موجودہ دور کا کورونا پوری دنیا اور خصوصاً امت مسلمہ کے لئے ایک بہت بڑی سخت آزمائش کی سولہویں اور آخری قسط

0
68

از : مولانا عبدالقادر بن إسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد ، تینگن گنڈی ، بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد محمد عشیر علی سلیمان المزروعی أبوظبی ، متحدہ عرب امارات .

علامہ حافظ ابن حجر نے پانچویں باب کی ( چوتھی فصل ) میں ان آداب کا ذکر کیا ہے جو طاعون یا اس کے علاوہ ( کورونا وغیرہ ) کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں .

کہتے ہیں کہ پہلا ادب : اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرنا اور اس سے بیماریوں سے پناہ مانگنا ، اللہ سبحانہ وتعالی فرماتا ہے ” اُدْعُوُا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَة . تم اپنے رب سے گڑ گڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے پکارو ( دعا مانگو ) . ( الاعراف/55 )

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا! ” یا عباس أکثر من الدعاء بالعافية . اے عباس! عافیت کی کثرت سے دعا مانگا کرو “. ( حاکم نے اس حدیث کو ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کر کے اس کو صحیح قرار دیا ہے ) . ( لیکن درست یہی ہے کہ یہ حدیث حسن ہے . واللہ اعلم )

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنھما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” ماسئَلَ اللَّهُ شیئا احب الیه من العافیة . اللہ کے نزدیک عافیت مانگی گئی چیز سے زیادہ پسندیدہ کوئی اور چیز نہیں “. ( ترمذی نے اس حدیث کو روایت کرکے غریب قرار دیا ، حاکم نے اس کو روایت کرکے صحیح قرار دیا ، ( حافظ کہتے ہیں کہ انھوں نے صحت کا وہم کیا ہے ) اس لئے کہ اس کی سند میں ضعف ہے )

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” ما من دعوة یدعو بھا العبد افضل مِن اَللَّهُمَّ اِنِّي اَسْاَلُكَ المعافةَ فی الدنیا والآخرة . بندہ کی کی ہوئی کوئی دعا اللھم انی اسئلك المعافة فی الدنیا والآخرة سے زیادہ افضل نہیں “. ( ابن ماجہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ، اس کے راوی ثقات ہیں جن سے صحیحین میں بھی استدلال کیا گیا ہے ، لیکن یہ حدیث العلاء بن زیاد البصری کی ابو ہریرہ سے روایت کردہ ہے اور ان کے ابو ہریرہ سے سننے میں میرے پاس نظر ہے ) ( بوصیری نے اس اسناد کو صحیح قرار دیا ہے ، ( ابن ماجہ/3851 اور منذری نے ترغیب میں اس حدیث کو عمدہ کہا ہے )

سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اِنَّ الناس لم یعطوا بعد الیقین خیرا من العافیة . لوگوں کو یقین کے بعد عافیت سے زیادہ بہتر کوئی اور چیز نہیں عطا گئی”. ( ترمذی اور نسائی نے اس حدیث کو کئی طریقوں سے روایت کیا ہے ، جن میں سے بعض صحیح ہیں )

سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے اپنے جسم میں ہونے والے درد کی شکایت کی ، فرمایا! ” اپنے ہاتھ کو اپنے جسم کے اس حصہ پر رکھو جہاں تمھیں درد ہو رہا ہے اور تین مرتبہ بسم اللہ پڑھو اور سات مرتبہ یہ دعا پڑھو ” اَعُوْذُ بِاللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَااَجِدُ وَاُحَاذِرُ . میں اللہ سے اور اس کی قدرت سے ( اپنے جسم میں ) پانے والے شر اور خوف سے پناہ مانگتا ہوں “. ( مسلم ، مالک ) ان کی نکالی ہوئی حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں ” اعوذ بعزة الله وقدرته من شر مااجد . میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت سے ( اپنے جسم میں ) پانے والے شر سے پناہ مانگتا ہوں ” اور اسی طرح اس حدیث کو ابو داؤد اور ترمذی نے بھی روایت کیا ہے ، اس میں یہ الفاظ آئے ہیں ” اِمْسَحْ بِيَمِيْنِكَ . تم اپنا داہنا ہاتھ اس پر پھیرو ” اور ترمذی نے اس حدیث کو سیدنا انس سے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ زیادہ کئے ہیں ” ثم ارفع یدك ، ثم اعد ذالك . پھر اپنا ہاتھ اٹھاؤ ، پھر اس کو دہراؤ “

سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنھما سے منقول ہے وہ کہتی ہیں کہ مجھ پر میری گردن میں ایک پھوڑا نکلا ، اس سے میں خوف محسوس کرنے لگی ، میں نے عائشہ کو بتاتے ہوئے کہا! تم میرے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کے تعلق سے پوچھو ، انھوں نے اس کے متعلق پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! اپنا ہاتھ اس پر رکھو ، پھر تین مرتبہ بسم الله ، اللهم اَذْهِبْ عني شر مااجد وفحشه ، بِدَعْوَةِ نَبِيِّكَ الطَّيِّبِ الْمُبَارَك الْمَكِيْنِ عِنْدك ، باسم الله . اے اللہ!مجھ سے میرا وہ درد اور برائی لے جا ( دور کر ) جو میں ( اپنی گردن پر ) پاتی ہوں ، تیرے پاکیزہ مبارک ، تیرے پاس عظیم عزت والے نبی کے واسطہ سے ، بسم الله! . کہتی ہیں کہ میں نے اس کو پڑھا تو وہ نکل گیا “. ( طبرانی نے اس حدیث کو دعا میں روایت کیا ہے )

دوسرا ادب : اللہ کی قضاء پر صبر کرنا اور اس کی تقدیر  پر  رضامندی  کا اظہار کرنا ۔
.
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” مؤمن کا معاملہ بڑا ہی عجیب ( حیرت والا ) ہے ، اس کا تو سارا معاملہ خیر ( ہی خیر ) ہے اور یہ مومن کے علاوہ کسی اور کے لئے نہیں ہے ، اگر اس کو کوئی خوشی ( و مسرت ، خوشحالی ) حاصل ہوتی ہے ( اس پر ) وہ شکر ادا کرتا ہے تو وہ اس کے لئے بہتر ہے اور اگر اسے کوئی مصیبت ( سختی ، تکلیف ) پہونچتی ہے ، وہ اس پر صبر کرتا ہے تو وہ اس کے لئے خیر ( بہتری ، بھلائی ) ہے “. ( مسلم )

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” من یرد الله به خیرا یصب منه “. اللہ جس سے بھلائی چاہتا ہے وہ اس کو ( کسی تکلیف یا آزمائش میں ) مبتلاء کردیتا ہے . ( بخاری )

سیدنا ابو سعید و ابو ہریرہ رضی اللہ عنھما سے مروی ہے ، ان دونوں نے کہا! کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” وما یصیب المؤمن من نصب ولا وصب ، ولا ھم ولا حُزْنٍ ، ولا اذى ولا غم ، حتی الشوکةُ یشاکُّها ، إلا کفر الله بھا من خطایاہ “. اور مؤمن کو جو کچھ تھکان ، بیماری ، پریشانی ، افسردگی ،( آزردگی ) اوررنج ( وملال ) پہونچتا ہے حتی کہ چبھنے والا کانٹا ، مگر یہ کہ اللہ اُس سے اس کے ( گناہوں میں سے ) بعض ( بہت سارے ) گناہوں کو مٹاتا ہے . دونوں ( بخاری ومسلم ) نے اس حدیث کو ” صحیحین ” میں روایت کیا ہے ، یہ الفاظ بخاری کے ہیں .

( اللہ تعالیٰ سے ) حسنِ ظن کے تعلق سے سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ ” صحیح بخاری ” میں ثابت حدیث کیا ہی اچھی ہے ، فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” سید الاستغفار ( مغفرت طلب کرنے کے سردار کے ( اہم ترین الفاظ ) یہ ہیں کہ تم کہو ) ” اللھم انت ربی لااله إلا أنت ، خلقتنی وانا عبدك ، وانا علی عھدك ووعدك مااستطعت ، اعوذبك من شر ما صنعت ، ابوء لك بذنبی وابوء بنعمتك علَيَّ ، فاغفرلی فإنه لایغفر الذنوب إلا انت ، جو شخص اس کو صبح کے وقت پڑھے گا پھر اسی دن انتقال ہو جائے گا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص اس کو شام میں پڑھے گا پھر اسی رات انتقال کرجائے گا تو وہ جنت میں داخل ہوگا “. ( بخاری )

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت ( بیمار پرسی ) کرتا ہے تو وہ بدستور ( ہمیشہ ) جنت کے خرفہ میں رہے گا حتی کہ وہ لوٹ جائے “. عرض کیا گیا یارسول اللہ!خرفةالجنہ ” کیا ہے ؟ فرمایا! جَنَاها ، توڑے جانے والے ( جنت کے ) پھل “. ( مسلم )

