اقسام نجاسات کا علمی و تفصیلی جائزہ

0
689

از : مولانا عبدالقادر فیضان بن إسماعيل باقوی ، جامعہ آبادی ، بھٹکلی ، امام و خطیب جامع البر والتقویٰ ، ابو ظبی ، متحدہ عرب امارات .

6/جمادى الآخرہ 1443ھ بہ موافق 8/جنوری 2022 ء

پہلی قسط

کتا اور سور نجس العین ہیں نجاست کی تین قسمیں ہیں : نجاستِ مُغَلَّظَہ ، نجاست مخففہ اور نجاست مُتَوَسّطہ .

نجس العین کا معنی کتے اور سور کا پورا وجود ہی نجس ( ناپاک ) ہے ، خواہ اس کی کھال ہو ، رال ہو کہ بال ، یہ کسی طرح بھی پاک نہیں ہوتا .

یہی وجہ ہے کہ جس چیز سے بھی کتا ( اسی طرح سُوَّرْ ) یا اس کی کوئی چیز مثلاً فضلہ ( گُو ، گوبر ) رال وغیرہ لگ جائے تو اس چیز کو سات مرتبہ دھوئے بغیر وہ چیز پاک نہیں ہوگی ، ان سات میں ایک مرتبہ دھول والی پاک مٹی ملا کر بھی دھونا واجب ہے .

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” طُهُوْرُ اِنَآءِ اَحَدِكُمْ اِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ اَنْ يَّغْسِلَهُ سَبْعَ مَرِّاتٍ ، اُو لَاهُنَّ بِالتُّرَابِ “. تم میں سے کسی کے برتن میں اگر کتا منہ ڈوبائے تو اس کا پاک ہونا اس طرح ہے کہ وہ اس کو سات مرتبہ دھوئے ، ان میں سے پہلے مٹی کے ذریعہ . ( احمد ، مسلم ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، بیہقی )

اور سات مرتبہ دھونے کا اعتبار نجاست عینیہ کے دور ہونے کے بعد کیا جائے گا ،  مٹی پہلی مرتبہ دھونے کے وقت بھی ملائی جاسکتی ہے ، آخر میں بھی ، اور درمیان میں بھی ، جیسا کہ ایک روایت میں ” اُخْرَاهُنَّ ” اُن میں سے آخر میں  آیا ہے ،

ایک دوسری روایت میں ” اِحْدَاهُنَّ ” اُن میں سے ایک مرتبہ آیا ہے ، ایک اور روایت میں راوی کےشک کےساتھ ” اُوْلَاهُنَّ اَوْ اُخْرَاهُنَّ بِالتُّرَابِ ” اُن میں سے پہلے یا آخر میں مٹی کے ساتھ آیا ہے . اور ایک روایت میں ” وَعَفِّرُوْهُ الثَّامِنَةَ بِالتُّرَابِ ” اور آٹھویں بار اس کو مٹی کے ساتھ دھوؤ . یعنی ساتویں مرتبہ مٹی ملاؤ ، تو یہ آٹھویں مرتبہ کے مقام پر ہوگا . ( بجیرمی بحوالۂ قلیوبی ، ج/1 ، 149 ، تحفة المحتاج ، ج/1 ، ص/108 ، نھاية المحتاج ، ج/1، 251-252 )

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اِذَ شَرِبَ الْكَلْبُ فِيْ اِنَآءِ اَحَدِكُمْ ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ “. جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا پیے تو چاہیے کہ وہ اس ( برتن ) کو سات مرتبہ دھوئے . ( بخاری ، مسلم )

چونکہ کتا اور سور اور ان دونوں یا ان دونوں میں سے کسی ایک ( مثلا کتے اور بھیڑے ، یا خنزیر اور بکری ) سے مل کر پیدا شدہ بچے نجس العین ( نجاستِ مغلظہ ) ہیں ، کسی طرح وہ پاک نہیں ہوسکتے ، دھونے کے ذریعہ ہو یا ان کے مرنے کے بعد دباغت دینے کے ذریعہ ، لہذا ان سے دور رہنا اور پوری طرح احتیاط کرنا ضروری ہے . ( امام ابوحنیفہ کے نزدیک کتے کی کھال دباغت دینے سے پاک ہوتی ہے . اوزاعی ، ابن مبارک اور ابوثور کہتےہیں! دباغت سے انہی جانوروں کی کھال پاک ہوتی ہےجو ماکول اللحم ہیں ، ( ایسے میں شیر، چیتے ، ریچھ وغیرہ کےچمڑے ان کے نزدیک پاک نہیں ہوں گے ) اور اس کوعمر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا گیا ہے . [ التھذیب ، ص/174 ] )

کتے کو مسجد یا گھر کے پاس بلا کر لے جانا یا کتے کے بالوں پر ہاتھ پھیرنا یہ کہتے ہوئے کہ اس کے بال بھیگے نہیں ہیں کہ نجاست ہاتھ سے لگ جائے ، ارے اس عین نجس کے نزدیک جانے اور حد سے بڑھ کر اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرنے کی جسارت ہی کیوں کی جائے ؟ بعض اوقات کسی کا ہاتھ بھیگا رہ سکتا ہے یا ہاتھوں پر پسینہ آسکتا ہے ، یا کتے کے بال بھیگے رہ سکتے ہیں یا اس کی رال یا اس کا بھیگا کُھر آپ کی لاعلمی میں آپ کو لگ سکتا ہے ایسے میں کیا آپ کا جسم گندہ نہیں ہوسکتا ؟
تو پھر آدمی کا سوکھا فضلہ ( گو ) ہی ہاتھ میں رکھ لو اور کہو کہ ہاتھ تو نجس اسی وقت ہوگا جب اس میں تری ہو ، چونکہ یہ تَرْ نہیں بلکہ خشک ہے اس لیے میں اس کو اپنے ہاتھ پر رکھتا ہوں ، کیا کوئی سلیم الطبع آدمی انسانی فضلہ کو ہاتھ میں لینا پسند کرے گا ؟ خواہ وہ خشک ہی کیوں نہ ہو ؟

یاد رہے کہ جس کے گھر میں کتا ہو تو اس کے گھر کے اندر فرشتے داخل نہیں ہوسکتے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ علیہ الصلوة والسلام ان صحابی کے گھر میں نہیں داخل ہوتے تھے جن کے گھر میں کتا تھا ، آپ سے عرض کیا گیا! یارسول اللہ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ فلان کے گھر میں تو تشریف لے جاتے ہیں لیکن فلان صحابی کے گھر میں کیوں نہیں جاتے ؟ فرمایا! اس لیے کہ اس کے گھر میں کتا ہے . حدیث ملاحظہ کیجیے .

نووی نے اپنی شرح میں عیسی بن مسیب کی حدیث سے ، انھوں نے ابوزرعہ سے ، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ہے کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار لوگوں کے کسی گھر میں تشریف لاتے تھے ، اور ان کے گھر کے پاس ایک گھر تھا وہاں آپ تشریف نہیں لے جاتے تھے ، یہ بات صحابہ کو بہت سخت لگی ، انھوں نے عرض کیا! یارسول اللہ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ فلاں کے گھر میں تو تشریف لاتے ہیں اور ہمارے گھر میں آپ کی تشریف آوری نہیں ہوتی ، تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اِنَّ فِيْ دَارِكُمْ ، كَلْبًا “. تمہارے گھر میں کتا ہے ، صحابہ نے عرض کیا! اُن کے گھر میں بھی تو بلی ہے ، تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اَلسِّنَّوْرُ سَبَعٌ “. بلی ایک درندہ ہے . ( احمد ، دارقطنی ، حاکم ، بیہقی )

حاصلِ مسئلہ

ائمہ ثلاثہ ، شافعی ابوحنیفہ اور احمد ( رحمہم اللہ ) کے نزدیک کتے کا جھوٹا نجس ہے ، جس برتن میں اس نے منہ ڈوبایا ہے اس کو دھویا جائے گا اور اس کو دھونا برتن کے نجس ہونے کی وجہ سے ہے ، اور پاکیزگی کی تاکید کے لیے سات مرتبہ اور ان میں ایک مرتبہ مٹی ملا کر بھی دھویا جائے گا .  جبکہ امام مالک رحمہ اللہ اس دھونے کو تَعَبُّدی کہتے ہیں ، اس کو نجاست کی وجہ سے نہیں دھویا جاتا ہے ، بلکہ ہمیں حکم دیا گیا ہے اور اس حکم پر عمل کرنا ایک عبادت ہے ، وہ کہتے ہیں! کتے کا جھوٹا پاک ہے ، اور کتے کا کسی برتن میں منہ ڈوبانے پر اس کا دھونا تعبدی ہے .

دوسری قسط

نجاست کی بہت ساری قسمیں ہیں (1) ہر نشہ آور سَيَّال ، جیسے ہر قسم کی شراب ، ( نشہ آور چیز اگر سیال نہ ہو تو وہ نجس نہیں ہے ، جیسے حشيش ،[ گانجہ ] بھنگ اور افیم وغیرہ ، گو کہ یہ تمام چیزیں نشہ آور ہیں اور ان کا استعمال حرام ہے ، لیکن خشک رہنے کی وجہ سے یہ چیزیں پاک ہیں ، جیسا کہ دقائق میں اس کی صراحت کی . ( نھایة المحتاج ، ص/234 ) ، (2) کتا سور اور ان دونوں کے بچے ، یا ان کے کسی اور جانور سے پیدا شدہ بچے ، (3) آدمی مچھلی اور ٹڈی کے علاوہ ہر قسم کا مُردار ، (4) خون ، (5) پیپ ، (6) قئ ، ( الٹی ) (7) رَوْث ، ( ہر حیوان کا فضلہ ، خواہ انسان کا ہو یا درند چرند کی لید یا پرندوں کی بیٹ ) ، (8) پیشاب ، اگر چہ کہ پرندوں مچھلیوں اور ٹڈیوں کا ہو ، یا ایسے حیوانوں کا ہو جس کے بہتا ہوا خون نہ ہو ) لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات پاک ہیں ، صاحب تحفہ کہتے ہیں کہ متقدمین اور متاخرین کی ایک جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات کو پاکیزہ قرار دیا ہے اور اس میں لمبی چوڑی گفتگو کی ہے . (101 )

صاحب نھایہ لکھتے ہیں کہ بغوی وغیرہ نے انھیں پاک قرار دیا ہے ، اور قاضی وغیرہ نے اسی کو صحیح قرار دیا ہے ، اور عمرانی نے اس کو خراسانیین سے نقل کیا ہے ، اور سبکی بارزی اور زرکشی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے . ابن رفعہ نے کہا! اور اسی کا میں اعتقاد رکھتا ہوں ، اور بلقینی نے کہا کہ اسی پر فتوی ہے ، اور قایانی نے اس کو صحیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی حق ہے . حافظ ابن حجر نے کہا کہ اس پر کثرت سے ادلہ آئی ہیں ، اور ائمہ نے اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں شمار کیا ہے ، سو اس کے خلاف اقوال کی طرف توجہ نہیں دی جائیگی ، اگر چہ کہ شافعیہ کی کثیر کتابوں میں یہ واقع ہوا ہے ، لیکن ان کے ائمہ سے یہی امر ثابت ہوچکا ہے کہ یہ پاک ہیں . انتھی( رحمھم اللہ جمیعا ) اور اسی کا ( صاحب نھایہ کے ) والد رحمہ اللہ نے فتوی دیا ہے ، اور یہی معتمد ہے ،  اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انہیں ( فضلات کا ) پاک کرنے کا حکم دینا مستحب ہونے اور مزید پاکیزگی پر محمول کیا جائے گا .

زرکشی کہتے ہیں! اور سزاوار ہوتا ہے کہ سارے انبیاء کے فضلات کے پاکیزہ ہونے کا حکم لگایا جائے . ( یہی معتمد ہے ، شبراملسی ) گو کہ جوجری نے اس پر اختلاف کیا ہے . ( نھایة المحتاج ، ص/242 )

تیسری قسط

جن جانوروں کو کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب اور لید امام مالک اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک پاک ہے . { فقہ السنہ ، 19 }

(9) مَذْي ، ایک چکنا پتلا سا پانی ہے جو غالباً پیلا ہوتا ہے ، اور غالباً جِماع کے سوچتے وقت یا فورانِ شہوت کے وقت نکلتا ہے ، تعلیقِ ابن صلاح میں ہے کہ موسم سرما میں مذی سفید گاڑھی نکلتی ہے اور موسم گرما میں پیلی پتلی ، بعض اوقات اس کے نکلنے کا احساس تک نہیں ہوتا ، یہ مردوں کی بہ نسبت عورتوں میں زیادہ نکلتی ہے ، خصوصاً ان کے ہیجان کے وقت ۔ { نھایة ، تحفة }

(10) وَدْيُ ، ایک سفید گدلا سا گاڑھا پانی جو غالباً یا تو پیشاب کے پیچھے نکلتا ہے یا وزنی بوجھ اٹھاتے وقت ۔ ( حنابلہ کے نزدیک مأکول اللحم حیوانوں کی مذی اور ودی پاک ہے . )

(11)  کتے سور اور ان میں سے ہر ایک کے بچوں کی منی ( آدمی کی منی پاک ہے اور اسی طرح اصح میں سارے حیوانوں کی ، اسی طرح حنابلہ کے نزدیک بھی انسان کی منی پاک ہے جب کہ وہ معتاد طریقہ سے لڑکے سے دس سال پورے ہونے کے بعد اور لڑکی سے نو سال پورے ہونے کے بعد لذت کے ساتھ اچھل اچھل کر آئے . { الفقه علی المذاہب الاربعة ،24 } . )

(12) آدمی کے دودھ کو چھوڑ کر سارے غیر مأکول اللحم کا دودھ . ( احناف کے نزدیک تمام حیوانوں کا دودھ پاک ہے ، حیوان خواہ زندہ ہوں کہ مردہ ، مأکول ہوکہ غیر مأکول ، سوائے خنزیر کے دودھ کے ، کہ یہ اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی نجس ہے ، { الفقہ علی المذاہب الاربعہ }) ۔

(13) اور زندہ حیوان سے جدا شدہ حصہ اس کی طہارت اور نجاست میں اس حیوان کے مردہ کی طرح ہے ، ( سوائے کھائے جانے والے جانوروں کے بالوں کے ، کہ وہ اجماعاً پاک ہیں ، اسی طرح اون ، اونٹ اور خرگوش کے بال ، پَر ، خواہ وہ جھڑ گئے ہوں یا کاٹے گئے ہوں یا پرندوں کے بازو جھاڑنے پر بال گر گیے ہوں ، اور مأکول بالوں سے ماکول کے جدا شدہ حصہ کے بال نکل گیے ، کہ اس پر رہنے والے بال نجس ہیں ، ) سو آدمی کا ہاتھ ( جسم سے جدا ہونے کے بعد بھی ) پاک ہے ، اگر چہ کہ چوری کے بدلہ میں اس کا ہاتھ کاٹا گیا ہو ، یا کٹا ہوا حصہ مچھلی یا ٹڈے کا ہو ، اور بکری کا جدہ شدہ حصہ نجس ہے ، حسن یا صحیح ( صاحب تحفہ کے الفاظ ہیں ، ) حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹوں کے کوہانوں سے کٹے ہوئے ٹکڑوں اور بکریوں کے جدا شدہ کولہوں کے تعلق سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا! ” مَاقُطِعَ مِنْ حَيٍّ فَهُوَ مَيِّتٌ “. زندہ سے جو کاٹ دیا گیا ہے وہ مردہ ہے . { حاکم اور بزَّار نے مسور بن صلت سے ، انہوں نے زید بن اسلم سے ،  انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے ابوسعید سے مرفوعاً اس حدیث کو روایت کیا ہے ، حاکم نے کہا! یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط پر صحیح ہے ، اور ذہبی ان کے موافق ہوئے } دار قطنی نے اس حدیث کو اپنی علت میں بیان کیا ہے ، پھر کہا! اور مرسل ہی اصح ہے .

