سمندری حیوانات کی دوسری قسط

0
152

از : مولانا عبدالقادر بن إسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد تینگن گنڈی ، بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد سلیمان بن عشیر بن علی المزروعی ، ابو ظبی ، متحدہ عرب امارات .

الحمد للہ الذی أحل لنا الطیبات ، و حرم علینا الخبائث ، والصلوة والسلام علی أشرف البریات ، وعلی اٰلہ وصحبہ الذین وصفوا بالطاھرات .

حضرت امام علامہ ابو محمد حسین بن مسعود بن محمد بن فراء ، محدث ، مفسر ، فقیہ ، بغوی ( متوفی 516 ھ ) فقہ شافعی پر لکھی ہوئی اپنی معرکۃ الآراء کتاب ” التھذیب ” میں لکھتے ہیں کہ حیوانات کی تین قسمیں ہیں : پہلی قسم وہ ، جو خشکی پر زندگی بسر کرتی ہے اور اس کا سمندر میں زندہ رہنا ایک مذبوح جانور کی طرح ہوتا ہے . سو ایسے کسی مرے ہوئے حیوان کا کھانا حلال نہیں ، سوائے ٹڈے کے ، کہ مرنے کے بعد بھی اس کا کھانا حلال ہے . اس کے علاوہ تمام حیوان دو قسموں پر منقسم ہوتے ہیں : پہلی قسم وہ ، جس کو ذبح کرنا حلال ہوتا ہے ، اور دوسری وہ ، جس کو ذبح کرنا حلال نہیں . ان شاء اللہ ! عنقریب ہم ان کو بیان کریں گے . ( علامہ بغوی کے الفاظ ہیں ) .
حیوانوں کی دوسری قسم وہ ہے جو سمندر اور خشکی میں یکساں زندہ رہتے ہیں ، جیسے مینڈک ، کیکڑا ، سانپ اور مگرمچھ ، سو ان میں سے کسی کو بھی کھانا حلال نہیں ، مرنے کے بعد اور نہ ہی ذبح کرکے . ( معلوم ہو کہ یہ ہمارا ( شوافع کا ) دو صحیح قولوں میں سے معتمد قول کے خلاف والا قول ہے ، جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے ، اور ان شاء اللہ ! پیچھے آئے گا کہ یہی ہمارا اصح المنصوص قول ہے ، جس کو اصحاب شافعی سے روایت کیا گیا ہے ) . حلیمی کہتے ہیں کہ کیکڑے کو ذبح کرکے کھانا حلال ہے .
حیوانوں کی تیسری قسم وہ ہے ، جو صرف پانی ہی میں زندہ رہ سکتی ہے اور ( پانی سے باہر لانے کے بعد ) خشکی میں اسی طرح زندہ رہتی ہے جس طرح کسی جانور کو ذبح کیا جاتا ہے ،( کہ وہ تھوڑی دیر کے بعد مرجاتا ہے ) سو ایسی مچھلی کی بھی دو قسمیں ہیں : ایک مچھلی ، دوسری غیر مچھلی ، اس میں سے صرف مچھلی کو ہی مرنے کے بعد بھی کھانا حلال ہے ، خواہ وہ کسی سبب سے مری ہو ، کہ بغیر کسی سبب کے پانی سے اوپر آکر ، یا سمندر کی گہرائی ہی میں مرکر اوپر آئی ہو ، حتی کہ اگر کسی حیوان کو ذبح کیا جائے اور اس کے پیٹ سے کوئی مری غیر سڑی ہوئی مچھلی نکل آئے تو اس کو بھی کھانا جائز ہے ، اور اگر پیٹ سے نکلی ہوئی مچھلی گلی سڑی ہو تو اس کا کھانا جائز نہیں ، کیونکہ وہ لید ہے اور وہ حلال نہیں . ( امام ) ابو حنیفہ ( رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ طافی ( پانی میں مرکر اوپر آئی ہوئی ) مچھلی کھانا حلال نہیں . اختلاف کی حقیقت کچھ اس طرح ہے کہ ان ( احناف ) کے پاس اس وقت مچھلی حلال ہوتی ہے جب وہ کسی ( مچھلیوں وغیرہ ) کے دباؤ ، یا پتھر پر گرنے ، یا پانی کے سمٹ جانے ( اور مچھلی کے مرنے ) کے سبب سے ہو ، تو اس مچھلی کا کھانا حلال ہوگا اور اگر مچھلی کسی سبب کے بغیر مرگئی ہو ، تو وہ حلال نہیں ہوگی ، حتی ک کہا ( امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے ) کہ اگر کوئی مچھلی مرگئی اور اس کا آدھا حصہ پانی سے باہر رہا تو دیکھا جائے گا کہ اس کا سر پانی سے باہر ہے یا نہیں ، اگر باہر ہو تو وہ حلال ہوگی، اس لئے کہ وہ دم گھٹنے ( سانس رک جانے ) سے مری ہے . اور اگر اس ( مچھلی ) کا نچلا آدھا حصہ پانی سے باہر ہو تب حلال نہیں . اور حدیث ان کے خلاف حجت ہے . حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے طافی ( مرکر سطح سمندر پر آئی ہوئی ) مچھلی کو کھایا ہے .
آیت کریمہ ” تمہارے لئے سمندری شکار اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ( سورۃ المائدۃ/96 ) کی تفسیر میں امام بغوی اپنی تفسیر ” بغوی ” میں جو ” معالم التنزیل ” سے مشہور ہے ، قلمبند کرتے ہیں کہ” البحر ( سمندر ) سے مراد تمام قسم کا پانی مراد ہے . عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ” اس کا شکار ( سے مراد ) وہ مچھلی ہے جس کا شکار کیا جاتا ہے ( یعنی وہ مچھلی جو جالے ، کانٹے اور اس جیسی چیزوں سے پکڑی جاتی ہے ) اور ( قرآن میں آئے ہوئے لفظ ) ” وطعامہ ” ( سے مراد ) وہ مچھلی ہے جو سمندر نے پھینکی ہو ۔ ” ابن عباس ، ابن عمر اور ابوہریرہ ( رضی اللہ عنھم ) سے نقل کیا گیا ہے کہ ” طعامہ ” سے مراد وہ مچھلی ہے جس کو ( سمندر ، دریا ، ندی یا تالاب کے پانی نے ) مری ہوئی حالت میں ساحل کی طرف پھینکا ہو . ایک قوم کہتی ہے کہ ( و طعامہ سے مراد ) نمکین پانی والی مری ہوئی مچھلی ، اور یہی سعید بن جبیر ، عکرمہ ، سعید بن مسیب ، قتادہ اور نخعی رحمھم اللہ کا قول ہے . مجاہد کہتے ہیں کہ ” صیدہ ” سے مراد تازے پانی کی مچھلی ہے اور ” طعامہ ” سے مراد کھاری پانی کی مچھلی . ( واللہ أعلم )مذکورہ مضمون ابھی جاری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

نوٹ : اس مضمون کی دیگر قسطوں کو پڑھنے کے لئے درج ذیل لنکس پر کلک کریں۔

سمندری حیوانات کی پہلی قسط

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here