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتے ہوئے سنا! ” کوئی مسلمان ایسا نہیں جو ایک مسلمان کی صبح عیادت ( مزاج پرسی ، بیمار پرسی ) کرتا ہے ، مگر یہ کہ ستر ہزار فرشتے اس پر درود ( مغفرت کی دعا مانگتے ) بھیجتے ہیں حتی کہ شام ہوتی ہے اور اگر وہ شام میں عیادت کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس پر صبح تک درود بھیجتے ہیں اور جنت میں اس کے لئے ایک باغ ( تیار ) ہوتا ہے “. ( ترمذی نے اس حدیث کو روایت کرکے حسن قرار دیا ہے اور کہا! کبھی یہ ( حدیث ) موقوف مروی ہوتی ہے ، اس حدیث کو احمد اور ابوداود نے مرفوع اور موقوف روایت کیا ہے )

عیادت کرنے والا بیمار کے پاس کونسی دعائیں پڑھے ؟

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” جس شخص نے کسی ایسے بیمار کی عیادت کی جس کی موت حاضر نہیں ہوئی تھی اور اس کے پاس سات مرتبہ ( یہ دعا ) پڑھی ” اَسْاَلُ اللهَ العظيمَ رَبَّ العرشِ العظيمِ اَنْ يَّشفيكَ ، ( میں عظیم اللہ سے ، عظیم عرش کے رب سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ تمھیں شفا عطا فرمائے ) مگر یہ کہ اللہ اس کو اس بیماری سے شفادے گا ” ( اس حدیث کو اصحاب سنن نے روایت کیا ہے ، ابن حبان نے اس کو صحیح قرار دیا ہے )

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی کی عیادت کی تو ( یہ دعا ) فرمائی ” لاَبَاْسَ ، طهور اِنْ شاءالله تعالیٰ “.( حدیث صحیح کی کتاب میں ہے )

سیدہ عائشہ رضی عنھا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت فرماتے تو اس کے چہرہ اور سینہ کو اپنے ( مبارک ) ہاتھ سے چھوتے ( اپنا مبارک ہاتھ اس کے چہرہ اور سینہ پر پھیرتے ) اور فرماتے! ” اَذْهِبِ الْبَاْسَ ، رَبَّ النَّاسِ ، وَاشفِ انت الشافي ، لاَشِفَآءَ اِلاّ شفَاءُكَ ، شِفاءً لَّايُغادِرُ سَقَمًا “. اے لوگوں کے رب ، تو ( اس بیمار کی ) تکلیف کو دور فرما ، شفا دے ، تو ہی تَو شفا عطا فرمانے والا ہے ، تیرے علاوہ اور کسی کی شفاء نہیں ، ( تیرے علاوہ کوئی اور شفا عطا کرنے والا نہیں ہے ) ایسی شفاء عطا فرما جو کوئی بیماری ہی نہ چھوڑے ” ( بخاری مسلم نسائی ، ابن ماجہ )

اور ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں ” امسح الباس ، رب الناس ، بیدك الشفاء ، لاکاشف له إلا انت “. تو بیماری کا اثر ( اس سے ) دور فرما اے لوگوں کے رب ، تیرے ہاتھ میں شفاء ہے ، اس کودور کرنے والا تیرے علاوہ اور کوئی نہیں “.

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” بیمار کی پوری طرح عیادت کرنا اس طرح ہے کہ تم میں سے ہر کوئی اپنے ہاتھ کو اس کی پیشانی یا اس کے ہاتھ پر رکھ کر اس سے پوچھے ، کیسے ہو ؟ “. ( ترمذی نے اس حدیث کو سند لین سے روایت کیا ہے ، اس لئے کہ اس سند میں ایک راوی ( علی بن زید الالھائی ) ہیں جو ضعیف ہیں )

تیسرا ادب : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر کثرت سے درود بھیجنا ہے .

