رکھتی ہے ، چنانچہ اس کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ ” انا اعطیناك الکوثر فصل لربك وانحر “. ہم نے آپ کو حوض کوثر عطا کیا آپ اپنے رب کے واسطہ نماز ادا کیجئے خدا کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیے اور اپنے رب کے نام قربانی کیجئے .

اس آیت میں لفظِ نحر آیا ہے جس کے معنی قربانی کرنے کے ہیں ، خدائے تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ مسلمانو میرے نام پر اپنے مال کو قربان کرو ، مسلمان وہ ہے جو عبادت کرے تو اللہ کی ، روزہ رکھے تو اللہ کے لئے ، سجدہ ریز ہو تو اللہ کے سامنے ، زکوٰۃ دے تو اللہ کے لئے ، قربانی کرے تو اللہ کے لئے ، تسبیح و تہلیل بیان کرے تو اللہ کی ، معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے تمام اعمال کا رخ اللہ کی جانب موڑ دیا گیا ہے ، یہ سب اس لئے کہ ہم نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ کر اس کا اقرار کیا ہے تو اس کا مطلب ہی یہ ہوا کہ ہم اپنے جان اور مال و متاع کو اللہ ہی کے لئے لٹائیں گے اور قربانی بھی محض اللہ ہی کے لئے کریں گے مگر افسوس کہ آج معاشرہ محدود دینی علم یا جہالت کی وجہ سے غیر اللہ کے نام پر مرغوں اور بکروں کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے نظر آتا ہے جبکہ اللہ نے اس کو حرام قرار دیا ہے اور اس بات کو خوب واضح انداز میں بیان کر دیا ہے کہ اسلامی طریقوں کے مطابق جو جانور خدا کے نام پر ذبح کیا جائے گا اس کا گوشت عند اللہ مقبول اور حلال ہوگا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل ہی بارگاہ خداوندی میں پہنچ جائے گا ، جس کو حدیث میں یوں بیان فرمایا گیا ہے ” ان الدم لیقع من اللہ بمکان قبل ان یقع من الأرض ” جس سے پتہ چلتا ہے کہ قربانی بہت ہی مبارک عمل ہے اور اسلام میں اس کا بہت بڑا مقام و مرتبہ ہے .

لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ قربانی پورے اہتمام سے کریں اور اس کے لئے موٹا اور فربہ جانور خریدیں ، چنانچہ حدیث میں فرمایا گیا ” سمنوا ضحایا کم فانە علی الصراط مطایاکم “. یعنی موٹے تازے جانوروں کی قربانی کرو کیونکہ یہی جانور تمہاری سواری بنیں گے .

قربانی ہمارے جد امجد یعنی حضرت ابراھیم ؑ کی سنت ہے جس کا فائدہ یہ ہے کہ قربانی کے جانور کے ہر بال پر ایک نیکی ملے گی اور اللہ کے نزدیک قربانی کے ایام میں یہ عمل سب سے زیادہ محبوب ہو گا جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا ” ماعمل ابن آدم احب الی الله یوم النحر من اھراق الدم “. آدم کی اولاد کا کوئی بھی عمل قربانی کے ایام میں خون بہانے سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو محبوب نہیں ، لہذا آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے قربانی نہ کرنے والوں پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ” من وجد سعة فلم یضح فلا یقربن مصلانا “. جس شخص کے پاس قربانی کرنے کی گنجائش ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو اس کو چاہئے کہ وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے ، قربانی در اصل اس شخص کی یاد گار ہے کہ جس نے خدا کی خاطر اپنی جان ومال اور اولاد تک کی قربانی پر سرتسلیم خم کیا ، جس کی دعاؤں کی برکت سے اس امت کا نام مسلمان رکھا گیا ، اور ان کی دعا کے صدقہ ، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم اس امت میں تشریف لائے ، یعنی جب حضرت ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ بیت اللہ شریف تعمیر فرما رہے تھے تبھی خلیل نے رب جلیل سے دعا مانگی تھی ” ربنا تقبل منا إنك أنت السمیع العلیم ” اے پروردگار ہماری طرف سے قبول فرما . بیشک تو سننے والا اور جاننے والا ہے . اسی طرح یہ بھی دعا مانگی تھی ” ربنا وابعث فیھم رسولا منھم ” اے ہمارے رب ان میں انھیں میں سے ایک رسول مبعوث فرما . جس کے نتیجہ میں ہمارے درمیان خاتم النبی کی حیثیت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ظہور ہوا ، اور ہمیں خاتم الامم کے نام سے ملقب فرمایا گیا .

