قربانی کے احکام کی چوتھی قسط بعنوان قربانی کی سنتیں اور اس سے متعلق مختلف چیزیں

0
936

از عبدالقادر فيضان بن إسماعيل باقوی ، امام و خطیب ابو ظبی

پہلی چیز: قربانی کی فضیلت : قربانی کا بہت عظیم ثواب ہے ، اور اسکی بڑی فضیلتیں آئی ہیں جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آدمی کا یوم نحر میں کیا ہوا کوئی کام اللہ (سبحانہ وتعالی ) کے پاس خون کو بہانے (یعنی قربانی کے جانور کو ذبح کرنے ) سے زیادہ پسند نہیں ، (یعنی اللہ تبارک و تعالٰی کے نزدیک اس خون کے گرنے کی ایک عظیم جگہ ہے ، یہ قربانی کے مقبول ہونے کا اشارہ ہے ، جیسا کہ شیخنا نے کہا [ بجیرمی کا حاشیہ،236،ج/5 ] بیشک وہ (یعنی خون کے بہانے پر جو قربانی ہوتی ہے ، وہ ) ‘‘ روزقیامت میں اپنے سینگھوں،،بالوں آور کھروں کو لیکر آئیگی ،آور بلاشبہ اللہ(تعالٰی)کی جانب سے اسکے زمین پرگرنے سے پہلے ایک (خاص ) جگہ میں خون گرتا ہے ، سو تم اس سے روح کو خوش رکھو ’’(چاہئے کہ اسکے ذریعہ تمہارے دل خوش ہو جائیں ۔ ( بجیرمی ) یعنی تم اچھے دل سے قربانی کرو ۔) {ترمذی،ابن ماجہ،}

دوسری چیز : قربانی کرنے والوں کیلئے ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعداسکے ابتدائی عشرہ سے قربانی کرنے تک مُحرِم کے علاوہ کو اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کاٹنا سنت ہے ، (رہی بات احرام والے شخص کی ، تو اسکو بغیر عذر کے ان چیزوں کو کرنا حرام ہے ۔ اور اس سے فدیہ لازم ہوگا ) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کردہ حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ‘‘ جب عشرہ داخل ہو ، اور تم میں سے کوئی قربانی کا ارادہ رکھے ، تو وہ اپنے بال اور اپنے چمڑے (ناخن) میں سے کوئی چیز نہ نکالے ۔ { احمد،نسائی،ابن ماجہ،بیہقی } اس کی حکمت یہ ہے کہ (سنت ) قربانی کرنےوالوں کے تمام اجزاءباقی رہیں ، تاکہ یہ تمام چیزیں مغفرت اور آگ سے نجات حاصل کرنے میں شامل ہوں ، اگر کسی نے ایک سے زیادہ مویشیوں کی قربانی کرنے کا ارادہ کیا ہو تو پہلی (سنت ) قربانی کرنے تک ہی یہ کراہت باقی رہیگی ، پہلی کے بعد بال اور ناخنوں کو اتارنا مکروہ نہیں ہوگا ، جیسا کہ بعض علماء کرام نے جزم کے ساتھ کہا ، اور یہی معتمد ہے ۔ بالوں میں تمام قسم کے بال شامل ہونگے ، سر ، داڑھی ، بغل ، زیرناف ، اور مونچھوں وغیرہ کے۔ ابن حجر کہتے ہیں کہ نہ کاٹی جانے والی اشیاء میں بال،ناخن ، اور بدن کے تمام اجزاء شامل ہوں گے ( جیسے جلد ، رونگٹے وغیرہ ) ۔ اگر کسی نے اس کی مخالفت کی تو مکروہ ہوگا ۔ [ نہایہ ، ج/5 ، ص/133 ]

( نوٹ : اگر کسی کو اسکا ناخن یا جلد تکلیف دے رہی ہو ، تو اسکو نکالنا مکروہ نہیں ہوگا )

تیسری چیز : قربانی کی سنتیں

پہلی سنت : مردکا اگر وہ اچھی طرح ذبح کرنا جانتا ہوتو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع کرتے ہوئے خود سے قربانی کے جانور کو ذبح کرنا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے خود اپنے مبارک ہاتھوں سے ترسٹھ اونٹوں کو نحر کیا تھا ۔ اور سو میں سے باقی اونٹوں کے نحر کرنے کا حکم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیا تھا ، اگر کوئی شخص اپنے ہاتھوں سے ذبح کرنے سے مجبور ہو ، یا قوت بینائی سے بےنیاز ہو ، تو ذبح کرنے کیلئے کسی مسلمان فقیہ کو نائب بنانا زیادہ بہتر ہے ۔ رہی عورت اور خواجہ سرا (خنثی ) تو انکا کسی کو وکیل بنانا ہی سنت ہے ۔ حائض یا نفساء کو ذبح کرنے کے لیے کہنا کسی کتابی کو وکیل بنانے کے مقابلہ میں بہتر ہے۔کسی کتابی کو کہنا بھی جائز ہے ۔ بچہ کو نائب بنانا مکروہ ہے ۔ (نوٹ : کسی کتابی کو وکیل بنانے کے سلسلہ میں چند شرائط کا پایا جانا ضروری ہے ، جسکی تفصیل آپکو ہماری تالیف “فیضان الفقہ”کے صحفہ نمبر 449 میں ملے گی۔زیادتئ معلومات کے لیے وہاں ملاحظہ ہوں )
دوسری سنت : وکیل بنانے والے کا قربانی کے وقت خود حاضر رہنا ۔ تیسری سنت : قربانی کے جانور کو خوب موٹا تازہ اور چربدار بنانا ، اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے کہ ‘‘ ومن يعظم شعائر الله؛؛؛آور جو اللہ کی علامات کی تعظیم کرتا ہے ’’ [سورۃ الحج ، آیت نمبر 32 ] علمائے کرام نے فرمایاکہ اس سے مراد قربانی کئے جانے والے جانوروں کو موٹا تازہ اور چربدار بنانا ہے ۔