یخ شہاب الدین بن ابی حجلہ نے اپنے اس جزء میں جو انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے کے سلسلہ میں جمع کیا ہے اور اس میں انھوں نے طاعون کی بھی کئی اشیاء کا ذکر کیا ہے ، کہتے ہیں کہ قاہرہ میں ( یعنی سنہ ھجری 764 میں ) یہ بات پھیلی کہ رہائش گاہوں میں جب کثرت سے طاعون کی بیماری پھیلی تو بعض صالحین نے اس بات کا ذکر کیا کہ انھوں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور ( موجودہ ) حالت کی شکایت کی ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یہ دعا پڑھنے کے لئے کہا ” اَللَّهمَّ إِنَّا نَعُوذُبِكَ مِنَ الطَّعْنِ والطَّاعُوْنِ وَعَظِيْمِ الْبَلَآءَ فيِْ النَّفْسِ وَالْمَالِ وَالْاَهْلِ والْوَلَدِ . الله اکبر ، الله اکبر ، الله اکبر مِمَّا نَخَافُ وَنَحْذُرُ ، الله اكبر ، الله أكبر ، الله اكبر ، عَدَدَ ذُنُوْبِنَا حَتّّى تَغْفِرَ ، الله أكبر ، الله اكبر ، الله أكبر ، وصلی اللہ علی سیدنا محمد وآلہ وسلم/الله اكبر ، الله أكبر ، الله اكبر ، اللهم كَمَاشَفَّعْتَ نَبِيَّنَا ( شیخ کے جزء میں نبیك ” آیا ہے ) فِيْنَا فَاَمْهِلْنَا ، وَعَمِّرْ بِنَا مَنَازِلَنَا ، وَلَاتُهْلِكْنَا بِذُنُوْبِنَا ، يَآ اَرْحَمَ الرَّحِمِيْن . اے اللہ! ہم تجھ سے نفس مال اہل اور اولاد میں طعن طاعون اور بڑی بڑی بلاؤوں سے پناہ مانگتے ہیں ، جن ( بیماریوں ) سے ہم ڈرتے اور پرہیز کرتے ہیں تو اس سے بہت بڑا ہے ، بہت بڑا ہے ، بہت بڑا ہے ، تو ہمارے گناہوں کی عدد ( وشمار ) سے حتی کہ بخش دے ان سے بہت بڑا ہے ، بہت بڑا ہے ، بہت بڑا ہے ، تو سب سے بڑا ہے ، تو سب سے بڑا ہے ، تو سب سے بڑا ہے ، باری تعالیٰ ! تو ہمارے سردار محمد اور آپ کی اہل پر درود وسلام بھیج ، تو سب سے بڑا ہے ، سب سے بڑا ہے ، ( اور ) سب سے بڑا ہے ، اے اللہ! جیسا کہ تو نے ہمارے نبی کو ہمارے حق میں سفارش کرنے والا بنایا سو تو ہمیں مہلت عطا کر ، ہمارے گھروں کو زندہ رکھ ،( تعمیر کر ) اور اے رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے ، تو ہمیں ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہلاک نہ کر .

اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر روز کم از کم تین سو سے پانچ سو ( کوئی مختصر سا ہی صحیح ، جیسے اللھم صل علی سیدنا محمد وعلی آله وصحبه وبارك وسلم ، یا صلی اللہ علی سیدنا محمد وآله وسلم ) درود بھیجیں تو کیا ہمارے لئے یہ سعادت برکت اور موجودہ دور کی عظیم وباء کورونا وائرس کو ختم کرنے کے لئے ایک بہت بڑا سبب ثابت نہیں ہوگا ؟؟ اور اس سے ہم پر کم از کم پانچ ہزار اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں گی .

ادیب شہاب الدین بن ابی حجلہ نے اپنے اُس ” جزء ” میں جو انھوں نے طاعون میں جمع کیا ہے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ بعض صالحین نے انھیں یہ بات بتائی ہے کہ ” طاعون وغیرہ بڑے بڑے بلایا کو دفع کرنے والی چیزوں میں سے سب سے عظیم چیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا ہے اور یہ کہ جب انھوں نے اس بات کا ذکر شیخ شمس الدین ابن خطیب سے کیا تو انھوں نے اس کو درست کہا اور اس کے لئے ( سیدنا ) اُبَيّ بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث سے استدلال کیا ، کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ” اَجْعَلُ لك نصف صلاتی؟ کیا میں آپ پر درود بھیجنے کے لئے ( میرے دن کا ) آدھا حصہ بنالوں؟ حدیث کے آخر میں ان شخص نے کہا کہ” أجعل لك صلاتی کلھا ؟ ” کیا میں اپنے پورے وقت کو آپ پر درود بھیجنے کیلیے لگاؤں ؟فرمایا! ” اِذَنْ تُكْفَى هَمُّكَ وَيُغْفَرُ ذَنْبُكَ “. تب ( یہ تمھارے لئے ) تمھاری پریشانیوں کو دور کئے جانے اور تمھارے گناہوں کو بخش دئے جانے کے لئے کافی ہوگا . ( حاکم نے اس حدیث کو روایت کرکے صحیح قرار دیا ہے ، اس کی سند عمدہ ہے ، واللہ اعلم ) .

نوازل قنوت میں وہ دعائیں پڑھی جائیں جو اس وباء سے تعلق رکھتی ہوں .

علامہ حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ فقہاء کی کتابوں میں سے کسی بھی کتاب میں میں نے نوازل کے قنوت میں پڑھی جانے والی کوئی خاص دعا نہیں دیکھی ، جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ انھوں نے اس کو سامع کے سمجھی جانے والی دعاؤوں کی طرف سونپا ہے اور یہ کہ ہر نازلہ ( مصیبت ) میں وہی دعا کی جائے جو اس کے مناسب ہو .