دارمی ، احمد ، ترمذی ، ابوداؤد اور حاکم نے عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار کی حدیث سے ، انہوں نے زید بن اسلم سے ، انہوں نے واقد اللیثی سے حدیث روایت کی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لے آئے ، وہاں لوگ بکریوں کے کولہے أور اونٹوں کے کوہانوں سے الگ شدہ حصے لیتے تھے ، تو فرمایا! ” مَاقُطِعَ مِنَ الْبَهِيْمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهُوَ مَيِّتٌ “. کسی چوپائے سے اس کے زندہ رہنے کی حالت میں جو حصہ جدا ہوتا ہے وہ مردار ہے . الفاظِ حدیث احمد کے ہیں ، اور ابوداؤد کے الفاظ بھی انہیں کے جیسے ہیں ، لیکن انہوں نے قصہ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ [ تلخیص الحبیر ، 164 ، 165 ] . { حدیث کو احمد ، دارمی ، ابوداؤد ترمذی ابن جارود ، دارقطنی ، حاکم بیہقی ، طحاوی ، طبرانی ، اور ابن نجار نے روایت کیا ہے ، ان تمام محدثین نے عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار سے روایت کیا ہے ۔ ترمذی نے کہا! حدیث حسن غریب ہے ، ہم اس کو زید بن اسلم کی حدیث ہی سے جانتے ہیں . حاکم نے کہا! بخاری کی شرط پر صحیح ہے ، اور ذہبی ان کے موافق ہوئے ۔ } [ حاشیہ تلخیص الحبیر ]

عَلَقَہ : یہ منی سے حلّ ہوکر گاڑھا شدہ خون ہے ، اس کو علقہ کا نام اس لیے دیا گیا کہ یہ جس کو بھی لگتا ہے اس سے لٹک ( چپک ) جاتا ہے .

مُضْغَہ : یہ علقہ سے استحال ہوکر چبائے جانے کے مقدار گوشت کا ایک چھوٹا سا لوتھڑا ہے .

اور فرج ( عورت کے سامنے کی شرمگاہ ) کی رطوبت نجس نہیں ہے . جو مذی اور پسینے کے درمیان ایک متردد سفید پانی ہے جو فرج کے اتنے اندرونی حصہ سے نکلتا ہے جس کا دھونا واجب نہیں . [ برخلاف اس حصہ سے نکلنے والے پانی کے کہ جس کا دھونا واجب ہے ، ] کہ وہ قطعی طور پر پاک ہے ، اور ( برخلاف اُس پانی کے جو ) فرج کے اندر والے حصہ کے پیچھے سے آنے والے پانی کے ، کہ وہ قطعاً نجس ہے ، جیسا کہ اندر سے آنے والا سارا پانی ، جیسے وہ پانی جو بچہ کے ساتھ یا اس سے کچھ پہلے نکلتا ہے کہ یہ تمام نجس ہے ، اس کو امام نے ذکر کیا . { تحفہ ، 103 }

چوتھی قسط

*نجس العین کسی طور سے بھی پاک نہیں ہوتی مگر دوچیزوں کے*

جو چیز عین نجس ہے وہ کسی طرح بھی دھونے یا کسی چیز کے اندر کھپ جانے سے پاک نہیں ہوتی ، جیسے کوئی مردار نمک کے کھان میں گرگیا اور اس میں کھپ گیا ، یا جلا دیا گیا اور راکھ ہوگیا ، مگر دو چیزوں کے ، ایک وہ شراب جو کسی چیز کے ڈالے بغیر خود سے سرکہ ہوگئی ہو یا دھوپ سے سایے میں یا سایے سے دھوپ میں منتقل کی گئی ہو ، اگر کسی چیز ( مثلا پیاز  یا نمک وغیرہ ) کے ڈالنے سے یا ہوا کے ذریعہ کسی چیز کے اس میں گرنے کی وجہ سے وہ سرکہ ہوگئی ہو تو پاک نہیں ہوگی . اور دوسری چیز مرنے کی وجہ سے نجس شدہ جلد ، خواہ وہ مأکول اللحم حیوان ہو کہ غیر مأکول اللحم ، ( کتے اور سور کے علاوہ ) سو اس کو ظاہری اور اندرونی حصہ میں دباغت دینے کے بعد یہ پاک ہوگی . اس میں اخبار صحیحہ آنے کی وجہ سے . جیسے درج ذیل حدیث :

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اِذَ دُبِغَ الْاِهَابُ فَقَدْ طَهُرَ “. جب چمڑے کو دباغت دی جائے تو وہ پاک ہوتا ہے . مسلم نے ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو الناقد سے ، سفیان سے اس حدیث کو روایت کیا ہے . { تلخیص الحبیر /199 } اس حدیث کو اور بھی ائمۂِ حدیث نے روایت کیا ہے ، مالک ، شافعی ، احمد ، دارمی ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، ابن جارود ، طحاوی ، طبرانی ، دارقطنی ، بیہقی ، ابن شاہین اور بغوی نے بھی ، محشئ تلخیص الحبیر . }

ایک اور حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” أَيُّمَا اِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ “. جب بھی کوئی کھال دباغت دی جائے تو وہ پاک ہوجاتی ہے . { حدیث کو شافعی نے ابن عیینہ سے ، زید بن اسلم سے ، ابن وعلہ سے ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے ، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو کہتے ہوئے سنا ، اسی طرح ترمذی نے اپنی ” جامع ” میں قتیبہ سے ، سفیان سے روایت کر کے کہا کہ حدیث حسن صحیح ہے .

ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” طُهُوْرُ كُلِّ اَدِيْمٍ دَبَاغُهُ “. ہر کھال کا پاک ہونا اس کا دباغت دینا ہے . { دار قطنی }

ایک اور بخاری وغیرہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے  روایت کردہ حدیث میں آتا ہے کہ ” اَنَّهُ صلی اللہ علیہ وسلم مَرَّ بِشَاةٍ مَّيْتَةٍ لِمَيْمُوْنَةَ فَقَالَ! هَلَّا اَخَذْتُمْ اِهَابَهَا فَدَبَغْتُمُوْهُ فَانْتَفَعْتُمْ بِهِ ، فَقِيْلَ إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، فقال! أَيُّمَا اِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ “. کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر میمونہ کی ایک مری ہوئی بکری پر سے ہوا تو فرمایا! ( پوچھا ) کیوں نہیں تم نے اس کے چمڑے کو لیا کہ اس کو دباغت دیتے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ؟ عرض کیا گیا کہ وہ تو مردہ ہے ، فرمایا! جب بھی کوئی چمڑا دباغت دیا جائے تو وہ پاک ہوجاتا ہے . { بخاری وغیرہ }

چمڑے کو دباغت دینے کے بعد اس کا ظاہری اور باطنی حصہ بھی پاک ہوتا ہے . صاحبِ تحفہ لکھتے ہیں ” اور یہ دعوَى کرنا کہ دباغت اس کے اندرونی حصہ میں نہیں پہونچتی ہے ممنوع ہے ، بلکہ رطوبت کے واسطے سے وہ اس کو بھی درست ( مرمت ، پاک ) کرتی ہے ، ایسے میں اس کو فروخت کرنا اس پر نماز پڑھنا اور بھیگی ہوئی چیزوں میں اس کو استعمال کرنا جائز ہے ، ہاں اس کو کپڑے کی طباعت میں منتقل کرنے کے بعد ( دباغت دینے کے باجود ) مأکول جانور کے چمڑے کو کھانا حرام ہے ، کیونکہ دباغت دینے پر اس کے بال پاک نہیں ہوتے ، کیونکہ دباغت دینا ان پر کوئی اثر نہیں کرتا ، لیکن عُرْفًا تھوڑے سے بال معاف ہیں ، حقیقی طور پر طبعًا وہ پاک ہوتے ہیں ، جیسے شراب کا مٹکا .

بیشتر علماء نے پورے چمڑے کے ہی پاک ہونے کو اختیار کیا ہے ، اس لیے کہ صحابہ کھالیں تقسیم کیا کرتے تھے حالانکہ یہ مجوسیوں کے ذبح کردہ جانوروں اور ان کی دباغت دی ہوئی ہوتی تھیں اور کسی نے اس کا انکار نہیں کیا تھا ، بلکہ ایک جماعت نے یہ نقل کیا ہے کہ شافعی مردار کے بالوں اور ان کے اون کے نجس قرار دینے کے قول سے رجوع ہوئے ہیں ، جواب دیا جائے گا کہ رجوع ہوئے ہیں کہنا صحیح نہیں ہے ،  اور اختیار واضح نہیں ہے ، اس لیے کہ وہ ایک فعلی حالی واقعہ ہے اس بات کا احتمال رکھتا ہے کہ مجوس کا ذبح کرنا من حیث الجنس رہا ہو اور یہ کوئی اثر نہیں رکھتا مگر اُس وقت جب اس کو کسی چیز میں اپنی آنکھوں سے دیکھا جائے ، سو دعویٰ کرنے والے پر ضروری ہے کہ وہ اس کو ثابت کرے . {  106، 107 } . ( چونکہ ہمارے قارئین میں احناف حضرات بھی ہیں لہذا ائمۂِ ثلاثہ کے بعض مسائل پر بھی روشنی ڈالی جاتی ہے ، خصوصاً بعض اوقات مسائل احناف پر خصوصی توجہ رہتی ہے . )

مردار اعضاء دیگر ائمہ کرام کے نزدیک

مردار کے وہ اجزاء کہ جن پر زندگی کا رہنا منحصر ہوتا ہے وہ اجزاء نجس ہیں .

احناف کہتے ہیں : میتہ کے وہ اجزاء جس پر اس کی زندگی کا دارو مدار ہوتا ہے اس کا گوشت اور اس کی جلد ، سو یہ دونوں چیزیں نجس ہیں ، برخلاف اس کی ہڈیوں ، ناخنوں ، چونچوں ، پنجوں ، کھروں ، سینگوں اور بالوں کے ، کہ یہ پاک ہیں ، اسی طرح خنزیر کے بال بھی ان کے نزدیک پاک ہیں ، اس لیے کہ ان کا رہنا اس کی زندگی پر منحصر نہیں ، یہ کہتے ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنھا کی بکری کے متعلق فرمایا کہ ” انما حرم اکلھا “. اس کو تو کھانا حرام ہے . ایک روایت میں ” لحمھا “. اس کا گوشت کھانا . (حرام ہے . ) آیا ہے . یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ گوشت کے علاوہ چیز حرام نہیں ، تو اس میں مذکورہ اجزاء شامل ہوگیے جب کہ ان ( اجزاء ) میں دسومت ( چکناہٹ ) نہ ہو ، ایسے میں چکناہٹ کی وجہ سے وہ حرام ہوں گے .

اعصاب( پٹھوں ) کے تعلق سے دو مشہور روایتیں ہیں ، مشہور قول میں وہ پاک ہیں ، بعضوں نے کہا! اصح یہی ہے کہ وہ نجس ہیں . ( جب کہ ہمارے نزدیک مردار کی یہ ساری چیزیں حرام ہیں ، کیونکہ ان ساری چیزوں کا دار ومدارزندگی سے ہے . )

مالکیہ کے نزدیک : مردار کے جن اجزاء پر اس کی زندگی کا دارومدار موقوف ہے وہ گوشت ، جِلد ، ہڈی اور پٹھے وغیرہ ہیں ، یہ چیزیں نجس ہیں ، جبکہ بال اون ، اونٹ ، خرگوش وغیرہ کے بال ، بازو کے چھوٹے بال وغیرہ ان کے پاس نجس نہیں ہیں .

حنابلہ کے نزدیک : اون ، بال اور اونٹ خرگوش وغیرہ کے بالوں کے علاوہ مردار کے وہ تمام اجزاء جس سے اس کی زندگی رہتی ہے نجس ہیں . ( الفقہ علی المذاہب الاربعہ )

پھر یہ جاننا خالی از فائدہ نہیں ہوگا کہ ہمارے ( شوافعی کے ) اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک کتا اور خنزیر اور ان دونوں سے پیدا شدہ بچے نجس العین ہیں ، پاک ہی نہیں ہوسکتے ، جب کہ اس کے بالکل الٹ امام مالک کے نزدیک ہر زندہ حیوان طاھر العین ہے ، خواہ وہ کتا اور خنزیر ہی کیوں نہ ہو ، کسی چیز کو اگر یہ لگ جائیں تو اس کا دھونا فرض نہیں ، بلکہ تعبدی کے طور پر سنت ہے .

امام ابوحنیفہ کے نزدیک خنزیر تو نجس العین ہے لیکن زندہ کتا ان کے پاس راجح قول پر طھارة العین ہے ، البتہ حالت زندگی میں اس کے منہ سے بہنے والی رال اس کے مرنے کے بعد اس کا گوشت نجس ہونے کی وجہ سے نجس ہے ، اگر وہ کسی کنویں میں گرجائے اور اس کا منہ پانی میں نہ پہونچے تو پانی ناپاک نہیں ہوگا ، اسی طرح اگر اس نے اپنا جسم جھاڑا اور اس کے چھینٹے کسی چیز پر اڑے تو وہ چیز ناپاک نہیں ہوگی . لیکن ان کے ایک مشہور قول پر کتا نجس ہے ، اس کا جسم اور رال وغیرہ کسی چیز کو لگنے پر دوسری نجس چیزوں کی طرح اس کو بھی تین دفعہ دھویا جائے گا ، سات مرتبہ دھونا سنت یا مستحب ہے ،( شوافعی اور حنابلہ کی طرح ) فرض نہیں ، اور غالباً یہی ان کے پاس مفتی بہ قول ہے . ہم نے اپنےاساتذۂِ کرام سے ایسا ہی سنا ہے . واللہ اعلم .

دباغت کا طریقہ

تیز وتند چیزوں سے مثلاً دھار دار چیزوں یا شَتّْ یا قرظ ( ایک قسم کی گھاس ) یا پرندوں کی بیٹوں سے ،  حسن حدیث میں آیا ہے کہ ان کے ذریعہ اس کو پاک کیا جاسکتا ہے ،( موجودہ دور میں دباغت دینے کی مشینیں ہی آئی ہیں ) سے اس کے فضول ( چمڑے پر رہنے والی زاید چیزوں ) خون گوشت اور چربی وغیرہ کو اس طرح صاف کرنا کہ اگر اس چمڑے کو پانی میں ڈالا جائے تو بدبو نہ آئے . صرف دھوپ یا مٹی یا نمک پر سکھانے سے اس کو دباغت نہیں کہا جائے گا اگر چہ کہ اس سے کھال سوکھ جائے اور اس سے اچھی بو آئے ، کیونکہ اس کی عفونت ( تعفن ، بو ) تو بہرحال باقی ہی رہے گی ، اس دلیل کو اخذ کرتے ہوئے کہ اگر اس کو پانی میں ڈالا جائے تو اس کی بدبو لوٹے گی . دباغت کے دوران پانی ڈالنا واجب نہیں ، اس بنا پر کہ دباغت چمڑے سے وابستہ کرنا ہے نہ کہ اس کو دور کرنا ، اور مقصود رطب اور اس کے غیر سے بھی حاصل ہوتا ہے .

