موجودہ دور کا کورونا (COVID-19) پوری دنیا اور خصوصاً امت مسلمہ کے لئے ایک بہت بڑی سخت آزمائش کی تیرہویں قسط

0
68

از : مولانا عبدالقادر بن إسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد تینگن گنڈی ، بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد محمد عشیر علی سلیمان المزروعی أبوظبی ، متحدہ عرب امارات .

طاعون مسلمانوں کے لئے شہادت اور رحمت ہے .

بخاری و مسلم کی سیدنا انس رضیکو جنوبی ہند کی ریاست کرناٹکا کے ضلع اڈپی کے شہر کنداپور کے گاؤں اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا! ” الطاعون شھادة لکل مسلم . طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے “. ( متفق علیہ )

سیدہ عائشہ رضی عنھا سے روایت کردہ حدیث میں آتا ہے کہ طاعون ” رحمة للمؤمنین . مؤمنین کے لئے رحمت ہے “. ( بخاری )

امام احمد نے ایک دوسرے طریقہ سے سیدہ عائشہ رضی عنھا سے حدیث روایت کی ہے کہ ” المقیم فیه کالشھید . اس میں رہنے والا شہید کی طرح ہے”. ( احمد )

ایک اور وجہ ( طریقہ ، پہلو ) سے ابویعلی نے ان ہی سے روایت کی ہے کہ ” من اصیب به کان شھیدا . جو شخص اس میں ( گرفتار ہوکر ) انتقال کرجائے تو وہ شہید ہوگا . ( ابویعلی )

چوتھے باب میں شرحبیل بن حسنہ کی حدیث میں عنقریب آئے گا کہ ” ان ھذا ( یعنی الطاعون ) رحمة بکم . بیشک یہ ( ان کی مراد طاعون ہے ) تمہارے لئے رحمت ہے “.

ابوعبیدہ ومعاذ بن جبل رضی عنھما سے بھی اسی طرح کی حدیث آئی ہے ، سیدنا معاذ کی ایک حدیث میں” وشھادة یختص الله بھا من یشاء منکم . اور شہادت ہے جس سے اللہ تم میں سے جس کو چاہے خاص کردے ” آیا ہے .

آئیے غور کرتے ہیں کہ کیا موجودہ دور کا کرونا وائرس کووڈ 19 طاعون کی تعریف میں آتا ہے ؟؟

نفس طاعون پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی طاعون قسم کی ہی ایک بیماری ہے گو طاعون نہ ہو ، لیکن تکلیف پریشانی ، طاعون زدہ زمین سے کسی دوسری زمین پر نہ جانا ، جس زمین پر طاعون پھیلا ہے اس زمین ہی میں صبر کرتے ہوئے یہ نیت کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ اس پر اجر وثواب دے گا ٹہرے رہنا ، اس کا جن سے طعن کرنا وغیرہ بہت ساری چیزوں میں کرونا وائرس بالکل اسی طرح ہے جس طرح طاعون ، بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ بعض اوقات اس سے بھی بڑھ کر ہے ،

آج کورونا کے لئے وہی ساری احتیاط اپنائی جارہی ہیں جو کورونا کے لئے ، ایک ملک سے دوسرے ملک میں نہ جانا ، اپنے ہی گھروں میں محصور رہنا ، پچیسوں لاکھ لوگوں کا اس بیماری سے متاثر ہونا اب تک دو لاکھ کے قریب لوگوں کا ہلاک ہونا ، اور مہینوں گذر جانے کے باوجود اس بیماری کا علاج نہ دھونڈ پانا ، بلکہ جو انتہائی ترقی یافتہ ممالک ہیں وہ بھی اللہ کی اس آزمائش سے بری طرح بے بس ، مجبور اور لاچار نظر آرہے ہیں اور طرفہ یہ کہ انھیں ممالک میں اللہ تعالیٰ کا یہ قہر یا عذاب زیادہ نازل ہورہا ہے ، طاعون کی طرح اس بیماری میں بھی طعن جن کے ہونے کو انکار نہیں کیا جاسکتا ، کیونکہ جن کا طعن کرنا انسان کے اندرونی حصوں پر ہوتا ہے پہلے اندرونی حصوں پر برا اثر ڈالتا ہے پھر اس کا اثر باہر آتا ہے اور بعض اوقات باہر نظر بھی نہیں آتا ،

چنانچہ موجودہ دور کے کورونا میں بھی یہی دیکھا جارہا ہے بعض اوقات اچھی طرح ڈاکٹر کے چیک اَپ کے باوجود انسان میں یہ وائرس نظر نہیں آتا ہے اور کچھ دنوں کے بعد خبر آتی ہے کہ جس شخص کا چیک اپ کیا گیا تھا اس کے اندر کورونا کے جرثومے پائے گئے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فلاں کی موت کورونا کی وجہ سے ہوئی ہے ، کیا یہ سب اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں کہ کورونا کی آزمائش طاعون سے کسی طرح بھی کم نہیں ؟ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے طاعون سے مرنے والے کو شہید کے درجہ سے نوازہ ہے تو کیا کورونا سے مرنے والا مسلمان شہید کہلائے جانے کا مستحق نہیں ہے ؟

جب کورونا سے جان گنوانے والا شہید ہوگا ( باذن اللہ تعالیٰ ) تو اسی طرح صبر کرتے ہوئے اللہ کے پاس اس کا اجر حاصل ہونے کی نیت کرتے ہوئے اپنے گھر میں بیٹھنے والے کو بھی اسی طرح شہید کا ثواب ملے گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے طاعون کی وجہ سے گھر بیٹھنے والے کو شہید کے ثواب کی نوید سنائی ہے .