( علامہ) زرکشی نے ذکر کیا ہے کہ بعض سلف اپنی نمازوں کے پیچھے ( فراغت کے فورا بعد ) یہ دعا پڑھتے تھے . ” اللهم انا نعوذبك من عظيم البلاء ، في النفس والأهل والمال والولد . جو کہ ابن ابی حجلہ سے آگے گذری ، انھوں نے اور چند اشیاء کا ذکر کیا ہے ، میں تو بس ( یہاں ) اسی مقدار پر اقتصار کرتا ہوں . ( بذل الماعون في فضل الطاعون/234 )

علامہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب کا اختتام اسلام میں واقع شدہ طواعین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا ہے . مدائنی نے پھر ابن ابی الدنیا نے اس کا ذکر کیا ہے اور قتیبہ نے ان میں سے تھوڑوں کا ، جن بعض متاخرین کو ہم نے پایا ہے انھوں نے اس میں وسعت دیتے ہوئے تقریبا چالیس فصلیں لکھ ڈالی ہیں ، لیکن ان میں سے بہت سوں نے مطلقًا انھیں ( اوبیہ) کو لکھا ہے جن میں ہلاکتوں کا ضیاع بکثرت ہوا ہے ، جیسے قحط سالی کے سبب سے پیدا ہونے والی بھوک ، یا کمرتوڑ بخار ، یا نزلات کے سبب واقع ہونے والی اموات کا . میں نے خصوصی طور پر ان میں سے انہی پر اقتصار کیا ہے جو طاعون کے سبب سے مرے اور جن پر میں واقف ہوا .

ابو الحسن مدائنی کہتے ہیں کہ اسلام میں مشہور بڑے طواعین پانچ ہیں .

طاعونِ شیرویہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدائن میں .

طاعونِ عمواس : عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں شام میں ، جس میں 25/ہزار لوگ ہلاک ہوئے تھے .

طاعونِ جارف : سنہ ہجری 69 میں .

طاعون فتیات ( یا فتیان ) سنہ ہجری 87 میں .

آگے طاعونِ عمواس ، ابوموسی اشعری کے زمانہ میں کوفہ میں واقع شدہ طاعون اور اُس طاعون کی طرف اشارہ گذرا جس کے سبب سے مغیرہ بن شعبہ کوفہ سے بھاگے تھے جس وقت وہ امیرِ کوفہ تھے ، اللہ ( تعالیٰ ) نے ان کے لئے مقدر کیا کہ وہ وہیں انتقال کر جائیں ، اور یہ سنہ ہجری 50 میں تھا . ( وہاں ان کے الفاظ یہ ہیں ” اور کوفہ میں ایک طاعون واقع ہوا تھا جس سے مغیرہ بن شعبہ بھاگ گئے تھے ، پس وہ لوٹے ، پھر مرگئے ، اور یہ سنہ ہجری 50 میں تھا ، اور اُس سے پہلے ابن مسعود ( رضی اللہ عنھما ) کے زمانہ میں بھی ، ( طاعون واقع ہوا تھا ) یہ تمام کوفہ میں تھے . اور مصر میں سنہ ہجری 80 میں بھی ./223 ) اور مصر میں سنہ ہجری 66 میں ایک طاعون واقع ہوا تھا ، پھر عبدالعزیز بن مروان کی وفات کے سال سنہ ہجری 85 میں ایک اور طاعون واقع ہوا تھا ، ایک قول میں 82 میں ، ایک قول میں 84 میں ، ایک اور قول میں سنہ ہجری 86 میں ( انتہی )

مدائنی کہتے ہیں ( یہ ان کے قول ” اسلام میں مشہور بڑے طواعین پانچ ہیں ” میں سے پانچواں طاعون ہے )

مصر میں واقع شدہ طاعون سے عبدالعزیز بن مروان بھاگ کر اپنے قریہ میں گیا اور وہیں رہنے لگا جبکہ اس وقت وہ مصر کا امیر تھا ، اس کے پاس اپنے بھائی عبدالملک جو خلیفہ تھا کی جانب سے ایک قاصد آیا ، عبدالعزیز نے اس سے پوچھا! تمہارا کیا نام ہے ؟ اس نے کہا! طالب بن مدرک ، عبدالعزیز نے کہا! اَوَّهْ ( آہ ) میں نہیں سمجھتا کہ میں فسطاط کی طرف واپس جا پاؤں گا ، سو وہ اسی قریہ ( بستی ) میں مرگیا . پھر وہ طاعون واقع ہوا جس میں زیاد مرا تھا . ( سنہ ہجری 53 میں ) پھر طاعون جارف واقع ہوا تھا ، کس سنہ میں یہ واقع ہوا تھا اس میں اختلاف ہے ، کہا گیا کہ 69 میں ، کہا گیا 72 میں اور کہا گیا 70 میں ، اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں . سنہ ہجری 87 میں طاعون فتیات ( یا فتیان ) واقع ہوا تھا ، کثرت سے جوان عورتیں اس میں ہلاک ہونے کی وجہ سے اس کا یہ نام پڑا .

