سمندری حیوانات کی تیسری قسط

0
87

از : مولانا عبدالقادر بن إسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد تینگن گنڈی ، بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد سلیمان بن عشیر بن علی المزروعی ، ابو ظبی ، متحدہ عرب امارات .

الحمد للہ الذی أحل لنا الطیبات ، و حرم علینا الخبائث ، والصلوة والسلام علی أشرف البریات ، وعلی اٰلہ وصحبہ الذین وصفوا بالطاھرات .

مام بغوی رحمہ اللہ اپنی تفسیر ” معالم التنزيل ” ( ج/8 ، ص/35 ) میں ” أحل لکم صید البحر و طعامہ ” کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ” رہی بات ان سمندری ( پانی میں رہنے والے ) حیوانوں کی جو مچھلی کے علاوہ نام والے ہیں ، کیا اس مرے ہوئے حیوان کا کھانا حلال ہے ؟؟ اس میں ( اصحاب شافعی کے ) چند اقوال ہیں ، جن میں سے ایک میں حلال نہیں ، ( ضعیف ہے ) اور یہی ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خاص مچھلی کو ہی حلال فرمایا ہے .

دوسرے قول میں ( پانی میں رہنے والے ) تمام ہی حیوان حلال ہیں اور یہی اصح ہے ، ( جوکہ معتمد ہے ) اللہ تبارک و تعالیٰ کے قول ” أحل لکم صیدالبحر ” ( سورۃ المائدۃ/96 ) سے استدلال کرتے ہوئے ، جہاں اللہ جل مجدہ نے کسی ( سمندری ) حیوان کو جدا نہیں کیا . اور سمندر کے تعلق سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے قول کو مدنظر رکھتے ہوئے ” ھو الطھور ماءہ ، والحل میتتہ ” اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے . ” ( مالک ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی ) . ( السید سابق نے اپنی کتاب میں اس حدیث کے متعلق رواہ خمسہ کہا ہے ، غالباً ان کی مراد ، صحاح ستہ میں مسلم کے علاوہ ہو ، بہرحال حدیث کی صحت میں کوئی کلام نہیں ہے ۔ ( واللہ اعلم )
اور ہم میں سے بعض کہتے ہیں کہ اس ( پانی میں رہنے والے حیوانوں ) کی اصل یہ ہے کہ کیا تمام ہی حیوانوں کو حوت ( مچھلی ) کا نام دیا جاسکتا ہے ؟ یا حوت ، خاص سمک ( مچھلی ) ہی کو کہا جاتا ہے ؟ اس کی دو صورتیں ہیں ، اگر ہم کہیں کہ تمام ہی کو حوت کہا جاتا ہے تو تمام ہی حلال ہیں ، ورنہ سمک کے علاوہ اور کچھ حلال نہیں . اور ( دونوں میں سے ) أصح پہلی صورت ہی ہے کہ تمام ہی حوت ہیں ، گوکہ ان کی صورتیں مختلف ہوں ، جن میں سے بعض کی گدھے جیسی ، بعض کتے اور خنزیر سے شباہت رکھنے والی ، جیسا کہ خرتیت ( نامی مچھلی ) سانپ کی شکل و صورت کی ہوتی ہے اور یہ مچھلی ہی کی ایک قسم ہے ، جس کو مرنے کے بعد بھی بالاتفاق کھانا حلال ہے .

اور تیسرا قول یہ ہے کہ جس جنس کی خشکی کی مچھلی ذبح کرکے کھائی جاتی ہو ، اس جنس کی سمندری مری ہوئی مچھلی کا کھانا حلال ہے ، جیسے پانی کی گائے ، پانی کی بکری . اور جس خشکی کے حیوان کو ذبح کر کے کھایا نہ جاتا ہو جیسے گدھا ، کتا اور سور ، تو ایسی سمندر میں مری ہوئی مچھلی کا کھانا حلال نہیں .

پھر جب ہم یہ کہیں کہ مچھلی کے علاوہ کچھ اور حلال نہیں ، پھر اگر وہ ایسے جنس کا حیوان ہو جس کو خشکی میں ذبح کرکے کھایا جاتا ہے ، جیسے پانی کی گائے اور پانی کی بکری ، تب کیا اس ( سمندری گائے یا بکری ) کو کھانا حلال ہوگا ؟ شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کے دو احتمال ہیں جن میں سے ایک میں حلال ہے ، خشکی میں رہنے والے حیوانوں کو ذبح کرنے کی طرح ، اور دوسرے احتمال میں وہ حیوان حلال نہیں ہوگا ، اس لئے کہ درحقیقت وہ نہ تو گائے ہے اور نہ بکری ، اور جب ہم کہیں جس حیوان کی جنس کو خشکی میں کھایا جانا حلال ہے ، تب کیا ایسے پانی والے حیوان کو ( بھی ) ذبح ( کر کے کھایا ) جائے گا ؟ دو قول ہیں ، واللہ اعلم . ( التہذیب ، ج/8 ، ص/36 ) مذکورہ مضمون ابھی جاری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

نوٹ : اس مضمون کی دیگر قسطوں کو پڑھنے کے لئے درج ذیل لنکس پر کلک کریں۔

سمندری حیوانات کی دوسری قسط

سمندری حیوانات کی پہلی قسط

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here