دباغت دینے کے بعد چمڑا متنجس کپڑے کی طرح ہوجائے گا

جب چمڑے کو دباغت دی جائے تو صرف دباغت سے ہی چمڑا پاک نہیں ہوگا بلکہ اس کپڑے کی طرح ہوگا جس کو نجاست ( گندگی ) لگی ہو ، کیونکہ اس کے عین طاھر ہونے سے پہلے دباغت دینے کے وقت وہ نجس اور متنجس دواؤں سے ملتا ہے ایسے میں ظاہری جِلد پر پانی ڈال کر اس کو دھوئے بغیر وہ پاک نہیں ہوگا ، خواہ اس کو کسی پاک چیز سے دباغت دی گئی ہو کہ کسی نجس چیز سے ، پھر اس میں نماز پڑھی جاسکتی ہے ، کسی سیال میں استعمال کیا جا سکتا ہے ، لیکن اس کا کھانا حرام ہوگا  اگر چہ کہ وہ کھال کسی ایسے حیوان کی ہو جس کو کھانا حلال ہو ، اس کی موت کی وجہ سے اس کے مأکول حیوان سے خارج ہونے کی وجہ سے . { نھایہ ، تحفہ اور تلخیص الحبیر کا خلاصہ }

   پانچویں قسط

نجاست تین قسم پر منقسم ہوتی ہے ، مغلظہ ، مخففہ اور متوسطہ ، جیسا کہ پہلی قسط میں گذرا ، پھر نجاستِ مغلظہ کی تفصیل بھی گزری ،

نجاست کی دوسری قسم نجاستٍ مخففہ ہے ،
اور جس بچہ نے دو سال گذرنے سے پہلے تک غذا کے طور پر دودھ کے سوا کچھ اور نہ کھایا ہو تو اُس کے پیشاب سے نجس شدہ چیز پر اچھی طرح پانی چھڑکنے سے وہ چیز پاک ہوگی ، ( دھونے کی ضرورت نہیں ہے ، ) اگر دو سال کے بعد بھی بچہ دودھ پیتا ہو تو وہ کھانے کے مقام میں ہوگا ،( اور اس کے پیشاب سے نجس شدہ چیز کو بچی اور بڑوں کے پیشاب کی طرح دھویا جائے گا ، ) . اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ بچہ جب بڑا ہوجاتا ہے تو اس کا معدہ سخت ہوجاتا ہے اور چیزوں کو کھپانے کی اس میں طاقت آجاتی ہے ، اسی وجہ سے اُن دیہاتیوں کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے جو دودھ کے علاوہ کچھ اور نہیں کھاتے ہیں ، { نھایہ/ 257 }

صاحب تحفہ شیخ الاسلام شہاب الدین ابن حجر ہیتمی لکھتے ہیں : بہرحال اگر بچہ نے غذا کے لیے دودھ کے علاوہ کچھ اور کھایا جیسے گھی ، یا بچہ کو دو سال سے زیادہ ہوئے تو ( اس کے پیشاب کو ) دھونا متعین ہوا ، چکھانے یا اصلاح کے لیے کسی چیز کو کھلانے میں کوئی نقصان نہیں ، اور نہ ہی آدمی یا غیر آدمی کے دودھ کو پلانے میں کوئی نقصان ہے ، اگر چہ کہ اوجہ ( معتبر قول ) پر وہ ( دودھ ) نجس ہو . { 108 }

صاحب نہایہ لکھتے ہیں : اور اصلاح ( درستگی ) کے لیے اس کو سفوف اور اس جیسی چیز کو کھلانے میں کوئی ضرر نہیں ۔ اور اس سے یہ مسئلہ اخذ کیا جاتا ہے کہ اگر بچہ نے دوسال سے پہلے غذا کے لیے کوئی چیز کھائی پھر اس کو چھوڑ کر صرف دودھ پینے لگ گیا تو اس کے پیشاب کو دھویا جائے گا اس پر پانی چھڑکنا کافی نہیں ہوگا ، اور یہی اوجہ ( معتبر وجہ ) ہے ، اور اس ( چھڑکاؤ ) سے لڑکی اور خنثی ( خواجہ سرا ) نکل گیے ، ان دونوں کے پیشاب کو دھونا ضروری ہے . ( بچہ پینے والے ) دودھ میں اس بات میں کوئی فرق نہیں کہ وہ پاک ہو کہ نجس ، اگر چہ کہ مغلظہ کا ہو ، آدمی یا غیر آدمی کا۔ بچہ اور غیر بچہ کے درمیان فرق یہ ہے کہ اس سے مانوس ہونے کے لیے اس کا اٹھانا زیادہ ہوتا ہے ، تو اس کے پیشاب میں نرمی کی گئی اُس صحیح قاعدہ کی وجہ سے کہ ” مَشقَّت آسانی کی طرف لے جاتی ہے اور کوئی معاملہ جب تنگ ہوجاتا ہے تو اس میں وسعت پیدا ہوتی ہے . اور اس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ ” شرع کا اصل ایسی چیزوں میں تنگی کو دور کرنا ہے جس سے بچنا سخت مشکل ہو ” اور بچہ کا پیشاب بچی کے پیشاب سے پتلا ہوتا ہے تو اس کا پیشاب کسی جگہ میں اس طرح نہیں چپکتا ( لگتا ) جس طرح لڑکی کا پیشاب چپکتا ہے ، اور اس پر جو اعتراض کیا گیا ہے اس کے جواب کا ذکر میں نے” شرحِ عباب میں کیا ہے . ( اس مسئلہ پر امام طحاوی نے ” شرح معانی الاثار ” میں ایک مزے کا نظر لکھا ہے ، علماء اس کو ضرور پڑھیں ، انہوں نے لڑکے اور لڑکی کے پیشاب پر نظر کرکے اپنے مسلک ( حنفی ) کے لیے دلائل پیش کیے ہیں . ) گزرے ہوئے مسئلہ سے یہ معلوم ہوا کہ بچہ کا غذا کے طور پر ماسوا لبن لینا اس کے پیشاب کو پانی چھڑکنے کو منع کرتا ہے اور اس کو دھونا واجب کرتا ہے ، خواہ اس کے کھانے سے پھر اس کو دودھ پینے کی ضرورت پڑے یا نہیں .

اور پیشاب لگی ہوئی چیز پر اتنا پانی چھڑکا جائے کہ پانی اس جگہ پر غالب آئے ، کپڑے جیسی چیز پر اتنا زیادہ پانی چھڑکنا شرط نہیں کہ پانی بہہ جائے ، دھونے کے برخلاف کہ اس میں پانی کا بہنا ضروری ہے . { نہایہ/ 257 }

مفسر محدث وفقیہ امام ابو محمد حسین بن مسعود بن محمد بن فرَّاء بغوی ( متوفی/ 516 ) اپنی کتاب ” التھذیب ” میں لکھتے ہیں
” اور ( دونوں کے پیشاب کے درمیان ) فرق یہ ہے کہ لڑکی کی طبیعت زیادہ گرم ہوتی ہے سو اس کا پیشاب جگہ میں اچھی طرح سے چپکتا ہے “. نَخَعِي ، ثوری اور ابوحنیفہ نے کہا ” اس کے پیشاب کو بھی دوسروں کی طرح دھونا واجب ہے “. اور خواجہ سرا مشکل کا پیشاب لڑکی کے پیشاب کی طرح ہے ، جس آلہ سے بھی نکلے . اور ہر نجاست دھونے کے ذریعہ پاک ہوتی ہے پانی کے علاوہ کوئی اور چیز اس کو پاک نہیں کر سکتی . اور یہی مذہب ہے . { 207 }

امام شافعی کا بچہ اور بچی کے پیشاب کے فرق کے تعلق سے ایک علم سے پُر جواب

فائدہ : حسن بن قطان ( 175/1 ، ابن ماجہ ) کتاب الطھارت میں کہتے ہیں : باب ماجاء فی بول الصبی الذی لم یطعم : ( اس بچہ کے پیشاب کے تعلق سے آئی ہوئی حدیث کا بیان جس نے کچھ کھایا نہ ہو . ) . حدیث ( 552 ) ہمیں احمد بن موسی بن معقل نے حدیث بیان کی ہے ، انہوں نے کہا! ہمیں ابو الیمان مصری نے حدیث بیان کی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے شافعی رضی اللہ عنہ سے نبی کی اس حدیث کے تعلق سے دریافت کیا! ” یُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ ، وَيُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ  ، وَالْماءَانِ جَمِيْعًا وَاحِدٌ ، قال! لان بول الغلام من الماء والطین ، وبول الجاریة من اللحم والدم ، ثم قال لی! فھمتَ ؟ او قال لی لقنتَ ؟ قلت لا ! قال! اِن الله تعالی لَمَّا خلق آدم خُلقت حواء من ضلعه القصیر ، فصار بول الغلام من الماء والطین وصار بول الجاریة من اللحم والدم ، قال لی فھِمْتَ ؟ قلت! نعم ، قال لی ، نفعك الله به “. کہ لڑکے کے پیشاب پر چھڑکا جائے گا اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے گا حالانکہ دونوں پانیاں ایک ہی ہیں ، کہا! اس لیے کہ لڑکے کا پیشاب پانی اور مٹی سے ( بنا ) ہے ، اور لڑکی کا گوشت اور خون سے ، پھر مجھ سے پوچھا! سمجھے؟ یا یہ کہا! یقین ہوا ؟ میں نے کہا! نہیں ! کہا! جب اللہ تعالٰی نے آدم کو پیدا فرمایا تو حواء ان کی قصیر ( کوتاہ ، چھوٹی ) سی پسلی سے پیدا کی گئی ، سو لڑکے کا پیشاب پانی اور مٹی سے ہوا اور لڑکی کا ( پیشاب ) گوشت اور خون سے ، پھر مجھ سے پوچھا! سمجھ گیے ؟ میں نے کہا! ہاں ، مجھے کہا! اللہ آپ کو اس سے نفع پہنچائے .

یہ ایک جلیل معنی ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے امام شافعی رضی اللہ عنہ پر اپنا دروازہ کھول دیا اس وقت جب ان کے شاگرد نے کہا کہ مجھے لڑکے اور لڑکی کے پیشاب کے درمیان کوئی فرق نظر نہیں آتا ہے . { محشئ تہذیب ، 207 }

چھٹی قسط

بچہ کے پیشاب پر پانی چھڑکنے اور بچی کے پیشاب کو دھونے کے لیے درج ذیل احادیث سے استدلال کیا گیا ہے :

1 : سیدتنا ام قیس بنت مِحْصَن رضی اللہ عنہا سے روایت کی گئی ہے کہ ” اَنَّهَا اَتَتْ بِاِبْنٍ لَّهَا صَغِيْرٍ لََّمْ يَاْكُلِ الطَّعَامَ اِلَى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فَاَجْلَسَهُ رسول الله صلى الله عليه وسلم فِيْ حِجْرِهِ ، فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ ، فَدَعَا بِمَآءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ “. کہ وہ اپنے ایک چھوٹے سے بچہ کو جو کھانا نہیں کھاتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی گود میں بٹھایا ، پس اس نے آپ کے کپڑوں پر پیشاب کیا ، آپ نے پانی منگوایا اور اس پر چھڑک دیا . { احمد ، بخاری ، مسلم ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، حمیدی ، ابن جارود ، طحاوی ، ابوعوانہ ، ابوداؤد الطیالسی ، ابن خزیمہ ، بیہقی ، بغوی ، زہری کے طریقہ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن مسعود سے انہوں نے ام قیس بنت محصن سے اس حدیث کو روایت کیا ہے }

لیکن کئی کتابوں میں کچھ الفاظ کی تبدیلی اور کمی بیشی کے ساتھ اس حدیث کو روایت کیا گیا ہے . جہاں تلخیص الحبیر اور مشکاۃ میں ” انھا أتت ” کے الفاظ سے روایت کیا ہے وہیں صاحب نھایہ نے ” جائت ” کے الفاظ لائے ہیں . علامہ حافظ ابن حجر نے ” انھا اتت بابن لھا ” کے بعد پہلے ” لم یبلغ ان یاکل الطعام ” جو کھانے کی عمر کو نہیں پہونچا تھا کے بعد وفی روایة کہہ کر باقی حدیث لائی ہے . اِنہوں نے ” فاجلسه رسول الله صلی الله علیہ وسلم فی حجرہ ” کے الفاظ نہیں لائے ہیں ، جبکہ مشکاة اور نھایة میں یہ الفاظ ہیں اور ہم نے اسی الفاظ کے ساتھ ترجمہ کیا ہے . پھر بچہ کے پیشاب کرنے کی جگہ اور الفاظ میں بھی قدرے فرق ہے . علامہ حافظ ابن حجر جہاں ” فبال فی حجرہ ” پس اس نے آپ کی گود میں پیشاب کیا ، کے الفاظ لے آئے ہیں ، وہاں صاحب مشکاۃ نے ” فبال علی ثوبه ” پس اس نے آپ کے کپڑوں پر پیشاب کیا ، کے الفاظ لکھے ہیں ، اور صاحب نھایہ نے ” فبال علیه ” تو اس نے آپ پر پیشاب کیا ،   کے . پھر صاحب نھایہ نے ” ونضحه ” پر اپنی حدیث ختم کی ہے تو صاحب مشکاۃ نے ” فنضحه ولم یغسله ” پس آپ نے اس پر پانی چھڑکا اور دھویا نہیں . اور حافظ ابن حجر نے آخر میں سب سے زیادہ الفاظ استعمال کیے ہیں ” فنضحه علی بوله ، ولم یغلسه غسلا ” پس آپ نے اس کے پیشاب پر ( پانی ) چھڑکا اور اچھی طرح نہیں دھویا . آگے لکھتے ہیں اور مسلم کی روایت میں ” فَدَعَا بِمَآءٍ فَرَشَّهُ ” پس آپ نے پانی منگوایا اور اس پر چھڑکا . کے الفاظ آئے ہیں .

تنبیہ :  سہیلی کہتے ہیں کہ ام قیس کا نام آمنہ ہے ،( دیکھیے ” بدرالمنیر ” [ 2 /317 ] ) اور کہا گیا کہ جذامہ ہے ، اور ان کے بیٹے کے نام کا ذکر نہیں آیا ہے .

فائدہ : اصیلی نے دعوَى کیا کہ حدیث میں آیا ہوا قول ” ولم یغسله ” ابن شہاب کے قول سے درج کیا گیا ہے .

2 : سیدہ لبابہ بنت حارث سے نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں تھے تو انہوں نے آپ کے کپڑوں پر پیشاب کیا ، میں نے کہا! ایک دوسرا کپڑا پہنیے ، اور مجھے آپ کی ازار ( سروال ، تہبند یا پائجامہ ) دیجیے حتی کہ میں اس کو دھو ڈالوں ، فرمایا! ” إِنَّمَا يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْاُنْثَى ، وَيُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّ كَرِ “. لڑکی کے پیشاب کو تو دھویا جائیگا اور لڑکے کے پیشاب پر چھڑکا جائے گا . { احمد ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے ، ذہبی ان کے موافق ہوئے }

3 : ترمذی وغیرہ کی حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” یُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ ، وَيُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ “. لڑکی کے پیشاب سے دھویا جائے گا اور لڑکے کے پیشاب سے چھڑکا جائے گا . { اسی طرح ابوداؤد اور نسائی نے اس حدیث کو ابو السمح سے روایت کیا ہے }

4 : اس باب میں عروہ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کردہ حدیث بھی آئی ہے ، کہتی ہیں ” کَانَ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيَدْعُوْ لَهُمْ ، فَاُتِيَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ فَدَعَا بِمَآءٍ فَاَتْبَعَهُ إِيَّاهُ “. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچوں کو لایا جاتا ، پس آپ ان کے لیے دعا فرماتے ، پس ایک بچہ کو لایا گیا تو اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کیا ، آپ نے پانی منگوایا اور اس کو اس پر چھڑکا . { متفق علیہ }

مسلم نے یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں” وَلَمْ يَغْسِلْهُ “. { احمد ، بخاری ، مسلم ، ابن ماجہ ، تلخیص الحبیر ، نھایہ ، تحفہ اور مشکاۃ سے ماخوذ }

ساتویں قسط

نجاستِ مُغَلَّظَہ اور مخففہ کے بعد نجاست کی تیسری قسم ” نجاستِ متوسطہ ” ہے ، اس کی دوقسمیں ہیں عینیہ اور حکمیہ ، ( جیسا کہ اس کے ماقبل کی بھی دوقسمیں ہیں ، [ نھایہ ] ) اور ان دونوں یعنی کتے اور بچہ کے پیشاب ( یعنی مغلظ اور مخفف ، تحفہ ) کے غیر سے جو چیز نجس ہوتی ہے اگر وہ عین نہیں ہو ( یعنی اگر اس میں عین نجاست نہیں پائی جاتی ہو ، تحفہ ، ) اس طرح کہ وہ حکمی نجاست ہو ، ( اس کی فقہاء نے ایک دوسرے سے قدرے مختلف تعریف کی ہے ، گوکہ مفہوم ایک ہی ہے ، صاحب نہایہ کہتے ہیں ) یہ وہ نجاست ہے جس کا نہ کسی عین ( جِزم ، جسم ) کا ادراک کیا جاتا ہو اور نہ وصف کا ، اس کا ادراک میں نہ آنا خواہ سوکھنے کی وجہ سے اس کا اثر خفیف ( ماند ) پڑنے کی وجہ سے ہو جیسے خشک پیشاب جس کا عین ( جسم ) چلا گیا ہو اور اس کا نہ تو کوئی اثر باقی ہو اور نہ ہی بو ، اس کی صفت چلی گئی ہو کہ نہیں ، جگہ کا ایسا صقیل ( صاف ، چمکدار ) ہونے کی وجہ سے کہ جس پر نجاست ٹہر نہ سکتی ہو ، ( شارح کا کلام اس بات کی صراحت کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ نجاستِ صقیل حکمیہ ہے اگر چہ کہ سوکھنے سے پہلے ہو ، ایسا نہیں ہے ، بلکہ ایسے میں اس پر لگی ہوئی نجاست عینی ہوگی ، فقہاء نے ان الفاظ سے اپنے مخالف پر ردّ کرنے کی طرف اشارہ کیا ہے جو کہتا ہے کہ ایسی چیز پر صرف ( پانی کا ) ہاتھ پھیرنا کافی ہے ۔ روضہ کی عبارت یہ ہے ” میں کہتا ہوں کہ اگر نجاست کسی صقیل چیز پر لگ جائے ، جیسے تلوار ، چھری اور آئینے پر تو ہمارے نزدیک ( صرف ) مسح کرنا ( ہاتھ پھیرنا ) کافی نہیں ہوگا ، بلکہ اس کو دھونا ضروری ہوگا . { علی شبراملسی ، 258 }) جیسے آئینہ اور تلوار ۔

صاحبِ تحفہ رقم طراز ہیں ” یہ وہ نجاست ہے جس کو نہ آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے نہ سونگھنے سے محسوس کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی چکھنے ( ذائقہ ) کے ذریعہ ، اور ( نجاست ِ) عینیہ اس کی نقیض( مخالف ، اپوزٹ ) ہے . { 108 }