تیسری سنت : سینگ ٹوٹا ہوا نہ ہونا ، اور نہ ہی غیر سینگ والا ہونا ۔

چوتھی سنت : ذبیحہ کو نماز عید کے بعد ہی ذبح کرنا ۔

پانچویں سنت : ذبح کنندہ کا مسلمان ہونا ، کیونکہ ذابح مسلمان ہونے کی صورت میں ہر اس چیز کی نگہبانی اور حفاظت کرے گا جو قربانی میں ضروری ہے ، برخلاف کسی یہودی یا نصرانی کے ۔

چھٹی سنت : ذبح دن میں کرنا ۔

ساتویں سنت : ذبح کیلئے نرم جگہ کا انتخاب کرنا ۔

آٹھویں سنت : ذبیحہ کو قبلہ کی طرف کرنا ، اور خود ذابح کا اس کی طرف رخ کرکے ذبح کرنا ۔ ( اور یہ سب سہولت حاصل ہونے کے وقت ہی ہے ، اس سلسلہ میں چند باتوں کو ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے ۔ پہلی بات : بعض اوقات دیکھا جاتا ہے کہ جانور کو قبلہ کی طرف بآسانی نہیں لایا جاسکتا ، لوگ اس کو زبردستی بڑی مشکل سے قبلہ کی طرف کرتے ہیں ، اس کوشش میں جانور بعض اوقات آدھ مرا ہوجاتا ہے ، ایسے بالکل بھی نہیں کیا جائے ، اگر تھوڑی سی کوشش پر جانور کو بآسانی قبلہ کی طرف کیا جاسکتا ہے تو اچھی بات ہے ، زبردستی اور مشکل سے ایسا کرنے سے گریز کریں ، کیونکہ قبلہ کی طرف جانور کا رخ کرنا سنت ہے ، اور جانور کو تکلیف پہونچانا حرام ، اور جانور کو قبلہ کی طرف کرنے سے مراد ، صرف اسکی گردن ہے ، نہ کہ پورا جانور ، اسکا خیال رکھنا ضروری ہے ۔ دوسری بات : جانور کو ذبح کرنے کے بعد اسکو پوری طرح تڑپنے کے لیے چھوڑا جائے ، حتی کہ اسکی حرکت پوری طرح بند ہو جائے ، کیونکہ اسکے تڑپنے سے پورا خراب خون نکل جاتا ہے ، اور بہت ہی بہترین اور ہر بیماری سے صاف گوشت آپ کو ملتا ہے ۔ ذبح کرنے کے ساتھ جانور کو جلدی ٹھنڈا کرنے کے مقصد سے بعض لوگ اسکے نرخرے وغیرہ میں چھرا گھونپتے ہیں ، جو بالکل جائز نہیں ہے ۔ اس قسم کے افعال سے کوسوں دور رہیں ۔ تیسری بات : جو انتہائی اہم ہے کہ جانور کو تیز چھری سے ایک مرتبہ ذبح کرنے کے فعل سے ہی ذبح کیا جائے ، یعنی حلق اور مری کو پوری طرح کاٹا جائے ، اور اگر اسکے ساتھ ساتھ شاہ رگیں بھی کٹتی ہیں تو اور اچھا ہے ۔ اگر جانور کے اس سے نبرد آزما ہونے کی وجہ سے اسکی دونوں نلیوں کو پوری طرح کاٹنے سے پہلے ہی چھوڑ دیا ، اور پھر تھوڑی دیر کے بعد پوری طرح سے اس کو ذبح کیا تو وہ جانور حرام ہوگا ) ۔

نویں سنت : بوقت ذبح اللہ سبحانہ وتعالی کا نام لینا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر درود وسلام بھیجنا ، اور یہ دعا پڑھنا ‘‘ اَللّٰہُمَّ ھٰذَا مِنْكَ وَاِلَيْكَ فَتَقَبَّلْ مِنَّا ’’ ترتیب اسطرح ہے کہ ‘‘ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۔ اَللّٰهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلىٰ رَسُوْلِكَ سَيِّدِنَا مُحَمَّدْ ۔ اَللّٰہُمَّ ھٰذَا مِنْكَ وَاِلَيْكَ فَتَقَبَّلْ مِنَّا ’’ اے اللہ!یہ تیری جانب سے ہے ، اور تیرے لئے ہے ، سوتو اسکو ہماری طرف سے قبول فرما ۔ ( منہاج الطالبين ، تحفةالمحتاج ، نهاية المحتاج ، اعانةالطالبين ، ثاني ، ص/٣٣٤ )

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here