حافظ ابن حجر لکھتے ہیں کہ طاعون کی بیماری آدمی کے اَلْاَرْنبہ یعنی قصبة الأنف ( ناک کی نرم ہڈی ) سے بھی پھیلتی ہے ، اور آج دیکھ رہے ہیں کہ کورونا کس تیزی سے ایسے اعضاء کے ذریعہ ایک دوسرے میں پھیل رہا ہے،چنانچہ اسی پھیلاؤ کو روکنے اور کنٹرول کرنے کے لئے ہی ہر قسم کے اجتماعات پر تقریبا ہر ملک میں پابندی لگائی گئی ہے اور اس میں جمعہ یا جماعات کے لئے مساجد میں حاضر ہونا بھی ہے ۔

اعلاء کلمة اللہ کے لئے معرکہ آرائی کرکے شہید ہونے والوں کے علاوہ لوگوں کو بھی شہید کا مرتبہ ملے گا ، ادلہ درج ذیل ہیں :

امام مالک نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” الشھداء خمسة ، المطعون والبطون والغرق وصاحب الھدم والشھید فی سبیل الله . شہداء پانچ ہیں:طاعون کی وجہ سے مرا ہوا شخص ، پیٹ کے درد میں مبتلا ہوکر مرا ہوا ، پانی میں ڈوب کر مرا ہوا ، کسی گھر یا دیوار کے ڈھ جانے کی وجہ سے مرا ہوا اور اللہ کے راستہ میں شہید شدہ شخص ( بخاری نے اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ مالک سے روایت کیا ہے ، اس حدیث کو انھوں نے انھیں کے طریقہ سے مختصرا ان الفاظ سے بھی روایت کیا ہے .

” المبطون شھید والمطعون شھید . پیٹ کے درد سے انتقال شدہ شخص شہید ہے اور طاعون کی بیماری سے فوت شدہ شخص شہید ہے ” ( بخاری )

مسلم نے جریر کے طریقہ سے ،انھوں نے سہل بن ابی صالح سے انھوں نے اپنے باپ سے انھوں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کی ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا!” ماتعدون الشھید فیکم ؟. تم اپنوں میں شہید کس کو شمار کرتے ہو ؟ ” صحابہ نے عرض کیا! یارسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جو اللہ کے راستہ میں قتل کر دیا جاتا ہے وہ شہید ہے ، فرمایا! ” ان شھداء امتی اذا لقلیل . تب تو یقیناً میری امت کے شہداء تھوڑے سے ہوں گے ” عرض کیا! پس وہ کون لوگ ہیں یارسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) فرمایا! ” من قتل فی سبیل اللہ فھو شھید ، ومن مات فی سبیل اللہ فھو شھید ، ومن مات فی الطاعون فھو شھید ، ومن مات فی البطن فھو شھید ، والغریق شھید . جو اللہ کے راستہ میں لڑتا ( یا قتل کردیا جاتا ) ہے تو وہ شہید ہے ، جو اللہ کے راستہ میں مر جاتا ہے وہ شہید ہے ، جو طاعون میں مر جاتا ہے وہ شہید ہے ، جو پیٹ کے درد میں مبتلا ہوکر مرجاتا ہے وہ شہید ہے اور پانی میں ڈوب کر مرا ہوا آدمی شہید ہے . ( مسلم )

ان کے علاوہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کئی اور طرح سے انتقال ہونے والے لوگوں کو شہید فرمایا ہے ، جن میں حاملہ خاتون ، جانور سے گر کر مرا ہوا اور جل کر مرا ہوا آدمی شامل ہے ۔

نوٹ : اللہ کے راستہ میں شہید شدہ شخص کے علاوہ شہیدوں کو غسلایا اور کفنایا جائے گا اور اس پر نماز بھی پڑھی جائے گی . 

تو طاعون اور کورونا سے ہلاک شدہ لوگوں کو بھی غسلایا کفنایا اور دفنایا جائے گا ، بعض اوقات لوگ کورونا سے انتقال ہونے والے شخص سے اتنا ڈرتے ہیں کہ اس کے قریب بھی جانے سے خوف کھاتے ہیں ، انھیں ڈرنا نہیں چاہئے بلکہ اپنے بھائی کی تکفین تدفین میں شریک ہونا چاہئے ، اطباء کی ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ کورونا سے مرنے والے کے جسم سے اس کے مرنے کے بعد جراثیم بھی مرتے ہیں ۔

بعض اوقات ایسے حالات پیش آتے ہیں کہ اس کو غسلایا نہیں جاسکتا تو ایسی صورت میں اس کو تیمم کرا کر نماز پڑھی جائے ، اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو بحالت مجبوری بکس میں اچھی طرح سے بند کرکے دفنایا جائے،ایسے میں اسکو اصلی شہید پر قیاس کرتے ہوئے بغیر نہلائے اور نماز پڑھے کے دفنایا جائے گا جیسا کہ بعض ائمہ کے ضعیف اقوال ہیں . واللہ أعلم بالصواب .

مذکورہ بالا مضمون ابھی جاری ہے…….

بارہویں قسط کے لئے کلک کریں
گیارہویں قسط کے لئے کلک کریں
دسویں قسط کے لئے کلک کریں
نویں قسط کے لئے کلک کریں
آٹھویں قسط کے لئے کلک کریں
ساتویں قسط کے لئے کلک کریں
چھٹی قسط کے لئے کلک کریں
پانچویں قسط کے لئے کلک کریں
چوتھی قسط کے لئے کلک کریں
تیسری قسط کے لئے کلک کریں
دوسری قسط کے لئے کلک کریں
پہلی قسط کے لئے کلک کریں
--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here