شیخ محمد بن احمد شربینی قاہری کہتے ہیں ” یہ وہ نجاست ہے جس کے وجود کا تو یقین ہو لیکن اس کو کسی مزہ ، رنگ اور بو کے ذریعہ محسوس نہیں کیا جاتا ہو “. شیخ سلیمان بن محمد بن عمر بجیرمی حاشیہ میں لکھتے ہیں” یہ عبارت اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ یہ تفصیل نجاست متوسطہ کے ساتھ ہی خاص ہے ، حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ تمام قسموں میں جاری ہوتی ہے “. { الاقناع/159 } تو اس جگہ پر خود سے یا غیر سے [ جیسے بارش لگنے سے ] ( اس طرح ) ایک مرتبہ پانی بہانا کافی ہوگا ( کہ پانی اس پر سے چھڑکنے سے زیادہ بہے ، اقناع )  اس لیے کہ اس چیز پر ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں کہ جس کو دور کیا جائے ، اور اسی وجہ سے نجس پی ہوئی تلوار ، اور پیشاب میں بھیگا ہوا دانہ اور کسی نجس چیز پر پکا ہوا گوشت بھی اس ( ان چیزوں کے ) کے ظاہر ( اوپر ) پر پانی ڈالنے سے اس کا اندرونی حصہ بھی پاک ہوگا . اور اگر نجاست عین ہو ، خواہ اس کا پاک ہونا کسی عدد پر موقوف ہو یا نہیں ، ” یہ وہ نجاست ہے جو کسی چیز کو لگنے پر مزہ یا رنگ یا بو کے ذریعہ نجس ہو تی ہو ” جیسا کہ اس کی گزری ہوئی نقیض تعریف ( یعنی حکمیہ کی تعریف میں وہ نجاست جس کو آنکھیں نہ دیکھ سکتی ہوں اور نہ اس کو کسی صفت کے ذریعہ معلوم کیا جاتا ہو ، علی شبراملسی ) سے اخذ کیا جاتا ہے . تو اس کی عین گندگی کو دور کرنے کے بعد اس کے مزہ کے اوصاف کو زائل کرنا واجب ہے ، اگر چہ کہ اس کو زائل کرنا مشکل ہو اس لیے کہ اس کا باقی رہنا عین ( نجاست ) کے باقی رہنے کی دلیل ہے ، اور اوجہ میں جگہ کو چکھ کر دیکھنا جائز ہے اگر اس کے گمان غالب پر اس کے مزہ کا دور ہونا غالب ہو ، ضرورت کی بنا پر . اور حقیقت میں جگہ کے پاک ہونے کے حکم میں اس رنگ یا بو کے باقی رہنے پر کچھ نقصان نہیں جس کو اس جگہ کو سونگھنے یا ہوا کے ذریعہ محسوس کیا جاتا ہو ، جیسے خون کا رنگ یا شراب کی بو جس کا نکل جانا اس طرح مشکل ہو کہ اس کے نکالنے کے سلسلہ میں دھونے میں مبالغہ کرنے کے باوجود وہ نہ جاتی ہو ، جیسے انگلیوں کے پوروں سے کھرچنے کے باوجود اس کا رنگ یا بو نہ جاتی ہو ، اس صورت کے برخلاف ، کہ اگر یہ چیزیں بآسانی جاتی ہوں تو مزہ کے ساتھ رنگ اور بو کا بھی دور کرنا ضروری ہے . اگر یہ دونوں چیزیں کسی ایک جگہ پر ایک ساتھ رہیں اگر چہ کہ ان دونوں ہی کو دور کرنا مشکل ہو تو نقصان ہے ، اس لیے کہ ان دونوں کا رہنا عین نجاست کے باقی رہنے کی قوت پر دلالت کرتا ہے ، اور ان دونوں سے عاجز رہنا نادر ہونے کی وجہ سے . { تحفہ ، نہایہ اور الإقناع کا خلاصہ } .

آٹھویں قسط

“دھبے بو اور رنگ دور ہوئی متنجس چیز پر قلتین سے کم پانی رہنے کی صورت میں اس پر پانی بہانا شرط ہے اور غُسَالَہ پاک ہے “.

کسی متنجس چیز ( کپڑا ، برتن یا کسی اور چیز ) کی ساری نجس  صفات دور ہونے پر اس جگہ میں پانی ڈالنا شرط ہے ، نچوڑنا شرط نہیں ، یعنی پانی اگر قلتین سے زیادہ ہو ، مثلاً پاک شدہ چیز کو کسی ندی نالے تالاب یا کنویں میں ڈالا جارہا ہو تو ان میں ڈالنے سے وہ چیز پاک ہوگی ، لیکن اگر پانی کم ہو ، مثلا گھڑے یا کسی برتن میں ہو تو اس سے پانی ڈالا یا بہایا جائے نہ کہ اس میں ڈبویا جائے ، ورنہ وہ پانی ناپاک ہوگا، کیونکہ قلتین سے کم پانی تھوڑی سی بھی نجاست گرنے سے ناپاک ہوتا ہے ، اصح قول میں نچوڑنا شرط نہیں ، لیکن اُن علماء کے اقوال سے نکلنے کے لیے نچوڑنا مستحب ( سنت ) ضرور ہے جو اس کو واجب قرار دیتے ہیں . { نھایہ } اس بات میں کوئی فرق نہیں کہ چیز ( کپڑا ہونے کی صورت میں ) ایسی ہو جس کو پلَّہ ہو جیسے مخملی چادر ، یا نہیں ، جیسا کہ فقہاء کا کلام تقاضہ کرتا ہے ۔ اور مکان ( مزہ رنگ اور بو سے ) پاک ہونے کے بعد اس پر بہایا ہوا پانی اگر بغیر کسی تغیر ( تبدیلی ) کے نکلا ہو تو وہ پانی پاک ہے جب کہ اس کا وزن نہ بڑھا ہو ، ( مثلاً اس کی کسی صفت کے تغیر ہونے پر ، یا نجاست کی جگہ پوری طرح پاک نہ ہونے پر ، ) تب اس کا یہ معنی ہوگا کہ جدا شدہ بعض حصہ پر اب بھی تری باقی ہے ، ایسے میں اس کو ایک مرتبہ پاک کرنے پر دوسری مرتبہ بھی پاک کرنا اور اس کی نجاست سے نجاست نکالنا لازم ہوگا ، ورنہ اس ( کی نجاست ) کا تَحَكُّم ( مطلق العنانی ، خودسری ) باقی رہیگا ، اس سے معلوم ہوا کہ اگر پانی جدا ہونے سے پہلے نجاست کی جگہ تغیر نہیں ہوئی ہے تو وہ جگہ قطعی پاک ہوگی اور یہ کہ دھونے کے بعد اس ( نجاست والی جگہ ) کا حکم پاک جگہ کا ہوگا . اگر نجاست مغلظہ کو( سات مرتبہ دھونے کے ) پہلی ہی مرتبہ دھونے کے وقت مٹی کو ملانے سے پہلے ہوا وغیرہ نے اس پر رہی ہوئی نجاست کو اڑا دیا، تو اس چیزکوچھ بار دھونا کافی ہے ، یا ساتویں مرتبہ دھوتے وقت ، تب کچھ واجب نہیں ہوگا . اور مندوب غُسالہ ( نجاست پاک ہونے کے بعد بہایا ہوا پانی )  متوسطہ ، مغلظہ اور ظاہر میں مخففہ ، بعض فقہاء کے خلاف ، جیسے جگہ کے پاک ہونے کے بعد دوسری یا تیسری مرتبہ دھونا ، اور اس میں ( دوسری یا تیسری مرتبہ ) دھونے کے وجوب کو ساقط کرنا ، اس ( نجاست ) میں تثلیث کے مندوب ہونے کو ساقط نہیں کرتا ہے .

نویں قسط

سَيَّال کے متنجس ہونے پر اس کو پاک کرنا دشوار ہے

پانی کے علاوہ اگر کوئی سیال ( اس کا ضد جامد ہے ، ) نجس ہوا اگر چہ کہ تیل ہو تو اس کا پاک ہونا دشوار ہے ، اس لیے کہ اس کی طبیعت میں یہ چیز ہے کہ وہ پانی پہونچنے کو منع کرتا ہے ، ( اُس کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی وجہ سے ، سو پانی اس کے اجزاء کو عام نہیں کرتا ، ( اجزاء میں پوری طرح داخل نہیں ہوتا ، ) اسی وجہ سے زِئْبَقْ ( پارہ ) اسی کی طرح ہے اگر چہ کہ وہ صورتًا جامد (  ٹھوس ) رہتا ہے .

صاحب نہایہ شہاب الدین رملی لکھتے ہیں ” اگر زِئْبَقْ نجس ہوا تو دھونے سے اس کا اوپری حصہ پاک ہوگا بشرطیکہ اس کے نجس ہونے اور دھونے کے درمیان وہ ٹکڑے ٹکڑے نہ ہوا ہو ، اگر ان کے درمیان وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا تو ( پاک ) نہیں . ( ہوگا ) اور ان ہی دو حالتوں میں ان کے کلام کو محمول کیا جائے گا جو کہتے ہیں کہ اس کا پاک ہونا ممکن نہیں ، اور ان کا جو اس کے پاک ہونے کو ممکن قرار دیتے ہیں . { 262 } صاحب تحفہ شیخ الاسلام شہاب الدین ابو العباس نے بھی اپنی قدرے دوسری عبارت سے اس کے مفہوم کو بیان کیا ہے . { 111 } اسی طرح صاحب اقناع خطیب شربینی نے بھی اس مفہوم کو بیان کیا ہے .{ دیکھیے صفحہ/163 } . ایک قول میں تیل کو دھونے کے ذریعہ پاک کیا جاسکتا ہے اگر وہ تیل کے علاوہ چیز سے نجس ہوا ہو . { تحفہ }

صاحب نہایہ نے ماتن کے الفاظ کے ساتھ اس کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے ، لکھتے ہیں ” اور ایک قول میں نجس کپڑے کی طرح تیل کو بھی پاک کیا جاسکتا ہے ، اس کی صورت یہ ہے کہ اُس ( تیل ) پر خوب پانی ڈالا جائے پھر اس کو ایک تختے یا اس جیسی چیز سے اتنا ہلایا جائے کہ اس کے گمانِ غالب میں اس تمام تیل کے اندر پانی پہنچ جائے ، پھر اس کو ( تھوڑی دیر کے لیے ) چھوڑا جائے ، پھر اس ( تیل کے برتن ) کے نیچے ایک سوراخ کیا جائے، پھر جب پانی نکل جائے تو سوراخ کو بند کیا جائے ، اور محلِّ خلاف اس وقت ہے جیسا کہ کفایہ میں کہا! جب وہ ( تیل ) ایسی چیز سے نجس ہوجائے جس میں دُھْنِيَّت ( تیل جیسی چکناہٹ ) نہ ہو ، جیسے پیشاب ، ورنہ بلاخلاف وہ پاک نہیں ہوگا . { 263

سَيَّال جامد ہونے پر پاک ہوتا ہے ورنہ نہیں ، اس کے لیے درجِ ذیل زہری سے ، عبداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے ابن عباس سے ام المؤمنین سیدہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا سے روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا گیا ہے ، کہتی ہیں کہ ایک چوہا گھی میں گر کر مرگیا تب اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ” اَلْقُوْهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوْهُ “. اس کو نکال کر اس کے اطراف والا ( گھی ) نکالو اور کھاؤ . { بخاری ، مالک ، احمد ، طیالیسی ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، حمیدی ، دارمی ، ابویعلی ، طبرانی ، بیہقی ، یہ حدیث امام بغوی کی تہذیب سے لی گئی ہے . }

تحفہ اور نھایہ میں مذکورہ حدیث کے الفاظ کے ساتھ ” وَاِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَقْرَبُوْهُ “. اور اگر وہ سیال ہے تو تم اس کے قریب ( بھی ) نہ جاؤ ، کے الفاظ زیادہ آئے ہیں ،  یہ معمر کی زہری سے سعید بن مسیب سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ حدیث ہے ، اس کے تعلق سے تہذیب کے محقق ” شیخ عادل عبدالموجود ” اور ” شیخ علی محمد مُعَوَّض ” حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ یہ حدیث غیر محفوظ ہے ، یہ خطا ہے ، اس میں معمر نے خطا کیا ہے ، اور صحیح حدیث وہی ہے جو زہری نے عبیداللہ سے ، ابن عباس سے ، میمونہ سے روایت کیا ہے . { 202 }

صاحب تحفہ ونھایہ کہتے ہیں کہ خطابی کی روایت میں ” فَاَرِيْقُوْهُ  “. پس تم اس کو بہاؤ ، آیا ہے ، کیونکہ شرعاً اگر اس کو پاک کرنا ممکن ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو بہانے کا حکم نہ دیتے ، کیونکہ اس میں اِضَاعتِ مال ہے . اور اس کو بہانا واجب ہونے کا محل اسی وقت ہے جب وہ ایندھن یا چوپائے کو پلانے یا اس کو صابون جیسی چیز کے کام میں نہ لایا جاسکتا ہو ، اور قریب ہی عید سے تھوڑے پہلے مسجد وغیرہ میں روشنی کرنے اور متنجس شہد کو پاک کرنے میں اس کو کھجور کے درخت کو سینچنے کے بہانے کے متعلق حکم آئے گا .

جامد کی تعریف : جامد وہ چیز ہے کہ اگر اس میں سے کوئی ٹکڑا نکالا جائے تو باقی چیز قریب ( جلدی ) ہی اس گھڑے کو نہ بھرتی ہو ، اور مائع ( سیال ) اس کے برخلاف ہے ، جیسا کہ مجموع میں کہا . { نھایہ/263 ، تحفہ/111 }

” ہر نجاست کو دھونے کے ذریعہ ہی سے پاک کیا جاتا ہے  “. مفسر ، محدث اور فقیہ امام بغوی ” التھذیب ” میں لکھتے ہیں ” اور ہر نجاست دھونے سے ہی پاک ہوتی ہے ، پانی کے علاوہ کوئی اور چیز اس کو پاک نہیں کر سکتی ، یہی ( صحیح ) مذہب ہے . ”  اِملاء ” میں ( امام شافعی ) نے رضیع ( دودھ پیتے بچہ ) کے تعلق سے کہا! ” جب اس پر سورج طلوع ہوجائے ( یعنی دھوپ لگے ) تو اس سے نجاست کا اثر مٹ جاتا ہے ” اس سے استنجاء کرنا جائز ہوتا ہے ، ایسے میں اس کے ظاہر اور باطن کی پاکیزگی کا حکم لگایا جائے گا . اور قدیم میں کہا! ” جب زمین کو پیشاب لگا ہو ، پس وہ دھوپ کے ذریعہ سوکھ گئی تو اس پر نماز پڑھنا جائز ہے . اُس سے تیمم کرنا جائز نہیں “. اور یہ ( قول ) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دھوپ کے ذریعہ اس ( زمین کے پیشاب ) کا ظاہری ( اوپری ) حصہ ہی پاک ہوتا ہے باطنی ( اندرونی ) نہیں . اور اس سے یہ ( مسئلہ ) نکل گیا کہ جدید میں پانی کے علاوہ وہ ( جگہ جس پر پیشاب ہو ) پاک نہیں ہوتی ، جو کہ ( معتمد ) مذھب ہے . { 208 } .

دسویں قسط

” موزہ یا جوتی کو نجاستِ جامدہ لگنے پر صرف زمین پر رگڑنے سے وہ پاک نہیں ہونگے بلکہ ان پر نماز صحیح ہونے کے لیے پانی سے دھونا ضروری ہے “.

امام بغوی لکھتے ہیں ” اگر کسی کے موزوں یا جوتیوں پر نجاستِ جامدہ ( خشک نجاست ) لگی اُس نے انہیں اس وقت تک زمین سے رگڑا جب تک وہ نہ گئی ( اسکے باوجود اس کا اثر رہنے کاامکان ہے ، اسلیےہمارے اصح قول میں ان پر نماز پڑھنے سے نماز صحیح نہیں ہوگی ، جیسا کہ نیچے آیا چاہتا ہے . ) تو قدیم میں ہے کہ ” اُن پر ( کھڑے ہو کر ) نماز پڑھنا جائز ہے “.

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اِذَا وَطَاَ اَحُدُكُمْ بِنَعْلِهِ الْاَذَى فَاِنَّ التُّرَابَ لَهُ طَهُوْرٌ “. جب تم میں سے کوئی اپنی جوتی سے تکلیف دہ چیز ( گندگی ) کو روندے تو اس کو پاک کرنے کا ذریعہ مٹی ہے . { ابوداؤد }  ایک روایت میں ” اِذَا وَطَاَ الْاَ ذَى بِخُفَّيْهِ فَطَهُوْرُهُمَا التُّرَابُ ” جب کوئی گندگی کو اپنی دونوں جوتیوں سے روندے تو اُن دونوں کے پاک کرنے کا ذریعہ مٹی ہے کے الفاظ آئے ہیں .

سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اِذَا جَآءَ اَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَقْلِبْ نَعْلَيْهِ فَلْيَنْظُرْ فِيْهِمَا ، فَاِذَا رَاَى خَبَثًا فَلْيَمْسَحْهُ فِيْ الْاَرْضِ ثُمَّ لِيُصَلِّ فِيْهِمَا “. جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو چاہیے کہ وہ اپنی دونوں چپلوں کو پلٹا کر ان دونوں میں ( کو )  دیکھے ، جب  اس کو کوئی گندگی نظر آئے تو چاہیے کہ وہ اس ( ان ) کو زمین پر رگڑے پھر ان دونوں میں ( پر کھڑے ہوکر ) نماز پڑھے . { احمد ، ابوداؤد }

امام بغوی کہتے ہیں کہ اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ زمین اس کو پاک کرتی ہے ، لیکن وہ ایک ایسا جوڑ ( حصہ کی طرح ) ہو جاتا ہے جیسے استنجاء کی جگہ جب کو ئی پتھر سے اس ( اپنی شرمگاہ ) کو پونچھتا ہے ، اور ( معتمد ) مذہب میں جو کہ قولِ جدید ہے ” کہ اُس موزہ پر نماز پڑھنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ اسے پانی سے  نہ دھویا جائے “. اُسی طرح جس طرح اسے کوئی سیال نجاست لگنے پر پانی سے دھویا جاتا ہے ، اور اس کپڑے کی طرح جس کو نجاست لگتی ہے . { 209 }

نجاست کو دور کرنے میں نیت شرط نہیں

اور نجاست کو دور کرنے کے لیے نیت کرنا شرط نہیں ، ( اگر چہ کہ نجاست مُغَلِّظہ ہو . اور کیا نیت کرنا مستحب ہے یا نہیں ؟ اس میں نظر ہے ، پہلے قول کو لینا بعید نہ ہوگا . شبراملسی/262 ) نجاست لگنے کی وجہ سے اگر کوئی شخص گنہگار ہوتا ہو [ مثلا کسی کی لاپرواہی کی وجہ سے اس کو گندگی لگ گئی ] تو اس کو فوراً دور کرنا واجب ہے ، ورنہ اُس کا حکم نماز کی طرح ہوگا . [ یعنی اپنی غلطی کی وجہ سے نجاست نہ لگی ہو تو اس کو فوراً نکالنا واجب نہیں ہوگا اور نماز کے وقت تک رہ کر نماز کے لیے طہارت حاصل کرتے وقت دور کرنا کافی ہوگا. ]  ہاں! جہاں اس کا دور کرنا واجب نہ ہو وہاں اس کو دور کرنے میں جلدی کرنا سنت ہے . رہا مسئلہ اپنی جنابت کے ذریعہ گنہگار ہونے والا ، تو اس پر غسل کرنے میں جلدی کرنا واجب نہیں ، جیسا کہ اسنوی نے تحقیق کی ، اس لیے کہ مُتَنَجِّس اُس چیز سے مُلَوَّث ہوا ہے جس سے وہ گنہگار ہوتا ہے جُنُب کے برخلاف . ( کہ اس کا گنہگار ہونا اس کے غلط کام کر کے جنبی ہونے کی وجہ سے ہے اور یہ اس کے فورا غسل کرنے کو واجب نہیں کرتا )

اگر کتے کی دھلائی میں سے کچھ دھلائی کسی چیز پر لگی تو اُس کا حکم اُس جگہ کے حکم میں ہے جس سے اس کو منتقل کیا جائے ، اگر وہ اُس [ دھوئی جانے والی ] چیز کی تتریب [ مٹی ملانے کے بعد ] کے بعد اڑی ہے تو اس کو سات میں سے جس قدر [ جتنا ] باقی ہے اس قدر دھویا جائے گا مٹی نہیں ملائی جائے گی ، ورنہ بقیہ عدد کو تتریب کے ساتھ دھویا جائے گا . ( ایسے میں اگر اس کو بغیر مٹی کے سات مرتبہ دھویا گیا ہو اور ساتویں مرتبہ کسی چیز پر وہ اڑی [ یا گری ] ہو تو اس کو صرف ایک مرتبہ مٹی سے دھونا واجب ہوگا ، اس لیے کہ ساتویں مرتبہ کی دھلائی جب مٹی سے خالی ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی تو گویا وہ چھٹی مرتبہ کی دھلائی سے اڑی ، اور اس میں حکم یہ ہے کہ اس [ چھٹی مرتبہ ] سے جو اَڑتا ہے اس کو ایک مرتبہ دھویا جائے گا اس لیے کہ مُنْتَقِل الیہ کے لیے منتقل عنہ کا حکم ہے . شبراملسی /262 )

رہا [ دھول والی ] مٹیالی زمین پر سے اڑنے والی دھلائی کا مسئلہ ، تو اس پر کلام گزر گیا . [ یعنی مٹیالی زمین پر دھوتے ہوئے مغلظہ کی کچھ نجاست کسی چیز پر اڑی تو جس قدر اس کی دھلائی باقی ہے اسی قدر دھونا کافی ہوگا مٹی ملانا ضروری نہیں . ]

*اقسام نجاسات کا علمی وتحقيقی جائزہ*

گیارہویں قسط

غُسَالۂِ نجاست سے مراد وہ پانی ہے جو کسی واجب چیز کو دور کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہو . رہی بات کسی مندوب چیز کو ازالہ کرنے میں استعمال ہونے والے پانی کی ، تو اس کا غسالہ پاک ہے . اور جس پانی سے ” غیر معفو عنہ نجاست ” دھوئی گئی ہو جیسے تھوڑا سا خون ، تو وہ پانی ناپاک ہوگا ، جیسا کہ ابن نقیب نے کہا . { نہایہ /262 }

اور خون جیسی نجاست کو دھونے کا ارادہ رکھنے پر پانی [ قلتین سے ] کم رہنے پر اُس کا عینِ [ نجاست ] دور کرنے کے لیے جفنہ [ لکڑی  کے بڑے پیالے ، یامٹی کے بڑے پیالے یا کسی معدنی یا پلاسٹک ] جیسے [ بڑے برتن ] میں پانی لے کر اس [ خون ] کے اوپر  ڈالنا لازم [ طے ] ہوتا ہے ورنہ نجاست کے ساتھ پانی رہنے پر پانی نجس ہوجائے گا ۔  اور مُتَاَخِّرِيْن [ فقہاء ] کی ایک جماعت پانی اور [ دھوئی ہوئی ] جگہ یا ان دونوں میں سے کسی ایک میں نجاست نہ رہنے اور جگہ پاک ہونے پر [ غسالہ کا ] وزن زیادہ ہونے کے باوجود مسامحت [ چشم پوشی کرنے ] کی طرف مائل ہوئی ہے ، یہ کہتے ہوئے کہ شارع نے زیادتِ وزن کا اعتبار نہیں کیا ہے ایسے میں وزن کے زیادہ ہونے اور نہ ہونے کی حالت میں ایک دوسرے میں کوئی فرق نہیں ہوا ، ان کے اس قول کو اس طرح رَدّْ کیا گیا کہ جہاں نجاست نہ رہ گئی ہو وہاں پانی نے اس کو مغلوب اور معدوم [ مفقود ] بنایا ہے گویا کہ وہ وہاں تھی ہی نہیں اور نجاست کی موجودگی کے ساتھ یہ بات نہیں ہوتی ہے . { تحفہ /110، 111 ، نہایہ/262 ، 263 }

آگے صاحب تحفہ [ شہاب الدین ابن حجر ہیتمی ] لکھتے ہیں! اور معلوم شدہ یہ بات گزر گئی کہ جب [ نجاست کی ] جگہ سے نجاست کا ازالہ کرنا دشوار ہوجائے تب صرف غسالہ ہی کی طرف دیکھا جائے گا ، پھر اگر گہرائی کے ساتھ دیکھ کر دھونے کے باوجود رنگ یا بُو الگ نہ ہو رہی ہو اور اُس کا ضبط [ کنٹرول ، قابو میں لانا ] اِس طرح ظاہر ہوگا کہ اس کے دھونے میں نسبتًا اس سے  زیادہ مشقت اور کوشش صرف کرنے کی ضرورت پڑتی ہو جو عادتًا برداشت نہ کی جاتی ہو جو کپڑوں وغیرہ کو صابون اور کسی کھردری چیز کے ذریعہ دھو کر پاک کیا جاتا ہے ، تب اس تکلیف کو اٹھایا جائے گا اور اس کو اس بات سے الگ رکھا جائے گا کہ اُس [ غسالہ] کے لیے بھی اُس کے مغلظہ کے ذریعہ تغیر ہونے یا وزن بڑھنے کی وجہ سے جگہ کا ہی حکم ہے تب اس [ مُغَلَّظہ ] کے چھینٹے اڑنے پر مٹی کے ذریعہ سات مرتبہ دھونا واجب ہوگا باوجود اس کے کہ سات میں سے جو عدد باقی رہتی ہے اسی کے ذریعے جگہ پاک ہو جاتی ہے . اور اِس میں نظر ہے . اور اُن [ فقہاء ] کا کلام اس کا انکار کرتا ہے ، اور جس طرح سات میں سے مابَقِي دھلائی سے جگہ کے پاک ہونے پر اکتفاء کرنے پر مُسامحت [ چشم پوشی ] کی گئی باجود اس کے کہ ان میں سے جو دھلائی باقی رہتی ہے اس میں عین نجاست رہتی ہے اسی طرح اس کے غسالہ میں ، [ بھی مساحمت برتنی چاہیے اس کے ساتھ ساتھ تجھے گزرا ہوا مسئلہ لینے کا حق حاصل ہے کہ ایک مرتبہ عینِ [ نجاست ] کو زائل کرنے والا [ پانی ]  کہ جب غسالہ متغیر ہوکر یا وزن بڑھا کر نکلتا ہے تو اس کو سات میں سے ایک مرتبہ نہ شمار کیا جائے ، اس کے حساب کی ابتداء تو تغیر کے دور ہونے اور وزن کے زیادہ نہ ہونے کے بعد سے کی جائے . { تحفہ /111 }

بعض علماء نے اُس مُصحف کے تعلق سے فتوی دیا ہے جو غیر معفو عنہ نجاست کے ذریعہ گندہ ہوا ہو کہ اس کو دھونا واجب ہے اگر چہ کہ اس سے وہ تلف ہو سکتا ہو ، اگر چہ کہ وہ کسی یتیم کا رہا ہو ، اور اس کا دھونا فرض ہونا اُس وقت متعین [ طے ] ہوتا ہے اگر نجاست قرآن کے کسی چیز [ حرف ] پر لگی ہو اُس صورت کے برخلاف اگر وہ اس کی جِلد یا حواشی [ کناروں ] پر لگی ہو . { تحفہ ، نہایہ }

بارہویں قسط

کسی سَيَّال کے نجس ہونے پر اُس کا پاک ہونا دشوار ہے

اگر پانی کے علاوہ کوئی مائع [ یعنی سیال ] ( یہ وہ سیال ہے جو قریب ہی اس جگہ کو پاٹ دے ، یعنی عُرفًا جیسا کہ ظاہر ہے ، یہ وہ مائع ہے کہ اگر اس میں سے کچھ نکالا جائے تو اس کی جگہ کو پاٹ دے ، اس کا ضِدّ جامد ہے . تحفہ /111 ) اگر چہ کہ تیل ہو ، { نہایہ /263 } نجس ہوا تو اس کا پاک ہونا دشوار ہے ، ( اس لیے کہ وہ اپنی طبیعت کے اعتبار سے ایسا ہوتا ہے جو پانی کے پہنچنے کو منع کرتا ہے . نہایہ ) اس کے اجزاء کے الگ الگ ہونے کی وجہ سے اس کے اجزاء میں پانی پوری طرح نہیں پہنچتا ، اور اسی وجہ سے زِئَبِق بھی اسی طرح ہے اگر چہ وہ جامد کی صورت میں ہو ، اور اسی وجہ سے اس کے نجس ہونے کے سلسلہ میں درمیانی رطوبت کا پایا جانا شرط ہے اور یہ اس وجہ سے کہ وہ ہر وقت مختلف ٹکڑوں میں ٹکڑے ہوتا رہتا ہے تو یہ چیز اس سے نجس شدہ تمام ٹکڑوں میں پانی کے ملنے کو دور کر دیتی ہے اور اسی وجہ سے اگر وہ اپنے نجس ہونے اور اس کے دھونے کے درمیان ٹکڑے ہوکر اُن کے درمیان سے نہ نکلا ہو تو وہ جامد [ ٹھوس ] کی طرح ہوگا اور اس کے ظاہری حصہ کو دھونے پر وہ پاک ہوگا . { تحفہ / 110 }

اور کہا گیا! کہ تیل کو دھونے کے ذریعہ پاک کیا جا سکتا ہے اگر وہ تیل کے علاوہ کسی اور چیز سے گندہ ہو گیا ہو ، اور اس کو وہ صحیح حدیث رد [ انکار ، تردید ] کرتی ہے جو گھی میں پڑے ہوئے چوہے کے سلسلہ میں آئی ہے . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ ” سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الفَاْرَةِ تَقَعُ فِيْ السَّمْنِ ، فقال! اِنْ كَانَ جَامِدًا فَاَلْقُوْهَا وَمَاحَوْلَهَا ، وَاِنْ كَانَ مَآئِعًا فَلَا تَقْرَبُوُهُ “. نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اُس چوہے کے تعلق سے دریافت کیا گیا جو گھی میں گر گیا تھا ، تو آپ نے فرمایا! اگر وہ سخت { منجمد } ہوگیا ہو تو اس کو اور اس کے آس پاس والے [ گھی ] کو نکالو ، اور اگر وہ مائع ہو تو تم اس کے قریب نہ جاؤ . { ابوداؤد ، احمد ، الفاظ اِن کے ہیں ، حدیث صحیح ہے } ایک [ خطابی کی ] روایت میں ” فَاَرِيْقُوْهُ ” پھر تو تم اس کو بہاؤ . کے الفاظ آئے ہیں . اس لیے کہ شرعًا اگر اس کو پاک کرنا ممکن ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کو بہانے کا حکم نہیں دیتے کیوں کہ اس میں مال کو ضائع کرنا ہے ، جی ہاں! اس کو بہانے کا محل اسی وقت بنے گا جہاں اس کو ایندھن یا کسی چوپائے کو پلانے یا صابن جیسے کسی کام کے استعمال میں نہ لایا جاسکتا ہو . اور عید کے کچھ قبل اس کے ذریعے مسجد وغیرہ میں روشنی کرنے اور متنجس شہد کو شہد کی مکھیوں کو اس کو پلانے کے ذریعہ پاک کرنے کے حیلے [ بہانے ] کے تعلق سے حکم آئے گا . { تحفہ /111 ، نہایہ 263 } اور سِيَر سے تھوڑے پہلے اس کے تعلق سے ایک نفیس فرع آئے گا . { تحفہ /111 }

عبدالقادر فیضان بن اسماعیل باقوی . مقیم حالیاً ابوظبئ.

24/صفر 1442ھ . بموافق 20/سپتمبر  2022 ء

تیرہویں قسط

شیخ خطیب شربینی نے ” الاقناع ” میں نجس شدہ چیزوں کو پاک کرنے کے تعلق سے چند ( آٹھ ) فروع لکھے ہیں!

( 1 : رنگ کی ہوئی ( یا خضاب کی ہوئی ) چیز کو کسی مُتَنَجِّسْ چیز کے ذریعے پاک کرنا . 2 : زمین کو پاک کرنا . 3 : اینٹ کو پاک کرنا . 4 : نجس پانی پی ( چوسی ) ہوئی چھری یا نجس پانی کے ذریعے پکائے ہوئے گوشت کو پاک کرنا . 5 : زِئَبِقْ ( پارہ ، جو ایک قسم کا سَيَّال ہوتا ہے ) کو پاک کرنا . 6 : نجس شدہ کپڑے کی نجاست کو ( اُس میں ) نجاست سرایت نہ کرنے ( نجاست کا اس میں اثرانداز نہ ہونے ) کی وجہ سے ( صرف ) پاک کرنے پر ہی اکتفا کرنا . 7 : پانی کو چھوڑ کر تیل وغیرہ مائعات ( سَيَّالات ) کو پاک کرنا دشوار ہونا . 8 : اور منہ کو پاک کرنا . [ بجیرمی /161 ] )  جو انتہائی مفید ہیں ، گو کہ ان کا ماحصل آگے گزرا ہے ، لیکن چند اور اہم چیزیں ان میں درج ہیں جن کا معلوم کر لینا خالی از فائدہ نہ ہوگا . لکھتے ہیں!

