سمندری حیوانات کی پانچویں قسط

0
60

از : مولانا عبدالقادر بن إسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد تینگن گنڈی ، بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد سلیمان بن عشیر بن علی المزروعی ، ابو ظبی ، متحدہ عرب امارات .

الحمد للہ الذی أحل لنا الطیبات ، و حرم علینا الخبائث ، والصلوة والسلام علی أشرف البریات ، وعلی اٰلہ وصحبہ الذین وصفوا بالطاھرات .

اس بات پر سیر حاصل بحث کی گئی کہ سمندر میں رہنے والے ( مینڈک کے علاوہ ) تمام حیوان ( امام ابوحنیفہ کے علاوہ ) تمام ائمہِ کرام کے پاس بغیر کسی استثناء کے حلال ہیں اور یہی ہمارا ( شوافع کا ) أصح دو قولوں میں سے معتمد قول ہے ۔ اور سمندر کے حیوانوں میں اس کے اندر مر کر اوپر آئی ہوئی مچھلی کا کھانا بھی حلال ہے خواہ وہ جس طرح بھی مری ہو ، یہی جمہور صحابہ اور تابعین رضی اللہ عنہم کا مذہب ہے ۔ اللہ عزوجل کے قول ” أحل لکم صیدالبحر وطعامہ ” میں آئے ہوئے لفظ ” وطعامہ ” کی تفسیر انھوں نے اس مچھلی سے کی ہے جو مر کر سطحِ سمندر پر آئی ہو ۔ جس کو عربی میں ” طافی ” کہتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ” طافی ” عنبر ( وھیل ) کو تناول فرمایا ہے ۔ اور صحیح اور معتمد قول میں کیکڑا ، جس کو پانی کا بچھو کہتے ہیں ” نسناس ( بندر کی شکل کی سمندری مچھلی ) مگرمچھ ( گھڑیال ) سمندری کچھوا ،( سمندری ) سانپ ، جھینگے ، شیونڈی ( جھینگے سے ملی جلی ایک مچھلی ) قرش ( شارک ) اور ایسے تمام حیوان حلال ہیں ، خواہ جس شکل کے بھی ہوں ، حیوان کی شکل کے ، کہ انسان کی شکل کے ، پرندے کی شکل والے کہ درندہ کی شکل والے ۔

دوسرے ہمارے ایک قول میں مچھلی ( کی طرح نظر آنے والے حیوان ) کے علاوہ پانی کا کوئی اور حیوان حلال نہیں ، ( ضعیف ہے ) حدیث : ” أحلت لنا میتتان ودمان ، فأما المیتتان ، الحوت والجراد ، وأما الدمان : الکبد والطحال ” ہمارے لئے دو مری ہوئی چیزیں اور دو خون حلال کئے گئے ، دو مری ہوئی چیزیں مچھلی اور ٹڈا ، اور دوخون ، جگر اور تلی . ( شافعی ، احمد ، ابن ماجہ ، دار قطنی ، بیہقی اور بغوی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے ) . اس قول کو آگے گذرے ہوئے قول کے ذریعہ رد کیا گیا کہ پانی میں رہنے والے تمام حیوانوں کو مچھلی کہتے ہیں ۔ ایک اور اصح قول میں ( تاہم یہ اصح المنصوص قول کے خلاف والا قول ہے ) پانی اور پانی کے باہر رہ کر زندگی گذار نے والے حیوانوں کا کھانا حلال نہیں ، جیسے مینڈک ، کیکڑا ( اس سے مراد کالا قسم کا کیکڑا ہے ، جو کئی دن پانی کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے ، رہی اس کیکڑے کی بات جو سفید اور چھینٹے والا رہتا ہے ، اور پانی سے باہر آنے کے بعد جلد ہی مرجاتا ہے ، سو یہ بلا کراہت حلال ہے ) سانپ ، ( جیسی مچھلی ) مگرمچھ ، نسناس ، کچھوا اور تمام زہریلی مچھلیاں ( یہ اصح اور معتمد قول میں بھی ) حرام ہیں ، روضہ اور اصل روضہ میں ان حیوانوں کو حرام کہا ہے ، اور امام نووی بھی مجموع ( مسلک شافعی کی ایک انتہائی بسیط کتاب جو پچیس تیس سال قبل دس جلدوں پر مشتمل تھی ، لیکن اب حاشیہ وغیرہ کی تفصیل کے ساتھ تیس جلدوں پر مشتمل ہے ) میں ایک جگہ میں اسی پر چل پڑے تھے ، لیکن پھر انھوں نے مجموع ہی میں روضہ اور اصل روضہ کا تعقب کرکے کہا ! ” صحیح معتمد یہی ہے کہ سمندر میں رہنے والے تمام حیوان سوائے مینڈک کے حلال ہیں ” ( یعنی اور زہریلی مچھلیوں کے سوا ) اسی قول کو امام ابن صباغ نے امام شافعی رحمہ اللہ کے اصحاب سے نقل کیا ہے کہ مینڈک کے علاوہ سمندر میں رہنے والی ہر چیز حلال ہے ۔اور جو بات ذکر کی گئی ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے اصحاب ، یا بعض اصحاب نے کہا ہے کہ کچھوا ، سانپ اور نسناس حرام ہے ، اس کو خشکی میں رہنے والے حیوانوں پر محمول کیا جائے گا ۔ ( ایسے میں دونوں قول میں کوئی تضاد باقی نہیں رہتا ) .مذکورہ مضمون ابھی جاری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

نوٹ : اس مضمون کی دیگر قسطوں کو پڑھنے کے لئے درج ذیل لنکس پر کلک کریں۔

سمندری حیوانات کی چوتھی قسط

سمندری حیوانات کی تیسری قسط

سمندری حیوانات کی دوسری قسط

سمندری حیوانات کی پہلی قسط

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here