امسال 2020 ء ، شعبہ عالمیت سے فارغ التحصیل جامعہ آباد تینگن گنڈی کے ایک طالب علم کے الوداعی تأثرات

0
251

امسال 2020 ء ، شعبہ عالمیت سے فارغ التحصیل جامعہ آباد تینگن گنڈی کے ایک طالب علم کے الوداعی تأثرا

ألحمدللہ رب العالمین ، و الصلاۃ والسلام علی سید المرسلین . امابعد :

فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم . بسم اللہ الرحمان الرحیم .
انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء .
وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم
إن العلماء ورثۃ الأنبياء .

محترم صدر جلسہ ، اساتذہ
کرام ، طلباء جامعہ اور عزیز رفقاء السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ .

اولاً میں اس ذات باری تعالیٰ کا ممنون ہوں جس نے مجھے علم کی دولت سے سرفراز کیا ،

محترم حضرات! میرے دینی تعلیم کی ابتداء میرے والدین کے جذبات سے منسلک ہے میرے والدین کی خواہش تھی کہ مجھے علمِ دین کی دولت سے مالا مال کیا جائے . ان کی اس امید نے آخرکار مدرسہ پہنچا ہی دیا .
سنانی ہے مجھے روداد میرے گزرے ماضی کی
شرارت موج و مستی اور طلب علمی کی

حضرات! جب میری عمر چار سال مکمل ہوئی تو میرا داخلہ مدرسہ عائشہ تجوید الفرقان میں کیا گیا تو میں وہاں دوم مکتب تک اچھے نمبرات سے کامیاب ہوتا رہا . بعدازاں درجہ سوم مکتب کے لئے مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن تینگن گنڈی میں میرا داخلہ کیا گیا تو میں نے مکتب کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد عالمیت کی دو سالہ ابتدائی تعلیم بھی وہیں پر مکمل کرلی . دوران تعلیم وہاں کے اساتذہ کی شفقت میرے ساتھ رہی ، خصوصا مہتمیم مدرسہ مولانا سعود صاحب ندوی ، مولانا اسحاق صاحب ندوی اور میرے مشفق استاذ مولانا اسماعیل صاحب ندوی . اب اعلی تعلیم کے لئے مدرسہ ہٰذا میں آنا تھا کہ اسی دوران میرے خاص ساتھی محمد فائق ندی میں غرق ہو کر داعی اجل کو لبیک کہہ گئے . اللہ اس کی بال بال مغفرت فرمائے . آمین .
آخر وہ دن بھی آگیا جس دن میرا داخلہ درجہ سوم عربی میں ہوا ، رفتہ رفتہ میں اچھے نمبرات سے کامیاب ہوتا ہوا درجہ عالیہ ثانیہ میں پہنچا کہ میں سخت بیماری میں مبتلا ہو گیا میری تعطیلات حد احصاء سے باہر تھی اب میرا دل مدرسہ سے اچاٹ ہوگیا اور میں نے مدرسہ کی تعلیم منقطع کرنے کی ٹھان لی . اس وقت میرے مشفق ماموں حافظ اسماعیل صاحب اور حافظ ناصر صاحب نے دوبارہ سمجھا بجھا کر مدرسہ پہنچا دیا تو ان کی مشفقانہ نصیحتوں نے مجھے متأثر کیا اور میں دوبارہ شوق ولگن کے ساتھ پڑھنے لگا اور بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھتا گیا اور اساتذہ کی شفقتوں کے ساتھ ساتھ خصوصی طور پر مہتمم جامعہ حضرت مولانا مقبول احمد صاحب کی شفقت بھی شامل حال ہوتی گئی . جس کے نتیجہ میں ، میں اچھے نمبرات سے کامیاب ہوتا رہا اور آج اس مقام پر آپ کے روبرو اپنے تعلیمی سفر کی داستاں سنانے کھڑا ہوں .

بس اس دوران جنھوں نے میرے تعلیمی سلسلہ میں اپنا قیمتی وقت مجھ جیسے ناچیز بندہ کو دیا ان کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں خصوصا میرے والدین کا جن کا حق میں ادا نہیں کر سکتا جنھوں نے ہر لمحہ جانی و مالی اعتبار سے مدد کی اور میرے بھائی جس نے مجھے کسی چیز کی کمی کا احساس ہونے نہ دیا اور ان سب دوستوں کا شکر ادا کرتا ہوں جنھوں نے میری ہر موڑ پر مدد کی اور عالیہ ثالثہ کا بھی شکر گزار ہوں جنھوں نے ہمارے لئے اس مجلس کا انعقاد کیا .

اب میں رخصت ہوتے ہوئے ان حضرات سے معافی کی درخواست کرتا ہوں جن کو میری وجہ سے ذرہ برابر بھی کسی قسم کی کوئی تکلیف پہنچی ہو . دعا ہے کہ اللہ ہر گھر میں ایک عالم باعمل بنائے اور مجھے اپنے علم پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے . آمین .

آخر میں ، میں اس شعر کے ساتھ اپنی جگہ لیتا ہوں
یہ سچ ہے کہ ساتھیو یہی یادیں رلاتی ہیں
حقیقت میں ہمیں یہ سختیاں بہتر بناتی ہیں .

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here