فروع

کسی مُتَنَجِّس [ یانجس ، بجیرمی ] چیز سے  رنگی گئی وہ چیز  دھونے کے ذریعہ پاک ہوتی ہے جو ( متنجس چیز ) اُس ( رنگی گئی چیز ) سے الگ ہوئی ہو اور رنگی گئی چیز کا وزن دھونے کے بعد اپنے ماقبل کے وزن سے زیادہ نہ ہوا ہو ، [ اِس کا محل گزرے ہوئے غسالہ میں ہے ، اور اس کو یہاں لانے کی ضرورت نہیں تھی ، اس لیے کہ معتبر غسالہ کا تو صاف ہی ہونا ہے اِلَّا یہ کہ رنگائی پر کوئی جِرْم باقی رہ گیا ہو ، جیسا کہ اس کے مابعد والی عبارت اس پر دلالت کرتی ہے . بحوالۂ ق ل بجیرمی ] اور قلیوبی کا قول : اور یہاں پر اس کی حاجت نہیں ہے ، اس لیے کہ رنگائی اگر صرف مُلَمَّع [ پالش ] کرنے کے لیے ہو جیسا کہ فرضِ مسئلہ ہے تو رنگ کرنے پر کپڑے کا وزن نہیں بڑھے گا . اور ان [ خطیب ] کے قول ” اور وزن زیادہ نہ ہو ” پر دو صورتیں ہیں جب یہ دونوں برابر ہوں اور رنگائی کے بعد وزن گھٹ گیا ہو ، اس لیے کہ رنگائی بعض اوقات مصبوغ سے رنگ کو کھا جاتی [ چوستی ] ہے ، جیسے شالیں ، تو یہ رنگائی کے بعد وزن میں ہلکی ہوجاتی ہیں اگرچہ کہ اُس کا نچوڑنا مشکل ہونے کی وجہ سے اُس میں رنگ باقی رہ گیا ہو ، پس اگر اس کا وزن بڑھ گیا ہو تو نقصان دہ ہوگا . پس اگر وہ اس سےجدا نہ ہوا ، اس کے پیچیدہ ہونے کی وجہ سے ، تو وہ پاک نہیں ہوگا ، اس میں نجاست کے باقی رہنے کی وجہ سے . ( متنجس پر بجیرمی لکھتے ہیں : جہاں ( رنگ کی گئی چیز کی ) رنگائی کی جگہ گیلی ہو ، پس اگر متنجس کے ذریعہ رنگا ہوا کپڑا سوکھا ہو تو اُس پر پانی بہانا ہی کافی ہوگا اگر چہ کہ اُس کا غسالہ پاک نہ ہو . [ بحوالۂ ع ش ۔ ع ش اس کے بعد لکھتے ہیں! ( یہ اُسی وقت ) جہاں رنگ کو نجس العین اجزاء کے ساتھ نہ ملایا گیا ہو ، یہ اُس تحریر کا ماحصل ہے جس کو س م نے شارح سے نقل کیا ہے جو انہوں نے منہج پر لکھا ہے . دیکھیے : علی شبراملسی / 261 }  بجیرمی آگے لکھتے ہیں! اور اس کا محل اس وقت جب نجاست [ ٹوٹ پھوٹ کر ] ٹکڑے ٹکڑے نہ ہوئی ہو ، ورنہ وہ خون کی طرح ہوگا . { بحوالۂ س م }

*مسئلہ کا ماحصل :*

اور مسئلہ کا ماحصل یہ ہے کہ عینِ نجاست سے مصبوغ [ رنگی گئی چیز یا کپڑا ] خون کی طرح ہوگا ، اور متنجس کے ذریعہ رنگی ہوئی چیز جس میں نجاست ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گئی ہو ، یا نجاست ٹوٹی پھوٹی نہ ہو اور [ لیکن ] مصبوغ گیلا ہو تو اس وقت پاک ہوگا جب غسالہ رنگائی سے صاف ہوگیا ہو ، بہرحال اگر مصبوغ کسی ایسی نجاست سے ہو جس میں وہ [ ٹوٹ کر ] بکھری نہ ہو جیسے [ کسی چیز میں گرا ہوا چوہا ] جو اُس میں گُھل نہ گیا ہو اور مصبوغ سوکھا ہو تو اس پر اچھی طرح سے پانی ڈال کر پانی کا اس کو احاطہ کرنے پر وہ پاک ہوگا اگر کہ غسالہ صاف ہو کر نہ نکلے ، جیسا کہ س م نے کہا . اور ظاھرًا اس کے جیسا ہی اس چیز کا بھی حکم ہے جو پیشاب کے ذریعہ نجس ہوئی ہو اور اُس سے مُتَنَجِّس چیز سوکھنے کے بعد اس پر اچھی طرح پانی بہانے سے پاکیزہ ہو جاتی ہے اس لیے کہ اس ( مصبوغ ) کی رنگائی اُس مٹی کی جگہ میں ہے جس کو پیشاب یا نجس [ گندے ] پانی سے گوندھا گیا ہو . بجیرمی /161 )

2 : اگر کسی نے پیشاب یا شراب جیسی زمین پر رہنے والی جگہ پر ( یعنی اس کے سوکھنے یا اس کو کسی چیتھڑے یا اس جیسی چیز سے اس طرح پونچھنے کے بعد کہ جس کے بعد جدا ہونے والی کوئی تری نہ رہ گئی ہو ، بجیرمی بحوالۂ ق ل ) پانی بہایا کہ اس [ پانی ] نے اس [ پیشاب یا شراب کی جگہ ] کو گھیر لیا تو وہ جگہ پاک ہوگی . بہرحال اگر کسی نے خود [ عین ] پیشاب جیسی چیز پر ہی پانی ڈالا تو وہ چیز پاک نہیں ہوگی .

3 : اگر [ کچی ] اینٹ کے ساتھ کوئی سوکھی نجاست [ گندگی ] مل گئی ، جیسے لید تو وہ پاک نہیں ہوگی . ( شیخنا کہتے ہیں! مسجد کی تعمیر اور اس کی زمین میں اس کا ملنا اور اس کی زمین پر چلنا ، اگر چہ کہ وہ گیلی ہو اور اُس پر نماز پڑھنا معفو عنہ ہوگا ، اور اسی طرح گارے کے وہ برتن جس کی مٹی کو لید اور راکھ سے گوندا جاتا ہے . ( معلوم ہونا چاہیے کہ یہ موجودہ دور سے سات آٹھ سو یا اس سے زیادہ کم زمانے کی بات ہے جب ان چیزوں سے بچنا مشکل بلکہ ناممکن ہوجاتا تھا اس وجہ سے عموماً لوگوں کو بہت سارے مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اسی وجہ سے علمائے کرام نے اس کو عمومِ بلوَی کا نام دیا ہے ، لیکن موجودہ دور میں اس کو عموم بلوی میں کسی طرح بھی شامل نہیں کیا جاسکتا اور یہ چیزیں معاف نہیں ہوسکتیں . واللہ اعلم ، کیونکہ اس وقت ایسی ہر چیز سے بچنا نہایت ہی آسان ہے ) اگر چہ کہ اس کو پکاکر پختہ اینٹ بنائی جائے ، عینِ نجاست کے باقی رہنے کی وجہ سے ، اور اگر اس سے اُس ( عین نجاستِ جامدہ ) کے علاوہ کوئی اور چیز مل گئی ، ( سیال نجاست ، جیسے پیشاب ، بجیرمی /162 ) تو اس کا ظاہر والا ( بیرونی ) حصہ دھونے پر پاک ہوگا اگر اس کو [ اچھی طرح ] پانی میں بھگویا جائے جب کہ وہ ایسا نرم ہو کہ آٹے کی طرح اس کے اندر پانی پہنچتا ہو . ( یعنی اُس آٹے کی طرح جس کو مثلاً پیشاب سے گوندھا گیا ہو ، جیسا کہ شرحِ روض میں ہے ، رہی بات آٹے کی سیال ہونے والی بات جیسے گہیوں کے آٹے سے بنایا جانے والا حلوَى تو یہ آٹے کو اس میں پوری طرح سے ملانے اور اُس پر پانی بہائے بغیر پاک نہیں ہوگا . اھ ، بجیرمی بحوالۂ ، ج /1 )

4 : اگر چھری کو ( آگ میں تپانے کے بعد ، بجیرمی بحوالۂ ، ج/1 ) پانی پلایا گیا یا گوشت کو نجس پانی سے پکایا گیا تو اُن دونوں کو دھونا کفایت کرے گا . ( یعنی چھری کو سیراب کرنے گوشت کو پانی میں ابالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی ، یعنی ظاہر اور باطن میں یہ دونوں چیزیں پاک ہوں گی ، چھری اور اینٹ کے درمیان فرق یہ ہے چھری کو لینے کی ضرورت زیادہ پڑتی ہے سو اُس میں تخفیف [ آسانی ] کی گئی . بجیرمی )

5 : اور متنجس زِئَبِقْ ( جو جامد ہو اُس کو کسی نجس چیز پر رکھنے پر وہ نجس نہیں ہوتا مگر گیلے پن کے ساتھ ۔. بجیرمی بحوالۂ ق ل ، /163 ) کے ظاہری [ اوپری ] حصے کو دھونے پر وہ پاک ہو جاتا ہے جب کہ اس کے نجس ( گندہ ) ہونے اور دھونے کے درمیان وہ ٹکڑے ٹکڑے  نہ ہوا ہو ، ورنہ تیل کی طرح وہ بھی پاک نہیں ہوگا .

6 : اور کسی کپڑے پر پڑی ہوئی  نجاست کی اُس جگہ کو دھونا ہی کافی ہوگا اگر چہ کہ اس [ نجاست گرے ہوئے کپڑے ] کو نچوڑنے کے فوراً بعد ہی وہ [ اس پر ] گری ہو . ( یعنی اگر چہ کہ وہ سوکھا نہ ہو ، یہ اُس پر رد ہے جو یہ کہتا ہے! کہ اگر گیلے کپڑے کی کسی جگہ پر نجاست گری تو وہ باقی کپڑے پر بھی  پھیل جاتی ہے ، یہ ضعیف ہے، معتمد میں باقی کپڑے پر وہ نہیں پھیلتی . بجیرمی بحوالۂ شیخنا )

7 : اگر پانی کے علاوہ کوئی مائع ( یعنی سَيَّال ) نجس ہوا ، ( یعنی آگے گزری نجاست غلیظہ نجاست مخففہ اور ان دونوں کے علاوہ گندگیوں سے ، پس اس میں اس ( سیال ) کی تخصیص ہے ، اور اگر وہ اس [ نجاست گرنے ] کے بعد جم گیا [ سخت ہوا ] جیسے شہد جو شکر ہوئی ہو اور دودھ جو پنیر ہوگیا ہو اس کے عکس کے برخلاف جیسے آٹا کہ جس کو دودھ کے ذریعہ گوندھا گیا ہو ، اگر وہ پگھل گیا تو اس کو باریکی [ احتیاط ] کے ساتھ جمانے کے بعد دھونے پر وہ پاک ہوگا ، رہی بات شکر جیسی چیز کی ، اگر وہ جمنے کے بعد نجس ہوئی تو دھونے کے بعد [ یا اس کو کھرچنے پر ] اس کا ظاہری حصہ پاک ہوگا ، یا اس کے پگھلنے کی حالت میں ، [ دھویا یا نجاست کو کھرچ کر نکالا ] تو مطلق طور پر وہ پاک نہیں ہوگا ، جیسے شہد ، جیسا کہ س م کی عبارت اس کا فائدہ دیتی ہے ، اور یہ ظاہر ہے ۔ اور اگر وہ ٹھوس ( جامد ) زئبق  سے [ نجس ہوا ] تو وہ کتے جیسی کھال میں رکھنے سے نجس نہیں ہوتا جہاں وہ [ کھال ] گیلی نہ ہو ، ورنہ وہ مطلق طور پر دھونے سے پاک ہوگا ، یا کلبی نجاست میں مٹی کو ملانے کے ساتھ جب کہ وہ [ مائع ] ٹکڑے ٹکڑے نہ ہوا ہو ، ورنہ اس کو پاک کرنا دشوار ہوگا . پس اگر اس میں کوئی چوہا مرگیا تو وہ نجس نہیں ہوگا . اس کو ابن قطان نے کہا ۔ یعنی جہاں وہ گیلا نہ ہو۔ بجیرمی بحوالۂ ق ل علی الجلال /163 )

8 : اور جب کوئی اپنا متنجس ( گندہ شدہ ) منہ دھوئے تو چاہیے کہ وہ غرغرہ کرنے میں مبالغہ سے کام لے ( اگر چہ کہ روزہ دار ہو . بجیرمی /163 ) تاکہ [ منہ کے ] ہر ظاہری حَدّ [ آخری ، انتہائی ] تک کے حصے کو دھوئے اور اس کو دھونے سے پہلے نہ کچھ کھائے ( یعنی نہ کھانا واجب ہے . بجیرمی ) نہ پیے ( یعنی پانی کے علاوہ کچھ نہ پیے ، اس لیے کہ پانی کے محض منہ پر جاری ہونے سے اس کی جگہ پاک ہوگی اور [ جاری ہونے والا ] پانی مستعمل ہوگا ، سو یہ پانی پینے والے کے لیے مستعمل [ کے حکم میں ] ہوگا ، اور یہ [ اس کا استعمال ] پینے والے کے لیے کراہت کے ساتھ جائز ہوگا . بجیرمی ) تاکہ وہ نجاست کو کھانے ( یعنی اور پینے والا بھی ،  یا آکلا کی تاویل متناولا سے کی جائے ، ایسے میں یہ کھانے اور پینے دونوں کو شامل کرے گا اور یہ حرام ہے . بجیرمی ) والا نہ ہو جائے . { الاقناع /161، 162 ، 163 }

اقسام نجاسات کا علمی وتحقیقی جائزہ

گیارہویں قسط ( چودہویں قسط )

ازالۂِ نجاست میں دوسرے ائمہ کرام کا مسلک

احناف کے نزدیک ماء طاہر ، ماء طھور کے علاوہ ہے لیکن نجاست کو دور کرنے کے تعلق سے یہ ماءِ طہور کی طرح ہے . اسی طرح اس مائعِ طاہر ( پاک سیال ) سے بھی نجاست کو دور کیا جاسکتا ہے جب اس کو نچوڑا جائے تو وہ ( سیال ) نچڑ جائے ، جیسے سرکہ اور گلاب کا پانی ، تو ان تینوں کے ذریعہ ہر متنجس چیز کو پاک کیا جا سکتا ہے ، نجاست خواہ مرئی ہو کہ غیر مرئی ، غلیظہ ہو کہ خفیفہ ، خواہ وہ کپڑے پر لگی ہو ، بدن پر یا کسی جگہ پر . ان کے نزدیک متنجس کپڑے کو عینِ نجاستِ مرئیہ کو دور کرنے کے بعد اگر کسی برتن وغیرہ میں دھو رہا ہو تو تین مرتبہ دھوئے بغیر وہ پاک نہیں ہوگا اس شرط کے ساتھ کہ ہر مرتبہ اس کو نچوڑا جائے ، اور اگر کسی جاری پانی میں دھو رہا ہو یا پانی کپڑے پر ڈال رہا ہو تو ایک مرتبہ سے ہی کپڑا پاک ہوجائے گا .

اگر کوئی کپڑا نجاست سے لت پت ہوجائے تو اس کو دھونے کے بعد پانی اگر صاف ہوکر الگ ہوا تو وہ پاک ہوگا اگر چہ کہ ( نجاست کا ) رنگ باقی رہے ، کیوں کہ اثر کا باقی رہنا نقصان دہ نہیں ہے ، جیسے نجاست کی جگہ میں رنگ یا بو کا رہ جانا اگر اس کو دور کرنا مشقت والا کام ہو ، مشقت کی تفسیر اس صفت کو دور کرنے کے لیے پانی کے علاوہ چیز مثلاً صابون وغیرہ کی ضرورت پیش آئے .

اگر نجاست غیر مرئیہ ہو تو جس چیز پر وہ لگی ہو ، دھونے والے کے گمانِ غالب پر اس جگہ کے پاک ہونے کا گمان آجائے تو وہ چیز پاک ہوگی ، جس چیز کو وہ لگی ہو اس کو تین مرتبہ دھونا اور ہر مرتبہ نچوڑنا معتبر مانا جائیگا ، اور اگر مکان یعنی زمین ہو تو تین مرتبہ اس پر طاہر پانی بہایا جائے گا اور ہر مرتبہ کسی پاک کپڑے سے اس کو سوکھایا جائے گا ، اس کے علاوہ اس پر اتنا زیادہ پانی بہانے پر بھی وہ پاک ہوگی اگر پانی بہانے کے بعد کوئی اثرِ نجاست باقی نہ رہتا ہو ، اور خشک ہونے سے بھی زمین پاک ہوتی ہے ایسے میں اس پر پھر پانی ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوگی .

