رمضان المبارک میں سحری سے متعلق ایک غلط فہمی کا ازالہ

0
803

از : مولانا عبدالقادر بن إسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد ، تینگن گنڈی ، بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد محمد عشیر علی سلیمان المزروعی ، ابو ظبی ، متحدہ عرب امارات .

بعض حضرات ابوداؤد کی ایک حدیث پیش کر کے بعض بھولے بھالے روزہ داروں کو یہ عندیہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اذان ختم ہونے تک سحری کا کھانا پینا جائز ہے ، حضرات یہ عندیہ بالکل غلط اور شریعت کے خلاف ہے ، روزہ صحیح ہونے کے لئے فجرِ صادق تک کھانے پینے سے رکنا واجب ہے ، ورنہ روزہ صحیح نہیں ہوگا ، کیونکہ فجر کی اذان سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد دی جاتی ہے . روزہ کی تعریف ملاحظہ فرمائیں ” نیت کے ساتھ طلوعِ فجر ( کے پہلے ) سے غروبِ آفتاب تک روزہ توڑنے والی چیزوں سے رکے رہنا “. اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ” وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتَّیٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ “. اور تم کھاؤ اور پیؤو حتی کہ تمھیں سیاہ دھاگے سے سفید دھاگہ نظر آئے ، ( یعنی رات کی تاریکی سے دن کی سفیدی نظر آئے ) . ( سورۃ البقرہ/187 ) احتیاطاً طلوعِ فجر سے پہلے پہلے کھانے پینے سے رک جانا بہتر ہے ، تاکہ روزہ کے لئے رکے رہنے کے وقت میں کچھ شک وشبہ نہ رہے ، ہاں! طلوع فجرکا وقت ختم ہونے تک سحری کرنا جائز ہے . حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” بلال کی اذان تمہیں تمھاری سحری کرنے سے نہ روکے ، اس لئے کہ وہ رات ( طلوع فجر سے پہلے ) میں اذان کہتے ہیں ، سو تم اس وقت تک کھاؤ پیؤو جب تک ابن ام مکتوم کی اذان نہ سنو ، اس لئے کہ وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے جب تک کہ فجر طلوع نہ ہوجائے “. ( بخاری ، مسلم ) .

حدیث سے واضح طور سے بات سمجھ میں آتی ہے کہ صبح ( فجر ) کی اذان طلوع فجر کے بعد دی جاتی ہے ، اور وقتِ روزہ اس سے پہلے ہی ختم ہوجاتا ہے ، اگر کسی نے اذان سن کر بھی کھایا یا پیا تو اس کا روزہ صحیح نہیں ہوگا .

بعض حضرات ابوداؤد کی حدیث پیش کر کے لوگوں کو یہ کہہ کر بہکانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اذان کی آواز سن کر بھی کھا پی سکتے ہیں ، معلوم ہونا چاہئے کہ اذان کی آواز کے ساتھ اگر کسی کا لقمہ یا پانی کا گھونٹ پیٹ میں چلا گیا تو اس کا روزہ صحیح نہیں ہوگا ، اور اس دن اس کو پورا دن بھوکا پیاسا رہنے کے ساتھ اس روزہ کی قضا لازم ہوگی ، کیونکہ دن ہونے ( طلوع فجر ) کے بعد اس کے پیٹ کے اندر کوئی مادی چیز گئی ہے . انھوں نے جو حدیث پیش کی ہے وہ یہ ہے . حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” جب تم میں سے کوئی اس حالت میں اذان سنے کہ اس کے ہاتھ میں برتن ہو ، تو وہ اس کو اس وقت تک نہیں رکھے حتی کہ اپنی ضرورت پوری نہ کرے “. اس حدیث میں جس اذان کا تذکرہ ہے وہ در اصل دوسری نہیں ، بلکہ پہلی اذان ہے ، جو حضرت بلال رضی اللہ عنہ طلوع فجر سے پہلے دیا کرتے تھے ، اور جس کے بعد بھی سحری کا کھانا پینا حلال تھا ، جس کے تعلق سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اذانِ بلال تمہیں تمہاری سحری سے نہ روکے ، کیونکہ وہ رات میں اذان دیتا ہے “. ( طلوع فجر سے پہلے ) . اگر بالفرض یہ بات مان بھی لی جائے تو بھی یہ حدیث قرآن اور دوسری صحیح حدیث سے ٹکراتی ہے لہذا یہ قابلِ حجت نہیں ہو سکتی ، اس لئے کہ اللہ جل مجدہ نے قرآن کریم میں روزہ کے کھانے پینے کو ” اور تم اس وقت تک کھاؤ اور پیؤو حتی کہ تمہیں سیاہ دھاگہ سے سفید دھاگہ نظر آئے ” فرما کر سحری کو طلوع فجر تک ہی محدود رکھا ہے ، نہ کہ طلوع فجر کے بعد بھی کھانے کو حلال ٹہرایا ، اور اذان طلوع فجر کے بعد ہوتی ہے ، اور جس روزہ دار کے پیٹ میں طلوع فجر کے بعد کوئی چیز جائے گی تو اس کا روزہ صحیح نہیں ہوگا ، جیساکہ رئیس المفسرین محدث اور مشہور فقیہ امام بغوی رحمہ اللہ ( متوفی/516 ) اپنی مشہور معرکہ آرا فقہی کتاب ” التھذیب ” میں لکہتے ہیں ” اگر فجر طلوع ہوگئی اور اس کے منہ میں کھانا ہو تو اس کو پہینکنا واجب ہے ، اگر اس کو نگل لیا تو اس کا روزہ فاسد ہوگا “. ( التھذیب/159، ج/3 )

اور جب ہمیں شک ہو رہا ہو کہ وقتِ سحور گزر سکتا ہے ، تو اس شک کی حالت میں کھانا کھائیں ہی کیوں ؟ تھوڑی جلدی ہی اپنی سحری کیوں نہ ختم کریں ، تاکہ اپنے روزے کے تعلق سے ہمیں پورا اطمینان ہو ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” جو چیز تجھے شک میں ڈالتی ہے اس کو چھوڑ اور اس چیز کی طرف جا جس میں کوئی شک نہ ہو “. ( بخاری ، مسلم ) .

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here