پھر سنہ ھجری 100 میں عدی بن ارطاة کا طاعون . پھر 107 میں ، پھر 115 میں اور یہ دونوں شام میں واقع ہوئے تھے . پھر 127 میں طاعون غراب واقع ہوا تھا . پھر طاعون سلم ( یا سلمہ) بن قتیبہ سنہ ہجری 131 میں ، مدائنی کہتے ہیں کہ یہ ماہِ رجب میں بصرہ میں واقع ہوا تھا ، رمضان میں اس نے تیزی پکڑی ، پھر شوال میں ہلکا پڑا ، ہر دن اس میں ہزار جنازے نکلتے تھے . اور یہ تمام ( طواعین ) دولتِ امویہ میں واقع ہوئے تھے ، بلکہ بعض مؤرخین نے نقل کیا ہے کہ بنو امیہ کے زمانہ میں واقع شدہ طواعین شام میں ختم نہیں ہوئے تھے حتی کہ طاعون کے زمانہ میں جو بنو امیہ کے خلفاء تھے وہ صحراء کی طرف نکل جاتے تھے ، اسی وجہ سے ہشام بن عبدالمک نے روم ( موجودہ اٹلی ) کے ایک پرانے شہر ” الرصافہ” کو اپنی منزل بنالی تھی . پھر یہ دولت عباسیہ میں خفیف ہوا ، پھر سنہ ہجری 221 ( ہم نے اختصار کی وجہ سے کافی طواعین چھوڑے ہیں ) بصرہ میں طاعون واقع ہوا ، اس کو ” المنتظم ” میں ذکر کیا گیا ہے ، انھوں نے کہا کہ اس میں مخلوق کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوئی ، حتی کہ ایک شخص کی سات اولاد ایک ہی دن میں ہلاک ہوئی . پھر 249 میں عراق میں طاعون واقع ہوا . پھر اصفہان میں 301 میں اور 324 میں . پھر 346 میں ایک طاعون واقع ہوا جس میں اچانک بہت سارے لوگوں کی موت واقع ہوئی ، حتی کہ قاضی نے حاکم کے پاس جانے کے لئے اپنے کپڑے پہنے ، وہ طعن زدہ ہوا اور اپنا ہلکا عبایا پہنتے ہوئے ہی انتقال کرگیا .

پھر سنہ ہجری 406 میں بصرہ میں طاعون واقع ہوا . پھر سنہ ہجری 423 میں بھارت ( اور عجم ) میں ایک عظیم طاعون واقع ہوا اور غزنہ ، خراسان ، جرجان ، ری ، اصفہان اور حلوان کے پہاڑوں کے اردگرد خوب پھیلا اور موصل تک کھنچ گیا یہاں تک کہا جاتا ہے کہ صرف اصفہان ( اصبھان ) میں 40 ہزار جنازے نکلے اور پھر وہ بغداد میں پھیلا . پھر یہ 425 میں شیراز میں واقع ہوا حتی کہ دفن کرنے والے لوگوں کی کمی کی وجہ سے لوگوں نے اپنے موتی رشتہ داروں کے دروازوں کو سختی سے بند کر دیا . پھر یہ واسط اھواز اور بصرہ میں پھیلا ( منتقل ہوا ) پھر بغداد میں ، حتی کہ ہر دن اس میں بہت سارے لوگ مرنے لگے ، کہا جاتا ہے کہ چند ہی دنوں میں اس میں 70 ہزار لوگ ہلاک ہوئے . پھر 452 میں حجاز اور یمن میں طاعون واقع ہوا ، حتی کہ بہت ساری بستیاں وہاں سے نکل گئیں ، پھر وہ دوبارہ بس نہ سکیں ، جو بھی ان میں داخل ہوا ہلاک ہوا .