بدن اس طرح پاک ہوگا کہ دھونے کے بعد دیکھی جانے والی عین نجاست دور ہوجائے ، اور غیر مرئی نجاست ہونے کی صورت میں پاکیزہ ہونے کے غلبۂِ ظن کے ساتھ .

مُتَنَجّس برتن پکی ہوئی مٹی ( گارے ) لکڑیوں اور لوہے اور اس جیسی دھات کے ہوتے ہیں ، ان کو چار طریقوں سے پاک کیا جاسکتا ہے ، جلاکر ، تراش ( یاکھرچ ) کر ، پونچھ کر اور دھونے کے ذریعہ ، برتن اگر پکے گارے کے یا پتھر کے اور وہ نیے ہوں اور ان کے اجزاء میں نجاست داخل ہوئی ہو تو انھیں جلانے کے ذریعہ پاک کیا جا سکتا ہے ، اور اگر پرانے ہوں تو دھونے کے ذریعہ یہ پاک ہوں گے ، اور اگر برتن لکڑی کے ہوں تو نیے ہونے کی صورت میں تراشنے کے ذریعہ پاک ہوں گے اور قدیم ہونے پر دھونے کے ذریعے ، اور اگر لوہے یا پیتل تانبے یا سیسے یا کانچ ( شیشے ) کے ہوں اور یہ صقیل ( چکنے ) ہوں تو پونچھنے کے ذریعے پاک ہوں گے ، اور اگر صقیل کھردرے ہوں تو دھونے کے ذریعے پاک ہوں گے .

اور متنجس مائعات ( سیالات ) جیسے تیل اور گھی پر تین مرتبہ ان سے اوپر آنے تک پانی ڈالنے سے پاک ہوں گی ، یا کسی سوراخ شدہ برتن میں ڈال کر اس میں پانی ڈالا جائے اور سوراخ کو بند کیا جائے اس سے تیل یا گھی اوپر آئے گا پھر اس کو ہلایا جائے اور نچلے سوراخ کو کھول دیا جائے جب پورا پانی نکل جائے تو سوراخ بند کر دیا جائے ، اور متنجس چیز جامد ہونے کی صورت میں نجس شدہ چیز کو نکال پھینکا جائے تو وہ پاک ہوگا ، اور شہد کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے اندر پانی ڈال کر اتنا پکایا جائے حتی کہ شہد ہی رہ جائے ، اس طرح اور دو مرتبہ پانی ڈالا جائے .

*اقسام نجاسات کی بارہویں قسط (پندرہویں)*

کسی طشت ( تانبے یا پیتل کا بڑا برتن جس میں نہایا جاتا ہے ، موجودہ وقت میں ٹپ کہہ سکتے ہیں ) یا قصعہ ( لکڑی کا بڑا پیالہ ، اور برتن کا یہی حکم ہوگا ) میں اگر نجس پانی ہو تو اس کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہوگا کہ پاک پانی اس کے اندر اتنا ڈالا جائے کہ اس کی ہر جانب سے پانی بہنے لگے ، اس طرح قول راجح میں وہ پاک ہوگا اگر چہ کہ متنجس کے جتنا پانی باہر نہ نکلے ، اسی طرح کنوؤں اور حمام ( غسل خانے ) کے ٹینکوں کو پاک کیا جائے گا اور اس سے پانی پاک ہوگا ۔

اسی طرح دوسری چیزوں کو پاک کرنے کے اور طریقے بھی ہیں ، جیسے گھسنا یا رگڑنا ، کسی متنجس چیز کو نجاست جانے تک اچھا رگڑنا ، اور اسی طرح تراشنا یا کھرچ کر گندگی نکالنا ، اگر موزے یا جوتی کو گندگی لگی ہو تو اس کو ہاتھ یا لکڑی سے کھرچنے سے وہ پاک ہونگے بشرطیکہ نجاست جسم والی ہو اگر چہ کہ تر نجاست ہو ، یہ وہ نجاست ہے جو سوکھنے کے بعد نظر آتی ہے ، جیسے پائخانہ اور خون ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اِذَا اَتَى اَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُقَلِّبْ نَعْلَيْهِ ، فَاِنْ كَانَ بِهِمَا اَذًى فَلْيَمْسَحْهُمَا بِالْاَرْضِ ، فَاِنَّ الْاَرْضَ لَهُمَا طَهُوْرٌ “. جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو چاہیے کہ وہ اپنی دونوں چپلوں کو پلٹا ( کر دیکھے ) ئے ، اگر ان دونوں پر کسی قسم کی گندگی ہو تو ان دونوں کو زمین سے رگڑے ، بیشک زمین ان دونوں کے لیے پاک کرنے کا ذریعہ ہے .

بہرحال نجاست اگر جسم والی نہ ہو تو ان دونوں کو پانی سے دھونا واجب ہے ،( یہی حکم ہمارے نزدیک بھی ہے ) اگر چہ کہ سوکھنے کے بعد ہو ۔

اور اثرِ نجاست کو دور کرنے کا ایک طریقہ مسح کرنا یعنی پونچھنا بھی ہے اور اس سے صقیل شیشے بلور اور آئینے جیسی چیزیں صاف ہوتی ہیں ، جیسے تلوار ، چھری ، ناخن ، ہڈی ، شیشہ اور چکناہٹ اور اس جیسے برتن ۔

اور حجامت کی جگہ کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بھیگے ہوئے تین پاک چندیوں ( یا پرانے چیتھڑوں ) کو لے کر اس جگہ کو صاف کیا جائے ، اور پاک کرنے والے طریقوں میں سے ایک طریقہ دھوپ یا ہوا کے ذریعہ کسی چیز کا سوکھ جانا ہے ، اس سے زمین اور ہر وہ چیز پاک ہوتی ہے جو زمین پر ثابت ہے ، جیسے درخت اور گھاس . دری ، چٹائی اور ہر اس چیز کے خلاف جن کا اٹھایا جانا ممکن ہو ، یہ چیزیں دھویے بغیر پاک نہیں ہوں گی ۔ سوکھنے سے زمین پاک ہوتی ہے اس کے لیے دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے ” ذَكَاةُ الْاَرْضِ يُبْسُهَا “. زمین کی پاکیزگی اس کا سوکھنا ہے . اس زمین پر نماز تو صحیح ہوگی پَرْ اس سے تیمم کرنا صحیح نہیں ہوگا ،( امام ابوحنیفہ اور امام محمد بن حسن کے نزدیک دھوپ نے اگر زمین سے نجاست کا اثر زائل کیا ہو تو وہ زمین پاک ہوگی ، جبکہ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل نزدیک نجاست والی زمین پانی کے بغیر پاک نہیں ہوگی ) کیونکہ تیمم کے لیے طہوریتِ تراب کا ہونا شرط ہے جیسا کہ وضو میں طہوریتِ ماء کا پایا جانا شرط ہے ۔ پاک کرنے کے طریقوں میں سے ایک طریقہ کھرچنا یا تراشنا بھی ہے کہ اس سے آدمی کی خشک منی پاک ہوتی ہے ، جبکہ تر منی کو دھونا واجب ہے ، رہی غیر آدمی کی منی کہ یہ کھرچنے سے پاک نہیں ہوگی ، اس لیے کہ کھرچ کر نکالنے کی رخصت آدمی کی منی میں ہی دی گئی ہے اس پر اس کے غیر کو قیاس نہیں کیا جائے گا  اور پاک کرنے کا ایک طریقہ دھننا بھی ہے کہ جس سے روئی کو پاک کیا جا سکتا ہے .

نجاست کی تیرہویں (سولہویں) قسط

*امام مالک کے نزدیک نجس شدہ چیز کو پاک کرنے کا طریقہ*

مالکیہ کہتے ہیں کہ محلِّ نجاست کو آبِ طہور کے ذریعہ دھونے سے وہ جگہ پاک ہو جاتی ہے اگر چہ کہ ایک ہی مرتبہ دھونے سے وہ نجاست کیوں نہ دور ہوئی ہو جب کہ اس جگہ سے پانی پاک ہو کر نکلا ہو ، پاک أوساخ ( میل وکچیل ) سے اس پانی کے بدل جانے سے کوئی نقصان نہیں . نجاست کی جگہ سے اس کا مزہ دور ہونا شرط ہے اگر چہ کہ اس کو دور کرنا دشوار ہو ، اس لیے کہ اس کا باقی رہنا نجاست کا اس پر قابو رکھنے کی دلیل ہے ، اسی طرح رنگ اور بو کو بھی دور کرنا شرط ہے اگر انھیں دور کرنے میں بہت زیادہ مشکل درپیش نہ ہوتی ہو ، اگر نجاست کی جگہ سے اِنہیں دور کرنے میں زیادہ دِقَّت پیش آتی ہو ، جیسے نجاست سے آلودہ کسی  چیز سے رنگ وبو کا دور کرنا ، تو اس چیز کی پاکیزگی کا حکم لگایا جائے گا ، ان کو دور کرنے کے لیے گرم پانی کا استعمال کرنا لازم نہیں جیسا کہ اَشنان اور صابون جیسی چیزوں سے انہیں دھونا لازم نہیں . نجاست کے اوصاف میں سے کسی وصف ( صفت ) سے تغیر شدہ غُسالہ ( نجاست کو صاف کرنے کے بعد اس پر بہایا ہوا پانی ) نجس ہے ، ہاں ! غسالہ اگر رنگ یا میل سے بگڑا ہو تو وہ نجس نہیں ہوگا .

جس کپڑے یا چٹائی یا موزہ یا جوتی پر نجاست لگنے کے متعلق شک پیدا ہوا ہو تو ان پر ایک مرتبہ اتنا پانی چھڑکنا کافی ہوگا جو ان چیزوں پر عام ہو ، ( گھیر لے ) رہی بات بدن اور زمین پر نجاست لگنے کے تعلق سے شک پیدا ہونے کی ، تو یہ چیزیں دھوئے بغیر پاک نہیں ہوں گی ، اس لیے کہ چھڑکنا خلافِ قیاس ہے ، سو ان چیزوں میں اسی پر اقتصار کیا جائے گا جو وارد ہوا ہے ، اور یہ ثوب ، حصیر ، خُفّْ اور نعل ہیں ، اگر ان کو پانی سے دھویا جائے تو زیادہ احتیاط والی بات ہوگی ، اس لیے کہ دھونا اصل ( بنیاد ) ہے اور نضح ( چھڑکنا ) تخفیف کے لیے ہے . جس زمین کے متعلق یقین ہو کہ وہ نجس ہوئی ہے یا اس کے نجس ہونے کے متعلق ظن ( گمانِ غالب ) ہو تو اس کو پاک کرنے کے لیے اس پر اتنا زیادہ پانی بہایا جائے گا کہ عین نجاست کے ساتھ اس کے اوصاف بھی دور ہوں . اُس اعرابی ( دیہاتی ) کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے جس نے مسجد میں پیشاب کیا تھا جس پر بعض صحابہ نے چلایا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑنے اور اس کی پیشاب کردہ جگہ پر پانی کا ایک بڑا ڈول بہانے کا حکم دیا تھا ، جیسا کہ بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے ۔ ( حدیث ملاحظہ ہوں )

” سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے کہ ایک دیہاتی مسجد میں اس حالت میں داخل ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف ( بیٹھے ) رکھے ہوئے تھے ، اُس نے نماز پڑھی – ابن عبدہ کہتے ہیں کہ دو رکعتیں – پھر کہا! اللھم ارحمنی ومحمدا و لا ترحم معنا أحدا ( اے اللہ ! مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما ) نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا “. حقیقت میں تو نے وسعت میں سختی کی . پھر کچھ زیادہ دیر نہیں رکا کہ مسجد کے ایک کونے میں پیشاب کیا ، لوگ ( صحابہ ) تیزی سے اس کی طرف آئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں ( کچھ کرنے سے ) روکا اور فرمایا! ” اِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِيْنَ وَلَمْ تُبْعَثُوُامُعَسِّرِيْنَ ، صَبُّوا عَلَيْهِ سَجْلًا مِّنْ مَّاءٍ ” او قال! ” ذَنُوْبًا مِّن مَّاء “. تمہیں تو آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے نہ کہ مشکل ( سختی ) بنانے والا بنا کر ، اس پر پانی کا ایک بڑا ڈول بہاؤ ۔ یا آپ نے فرمایا!” ذنوبا من ماء “۔ ( اس کا معنی بھی بڑا ڈول ہی ہے ) اور پانی اگر نجس ہوجائے تو اس کو پاک کرنے کے لیے اس پر اتنا زیادہ پانی ڈالا جائے کہ نجاست کی پوری صفات دور ہوجائیں ۔

رہا مسئلہ! پانی کے علاوہ مائعات یعنی سَیَّالَات کا جیسے تیل ، گھی اور شہد کا ، سو یہ تھوڑی سی نجاست گرنے سے ہی ناپاک ہوجاتی ہیں ، اِنہیں کسی حال میں بھی پاک نہیں کیا جاسکتا ۔ ( جیسا کہ شوافعی کے اصح قول میں )
{ الفقہ علی المذاہب الاربعہ ، لعبدالرحمن الجزیری ، 36 ، 37 }

اقسام نجاسات کی چودہویں (سترہویں) قسط

*حنابلہ کے نزدیک متنجس کے پاکیزگی کی کیفیت*

حنابلہ کے نزدیک زمین اور اس جیسی چیز کے علاوہ نجس شدہ چیز کو پاک پانی سے اس طرح سات مرتبہ اچھی طرح دھویا جائے گا کہ اس کے بعد نجس شدہ جگہ پر کوئی نجاست باقی نہ رہے اور نہ ہی مزہ اور رنگ ، اگر چہ کہ نجاست ساتویں مرتبہ دھونے پر ہی کیوں نہ دور ہوجائے ، یہ رہی بات عام نجس شدہ چیزوں کی ، پھر نجاست اگر کتے یا سور یا اُن دونوں سے پیدا شدہ یا اُن دونوں میں سے کسی ایک سے پیدا شدہ بچوں کی ہو تو ان سے نجس شدہ چیزوں کے پاک ہونے کے لیے سات مرتبہ دھوتے وقت ایک مرتبہ پاک مٹی ملا کر یا صابون جیسی کسی چیز کے ذریعہ دھونا واجب ہوگا ، بہتر یہی ہے کہ مٹی یا اس جیسی چیز پہلی مرتبہ دھوتے وقت ہی ملائی جائے ، ( شوافعی کی طرح )  سات مرتبہ دھونے کے باوجود گندگی کا اثر باقی رہا تو تب تک اس کو دھویا جائے گا جب تک کہ نجاست دور نہ ہوجائے ، اس کے باوجود بھی اگر نجاست کا مزہ باقی رہا اور چیز پاک نہیں ہوئی تو معفوعنہ ہوگا، اگر نجاست کے رنگ یا بُو کو دور کرنا مشکل ہوا ، یا یکساتھ دونوں کو تو متنجس جگہ پاک ہوجائے گی .

اور نجاست پی ہوئی چیز کو پاک کرنے کے لیے ہر مرتبہ پانی کے باہر نچوڑنا شرط ہے اگر چیز کو نچوڑنا ممکن ہو ، اور اس حد تک نچوڑنا ہی کفایت کرے گا جس سے کپڑا خراب نہ ہوتا ہو ۔ بہرحال جو چیزیں نجاست نہیں چوستی ہوں جیسے برتن ، تو اِنہیں پاک کرنے کے لیے ان پر سات مرتبہ پانی ڈالنا اور ہر مرتبہ برتن سے پانی جدا ہونے سے یہ پاک ہوں گے ، رہی بات نجاست پی ( چوسی ) ہوئی اُن چیزوں کی جنہیں نچوڑا نہیں جاسکتا ہو تو اِنہیں ( سات مرتبہ دھوتے وقت ) کسی چیز سے کوٹنا ( مارنا ) یا ان پر کسی وزنی چیز کا رکھنا یا سات مرتبہ دھوتے وقت ہر مرتبہ ان کو اس طرح ادھر ادھر پلٹانا کہ پانی اس سے الگ ہوجائے ، کافی ہوگا ۔

اب رہا متنجّس زمین اور ان جیسی چٹانوں وغیرہ جیسے بڑے یا گھروں کے اندر والے چھوٹے حوضوں ( یا ٹنکیاں ) کا مسئلہ ، تو ان کو نجاست سے پاک کرنے کے لیے ان میں اتنا زیادہ پانی ڈالا جائے گا کہ عین نجاست ان کے اندر سے نکل جائے ۔ اب رہا اُس دودھ پیتے بچے کے پیشاب سے نجس شدہ چیز کا حکم جس نے رغبت سے کوئی اور کھانا نہیں کھایا ہو تو اُس پر اتنا پانی ڈالا جائے کہ پانی اس پر چھا جائے ، ( غالب آئے ) اگر چہ کہ الگ نہ ہو ، اور اس کے پیشاب کی طرح ہی اس کی قئ کا بھی حکم ہے . واللہ اعلم ۔ { الفقہ علی المذاہب الاربعہ لعبدالرحمن الجزیری، ٣٧ }

عبدالقادر فیضان بن اسماعیل باقوی۔ مقیم حالیا ابوظبئ ۔ 15/جمادي الآخرہ 1443ھ  بہ مطابق 18/جنوری 2022 ميلادي .