قربانی کی سنت حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ و السلام کی یادگار ہے اور ان چیزوں میں سے ایک ہے جن کے ذریعہ انھیں آزمایا گیا ، مگر قربان جائیے اس ذات اقدس پر جس نے تمام امتحانات میں ہر طرح سے کامیابی حاصل کر لی جس کے نتیجہ میں اللہ نے آپ کو امامت کا خطاب عطا فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ” إنی جاعلک للناس إماما ” میں آپ کو لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں . یہ ان قربانیوں کا نتیجہ تھا جس کا اندازہ بمشکل لگایا جا سکتا ہے کیونکہ اللہ نے آپ کو ہر طرح سے آزمایا ، کبھی جانی قربان کی باری آئی تو کبھی اولاد کی تو کبھی شیر خوار بچہ اور بیوی کو غیر آباد زمین پر خدا کے نام پر چھوڑنے کی ، مگر آپ نے اپنے حبیب کے حکم کی تعمیل میں چوں چراں تک نہیں کی ، یہاں تک کہ کامیابی حاصل کر لی .

انسان کو دو چیزیں بڑی پیاری ہوتی ہیں ایک جان اور دوسری اولاد ، اللہ نے آپ کو ان دونوں چیزوں میں بھی آزمایا . جب آپ اللہ کی وحدانیت کا اعلان کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو نمرود نے آپ کودہکتی ہوئی آگ میں ڈالنا چاہا تو آپ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے تیار ہوئے لیکن آپ کے محبوب نے آپ کی حفاظت کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا . ” یا نارکونی بردا وسلاما علی ابراھیم ” اے آگ تو ابراھیم کے لئے ٹھنڈی اور سراپا سلامتی بن جا . اسی طرح وہ بچہ جو بڑی تمناؤں کے بعد ملا تھا آور جوان ہو کر اپنے والدین کی خدمت کے لائق بن چکا تھا تو اللہ نے اسی بچہ کو ذبح کرنے کا حکم دیا جسے دیکھ کر آپ کے چہرہ پر مسرت کی لہریں دوڑتی تھیں اور دل باغ باغ ہو جاتا تھا تو اللہ نے خواب میں اسی بیٹے کی قربانی کا حکم دیا تو آپ فورا اس حکم کی تکمیل کے لئے تیار ہوئے اور اپنے بیٹے سے کہنے لگے ” یا بنی إنی أری فی المنام أنی أذبحک ” اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں ، یعنی خدا کو تمہاری جان کا نذرانہ مطلوب ہے . بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے ، اس وقت فرمانبردار بیٹے کا حال دیکھئے کہ پوری دلیری کے ساتھ جواب میں اپنے والد سے اللہ کے حکم کو بجالانے پر اپنی رضامندی کا اظہار فرماتے ہوئے جوابا عرض کیا کہ ” یا أبت افعل ماتؤمر ” کہ اے میرے ابا جان ، جس چیز کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے اسے کر گذرئیے ، ان شاء اللہ آپ مجھے صابرین میں پائیں گے ، لہذا حضرت ابراھیمؑ نے چھری تیز کی اور رسی سے اسماعیلؑ کو باندھ لیا اور پھر پتھریلی زمین پر لٹا دیا ایسے موڑ پر اطاعت گذار بیٹے نے کہا کہ آپ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیں کہیں ایسا نہ ہو کہ شفقتِ پدری جوش میں آجائے اور آپ میری محبت و مودّت میں حکم خداوندی کی نافرمانی کر جائیں ، لہذا جب باپ بیٹے دونوں تیار ہوئے اور اپنے بیٹے کو لٹایا اور چھری گردن پر رکھ دی گئی ، یہ وہ منظر تھا جسے زمیں و آسمان نے کبھی دیکھا نہ تھا . ایک طرف چھری چلائی جا رہی ہے تو دوسری طرف چھری اپنی تمام تر کاٹنے کی صلاحیتوں کے باوجود کاٹنے سے عاجز اور بے بس ہے کیونکہ ایک طرف خلیل کہتا ہے کہ کاٹ ، تو دوسری طرف رب جلیل کہتا ہے کہ خبر دار ! مت کاٹنا ، باپ بیٹے دونوں نے کہا کہ ہم تعمیل خداوندی کے لئے تیار ہیں اور تو رکاوٹ کیوں بن رہی ہے ؟؟ لیکن چھری نے اسماعیل ؑ کو ذبح نہیں کیا اور اللہ نے فوراً وحی بھیجی . ” یا إبراھیم قد صدقت الرؤیاء إنا کذالك نجزی الحسنین “. لہذا آپ کو خلیل اللہ کے لقب سے ملقب فرمایا گیا .

قربانی میں ہمارے لئے سبق آموز بات یہ ہے کہ ہم جانوروں کی قربانی سے اپنے اندر خواہشات کی قربانی کا داعیہ پیدا کریں اور اپنی محبوب چیزوں کو اخلاص کے ساتھ فی سبیل اللہ قربان کرنے کی عادت ڈالیں .

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم تمام مسلمانوں کو ہر عید الاضحیٰ کے موقعہ پر قربانی کی عظیم الشان سنت کو بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے . آمین ۔

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here