پھر 455 میں مصر میں طاعون واقع ہوا وہاں دس ماہ میں سے ہر دن ہزار انسان ہلاک ہوئے ، ( یعنی دس ماہ میں تقریبا تیس لاکھ ) . ابن جوزی نے ” المرأة فی الحوادث ” میں نقل کیا ہے کہ 447 جمادی الآخرہ میں وارد بخارا کی ایک کتاب میں آیا ہے کہ ان کے پاس اتنی ہلاکتیں ہوئیں جتنی نہ کبھی واقع ہوئیں اور نہ سنی گئیں ، حتی کہ ایک اقلیم ( براعظم ) سے ایک دن میں اٹھارہ ہزار انسان نکل گئے اور اس ( اقلیم ) میں محصور ہو کر مرنے والے لوگوں کی تعداد 16 لاکھ یا اس سے بھی زیادہ تھی . پھر طاعون آذر بائجان میں واقع ہوا پھر اہواز میں پھر واسط میں پھر بصرہ میں حتی کہ لوگ ہلاک شدگان کو دفنانے کے لئے زُيْبَه ( شکار کو پھانسنے کے لئے بنایا جانے والا گھڈے کی طرح کا گڈھا ) بناتے تھے اور اس میں ایک ساتھ بیس بیس تیس تیس موتیٰ کو دفناتے تھے . اور طاعون سمر قند اور بلخ میں بھی واقع ہوا تھا ، یہاں ہردن چھ ہزار یا اس سے زیادہ لوگ وفات پاتے تھے اور لوگ دن رات غسلانے کفنانے اور دفنانے میں مشغول رہتے تھے ، ( کچھ تفصیل چھوڑ کر ) ایک مُؤَدِّبُ الاطفال جس کے پاس نو سو بچے ادب وتہذیب حاصل کرتے تھے ایک بھی ان میں سے نہیں بچا . اور شوال سے ذوالقعدہ کے آخر تک ( پانچویں صدی ہجری کے ، لگتا ہے تمام سالوں میں سب سے زیادہ اسی سال جانوں کا ضیاع ہوا پچاسوں لاکھ تو کہیں بھی نہیں بلکہ کروڑوں میں تعداد پہونچی ہوگی ) خاص سمرقند میں دو لاکھ چھتیس ہزار لوگ ہلاک ہوئے ، اس طاعون کی ابتداء ترکستان سے ہوئی تھی ، پھر کاشغر اور فرغانہ تک پہونچا ، پھر سمرقند میں ، بلخ اور نہر کے دوسری طرف نہیں پہونچا ، حتی کہ ایک جماعت بخارا سے بلخ کی طرف آنے لگی ، ایک مسافر خانہ میں انھوں نے پڑاؤ ڈالا اور صبح میں ان تمام کو مردہ پایا گیا .

کہتے ہیں ( ابن جوزی ) کہ عام اموات عورتوں ، بچوں ، نوجوانوں ، غلاموں اور چھوٹے چھوٹے بچوں کی کہول ( ادھیڑ ) عمر کے لوگوں کے مقابلہ میں زیادہ ہوتی تھیں ، پھر کہول کی بوڑھوں سے زیادہ اور عوام کی فوجیوں سے زیادہ ، الحاصل یہ کہ اس طاعون میں فوجی بوڑھے اور بوڑھیاں کم ہی مریں ۔ پھر یہ شام اور مصر میں پھیلا ، پھر سنہ ہجری ( چار سو ) اڑتالیس میں بغداد میں ، اور مصر میں اس حد تک حالت خراب ہوئی کہ ہر دن دس دس ہزار لوگ ہلاک ہوتے تھے .

پھر 455 میں مصر میں واقع ہوا اور چھپن تک اس نے شدت اختیار کی ، فصل ربیع میں شروع ہوا اور فصل خریف ( پت جھڑ کے موسم ) تک برقرار رہا ، ابن بطلان نے اپنے ” رسالہ ” میں ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلطان نے اسی ہزار اموات کو دفن کیا . پھر 455 میں مصر میں ابھرا اور ہر دن ہلاک ہونے والوں کی تعداد ہزار تک پہونچی .

پھر سنہ ھجری 467 میں دمشق میں طاعون واقع ہوا اس وقت اس میں رہنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ تھی ، جن میں سے صرف ساڑھے تین ہزار لوگوں کے علاوہ کوئی بچ نہ سکا ، من جملہ ان میں دو سو خَبَّاز ( نان بائی ، تنور والے ) بھی تھے جن میں سے صرف دو ہی بچ پائے تھے . پھر اس کے بعد بھی حافظ ابن حجر کے زمانے تک درجنوں تک طواعین آئے جن میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے ، جن کی تفصیلات کا موقعہ نہیں ہے .

ان واقعات اور اموات کے واقعات سے دل بیٹھ جاتا ہے ، آئیے طاعون سے متوفی ( جو دراصل شہید ہیں اور اسی طرح کورونا وائرس کوڈ 19 سے وفات شدگان کے لئے جو ان شاءاللہ تعالیٰ شہیدوں ہی میں شمار ہوں گے ) لوگوں کے لئے گیارہ مرتبہ سورہ اخلاص اور معوذتین پڑھ کر ان کے ثواب کو ان کی روحوں کو پہونچاتے ہیں .

باری تعالیٰ ان تمام لوگوں کی مغفرت فرما ، ان پر رحم فرما اور جنت بریں میں انھیں جگہ عطا فرما .