*نجاست کی پندرھویں (اٹھارہویں) قسط

*کتے کو پالنے ، اُس کے ساتھ مل جُل کر رہنے ، اس کے بدن پر ہاتھ پھیرنے اور اس کو پکڑنے پر شریعت کی سخت وعید ، اور یہ کہ اس سے ہر دن اس کے اعمال کم ہوتے جاتے ہیں*

درجہ ذیل احادیث سے استدلال کیا گیا ہے :

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” مَنْ اَمْسَكَ كَلْبًا فَاِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيْرَاطٌ اِلَّا كَلْبَ حَرْثٍ اَوْ مَاشِيَةٍ “. جس نے کتے کو ( اپنی ) گرفت میں لیا ، ( پکڑا ) تو ہر دن اُس کے عمل میں سے ایک قیراط ( جبل احد کے برابر نیکیاں ، یا ایک چھوٹے سکے کے برابر ) کم ہوتا ہے ، سوائے کھیت یا مویشی کے کتے کے . { بخاری ، مسلم }

علامہ حافظ ابن حجر تلخیص الحبیر میں لکھتے ہیں کہ شریعت نے جب کتوں کے نجس ہونے کا حکم لگایا تو ان کے ساتھ مل جل کر رہنے سے سختی کے ساتھ منع کیا ، رہا اس کے گندہ ہونے کا حکم تو وہ آگے گزرا ۔ بہرحال ان کے ساتھ مل جُل کر رہنے سے روکنے کی حدیث کو بخاری اور مسلم نے ابن عمر ( رضی اللہ عنھما ) سے روایت کردہ حدیث کو اُن کے اِن الفاظ سے روایت کیا ہے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتے ہوئے سنا! ” مَنْ اِقْتَنَى كَلْبًا اِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ اَوْ مَاشِيَةٍ ، فَاِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ اَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيْرَاطَانِ “. جس شخص نے کسی کتے کو ( آسودگی اور مشرکین کی تقلید کرتے ہوئے ) پالا ،( کسی کتے کو اپنے لیے اختیار کیا ) سوائے کھیت یا مویشی ( مثلا بکریوں کو بھیڑیوں سے بچانے ) کے لیے ، تو اس میں شک نہیں کہ ہر دن اس کے اجر ( ثواب ) میں سے دو قیراط گھٹ جائیں گے . { مالک ، بخاری ، مسلم ، ترمذی ، نسائی ، احمد ، دارمی ، حُمَیدی ، عبدالرزاق ، ابویعلی ، طحاوی ، بیہقی ، تلخیص الحبیر ، ریاض الصالحین ، الترغیب والترھیب }

بخاری کی ایک روایت میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” مَنْ اِقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبٍ مَّاشِيَةٍ اَوْ صَيْدٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيْرَاطَانِ “. جس شخص نے کسی کتے کو پالا جو مویشی یا شکار ( کرانے ) کے لیے نہ ہو تو اس کے عمل سے ہر دن دو قیراط کم ہوتے رہیں گے { الترغیب والترھیب ، 4747 } . اور مسلم کی ایک حدیث میں درجِ ذیل الفاظ آئے ہیں ، ” اَيُّمَا اَهْلِ دَارٍ اِتَّخَذُوْا كَلْبًا اِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ اَوْ كَلْبًا صَائِدًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهمِْ كُلَّ يَوْمٍ قِيْرَاطَانِ “. جب بھی کوئی گھر والے کسی کتے کو اپنا بنا لیتے ہیں سوائے مویشی یا شکاری کتے کے ، تو ہر دن ان کے عمل سے دو قیراط گھٹ جاتے ہیں . { الترغیب والترھیب/4748 }

مسلم کی ایک اور روایت میں آتا ہے ” مَنْ اِقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ وَلَا مَاشِيَةٍ وَلَا اَرْضٍ ، فَاِنَّهُ يَنْقُصُ مَنْ اَجْرِهِ قِيْرَاطَانِ كُلَّ يَوْمٍ “. جس نے کسی ایسے کتے کو پالا جو نہ تو شکاری ہے ، نہ مویشی والا اور نہ ہی کسی زمین والا ، تو بیشک اس کے اجر سے ہر دن دو قیراط کم ہوں گے . { ریاض الصالحین ، الترغیب والترھیب }

امام بغوی رحمہ اللہ ” التھذیب ” میں کہتے ہیں کہ کتے کے نجس العین ہونے کی وجہ سے اس سے متنجس چیز کو ( مٹی کے ) ساتھ سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا گیا ، اس لیے کہ صحابہ کتوں کو اپنے سے قریب کرلیتے تھے اور اُن سے مانوس ہوتے تھے ، اس وجہ ان کے حکم میں انتہائی سختی برتی گئی ، تاکہ ان کی عادت قطعی وبنیادی طور سے نکالی جائے .

*نجاست کی سولہویں (انیسویں) قسط*

*جس شخص کے گھر میں کتا اور مجسمہ ہوتا ہے اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے*

سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” لَا تَدْخُلُ الْمَلَآئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُوْرَةٌ “. ( رحمت کے وہ ) فرشتے ( جو خیر کی دعائیں کرتے ہیں ) اُس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں کتا اور مُجَسَّمَہ ( یا تصویر کے وہ اعضاء جس پر کسی جاندار کی زندگی کا دارو مدار ) ہو . { بخاری ، مسلم ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ }

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کتا رہنے کی وجہ سے سیدنا جبرئیل علیہ الصلوة والسلام کو اس وقت تک رکنا پڑا جب تک کہ اس کو نکالا نہ گیا .

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ، کہتے ہیں ” وَعَدَ [ ترغیب وترھیب میں ” وَاعَدَ ” کا لفظ ہے ] رسولُ الله صلی الله عليه وسلم اَنْ يَّاْتِيَهُ ، فَرَاثَ عَلَيْهِ حَتَّى اشْتَدَّ عَلَى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فَخَرَجَ فَلَقِيَهُ جِبْرِيْلُ فَشَكَا اِلَيْهِ ، فَقَالَ! اِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُوْرَةٌ “. کہ جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور آنے کا وعدہ فرمایا ، پس آپ کے پاس آنے میں اُنہیں تاخیر ہوئی ، یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سخت گزری تو آپ باہر نکل گیے ، تبھی جبرئیل علیہ الصلوة والسلام نے آپ سے ملاقات کی ، اور آپ سے اس کی شکایت کی تو انہوں نے فرمایا! ہم اس گھر میں نہیں جاتے جس میں کتا ہو ، اور نہ اس گھر میں جس میں مجسمہ ( یا تصویر ) ہو . { بخاری }

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے ، کہا! جبرئیل علیہ السلام نے کسی گھڑی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لانے کا وعدہ فرمایا ، پس وہ گھڑی ( وقت ) آگئی اور آپ نہیں آئے ، کہتی ہیں! آپ کے ہاتھ میں عصا تھا ، آپ نے اس کو اپنے ہاتھ سے یہ پڑھتے ہوئے پھینکا ” مَا يُخْلِفُ اللهُ وَعْدَهُ وَلَا رُسُلُهُ ” نہ اللہ اپنے وعدے کے خلاف کرتا ہے اور نہ اس کے فرستادہ . پھر پلٹے تو ( دیکھا کہ ) آپ کے پلنگ کے نیچے کتا کا ایک پِلَّہ تھا ، فرمایا! ” مَتَى دَخَلَ هَذَا الْكَلْبُ ” کب داخل ہوگیا یہ کتا ؟ میں نے کہا! بَخدا میں نہیں جانتی ، سو آپ نے اس کو نکال باہر کرنے کا حکم دیا ، تب جبرئیل علیہ السلام آپ کے حضور تشریف لے آئے ، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے دریافت کیا! ” وَعَدْتَّنِيْ فَجَلَسْتُ لَكَ ، وَلَمْ تَاْتِنِيْ “. آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا سو میں آپ کے لیے ( انتظار میں ) بیٹھا رہا ، لیکن آپ نہیں آئے ؟ فرمایا! ” مجھے اُس کتے نے روک رکھا تھا جو آپ کے گھر میں تھا ، حقیقت یہ ہے کہ ہم اس گھر میں نہیں جاتے جس کے اندر کتا اور صورت ہو “. { مسلم }

کتے کے علاوہ فرشتے اس گھر میں بھی داخل نہیں ہوتے جس میں گھنٹی ( یا گھنٹا ) ہوتا ہے

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے ، کہتے ہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” لَا تَصْحَبُ الْمَلَآئِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ اَوْ جَرَسٌ “. فرشتے اس مسافر جماعت کے ساتھ نہیں رہتے جن ( کے ساتھ ) میں کوئی کتا یا گھنٹا ہو . { مسلم ، ابوداؤد ، ترمذی }

” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کالے کتے کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے ، چہ جائیکہ پالنا

سیدنا عبداللہ بن مُغَفَّل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، کہا! بیشک میں ( بھی ) اُن لوگوں میں سے تھا جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کے سامنے سے خطبہ دیتے وقت درخت کی ڈالیوں کو ہٹایا تھا ، آپ نے فرمایا! ” لَوْلَا اَنَّ الْكِلَابَ اُمَّةٌ مِّنَ الْاُمَمِ لَاَمَرْتُ بِقَتْلِهَا [ مشکات کے نسخے میں ” کلھا ” کا لفظ زیادہ ہے ] فَاقْتُلُوْا مِنْهَا كُلَّ اَسْوَدَ بَهِيْمٍ “. اگر کتے امتوں میں سے ایک امت نہ ہوتی تو البتہ ( ضرور ) میں اُن [ سبھوں ] کو جان سے مار ڈالنے کا حکم دیتا ، پس تم اُن میں سے ہر کالے کلوٹے کو قتل کردو . { ابوداؤد ، دارمی ، ترمذی ، نسائی }

” وَمَا مِنْ اَهْلِ بَيْتٍ يَرْتَبِطُوْنَ كَلْبًا اِلَّا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قَيْرَاطٌ اِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ اَوْ كَلْبَ حَرْثٍ اَوْ كَلْبَ غَنَمٍ “. اور کوئی گھر ایسا نہیں جو کسی کتے کو باندھتا ہو مگر یہ کہ ہر دن اس کے عمل میں سے ایک قیراط گھٹتا ہے ، مگر شکاری کتے یا کھیتی ( کی رکھوالی کرنے والے ) کے کتے یا بکریوں ( کی رکھوالی کرنے والے ) کے کتے کے . { یہ ترمذی اور نسائی کے اپنی اپنی حدیث میں زیادہ کیے ہوئے الفاظ ہیں }

کیا شریعت کی اس قدر ڈانٹ ڈپٹ اور عمل کے کم ہونے کی احادیث کو سننے کے باجود بھی کتے کو پیار کرنے والے اپنے اس فعل سے باز نہیں رہیں گے ؟ .

اقسام نجاسات کی سترہویں (بیسویں) اور آخری قسط

*کسی قافلے والوں کا اپنے پاس گھنٹا رکھنے پر فرشتوں کے نہ آنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ شیطان کی  بانسری ہے*

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اَلْجَرَسُ مَزَامِيْرُ الشَّيْطَانِ “. گھنٹا شیطان کی بین ( موسیقی ، بانسری ) ہے . { مسلم ، ابوداؤد ، نسائی ، اور ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں اس حدیث کو روایت کیا ہے }

سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” لَا تَصْحَبُ الْمَلَآئِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ “. فرشتے کسی ایسی جماعت کے ساتھ نہیں رہتے جن میں ( کے ساتھ ) کوئی گھنٹا ہو . { ابوداؤد ، نسائی ، اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں اس حدیث کو روایت کیا ہے ، اِن کے الفاظ یہ ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اِنَّ الْعِيْرَ الَّتِي فِيهَا الْجَرَسُ لَا تَصْحَبُهَا الْمَلَآئِكَةُ ” اس میں کوئی شک نہیں کہ جس قافلے میں گھنٹا ہوتا ہے اُس کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے .

سیدہ ام سَلَمَہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے منقول ہے ، کہتی ہیں! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ” لَا تَدْخُلُ الْمَلَآئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جَرَسٌ ، وَلَا تَصْحَبُ الْمَلَآئِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ “. فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس کے اندر کوئی گھنٹا ہو ، اور فرشتے ان ساتھیوں کی جماعت کےساتھ ( بھی ) نہیں ہوتے جن میں ( کے ساتھ ) کوئی گھنٹا ہو .

*جنگ بدر کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے گلے میں رہنے والی گھنٹیوں کو کاٹنے کا حکم فرمایا تھا*

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن اونٹوں کی گردنوں سے گھنٹیوں کو کاٹ دینے کا حکم فرمایا تھا “. { ابن حبان نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں روایت کیا ہے }

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی حدیث نقل کی گئی ہے کہ ” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھنٹیوں کو کاٹنے کا حکم دیا تھا “۔ { اس حدیث کو بھی ابن حبان نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے }

*ابن زبیر کی بیٹی کو جب عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لیجایا گیا تو آپ نے اس کے پیروں میں رہنے والے گھنگرو کو کاٹنے کا حکم دیا*

سیدنا عامر بن عبداللہ بن زبیر سے منقول ہے کہ ان کی باندی زبیر کی بیٹی کو لے کر سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں جس کے پیر میں گھنٹیاں ( پازیب میں گھنگرو ہوں گے ) تھیں تو عمر نے اس کو کاٹا اور کہا! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ” اِنَّ مَعَ كُلِّ جَرَسٍ شَيْطَانٌ ” کہ ہر گھنٹی کے ساتھ شیطان رہتا ہے . { ابوداؤد ، ان کی باندی مجہولہ ہیں ، اور عامر نے عمر بن الخطاب کو نہیں پایا ہے }

سیدنا عبدالرحمن بن حَيَّان الانصارى رضی اللہ عنہ کی کنیز بُنَاتَہ سے منقول ہے کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھیں تبھی ان کے پاس ایک لڑکی داخل ہوئی جس پر ( نے ) گھنگرو ( پہنے ہوئے ) تھے جو آواز کر ( بج) رہے تھے ، کہا! اسے تم اس وقت تک اندر داخل نہیں کروگی جب تک کہ وہ اپنے گھنگرو کو نہ توڑے ، اور کہنے لگیں! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ” لَا تَدْخُلُ الْمَلَآئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جَرَسٌ ” فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں گھنٹیاں ( یعنی گھنگرو ، کیونکہ ان کے سِروں پر چھوٹی چھوٹی گھنٹیاں ہوتی ہیں جو بجتی ہیں ) ہوں . { ابوداؤد }

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” لَا تَصْحَبُ الْمَلَآئِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جُلْجْلْ “. فرشتے اُس جماعت کے ساتھ نہیں ہوتے جن کے ساتھ گھنگھرو ہوں .

ابوبکر بن ابو شیخ کہتے ہیں! میں سالم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، تب ہم پر سے بچوں کی ماؤوں کا ایک قافلہ گزرا جن کے ساتھ گھنٹیاں ( گھنگرو ) تھیں ، سالم اپنے باپ سے حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” لَا تَصْحَبُ الْمَلَآئِكَةُ رَكْبًا مَعَهُمْ جُلْجُلَ ، كَمْ تَرَى مِنْ هَؤُلَآءِ مِنْ جُلْجُلٍ ؟ ” فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں رہتے جن کے ساتھ گھنگرو ہوں ، اِن کے ساتھ تم کتنے گھنگرو دیکھ رہے ہو . { نسائی }

*فرشتے اس قافلے کے ساتھ بھی نہیں رہتے جن کے ساتھ چیتے کی کھال ہو ، کیونکہ چیتے وغیرہ کی کھال پر بیٹھنا ایک گونہ فخر کی علامت ہے*

ابوداؤد کی روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” لَا تَصْحَبُ الْمَلَآئِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جِلْدُ نَمِرٍ ” فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں رہتے جن کے پاس چیتے کی کھال ہو . { ابوداؤد }

عبدالقادر فیضان بن اسماعیل باقوی ، مقیم الحال ، ابوظبئ متحدہ عرب امارات ۔
22/جمادی الآخرة 1443 ھ بموافق 25/جنوری 2022 ء

Mobile no. 0097150 3138357

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here