سمندری حیوانات کی چوتھی قسط

0
83

از : مولانا عبدالقادر بن إسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد تینگن گنڈی ، بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد سلیمان بن عشیر بن علی المزروعی ، ابو ظبی ، متحدہ عرب امارات .

الحمد للہ الذی أحل لنا الطیبات ، و حرم علینا الخبائث ، والصلوة والسلام علی أشرف البریات ، وعلی اٰلہ وصحبہ الذین وصفوا بالطاھرات .

علامہ السید سابق اپنی مشہور کتاب ” فقہ السنہ ” کی تیسری جلد کے صفحہ نمبر 178 میں رقمطراز ہیں ” رہا مسئلہ سمندری حیوانوں کا سو یہ تمام حلال ہیں . حیوان بری ( خشکی میں زندگی گذارنے والے حیوانوں ) میں وہ حیوان ہیں جن کا کھانا حلال ہے اور ایسے حیوان ہیں جن کا کھانا حرام ہے ، اسلام نے ان تمام حیوانوں کی تفصیل بیان کی ہے اور ان کو خوب واضح اور پورے طریقہ سے بیان کیا ہے ، بمصداق اللہ عزوجل کے قول ” وقد فصل لکم ماحرم علیکم الا مااضطررتم إلیہ ” اور تحقیق اس نے تمہارے لئے اس ( حیوان ) کی تفصیل بیان کی جس کو اس نے تم پر حرام کر دیا ہے مگر یہ کہ تم اس کی طرف محتاج ( اس کے کھانے پر مجبور ) ہوں ( الانعام/119 ) کی یہ تفصیل تین امور پر مشتمل ہوکر آتی ہے . پہلا امر : اس حیوان کے مباح ہونے پر نص کا آنا ، دوسرا امر اس کے حرام ہونے پر نص کا آنا اور تیسرا امر : اس حیوان سے شارح کا خاموش رہنا ۔

جس حیوان کے مباح ہونے پر شارح کی جو نص وارد ہوئی ہے وہ ہم بیان کر رہے ہیں : حیوان بحری : پورے کے پورے حیوان بحری حلال ہیں ، اس میں کچھ بھی حرام نہیں مگر وہ حیوان جس میں نقصان پہونچانے والا زہر ہو ، خواہ وہ مچھلی کی شکل میں ہو کہ اس کے علاوہ کی شکل میں . اور خواہ اس کو شکار کرکے حاصل کیا گیا ہو کہ مری ہوئی حالت میں پایا ہو اور خواہ اس کو کسی مسلمان نے شکار کرکے پکڑا ہو ، کسی کتابی نے ، کہ کسی وثنی نے اور خواہ پانی والی مچھلی کی شکل وصورت والا کوئی حیوان خشکی میں موجود ہو کہ نہیں اور حیوان بحری کسی پاکی کی محتاج نہیں ، اور اس سلسلہ میں بنیادی دلیل اللہ عزوجل کا یہ قول ” أحل لکم صیدالبحر وطعامہ متاعا لکم وللسیارة ” تمہارے لئے سمندری شکار اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ، تمہارے اور مسافروں کے لئے فائدہ کے طور پر ( المائدہ/96 ) ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے کہا ! ” صیدالبحر وطعامہ ” وہ حیوان ہے جس کو سمندر نے ( باہر ) پھینکا ہو ” ( دار قطنی ) نیز ابن عباس سے طعامہ کا معنی” مری ہوئی مچھلی ” آیا ہے ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا ! یارسول اللہ ! صلی اللہ علیہ و سلم !ہم سمندر میں جاتے ہیں اور اپنے ساتھ تھورا سا ( میٹھا ) پانی ساتھ لے جاتے ہیں ، اگر ہم اس سے وضو کریں تو پیاسے رہ جائیں ، سو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کرلیا کریں ؟ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ! ” اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے ” ( پانچ ائمہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ) امام ترمذی نے اس کو حدیث حسن صحیح کہا ہے ۔ میں نے محمد بن اسماعیل سے اس حدیث کے تعلق سے پوچھا تو انھوں نے کہا حدیث صحیح ہے ۔( السید سابق،ج/سوم ، ص/179 ) مذکورہ مضمون ابھی جاری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

نوٹ : اس مضمون کی دیگر قسطوں کو پڑھنے کے لئے درج ذیل لنکس پر کلک کریں۔

سمندری حیوانات کی تیسری قسط

سمندری حیوانات کی دوسری قسط

سمندری حیوانات کی پہلی قسط

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here