مؤلف ( علامہ حافظ ابن حجر ) رحمه الله ورضی عنه وتغمدہ برضوانه واسکنه اعلی جناته ، کہتے ہیں کہ جمادی الآخرہ سنہ ہجری 833 میں وہ اس کتاب کو لکھ کر فارغ ہوئے ، سوائے اس کے جس کو انھوں نے بعد میں اس کتاب سے الحاق کیا شوال میں فارغ ہوئے ، پھر اس کے بعد کچھ اور الحاق کیا . والحمد لله وحدہ ، وصلی الله علی سیدنا محمد وآله وسلم تسلیما کثیرا کثیرا . ( پھر اس حقیر فقیر الی اللہ اور اس کے والدین کے لئے بھی دعا کریں )

کورونا اپڈیٹ

بھارت کورونا وائرس کوڈ 19 سے متاثر دنیا کا پانچواں متاثر ترین ملک بنا . بھارت میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد آج صبح 15/شوال 1441 ھ مطابق 8/جون 2020 ء تک ڈھائی لاکھ سے متجاوز ہو کر ( 2/لاکھ 56/ہزار 611 ) ہوچکی ہے ، اور سات ہزار سے زیادہ ( 7135 ) لوگ موت کی آغوش میں جاچکے ہیں ، اور حد درجہ تشویشناک بات یہ ہے کہ پچھلے تین چار دنوں سے پیہم نوہزار سے زیادہ ( اور آج اخبار قومی آواز کے مطابق 9983 ، اور سیاست ڈاٹ کام کے مطابق 9971 ، ریکارڈ ) کورونا وائرس کوڈ 19کے کیس درج کئے گئے ہیں ، پچھلے ہفتہ جہاں بھارت کا نمبر کورونا وائرس کی فہرست میں دسویں نمبر سے بھی نیچے تھا وہاں اب وہ ہسپانیہ ( اسپین ) کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اس فہرست میں پانچویں نمبر پر آگیا ہے ، کل رات تک بھارت میں اس وبا سے متاثرین کی کل تعداد 2/لاکھ 46/ہزار 628 تھی ، اور ہلاک شدگان کی تعداد 6929 ، جبکہ پوری دنیا میں متاثرین کی تعداد 69 لاکھ 76 ہزار 45 ( اور قومی آواز کے مطابق 70 لاکھ سے تجاوز کر چکی ) ہے ، اور اب تک 4/لاکھ 2/ ہزار 96 لوگ اس وباء کا لقمہِ اجل بن چکے ہیں . وہیں ہلاک شدگان کی تعداد میں بھی اس نے تمام ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد وہاں 1/لاکھ 12/ہزار 96 تک پہونچ گئی ہے . برازیل 6/لاکھ 77/ہزار کے ساتھ دوسرے نمبر پر . روس میں 4/لاکھ 59/ ہزار . برطانیہ میں 2/لاکھ 85/ہزار، . اور بھارت کے اب تک 2/لاکھ 47 ہزار لوگ اس وائرس کی گرفت میں آچکے ہیں ، اور عجب نہیں کہ اب تک کی اس نکمی ترین سرکار کی ناسمجھی ، جھوٹ اور لوگوں سے حقیقت چھپاکر اندھیرے میں رکھنے والی کی ڈھیلی ڈھالی غلط پالیسیاں اختیار کرنے والی سرکار ماہ دو ماہ ہی میں برازیل کو پیچھے چھوڑ کر دوسرے نمبر پر آجائے . جہاں اس کو اپنی غلط پالیسی پر جس سے کہ کروڑوں لوگوں کی نوکری چلی گئی ماتم کرنا تھا

افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ وہاں وہ اپنی اب تک کی ناکام ترین حکومت رہنے کے باجود جھوٹ موٹ کا سہارا لے کر اپنی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے اپنی حکومت کا چھ سالہ جشن منا رہی ہے ، اس سے زیادہ شرمناک بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہزاروں لاکھوں غریبوں کی ہلاکتوں پر جشن ؟؟

اللہ جل مجدہ تمام مسلمانوں کی اس بڑی آزمائش اور وبا سے حفاظت فرمائے . آمین .

مؤرخہ 14/شوال المکرم 1441 ھ ، مطابق 7/جون 2020 ء

پندرہویں قسط کے لئے کلک کریں
چودہویں قسط کے لئے کلک کریں
تیرہویں قسط کے لئے کلک کریں
بارہویں قسط کے لئے کلک کریں
گیارہویں قسط کے لئے کلک کریں
دسویں قسط کے لئے کلک کریں
نویں قسط کے لئے کلک کریں
آٹھویں قسط کے لئے کلک کریں
ساتویں قسط کے لئے کلک کریں
چھٹی قسط کے لئے کلک کریں
پانچویں قسط کے لئے کلک کریں
چوتھی قسط کے لئے کلک کریں
تیسری قسط کے لئے کلک کریں
دوسری قسط کے لئے کلک کریں
پہلی قسط کے لئے کلک کریں
--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here